اسد عاشورا اور ایک اہم نکتہ

  • جمعہ, 10 اگست 2018 18:15

سکردو اسد عاشورا کے حوالے سے ایک انتہائی اہم نکتے کی جانب تمام مومنین کو متوجہ ہونے کی ضرورت ہے اکسٹھ ہجری میں یزید وقت نے جس سفاکی اور بے دردی سے مظلوم کربلا ؑکی پیغام کو دبانے کی کوشش کی علیؑ کی شیر دل بیٹی زینبؑ کبرہ نے کوفہ و شام کی بازاروں میں یزیدیت کی اس کھناؤنی سازش کی تار پوت بکھیر کر رکھدیابعدازآں ہر آنے والے دور میں زینبیؑ کردار کے حامل شخصیات اور اقوام نے اس کو مزید جلا بخشی ہر گزرتے ماہ و سال کے ساتھ پیغام حسینیؑ آفاقی اور انسانی اقدار کی علامت بنتے چلے گئے اور یزیدیت ہر دم نامراد ٹھہریان اقوام میں میں اہلیان عراق کو ایک ممتاز مقام حاصل ہوچکا ہے چہلم امام حسینؑ کے موقع پر جس انداز سے اہلیان عراق میزبانی کی فرائض انجام دے رہے ہیں اس کی مثال تاریخ انسانیت میں کہیں نھیں ملتی عراقیوں کی اسی مہمان نوازی کی وجہ سے چہلم امام حسینؑکا اجتماع ایک عالمی اور انسانی اجتماع کی شکل اختیار کرگیا ہے اب بلا تفریق مذھب , مکتب, رنگ اور نسل دنیا بھر سے لوگ اس کاروان حریت کا حصہ بنتا جارہا ہے اور قرینہ بتا رہا ہے کہ حریت پسندوں کا یہی اجتماع ظہور امام زمانہؑ کی زمینہ سازی میں ہر اول دستے کا کردار ادا کرےگا اس موضوع کی اہمیت کے پیش نظر رہبر معظم سید علی خامنہ ای نے اہلیان عراق کی مہمان نوازی کو "حسینیؑ کلچر" قرار دیکر اسے دنیا کے تمام ممالک میں موجود حسینیوںؑ کو آزمانے کی سخت تاکید کی ہے اسی وجہ سے اس بہترین ثقافت نے عراق کی باڈر کراس کرکے ایران اور ایران سے پچھلے سال پاکستان کی باڈر تک خدمت زائرین کے لئے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرکے بہترین مثال قائم کی ہےاس طویل مقدمے کے زریعے جس نکتے کی جانب متوجہ کرنا چاہ رہاہوں وہ یہ ہے کہ مظلوم کربلاؑ کی پیغام کو عام کرنے کے لئے اور اس کاروان حریت کی جانب عالم انسانیت کو دعوت دینے کے لئے ایک بہترین توفیق, سعادت اور موقع اسد عاشورا کی شکل میں اہلیان بلتستان کو حاصل ہے اس کو سمجھنے اور قدر کرنے کی ضرورت ہےزمان و مکان کی شواہد دیکھ کر میں یہ بات پوری وثوق کے ساتھ کہ سکتا ہوں کہ بلتستان کا معاشرہ بھت جلد ایک بین الاقوامی معاشرے میں تبدیل ہونے جارہے ہیں اس بات کے لئے میرے پاس بھت سارے دلائل موجود ہے جو ہمارا موضوع بحث نھیں ہے اس میں بھت سارے مثبت و منفی نکات ہے جن کی جانب متوجہ رہنے کی ضرورت ہے بحر حال "مکرو و مکر اللہ وللہ خیر الماکرین" جس انداز سے استعمار اس خطے میں نفوز پیدا کرنے اور یہاں کے اسلامی تہذیب کو ثبوتاز کرنے کی کوشش کر رہا ہے اسے کہیں زیادہ یہاں پہ مثبت امکانات مجود ہے اور ان کی جڑیں کافی مظبوط بھی ہے ان کو درک کرنے اور بر وقت استفادہ کرنے کی ضرورت ہےقصہ مختصر اس خطے کی قدرتی وسائل, ثقافتی , تہذیبی , سیاحتی , جغرافیائی اور اسٹریٹیجیکل اہمیت کی پیش نظر دنیا بھر سے رخ کرنے والے اہم شخصیات کو پیغام حسینی ؑ کی جانب متوجہ کرنے کے لئے اسد عاشورا کو سال بہ سال وسیع پیمانے پر بہترین انتظام کے ساتھ پوری عقیدت و احترام اور مذھبی جوش جزبے سے منانا بھت ضروری ہے یہی ہمارا پیام , یہی دفاع , یہی طاقت اور یہی ہماری حریت پسندی کی دلیل ہےیاد رکھے اس بہترین سعادت کے خلاف سازش ہورہی ہے طوالت کے پیش نظر اس پہ بھی گفتگو نھیں کرونگا اہلیان سکردو کے کندھوں پہ اس حوالے سے بھاری زمہ داری عائد ہے آئے ہم بھی نکلے اہلیان عراق کی طرح عزاداران مظلوم کربلاؑ کی خدمت کریں حسینؑ عشق کا نام ہے اور عشق میں جان و مال اور دولت و ثروت کی کوئی اہمیت نھیں ہوتے اپنے گھروں کو حسینؑ کے لئے سجائے مہمان عزاداروں کی خدمت کریں باہر سے آئے ہوئے سیاح کو یہ محسوس ہونا چاھئے کہ ان ایام میں ہم حسینؑ ابن علیؑ کی مہمان ہے ان کی انتہائی اخلاق اور گرم جوشی سے خدمت کریں ان کو بتائے ہم اس حسینؑ کے ماننے والے ہیں جس کے بیٹے نے اپنے بھائی کی قاتل کا اس گرم جوشی سے خدمت کیا تھا کہ قاتل خود اس کمال سخاوت پہ پہ نازاں ہوگیا تھا مکتب حسینیت ؑمذہب , رنگ و نسل اور قوم و قبیلہ کی رکاوٹوں کو توڑ دیتا ہے حسینؑ کا روضہ آج دنیا کے تمام حریت پسندوں کا قبلہ بن چکا ہے اور حسینؑ کا عزادار آج انسانیت کا خادم اور دنیا میں امن سکون اور پیار و محبت کی علامت اور ضمانت بن چکے ہیں سکردو اہلبیتؑ کا گھر ہے آئے کردار حسینیؑ سے زمانے کو قائل کریں- کہ جس ریسٹ ہاؤس ,ہوٹل اور قیام گاہ میں ملکی اور غیر ملکی مہمان قیام پزیر ہے ان کی وہی پہ مظوم کربلا کے نام پہ کوئی نہ کوئی خدمت کی جائے کسی بھی ٹورسٹ کو ان ایّا م میں دستر خوان حسینیؑ کے ہوتے ہوئے اجنبیت اور غریب الوطنی محسوس نہیں ہونا چاھئے ان کو اپنے مجالس میں دعوت دے ان کو بتائے آئے ہم اس دہشت گردی کے خلاف احتجاج کرنے نکلے ہیں جو اکسٹھ ہجری میں امام محبت حسینؑ ابن علیؑ اور آپ کے ششماہہ علی اصغرؑ کے ساتھ ہوا تھا مجھے یقین ہے وقت ضرور لگےگا لیکن وہ دن دور نھیں جب اہلیان بلتستان بھی اہل عراق کی طرح پوری دنیا کے لئے نمونہ بن جائیگا۔

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.