شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) شیعہ علماء کونسل پنجاب کے صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسلام دشمن پالیسیاں دنیا کے سامنے بے نقاب ہوچکی ہیں۔ مسلم ممالک اور اسلامی تنظیموں کو امریکی دھمکیوں کا نوٹس لینا چاہیے۔ امت میں اتحاد ہوتا تو مسلم ممالک کو دھمکیاں نہ دی جاتیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرتے ہوئے امریکی تعلقات کا ازسر نو جائزہ لے۔ جس میں افغانستان کی خودمختاری اور دہشت گردتنظیموں کی سرپرستی، ا مریکہ، اسرائیل اور بھارت کا اسلام کے خلاف گٹھ جوڑ بھی مدنظر رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی پالیسیاں عالمی برادری کے لئے مشکلات کا باعث بن رہی ہیں، بیت المقدس ہمارا قبلہ اول، ایمان کا حصہ ہے، اس کا تحفظ مسلمانوں کا فرض ہے۔ جسے ہر صورت ادا کرنا ہوگا، او آئی سی کے اجلاس میں قراردادیں اچھی منظور کی گئیں اب انہیں عملی شکل دیتے ہوئے مسلمان مشترکہ لائحہ عمل بھی ترتیب دیں۔ اسرائیل ناجائز ریاست ہے، جسے کسی بھی باغیرت قوم نے تسلیم نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اُمت مسلمہ کو سخت پیغام دے رہا ہے۔ ہمیں اپنے باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ مشرق وسطی میں ہونے والی بدامنی پر بھی عالمی برادری اور امت مسلمہ توجہ دے۔ فرقہ واریت کسی کے فائدے میں نہیں ہوگی۔ اس حوالے سے سنجیدہ طبقات کو سامنے آنا چاہئے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) شیعہ علماء کونسل پنجاب کے صوبائی صدر آغا سید سبطین حیدر سبزواری نے کہا ہے کہ اسلام دشمن طاغوتی طاقتوں کے مقابلے کے لئے اتحاد امت کی اشد
شیعہ علماء کونسل پنجاب کے صوبائی صدر آغا سید سبطین حیدر سبزواری نے کہا ہے کہ اسلام دشمن طاغوتی طاقتوں کے مقابلے کے لئے اتحاد امت کی اشد ضرورت ہے بین الاقوامی سطح پر امت مسلمہ کے خلاف ہنود ویہودسازشوں میں مصروف ہیں ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے کوٹ قاسم میں تنظیمی اجلاس سے خطا ب کرتے ہوئے کیا ۔ اجلاس سے سید مظہر حسین ، عبدالرحمن بھٹی، اعجاز آرائیں اور سید فیاض نے بھی خطاب کیا۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)شیعہ علماء کونسل ضلع ملتان کے صدر مولانا کاشف ظہور نقوی نے کہا ہے کہ سماجی خدمت کے لئے شعبہ صحت بہترین انتخاب ہے ۔
ملتانـ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بستی کھوکھراں میں بنیادی مرکز صحت میں مریضوں کے لئے جعفریہ یوتھ کی جانب سے وہیل چیئر دینے کے موقع پر کیا۔ اس موقع پر میڈیکل آفیسر ڈاکٹر محمد طلحہ نے کہا صحت کو معاشرے میں ہر ضرورت سے زیادہ اہمیت حاصل ہے ۔اس موقع پر ڈاکٹر سید صابر ،اے ڈی جاوید،جواد حیدر،سید بزدار حیدر ، ذوالفقار بخاری ،ندیم حسین قریشی،ڈاکٹر شبیر حسین، ریاض حسین تھہیم، مرید حسین کھوکھر ،ڈاکٹر اختر حسین بھی موجود تھے ۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)شیعہ علماء کونسل سندھ کے صدر علامہ سید ناظر عباس تقوی نے کہا ہے کہ مملکت پاکستان کی ترقی کیلئے تمام مذہبی، سیاسی، ثقافتی ہم آہنگ جماعتیں ملکر قومیت کے بت توڑ دیں، ہمیں یک جان ہو کر دہشتگردی کے کینسر کے خلاف اعلان جنگ کرنا ہوگا، ہمارا عہد ہے کہ خون کے آخری قطرے تک ہم پاک فوج کے شانہ بشانہ اس وطن کا دفاع کریں گے۔ اپنے ایک بیان میں علامہ ناظر تقوی نے کہا کہ پاکستان لاکھوں بہادر لوگوں کی جانی و مالی قربانیوں کا حاصل ہے، بدقسمتی سے پاکستان اور اسلام دشمن عناصر نظریہ پاکستان پر ضرب لگانے کیلئے عالمی طاقتوں کے ایماء پر پاکستان کو گروہی و لسانی گروہ بندیوں میں اس حد تک تقسیم کر رہا ہے کہ نظریہ پاکستان کی روح دھندلا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد سے اب تک پاکستان نے بہت سی مصیبتں برداشت کیں، یہ سفر اتنا ہی مشکل اور کٹھن تھا کہ جتنا پاکستان بننے میں تھا، اس سرزمین کے باوفا بیٹے اس پاک سرزمین کے دفاع کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ دیتے آئے ہیں اور دیتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شیعہ سنی عوام اس ملک کا حقیقی نظریاتی و جغرافیائی دفاع ہیں، یہی وجہ ہے کہ بدترین دہشتگردی اور ظلم و ستم کے باوجود دشمن کامیاب نہیں ہو سکا، کیونکہ اس پاک وطن کی مٹی میں شہیدوں کا لہو شامل ہے، اگر کوئی اس ملک سے غداری کرنا بھی چاہے، تو شہدوں کا لہو اسکی حفاطت کرتا ہے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ اصلاحِ معاشرہ کیلئے نوجوانوں کی تعلیمی، اخلاقی، نظریاتی، سیاسی اور فنی تربیت ناگزیر ہے، جس سے معاشرے کی اصلاح احوال مذہبی، سیاسی اور سماجی سطح بہتر طور پر انجام دی جا سکتی ہے۔

جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے زیراہتمام اسلام آباد میں 4 روزہ مرکزی تعمیر سیرت تربیتی ورکشاپ کی اختتامی تقریب میں صدارتی خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نوجوان طلباء معاشرے کی اساس اور مستقبل کے معمار ہیں، جن کی تعلیم و تربیت کرکے نہ صرف معاشرے کی بنیاد کو مضبوط اور مستحکم کیا جا سکتا ہے بلکہ اس معاشرے کے ذریعے اقوام عالم میں بلند مرتبہ و مقام بھی پایا جا سکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نوجوان معاشرے کا باہمت اور حوصلہ مند طبقہ ہیں اور وہی اپنی سیرت و کردار کی تعمیر کے بعد معاشرے کو نئی روشنی اور راہوں سے ہمکنار کرسکتے ہیں۔ انہوں نے 5 نکاتی فارمولہ دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان دنیاوی و مذہبی تعلیم و تربیت، اخلاقیات، نظریاتی استحکام، سیاسی فکر میں ارتقاء اور فنی و شعبہ جاتی تربیت کے زیور سے منور ہو کر تخلیق ِانسانیت کا مقدس مقصد پا سکتے ہیں۔ علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ نصاب تعلیم ملی تقاضوں کے مطابق ہونا چاہئے، بحیثیت مسلمان، ایک اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہری ہونے کے مطابق جیسی تربیت ہونی چاہئے، ان تقاضوں کو پورا کرنا چاہئے، یہ ہمارا بنیادی مطالبہ ہے اسے یاد رکھا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہاں تعلیم کو بہت سے مسائل در پیش ہیں، ملک میں تعلیمی نظام کو بہت سے حصوں اور درجات میں تقسیم کر دیا گیا ہے، حصول ِتعلیم کی کتنی قسمیں و درجات ہیں اور کس کس انداز کے سکول اور کالجز ہیں، غریب کیلئے اور، اور امراء کیلئے اور ان کے مابین ہم آہنگی نہیں، یہی ہمارے ملک میں نظامِ تعلیم کا سب سے بڑا مسئلہ ہے کہ وہ کمرشلائز ہوچکی ہے، جس کی وجہ سے تعلیم بہت مہنگی ہوگئی ہے اور تعلیم غریب کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے، جس کیلئے دورِ حاضر کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے حالات کا جائزہ لے کر انقلابی پالیسیاں مرتب کرنی چاہئیں، اس کا بھی جائزہ لینا ہوگا کہ سرکاری اداروں میں تعلیم کی کیا حیثیت ہے۔ قبل ازیں خطاب کرتے ہوئے شیعہ علماء کونسل کے مرکزی رہنماء علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی اور اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر علامہ افتخار حسین نقوی نے نوجوانوں کو عصر ِحاضر کے علوم کے ساتھ ساتھ مذہبی علوم پر بھی دسترس حاصل کرنے کی ترغیب دی۔ اس موقع پر شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد علی آخونزادہ، جے ایس او پاکستان کے مرکزی صدر حسن عباس، شیعہ علماء کونسل ڈی آئی خان کے صدر علامہ کاظم مطہری، ضلع پشاور کے صدر آخونزادہ مجاہد علی اکبر اور جے ایس او پاکستان کے سابق مرکزی صدر وفا عباس بھی موجود تھے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) شیعہ علما کونسل نے وفاق المدارس کے زیر اہتمام 2 اگست جامعتہ المنتظر میں منعقد ہونیوالی بشارت عظمیٰ کانفرنس کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ضلعی تنظیموں کو اس میں علما، خطبا و ذاکرین اور بانیان مجالس کی شرکت کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

ایک بیان میں صوبائی صدر شیعہ علما کونسل پنجاب علامہ سبطین حیدر سبزواری نے کہا ہے کہ تشیع اسلام کی حقیقی تفسیر اور تصویر ہے، جسے کسی خود ساختہ عقائد رکھنے والے گمراہ خطیب کے ہاتھوں مسخ نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ برطانوی ایجنسی ایم آئی 6 تشیع کو بدنام کرنے کیلئے کچھ لوگوں کو خرید کر پاکستان میں ایسے عقائد پیش کرنا چاہتی ہے، جس کا اسلامی بنیادی تعلیمات، قرآن و حدیت اور مکتب اہلبیت سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایم آئی 6 ملت تشیع کو گمراہ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مراجع عظام کو گالیا ں دینے والے امریکی، اسرائیلی اور سعودی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں، ہم اس کی اجازت نہیں دیں گے۔

ان کا کہنا تھاکہ بشارت عظمیٰ کانفرنس کے ذریعے بھٹکے ہوئے چند گمراہ لوگوں کو سمجھایا جائے گا کہ وہ اپنے خطابات کیلئے قرآن و حدیت، اور روایات معصوم سے رہنمائی لیں۔ ایم آئی 6 کے دیئے گئے خود ساختہ اور تشیع میں اندرونی اختلاف پیدا کرنیوالے عقائد کو پیش نہ کریں۔ علامہ سبطین سبزواری نے کہا کہ جاہل اور نیم خواندہ خطیبوں سے خارجی تکفیری بازاری گروہ سوئے استفاد ہ کرتے ہوئے تشیع کیخلاف بکواسات کرتے ہیں، جن کا مقابلہ شہدا کے خون دے کر ملت جعفریہ نے کیا اور علامہ سید ساجد علی نقوی کی پالیسیوں کے باعث تشیع آج باوقار انداز میں پاکستان میں موجود ہے، ہم ان کے سپاہی ہیں۔ کانفرنس کے میزبان بزرگ علما علامہ حافظ ریاض حسین نجفی اور علامہ شیخ محسن علی نجفی کو یقین دلاتے ہیں کہ ان کی کاوشوں میں ہم ساتھ ہیں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) شیعہ علماء کونسل نے وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے زیر اہتمام 2 اگست کو جامعۃ المنتظر لاہور میں منعقد ہونیوالی بشارت عظمٰی کانفرنس کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے ضلعی تنظیموں کو اس میں علماء، خطباء، ذاکرین اور بانیان مجالس کی شرکت کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔

صوبائی صدر شیعہ علماء کونسل پنجاب علامہ سبطین حیدر سبزواری نے کہا ہے کہ تشیع اسلام کی حقیقی تفسیر اور تصویر ہے، جسے کسی خود ساختہ عقائد رکھنے والے گمراہ خطیب کے ہاتھوں مسخ نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ برطانوی ایجنسی ایم آئی 6 تشیع کو بدنام کرنے کیلئے کچھ لوگوں کو خرید کر پاکستان میں ایسے عقائد پیش کرنا چاہتی ہے، جس کا اسلامی بنیادی تعلیمات، قرآن و حدیت اور مکتب اہلبیت سے کوئی تعلق نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مراجع عظام کو گالیاں دینے والے امریکی، اسرائیلی اور سعودی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں، ہم اس کی اجازت نہیں دیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ بشارت عظمٰی کانفرنس کے ذریعے بھٹکے ہوئے چند گمراہ لوگوں کو سمجھایا جائے گا کہ وہ اپنے خطابات کیلئے قرآن و حدیت اور روایات معصوم سے رہنمائی لیں، ایم آئی 6 کے دیئے گئے خود ساختہ اور تشیع میں اندرونی اختلاف پیدا کرنیوالے عقائد کو پیش نہ کریں۔ علامہ سبطین سبزواری نے کہا کہ جاہل اور نیم خواندہ خطیبوں سے خارجی، تکفیری اور بازاری گروہ سوئے استفادہ کرتے ہوئے تشیع کیخلاف بکواسات کرتے ہیں، جن کا مقابلہ شہداء کا خون دے کر ملت جعفریہ نے کیا اور علامہ سید ساجد علی نقوی کی پالیسیوں کے باعث تشیع آج باوقار انداز میں پاکستان میں موجود ہے، ہم ان کے سپاہی ہیں۔ کانفرنس کے میزبان بزرگ علماء علامہ حافظ ریاض حسین نجفی اور علامہ شیخ محسن علی نجفی کو یقین دلاتے ہیں کہ ان کی کاوشوں میں ہم ساتھ ہیں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) شیعہ علماء کونسل سندھ کے صدر علامہ سید ناظر عباس تقوی نے لاہور میں فیروزپور روڈ پر ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس واقعے میں شہید اور زخمی ہونیوالے افراد کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں، آج ایک بار پھر دہشتگردوں نے پولیس کے جوانوں کو نشانہ بنایا، جو ایک افسوناک عمل ہے، دہشتگردوں کی ان بذدلانہ کارروائیوں سے ہماری فورسز اور قوم کے حوصلے ہرگز پست نہیں ہونگے، اب حکومت کو ملک بھر سے ان دہشتگردوں کی کمین گاہیں اور نرسریاں ختم کرنے کیلئے بڑا قدم اُٹھانا ہوگا۔ اپنے مذمتی بیان میں علامہ ناظر تقوی نے کہا کہ حکومت مسلسل پاکستان بھر میں قیام امن کے دعوے کرتی نظر آرہی ہے، لیکن آج کی اس کارروائی نے حکومت کے تمام دعوؤں کی قلعی کھول دی۔

علامہ ناظر تقوی نے کہا کہ لاہور جو پاکستان کا دل تصور کیا جاتا ہے، دہشتگردوں نے پھر پاکستان کے دل کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا ہے، ہمارے وزراء صرف بیان پر بیان اور عوام کو جھوٹی تسلیاں دے رہے ہیں، جو افسوسناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے ملک بھر میں امن و امان کی اچھی صورتحال تھی، لیکن اچانک ایک بار پھر دہشتگرد ملک بھر میں سرگرم نظر آتے ہیں، جس سے عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، اگر دہشتگردی کا سلسلہ یونہی جاری رہا تو فورسز کی جانب سے قیام امن کے حوالے سے ملک بھر میں جاری کوششیں کہیں ضائع نہ ہو جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے اپیل کرتے ہیں کہ خدارا اس ملک کو دہشتگردوں سے نجات دلوائیں اور ملک بھر میں دہشتگردوں کے خلاف فیصلہ کُن کارروائی کریں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) شیعہ علماء کونسل سندھ کے نائب صدر و پولیٹیکل سیکرٹری محمد یعقوب شہباز نے کہا ہے کہ مستونگ کے قریب ہزارہ شیعہ برادری کے چار افراد کی حالیہ ٹارگٹ کلنگ کی پُرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، اگر حکومت سانحہ پارا چنار میں ملوث دہشتگردوں کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہو جاتی تو سانحہ مستونگ کا واقعہ ہرگز پیش نہیں آتا۔

اپنے مذمتی بیان میں یعقوب شہباز نے کہا کہ دہشتگرد مسلسل بلوچستان میں شیعہ ہزارہ برادری کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنا رہے ہیں اور اپنے ہدف کو پورا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور سیکیورٹی فورسز کے ادارے ہر واقعے کے بعد سالوں سال انکوائری میں لگا دیتے ہیں، جس سے دہشتگردوں اور اُن کے سہولت کاروں کو تقویت ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم حقائق جاننا چاہتی ہے کہ اتنے وسائل رکھنے کے باوجود قانون نافذ کرنے والے ادارے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہیں یا کوئی اور وجوہات ہیں، اگر دہشتگردی کا یہ سلسلہ ہونہی جاری رہا تو حکومت کے بعد اب سیکیورٹی فورسز سے بھی عوام کا اعتماد ختم ہو جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ عرصے سے ملک بھر میں امن و امان کی اچھی فضاء قائم ہوئی تھی، لیکن اچانک دہشتگردی کے پے در پے واقعات نے ایک بار پھر سیکیورٹی فورسز پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے، ہم آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ملک کے دیگر شہروں کی طرح بلوچستان میں بھی دہشتگردوں کے خلاف فیصلہ کُن کارروائی کا آغاز کریں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) پاک ایران کشیدگی یا سکیورٹی اداروں میں موجود کالی بھیڑوں کی کارستانی، پاکستانی سکیورٹی اداروں نے عراق اور ایران سے پڑھ کر آنیوالے دینی طلباء کو ہراساں اور اغواء کرنا شروع کر دیا۔

اطلاعات کے مطابق پاکستانی سکیورٹی اداروں نے پنجاب کے ضلع کبیروالا کے نواحی گاؤں چک نورنگ شاہ سے دینی طلباء مولانا محمد علی کاشفی اور مولانا ناصر عباس کو مبینہ طور پر حراست میں لیا اور ان پر تشدد کرتے ہوئے ساتھ لے گئے۔ اغواء ہونیوالے دونوں طلباء کے بارے میں کسی کو کچھ علم نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔ طلباء کے اس طرح غائب کئے جانے پر ملت جعفریہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور حکومت کے اس رویے کی مذمت کی گئی ہے۔

مولانا علی کاشفی کے والدین کا کہنا ہے کہ علی کاشفی قم المقدس میں دینی تعلیم حاصل کرنے گئے تھے اور واپس آئے تو مبینہ طور پر سکیورٹی اداروں نے انہیں اغواء کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح پُرامن شہریوں کو ہراساں کرنا غیر قانونی اقدام ہے اور ہمیں یہ بھی نہیں بتایا جا رہا ہے کہ انہیں کہاں لے کر گئے ہیں۔

دوسری جانب شیعہ علماء کونسل پنجاب کے صدر علامہ سبطین سبزواری نے ریاستی اداروں کی طرف سے حوزہ ہائے علمیہ نجف اشرف، قم اور مشہد مقدس سے آنیوالے دینی طلباء کی تحویل، ناروا سلوک اور تشدد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ہوش کے ناخن لے، اللہ کے عذاب کو دعوت نہ دے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ہوش کے ناخن لے، دہشتگرد ان سے قابو نہیں ہوتے مگر پُرامن طلباء اور علماء کو بلاوجہ ہراساں کرنا ریاستی اداروں کا وطیرہ بن چکا ہے، انہیں اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ عراق اور ایران کے حوزہ ہائے علمیہ میں جانیوالے طلباء قرآن و حدیث اور فقہ کا علم حاصل کرتے ہیں اور یہ سلسلہ صدیوں سے جاری ہے، ریاستی ادارے غیر قانونی طور پر عوام کو تنگ کرنے کی بجائے، دہشتگردی کے مراکز کو ختم کریں۔

علامہ سبطین حیدر سبزواری نے کہا کہ زیر حراست طلباء کو فی الفور رہا کیا جائے، ورنہ راست اقدامات کریں گے، ملت جعفریہ میں ان ظالمانہ کارروائیوں پر تشویش پائی جاتی ہے، ہم نے کوئٹہ اور پاراچنار میں سینکڑوں لاشیں رکھ کر بھی امن کی بات کی، ملکی سلامتی کیخلاف کوئی بات کی اور نہ ہی کسی مسلک کیخلاف نعرے بازی کی، اس لئے حکومت ہماری خاموشی کو کمزوری نہ سمجھے۔