تحریر: سید اسد عباس

یہ دعویٰ کہ ایران حوثیوں کی مدد کر رہا ہے، 2015ء میں یمن پر حملے کے ابتدائی ایام میں ہی سامنے آچکا تھا۔ یمنی بندرگاہ الحدیدہ پر ہونے والی حالیہ کارروائی کے حوالے سے بھی سعودی اعلیٰ عہدیداروں نے یہی کہا کہ اس حملے کا مقصد یمن میں ایک نئی حزب اللہ کے قیام کو روکنا، ایرانی تسلط کا خاتمہ، اسلحہ کے حصول پر نظر رکھنا اور باب المندب کو محفوظ بنانا ہے۔ یہ دعویٰ کرنے والے یمن کے حدود اربعہ، اپنی طاقت اور بحری و زمینی تسلط سے بخوبی آگاہ ہیں۔ تاہم وہ جن کو سنا رہے ہوتے ہیں، ان کے لئے سعودیہ یا امارات کا کہنا ہی کافی ہے۔ مغربی میڈیا اسی راگنی کو ذرا اونچے سروں میں الاپتا ہے، کیونکہ اس راگ میں ہی اس کا حقیقی ہدف چھپا ہوا ہے۔ مغرب عرب دنیا کو باور کروانا چاہتا ہے کہ ایران آپ کا دشمن ہے اور آپ پر تسلط کا خواہاں ہے۔ وہ دنیا میں یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ اسلامی دنیا دو بلاکوں پر مشتمل ہے، جس میں ایک بلاک ایران کے زیر اثر ہے تو دوسرا نسبتاً بڑا بلاک سعودیہ کے تحت ہے۔ پاکستان میں ہم نے مذہبی جماعتوں کے بڑے بڑے قائدین کو یہ کہتے سنا ہے کہ پاکستان کو سعودیہ ایران جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیے بلکہ مصالحانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔ عام عوام کے تو کیا کہنے۔

اس دعویٰ کی حقیقت کو جاننے کے لئے یمن کا حدود اربعہ جاننا نہایت اہم ہے۔ یمن سعودیہ کی جنوبی سرحد پر واقعہ ہے، جس کے جنوب میں بحر ہند ہے۔ یمن کے مغرب میں باب المندب کی خلیج اور مشرق میں حضر موت کے بڑے صحرا کے علاوہ عمان کا ملک ہے۔ یمن کی شمالی سرحد سعودیہ سے ملتی ہے۔ جنوب اور مغرب میں موجود سمندر میں سعودی اتحاد کے علاوہ عربوں کے بڑے اتحادی یعنی مغربی ممالک کے بحری بیڑے موجود ہیں، جو ان پانیوں میں ہونے والی ہر نقل و حرکت کو نوٹ کرتے ہیں۔ 2015ء میں یمن پر فضائی کارروائی کے آغاز کے وقت سے تو ایک گندم کا دانہ بھی اتحادی بحری جہازوں کی اجازت کے بغیر یمن کی بندرگاہ الحدیدہ تک نہیں پہنچا۔ یہ دعویٰ بھی سامنے نہیں آسکا کہ یمن میں ہتھیار عمان کے ذریعے آرہے ہیں۔ حضر موت کا علاقہ جہاں القاعدہ کی بچی کچی قیادت کی پناہ گاہیں ہیں، امریکی ڈرون طیاروں اور امریکی و مغربی انٹیلی جنس کے زیر نظر ہیں۔ اس علاقے میں امریکہ نے متعدد ڈرون حملے کئے اور القاعدہ کی مرکزی قیادت کو ٹارگٹ کیا۔ لہذا اس جانب سے بھی اسلحہ کا آنا ممکن نہیں ہے۔

یہاں ایک اہم سوال یہ اٹھتا ہے کہ یمنیوں کے پاس بلاسٹک میزائل کہاں سے آئے۔؟ یمن کا ایک بڑا حصہ اس وقت عوامی فورس کے کنٹرول میں ہے۔ سرکاری اداروں پر بڑی حد تک ان کا کنٹرول ہے، ان سرکاری اداروں میں فوج، پولیس، انٹیلی جنس وغیرہ شامل ہیں۔ یہ بلاسٹک میزائل یمنی فوج کا اثاثہ ہیں، جو کہ علی عبداللہ صالح کے چالیس سالہ اقتدار کے دوران میں یمنی فوج نے حاصل کئے۔ یمن کا جو حدود اربعہ بیان کیا گیا اس کے تناظر میں ہتھیاروں کی بڑی مقدار بالخصوص بلاسٹک میزائل کا یمن تک پہنچانا کسی صورت ممکن نہیں ہے۔ ایرانی امداد کا دعویٰ کرنے والے بھی اب تک اپنے اس دعویٰ کے حق میں کوئی ٹھوس دلیل یا واضح ثبوت نہیں لاسکے۔ فقط پراپیگنڈہ ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ایرانی حکومت یمنی عوام اور حوثیوں کی حامی ہے۔ اخلاقی اور سفارتی سطح پر وہ یہ امداد جاری رکھے ہوئے ہے۔ شاید ایران کچھ طبی امداد بھی مہیا کرتا ہے، تاہم مدد کا ایک ہی راستہ موجود ہے اور وہ امدادی رقوم کی ترسیل ہے۔ حوثی مجاہدین کی حالت کو دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اگر بالفرض رقم کی صورت میں بھی مدد ہو رہی ہے تو وہ اس قدر نہیں کہ مجاہدین کے لئے باقاعدہ لباس اور جوتے ہی خریدے جا سکیں۔ یمن ایک قبائلی معاشرہ ہے، ہتھیار مرد کی زینت سمجھا جاتا ہے۔ خواہ کسی یمنی کے پاس کھانے کو کچھ بھی نہ ہو، اس کے پاس ہتھیار ضرور ہو گا۔ یمنیوں کی کمر سے بندھا خنجر ان کی قبائلی ثقافت کا غماز ہے۔ باب المندب کی دوسری جانب افریقہ کے ممالک ہیں، جہاں ہتھیاروں، منشیات اور دیگر اہم اشیاء کی بلیک مارکیٹ ہے۔ لہذا چھوٹے ہتھیاروں کی خریداری کوئی ایسا مشکل کام نہیں ہے۔

ایران یمنیوں کی مدد کیوں کرتا ہے؟
پراپیگنڈہ تو یہی ہے کہ چونکہ یمنی اور حوثی شیعہ ہیں، لہذا ایران ان کاحامی اور مددگار ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ یمنی اور حوثی زیدی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔ زیدی مسلک اگرچہ بنی فاطمہ سے متمسک رہا ہے، تاہم اس میں بھی کئی ایک فرقے موجود ہیں۔ سلیمانیہ، صالحیہ اور بتریہ فرقہ امامت کے منصب کو شیعہ اثناء عشریہ کے برخلاف شورائی سمجھتا ہے، اسی طرح افضل کو مفضول پر مقدم کرنا بھی جائز قرار دیا گیا ہے۔ زیدیہ کلامی اعتبار سے معتزلہ کے قریب تر ہیں۔ وہ امامت کو اہل سنت کے برخلاف فاطمی عالم اور مجاہد میں محصور سمجھتے ہیں۔ زیدیوں میں قاسمیہ فرقہ امام علی ؑ کی نص امامت کا قائل ہے۔ زیدیہ کا عقیدہ ہے کہ ایک ہی وقت میں دو مختلف علاقوں میں دو امام ہوسکتے ہیں، جبکہ شیعہ اثناء عشری کے مطابق ایک وقت میں ایک ہی ناطق امام ہوگا۔ شیعہ اور زیدیہ کے نزدیک باب اجتہاد اور چند دیگر امور میں اتفاق ہے۔ شفاعت امام، عصمت امام، تلوار سے قیام، دینی و دنیاوی رہبری جیسے امور میں بھی زیدیوں اور شیعہ کے مابین واضح اختلاف موجود ہے۔ زیدیہ اہل سنت کے امام ابو حنفیہ کی مانند فقہ میں قیاس کو بروئے کار لاتے ہیں۔ لہذا یہ کہنا کہ زیدی مکمل طور پر شیعہ ہیں، درست نہیں، نہ ہی یہ کہنا درست ہے کہ وہ مکمل طور پر اہل سنت ہیں بلکہ ان کی اپنی مستقل فقہ ہے، اسی سبب انہیں زیدی مسلک کے عنوان سے جانا جاتا ہے۔

پس واضح ہوا کہ مسلک کی بنیاد پر مدد کا دعویٰ بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہے، زیدیوں اور شیعہ کے مابین موجود چند مشترکات کے باوجود علماء کے نزدیک یہ مسلک اہل سنت سے زیادہ ہم آہنگ ہے۔ ویسے بھی ایران کا ان کی مدد یا حمایت کرنا مسلک کی بنیاد پر ہوتا تو ایران کبھی بھی حماس، جہاد اسلامی فلسطین اور سوڈان کی اسلامی تحریک کی حمایت نہ کرتا۔ مظلوم کی مدد اور حمایت دین اسلام کی تعلیمات کا بنیادی حصہ ہے۔ ہر وہ مسلمان ریاست یا مسلمان فرد جو مظلوم کی مدد کو اپنا شرعی فرض تصور کرتا ہے، پر واجب ہے کہ مظلوم خواہ کسی بھی مسلک سے ہی کیوں نہ ہو، اس کی ہرممکن مدد کی جائے۔ ایسا بھی نہیں کہ کوئی اختلاف ہے ہی نہیں۔ مشرق وسطی اور ایران میں موجود مقتدر قوتوں کا اختلاف نظریاتی اور اصولی ہے۔ ایران سمجھتا ہے کہ امت مسلمہ کے مسائل کے حل، اس کی تعمیر و ترقی کے لئے مسلمان ممالک سے آمرانہ حکومتوں کا خاتمہ اور وہاں عوامی حکومتوں کا قیام ضروری ہے۔

تاہم اس حل پر ایمان کے باوجود ایران نے حتی المقدور کوشش کی کہ وہ کسی بھی مسلمان ریاست کے خلاف عسکری یا سفارتی حتی عوامی خلفشار کی سطح کے جارحانہ اقدامات سے گریز کرے۔ ایران نے کبھی بھی کسی بھی اسلامی ریاست کے امور میں اس وقت تک عملی مداخلت نہیں کی، جب تک وہ ریاست یا اس کے عوام کا ایک حصہ امت کے وسیع تر مفاد کے خلاف کھل کر سامنے نہ آجائے یا کسی اور مسلمان ریاست پر چڑھ دوڑے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں مقتدر آمریتیں ایران کو اپنا دشمن تصور کرتی ہیں، وہ اپنے عوام میں مسلکی اختلافات کو ہوا دے کر، عوام کو ایرانی تسلط سے خوفزدہ کرکے اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ لبنان، عراق، نائجیریا، یمن، شام اور فلسطین وہ ممالک ہیں، جہاں مشرق وسطیٰ کے حکمرانوں کے تمام حربوں کے باوجود انقلاب اسلامی کے نظریہ کو تقویت ملی ہے۔ یہی سبب ہے کہ آج ان ممالک کے عوام اپنے اصولی موقف اور بنیادی انسانی حقوق کے مطالبے پر ایرانی پراکسی ہونے کا طعنہ برداشت کر رہے ہیں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) شام کے صدر بشار الاسد نے دمشق تہران تعلقات کو اسٹریٹیجک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شام کی سرزمین پر ایران کا کوئی فوجی اڈہ موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل دہشت گردوں کی براہ راست حمایت کر رہے ہیں۔

العالم ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے صدر بشار الاسد نے کہا کہ شام اور ایران کے اسٹریٹیجک تعلقات عالمی تبدیلیوں سے ہرگز متاثر نہیں ہوتے کیونکہ دونوں ملکوں کے تعلقات خطے کے حال اور مستبقل سے وابستہ ہیں۔ شام کے صدر نے کہا کہ شام اور ایران نے اپنے تعلقات کو عالمی سیاسی اکھاڑے کی گزند سے پاک رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سارے معاملات ایٹمی حوالے سے ایران مخالف عالمی پروپیگنڈے سے جڑے ہوئے ہیں اور اس حوالے سے جو کچھ بھی ہورہا ہے وہ ایران کے خلاف بین الاقوامی ماحول سازی کا حصہ ہے۔

صدر بشار الاسد نے شام میں ایرانی فوجی مشیروں کی موجودگی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت شام نے شروع ہی میں ایران اور روس سے شام کے لیے مشاورت کی درخواست کی تھی کیونکہ ہمیں ان ممالک کے تعاون کی ضرورت تھی، اور ایران نے ہماری درخواست کو قبول کرلیا۔ شام کے صدر نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ایران نے شامی عوام کے دفاع کی جنگ لڑی ہے اور اس راہ میں خون کا نذرانہ بھی پیش کیا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ شام میں ایران کا کوئی فوجی اڈہ موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کھل کر یہ بات کہی کہ اسرائیل شام میں دہشت گردوں کی براہ راست حمایت کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شام سے دہشت گردوں کا خاتمہ ہی اسرائیلی اقدامات کا بہترین جواب ہے۔

شام پر اسرائیلی حملوں کے بارے میں پوچھےگئے جواب کے جواب میں صدر بشارالاسد کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حلموں پر خاموش نہیں رہیں گے بلکہ فوجی وسائل کے لحاظ سے اس کا جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا توپ خانہ اور اسرائیلی فضائیہ در اصل دہشت گردوں کا ہی توپ خانہ اور ان کی فضائیہ شمار ہوتی ہے۔ شام کے صدر نے کہا کہ دہشت گردوں کے لیے اسرائیل کی براہ راست حمایت کے باوجود شام اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ شامی فوج جنوبی محاذوں پر ڈٹی ہوئی ہے اور بہت سے علاقوں کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد بھی کرایا جاچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک بات پوری طرح واضح ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فیصلہ کن کردار شام کے پاس ہے اور اسرائیل کچھ بھی کرلے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔

صدر بشار الاسد نے واضح کیا کہ امریکہ اور اسرائیل براہ راست جنوبی شام میں مداخلت کر رہے ہیں اور ان کی جانب سے دہشت گردوں کی کھلی حمایت کے سبب علاقے کی صورتحال مزید ابتر ہوتی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے ممالک منجملہ سعودی عرب نے متعدد بار ہمیں یہ پیغام ارسال کیا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ تعلقات ختم کرلیں تو شام کی صورتحال بہتر ہوجائے گی لیکن ہم نے ان کی ان باتوں کو قبول نہیں کیا اس لئے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے طرفدار ہیں اور اسرائیل کی حمایت کرنے والے عرب حکمرانوں سے ہمیں نفرت ہے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) یمنی فوج کے جوانوں نے صوبہ تعز کے علاقے مقنبہ میں سعودی اتحاد میں شامل فوجیوں کی ایک ٹولی کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔اس حملے میں سعودی اتحاد کے درجنوں فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے میزائیل یونٹ نے اتوار کی رات بھی سعودی عرب کے جنوبی صوبے جیزان کے صنعتی علاقے پر بیلسٹک میزائل داغا تھا۔ دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ یمنی فوج کے اسنائپروں نے بھی مقنبہ کے علاقے میں سعودی اتحاد کے سات فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوانوں نے جیزان کے علاقے جبل ایم بی سی کی جانب سعودی اتحادیوں کی پیش قدمی کو ناکام بنادیا ہے۔ یمنی کے فوج کے جوابی حملے میں سعودی اتحاد کا بھاری جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔

سعودی عرب نے مارچ دوہزار پندرہ سے یمن کو جارحیت کا نشانہ بنا رکھا ہے تاہم اسے اپنے مقاصد میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ سعودی جارحیت اور محاصرے کے باوجود یمنی فوج کی دفاعی توانائیوں میں اضافہ ہوا ہے اور ان کے میزائل سعودی عرب کے اندر بھی فوجی ٹھکانوں اور سرکاری تنصیبات تک پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض سمیت بڑے بڑے شہروں میں بڑھتی بدامنی کے بعد نامعلوم افراد نے طائف میں پولیس کی ایک گشتی گاڑی پر حملہ کر کے ایک سیکورٹی اہلکار کو چھرا گھونپ کر ہلاک کر دیا۔

سعودی اخبار سبق کے مطابق دو نامعلوم افراد نے طائف میں پولیس کی ایک گشتی گاڑی پر حملہ کرنے کے علاوہ ایک پولیس اہلکار سے ہتھیار بھی چھین لیا اور فرار ہو گئے۔

رپورٹ کے مطابق سیکورٹی اہلکاروں نے ان افراد کا تعاقب کیا جہاں طائف کے نیشنل گارڈ کے مرکز پر جھڑپ بھی ہوئے اور ہونے والی فائرنگ میں ایک حملہ آور زخمی ہو گیا جس کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ دوسرا فرار ہو گیا۔ابھی ان افراد کی کوئی شناخت نہیں بتائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ سعودی حکومت کے حالیہ اقدامات اس ملک کے مختلف علاقوں میں عوامی احتجاجات اور بدامنی بڑھنے کا باعث بنے ہیں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) یمنی وزارت دفاع کے ایک ذریعے نے اعلان کیا ہے کہ یمن کی فوج اور عوامی رضاکار فورسز نے صوبہ الحدیدہ کے جنوب میں سعودی و اماراتی اتحادی جارح فوجیوں کے خلاف وسیع پیمانے پر حملے کا آغاز کر دیا ہے۔ جب سے یمن کی فوج اور عوامی رضاکار فورسز نے اس ملک کے مغربی ساحل پر واقع الحدیدہ کے صوبے کے دفاع کے لئے نئی فورسز کے اعزام کا اقدام کیا ہے، وہاں سے ملنے والی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جارح حملہ آور فوج کو اس صوبے کے جنوب میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

یمن کی نیوز ایجنسی "سباء" نے یمنی وزارت دفاع کا حوالہ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ یمن کی فوج اور عوامی رضاکار فورسز نے سعودی اتحادیوں کے فوجی ٹھکانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر جارحانہ حملوں کا آغاز کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں انہیں وہاں اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔

اس ذریعے نے یمن کے فوجی ڈرون یونٹ اور عوامی رضاکار فورسز کی جانب سے جارح فوج کے خلاف آپریشن کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اس منفرد آپریشن میں آپریشن کمانڈ روم اور ان کا فضائی دفاعی سسٹم مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی و اماراتی اتحادیوں نے ایک ماہ قبل الحدیدہ بندرگاہ، جو یمن کی مقاومت کا باہر کی دنیا سے رابطے کا واحد ذریعہ ہے، پر حملے شروع کئے ہوئے ہیں اور صوبہ حدیدہ کے جنوب میں جنگی جہازوں کی مدد سے ساحلی علاقے پر پیشقدمی کی ہے۔ یمنی فوج اور رضا کار فورسز نے اپنے تازہ دم لشکر کو الحدیدہ کی طرف بھیجا ہے، تاکہ دشمن کی پیشقدمی کو روکا جا سکے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) یمنی فوج کے میزائل یونٹ اور عوامی رضاکار فورسز نے آج یمن کے مغربی ساحل پر جارحین اور ان کے ایجنٹوں کے فوجی مراکز پر میزائلوں کی بارش کر دی۔

انصاراللہ کے ٹی وی چینل المسیرہ کی رپورٹ کے مطابق یمن کے میزائل یونٹ کے ایک ذریعے نے بتایا کہ میزائل یونٹ نے یمن کے مغربی ساحل پر حملہ آوروں اور ان کے ایجنٹوں کے فوجی ٹھکانوں پر متعدد بیلسٹیک میزائل فائر کئے۔ فائر کئے گئے میزائل ٹھیک اپنے نشانوں پر جاکر لگے، جس کے نتیجے میں جارح حملہ آوروں اور ان کے ایجنٹوں کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ یمنی فوج کے میزائل یونٹ اور عوامی رضاکار فورسز نے دو دن پہلے بھی یمن کے مغربی ساحل کے محاذ پر جارح حملہ آوروں اور ان کے ایجنٹوں کے اجتماع کی جگہ کو میزائل قاہر سے اپنا نشانہ بنایا۔ اس سال 5 مئی کو بھی جارح حملہ آوروں اور ان کے ایجنٹوں کے اجتماعات اور مورچوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) سعودی عرب کے جنگی طیاروں نے یمن پر جارحیت کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ہفتے کی رات صنعا کے کئی علاقوں پر متعدد بار بمباری کی جس میں ستّین روڈ پر آئل تنصیبات بھی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق دارالحکومت صنعا میں آئل کمپنی کی عمارت پر سعودی عرب کے جنگی طیاروں کی بمباری میں پانچ عام شہری شہید اور تیرہ دیگر زخمی ہو گئے جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔
صعدہ پر سعودی عرب کی ہفتے کے روز کی جارحیت میں اکّیس عام شہری شہید ہوئے و زخمی ہوئے۔

دوسری جانب یمنی فوج نے مغربی ساحل پر سعودی اتحاد کے فوجی ٹھکانے کو ایک قاہر ایم دو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا۔

سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی واس نے بھی یمن سے ملنے والے سرحدی علاقوں میں سعودی عرب کے کم از کم چھ فوجیوں کی ہلاکت کی خبر کی تصدیق کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ دو سعودی فوجی جازان، ایک صوبے الحرث اور ایک نجران میں مارا گیا البتہ دو دیگر فوجیوں کی ہلاکت کے مقام کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) برطانیہ کی لیبر پارٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ یمن پر کلسٹر بم برسانے کی بنا پر سعودی عرب پر ہوائی حملہ کر دیا جانا چاہئے۔

برطانیہ میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت لیبر پارٹی کے سربراہ جرمی کوربین نے کیمیائی ہتھیاروں کے بہانے شام پر غیر قانونی حملے میں برطانیہ کے شامل ہونے پر مبنی تھریسا مئے کی حکومت کے فیصلے اور یمن کے بارے میں اس کے دوہرے معیار پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمن میں جس طرح سے سنگین انسانی بحران پیدا کیا گیا ہے اس کے پیش نظر دیگر ملکوں کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ سعودی عرب کے فوجی اور فضائی اڈوں پر حملہ کر دیں کیونکہ سعودی عرب، یمن پر کلسٹر اور فاسفورس بموں سے حملہ کر رہا ہے-

انہوں نے دارالعوام میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے تین اداروں نے جنوری میں اعلان کیا کہ بحران یمن، دنیا کا سب سے بدترین بحران ہے اس لئے برطانوی وزیرا‏‏عظم کو یہ وعدہ کرنا ہو گا وہ یمن پر سعودی عرب کی بمباری کی حمایت کرنا بند کر دیں گی-

شیعہ نیوز(پاکستان شیعہ خبر رساں ادارہ ) تحریر: نذر حافی


انسان اشرف المخلوقات ہے، خدا نے انسان کو سوچنے، سمجھنے، پرکھنے، اختیار کرنے اور ترک کرنے جیسی منفرد صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ خدا انسان کو کٹھ پتلی نہیں بنانا چاہتا، اس نے انسان کو اپنی اطاعت کی دعوت بھی تعقل، تفکر، تدبر اور اختیار کے ہمراہ دی ہے۔ اللہ کی طرف سے جتنے بھی مصلح آئے، انہوں نے انسانوں کو ڈکٹیٹرز اور آمروں کے سامنے کٹھ پتلی بننے سے منع کیا، جب انسان انسانیت کی سطح سے گر کر کٹھ پتلی بن جاتا ہے تو وہ عقل، فہم اور شعور کے ہوتے ہوئے بھی بے جان مجسموں کی طرح زندگی گزارتا ہے اور صرف بے جان مجسموں کی طرح ہی زندگی نہیں گزارتا بلکہ اس سے بھی بدتر حال میں گر جاتا ہے اور بغیر سوچے سمجھے مذہبی و سیاسی آمروں کے اشاروں پر چلنے لگتا ہے اور جب آمروں کے اشاروں پر حرکت کرنے لگتا ہے تو اس کی اپنی سوچ، فکر، شعور، دانائی اور حتٰی کہ حرکت تک گویا سلب ہو جاتی ہے۔

معروف قانون دان ایس ایم ظفر کے مطابق آمر اور ڈکٹیٹر دونوں میں فرق ہوتا ہے، آمر ایک حاکم ہوتا ہے، جو حکم دیتا ہے جبکہ ڈکٹیٹر ایک مطلق العنان حاکم ہوتا ہے، اس کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ دستور اور قانون کا درجہ رکھتا ہے۔[1] ان کے مطابق ہر حکم دینے والا آمر تو ہوسکتا ہے لیکن ڈکٹیٹر نہیں، چونکہ ڈکٹیٹر مطلق العنان ہوتا ہے اور اپنے آپ کو محض حاکم نہیں بلکہ خدا سمجھنے لگتا ہے۔ گویا اردو زبان میں ڈکٹیٹر کا کوئی متبادل لفظ موجود ہی نہیں۔ بس یوں سمجھئے کہ آمر ایک عام کلمہ ہے اور ڈکٹیٹر خاص ہے۔ ہر ڈکٹیٹر آمر ہے لیکن ہر آمر ڈکٹیٹر نہیں۔ حالات کے مطابق لوگ آمر اور پھر ڈکٹیٹر بنتے ہیں، حالات جیسے جیسے خراب ہوتے جاتے ہیں، پہلے آمریت اور پھر ڈکٹیٹر شپ کے لئے راستہ ہموار ہوتا جاتا ہے۔ آمر اور ڈکٹیٹر اپنے ارد گرد کبھی بھی وفادار لوگوں کو برداشت نہیں کرتے چونکہ وفادار لوگ انہیں بار بار آئین، قانون، اصول، احتساب، حساب اور ضابطے کی یاد دلاتے ہیں جبکہ یہ باتیں آمروں اور ڈکٹیٹروں کو ناگوار گزرتی ہیں، لہذا وہ وقت کے ساتھ ساتھ آئین اور قانون کے رسیا وفاداروں کو دور کرکے فقط اپنے تابعداروں کو اپنے گرد جمع کرلیتے ہیں۔

تابعدار وہ ہوتا ہے جو فقط دست بوسی، یس سر اور خوشامد و چاپلوسی کرتا ہے۔ چنانچہ ہر آمر اور ڈکٹیٹر کو صرف تابعدار ہی بہاتے ہیں۔ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ آمروں اور ڈکٹیٹروں کے تابعداروں میں کسی قسم کی سوجھ بوجھ، شعور یا غور و فکر کا فقدان نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ جو جتنی خوبصورتی سے کٹھ پتلی کا کردار ادا کرتا ہے، وہ اتنا ہی ایک آمر یا ڈکٹیٹر کے قریب ہوتا ہے۔ چنانچہ ہر خوشامد اور چاپلوسی کرنے والا ہمیشہ اپنے آپ کو بڑی کٹھ پتلی ظاہر کرنے کی کوشش میں مگن رہتا ہے۔ ڈکٹیٹرز اور آمروں کا سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ نااہل لوگوں کو اپنے گرد جمع کرکے ان پر نوازشات کی بارش کرتے ہیں، ظاہر ہے جب نااہل ہونے کے باوجود کسی کو نوازا جائے تو اس کی زبان سے خوشامد کے بغیر اور کچھ نکل ہی نہیں سکتا، ڈکٹیٹر شپ کا دوسرا اصول یہ ہے کہ آمر یا ڈکٹیٹر کے بارے میں اس کے تقدس کو ہوا دی جاتی ہے، لوگوں کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ یہی عوام کا سب سے بڑا ہمدرد، متقی اور مخلص ہے اور اس کے خلوص و تقدس کے بارے میں خوشامدی بیٹھ کر کہانیاں گھڑتے ہیں اور لوگوں کو سناتے رہتے ہیں۔ آمریت اور ڈکٹیٹر شپ کا تیسرا اصول کٹھ پتلی کی حرکت کو کنٹرول کرنا ہے، کٹھ پتلی صرف اتنی ہی حرکت کرتی ہے، جس قدر ڈکٹیٹر اشارہ کرے اور جہاں ڈکٹیٹر کا اشارہ رک جائے، کٹھ پتلی بھی وہیں رک جاتی ہے۔

گذشتہ کئی سالوں سے ہم سعودی عرب کے لئے کٹھ پتلی کا کردار ادا کر رہے ہیں، سعودی عرب نے بعض نالائق مولویوں کو اپنے گرد جمع کرکے ریالوں کی بارش کی، انہیں خوب نوازا، ان نوازے جانے والے مولویوں نے سعودی عرب کے تقدس کے بارے میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دیئے، اس کے بعد ان سعودی عرب کی کٹھ پتلیوں کو سعودی ڈکٹیٹرز نے افغانستان میں روس کے خلاف حرکت کرنے کا حکم دیا اور بعد ازاں پاکستان کے عوام کے خلاف متحرک ہونے کا اشارہ کیا تو افغانستان و پاکستان دونوں خون میں ڈوب گئے۔ اس کے بعد اب سعودی عرب کے ولی عہد پرنس محمد بن سلمان نے 22 مارچ کو واشنگٹن پوسٹ کو تازہ ترین انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’سرد جنگ کے دوران مغرب کو اسلامی دنیا میں وہابیت کی ضرورت محسوس ہوئی تو ہم نے مغرب کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے وہابی مدارس اور مساجد کی تعمیر میں سرمایہ کاری کی۔" اب سعودی عرب سے مغرب لبرل ہونے کا تقاضا کر رہا ہے تو ظاہر ہے سعودی ڈکٹیٹر بھی لبرل ہو جائیں گے، لیکن مسئلہ تو ان کٹھ پتلیوں کا ہے کہ جو سعودی ڈکٹیٹروں کی ایما پر وہابی ازم کی تبلیغ و ترویج کرتی رہی ہیں، اب وہ کس منہ سے لبرل ازم کا پرچار کریں گی، خیر! کوئی بات نہیں کٹھ پتلیاں تو کٹھ پتلیاں ہوتی ہیں، وہ تو سعودی لبرل ازم کو بھی مقدس بناکر پیش کریں گی، لیکن اصل مسئلہ ان بے چارے غریبوں کا ہے، جنہوں نے سعودی کٹھ پتلیوں کے کہنے پر پہلے مونچھیں منڈوائی تھیں، اب ان کی داڑھی کی بھی باری آگئی ہے۔ بقول شاعر:
امیرِ شہر غریبوں کو لُوٹ لیتا ہے
کبھی بہ حیلہ مذہب، کبھی بنامِ وطن

شیعہ نیوز(پاکستان شیعہ خبر رساں ادارہ ) تحریر: عرفان علی

سعودی سلطنت کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان جو کہ وزیر دفاع بھی ہیں، مارچ کے آخری عشرے کے آغاز سے تا دم تحریر امریکہ کے دورے پر ہیں، جو سات اپریل تک جاری رہے گا۔ امریکی صدر، دیگر حکومتی شخصیات، قانون ساز ادارے کے اراکین، سرمایہ کاروں اور تاجروں سمیت کاروباری شخصیات سے انکی ملاقاتوں پر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی اتنی زیادہ توجہ نہیں رہی، جتنی ان کے انٹرویوز اور آف دی ریکارڈ گفتگو کے بعض نکات کے منظر عام پر آنے سے عالم اسلام میں وہ اور انکی رائے موضوع سخن قرار پائی۔ روزنامہ واشنگٹن پوسٹ کی ایسوسی ایٹ ایڈیٹر اور سینیئر نامہ نگار برائے قومی سلامتی کیرن ڈی ینگ کے 22 مارچ کے مقالے کے مطابق محمد بن سلمان نے واشنگٹن میں اپنے چار روزہ قیام کے آخری دن واشنگٹن پوسٹ کے دفتر میں سوا گھنٹے کی ملاقات میں آف دی ریکارڈ بہت سے موضوعات پر بات کی۔ طے یہ پایا کہ اس کے بعض نکات مقالے کی صورت میں پیش کئے جاسکیں گے۔ مذکورہ مقالے کے آخری دو پیراگراف نے پوری دنیا میں ہلچل مچادی:Asked about the Saudi-funded spread of Wahhabism, the austere faith that is dominant in the kingdom and that some have accused of being a source of global terrorism, Mohammed said that investments in mosques and madrassas overseas were rooted in the Cold War, when allies asked Saudi Arabia to use its resources to prevent inroads in Muslim countries by the Soviet Union.
Successive Saudi governments lost track of the effort, he said, and now we have to get it all back. Funding now comes largely from Saudi-based foundations,148 he said, rather than from the government.

یعنی سعودی ولی عہد نے یہ اعتراف کیا کہ وہابیت کے پھیلاؤ کے لئے سعودی فنڈنگ یعنی دیگر ممالک میں مساجد و مدارس (کے قیام و دوام) کے لئے سرمایہ جو سعودیہ نے لگایا، ایسا سرد جنگ کے دوران اتحادیوں کے کہنے پر کیا، تاکہ مسلم ممالک میں سوویت یونین حاوی نہ ہو جائے۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں تھی کہ دنیا جس سے بے خبر تھی۔ حتیٰ کہ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ سرتاج عزیز نے اپنی ایک کتاب میں سعودی عرب کے اس اتحادی کا نام امریکا لکھا تھا، جس نے پاکستان میں مدارس کا جال بچھایا، تاکہ سوویت کے خلاف لڑائی کے لئے ان مدارس میں تربیت دی جائے۔(ماضی میں متعدد مرتبہ انکی کتاب کا حوالہ یہ حقیر پیش کرچکا ہے)۔ اسی طرح سابق برطانوی وزیر خارجہ رابن کک کا یہ جملہ بھی ہم کئی مرتبہ بیان کرچکے کہ القاعدہ (اسامہ بن لادن کا تکفیری دہشت گرد گروہ) مغربی انٹیلی جنس اداروں کی مس کیلکیولیشن کی پیداوار تھا۔ موجودہ امریکی صدر ٹرمپ اپنے پیشرو صدر اوبامہ کو ماضی میں داعش کا بانی اور ہیلری کلنٹن کو شریک بانی کہہ چکے ہیں۔ لیکن اس مرتبہ یہ اعتراف آل سعود کے چشم و چراغ ولی عہد سلطنت اور وزیر دفاع محمد بن سلمان نے کیا ہے، اس لئے اسے اہمیت دی جا رہی ہے۔

چونکہ اس طرح کے اعتراف کے بعد امریکہ اور سعودی عرب کے مشترکہ منصوبے کے تحت وجود میں آنے والے مدارس و مساجد کو چلانے والے نامور مولوی حضرات اور انکا مکتب و مسلک ہی زیر سوال آچکا ہے، اس لئے سعودی ولی عہد کے ایک اور انٹرویو کے ذریعے ڈیمیج کنٹرول کرنے کی ناکام کوشش کی گئی۔ اسرائیلی فوج میں کارپورل کے عہدے پر جیل محافظ کی حیثیت سے کام کرنے والا جیفری گولڈ برگ امریکہ میں ایک نامور صحافی و بلاگر ہی نہیں بلکہ اب وہ امریکہ اور جعلی ریاست اسرائیل کے تعلقات کے امور کا ایک ماہر اور امریکی و اسرائیلی اسٹیبلشمنٹ سے بہت زیادہ قریب سمجھا جاتا ہے۔ یہ آج کل امریکہ کے ماہنامہ جریدے دی اٹلانٹک کا چیف ایڈیٹر ہے اور سعودی ولی عہد سلطنت سے اس نے جو انٹرویو کیا، اس کی تفصیلات اس جریدے کی ویب سائٹ پر 2 اپریل 2018ء کو اپلوڈ کی گئیں۔ اس انٹرویو میں محمد بن سلمان آل سعود نے وہابی نظریئے یا وہابیت کے وجود سے ہی انکار کر دیا، چہ جائیکہ سعودی عرب کا اس سے تعلق! انہوں نے کہا کہ کہیں کوئی وہابیت ہے ہی نہیں بلکہ سعودی عرب میں صرف سنی اور شیعہ ہیں اور دونوں مزے میں ہیں۔ انہوں نے سنی اسلام کی صرف چار شاخوں کا اعتراف کیا، جو چار فقہی آئمہ سے منسوب ہیں یعنی حنبلی، شافعی، مالکی و حنفی جنکی تشریحات مختلف بھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پہلی سعودی سلطنت تو درعیہ میں چھ سو سال قبل ان کے اجداد نے قائم کی تھی اور دو دیگر قبائل سے انکی لڑائی رہتی تھی، جو ان پر حملے کرتے رہتے تھے، ان سے مذاکرات کئے، ان سے کہا کہ لڑتے کیوں ہو، کیوں نہ ہم (یعنی آل سعود) تمہیں (یعنی دیگر دو قبائل کے افراد کو) اس خطے میں اپنے محافظین (گارڈ) کی حیثیت سے بھرتی کرلیں۔ تین سو سال بعد بھی یہی طریقہ رہا کہ خطہ عرب کے عظیم دماغوں کی ضرورت محسوس کی جاتی رہی اور ان میں فوجی جرنیل، قبائلی رہنماء اور علماء کی خدمات حاصل کی جاتی رہیں اور انہی میں سے ایک محمد بن عبدالوہاب تھے۔ محمد بن سلمان نے مزید کہا کہ محمد بن عبدالوہاب کے آل شیخ خاندان کے علاوہ بھی دیگر اہم خاندان موجود ہیں۔ سعودی شہزادے کے الفاظ میں لڑنے والے دو قبائل سے اس کے اجداد نے کہا تھا ’’Why don't we hire you as guards for this area?‘‘ اس کا مطلب با الفاظ دیگر آل سعود کے حکمران افراد کی ہائرنگ کیا کرتے تھے! اور اسی انٹرویو میں سوویت یونین کے خلاف اخوان المسلمون کی خدمات حاصل کرنے کا بھی اعتراف کیا ہے، لیکن اسی انٹرویو میں اسے دشمن اور خطرہ بھی قرار دیا ہے۔

سعودی شہزادے نے دو اہم دعوے یہ کئے کہ سعودی حکومت میں ایک وزیر شیعہ ہے اور ایک اہم جامعہ(یونیورسٹی) ہے، جس کے سربراہ بھی شیعہ ہیں اور انکا کہنا تھا کہ انکا ملک مسلمان مکاتب اور فرقوں کا مجموعہ ہے۔(جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس سعودی شہزادے کو آج تک یہ بھی معلوم نہیں ہوسکا کہ سعودی عرب کے یہ شیعہ مسلمان بھی ایران و پاکستان سمیت دنیا بھر میں پھیلے ہوئے شیعہ مسلمانوں کی طرح بارہویں معصوم امام حجت واقعی خدا یعنی حضرت امام مہدی علیہ السلام پر ایمان رکھتے ہیں اور انہی کی طرح جن چار سنی آئمہ فقہ کا انہوں نے دعویٰ کیا، یہ آئمہ اور ان کے پیروکار بھی امام مہدی علیہ السلام کو دنیا کا نجات دہندہ مانتے ہیں اور انکے ظہور اور انکی حکومت کے قیام کے قائل ہیں۔ لیکن سعودی ولی عہد سلطنت نے ایران پر جو الزام ایک اور مرتبہ دہرایا ہے، وہ یہی ہے کہ ایرانی ریاست کا عقیدہ ہے کہ غائب امام دنیا میں دوبارہ آئیں گے اور وہ پوری دنیا پر حکومت کریں گے۔ چونکہ پچھلی مرتبہ بھی بعض افراد کی جانب سے سعودی شہزادے کی امام مہدی علیہ السلام کے خلاف ہرزہ سرائی کے باوجود اس شہزادے کا دفاع کرتے ہوئے مجھ پر تنقید کی گئی تھی، اس لئے جیفری گولڈ برگ کے سوال کے جواب میں جو محمد بن سلمان نے کہا وہ سب کچھ بھی پیش خدمت ہے۔):First in the triangle we have the Iranian regime that wants to spread their extremist ideology, their extremist Shiite ideology. They believe that if they spread it, the hidden Imam will come back again and he will rule the whole world from Iran and spread Islam even to America. They've said this every day since the Iranian revolution in 1979. It's in their law and they're proving it by their own actions.

محمد بن سلمان کا یہ انٹرویو بہت ہی اہم ہے اور اس میں جو نکات انہوں نے بیان کئے ہیں، انہی کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ سعودی ولی عہد سعودی عرب کا دفاع کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ سعودی عرب کے شیعہ مسلمان فقہ جعفریہ کے پیروکار ہیں، جو امام جعفر صادق علیہ السلام کے توسط سے پہنچی۔ انہوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ یہ شیعہ وزیر کتنے سال قبل مقرر کیا ہے؟ انہوں نے سعودی سلطنت کی جو دفاعی ڈاکٹرائن پیش کی ہے اور اس میں’’برائی کی تکون‘‘ پر مبنی فرضی دشمن دنیا کے سامنے پیش کئے ہیں۔ ان میں ایک تو ایران کا نام لیا، جس کی مثال اوپر بیان کی جاچکی۔ ان فرضی دشمنوں میں اخوان المسلمون اور سنی دہشت گرد گروہوں کو سعودی عرب کا دشمن قرار دیا ہے۔ اخوان المسلمون کو ایک ایسا انتہا پسند گروہ قرار دیا ہے، جو دنیا میں مرحلہ وار خلافت کے عنوان سے مسلمان سلطنت قائم کرنا چاہتا ہے۔ تکون میں تیسرا نام القاعدہ اور داعش جیسے گروہوں کا بھی شامل کیا گیا ہے، جو ہر کام طاقت کے بل بوتے پر کرنا چاہتے ہیں۔ انکا دعویٰ ہے کہ یہ تکون ایسا کام کر رہے ہیں، جو اللہ نے یا اسلام نے نہیں کہا۔ انکا کہنا ہے کہ اللہ نے صرف تبلیغ اسلام کا فرض سونپا تھا، جو اب مکمل ہوچکا، اب کوئی پریشانی نہیں ہے، اب تبلیغ اسلام مکمل ہوچکی ہے۔

سعودی عرب کا بیان کردہ یہ دشمن گروہ اقوام متحدہ اور دیگر ممالک کے قوانین کو بالکل نہیں مانتا۔ شہزادے کا دعویٰ یہ ہے کہ اس تکون کے خلاف سعودی عرب سمیت آٹھ ممالک کی اعتدال پسند حکومتوں کا ایک اتحاد ہے، جس میں نہ صرف متحدہ عرب امارات، بحرین، مصر، اردن بلکہ عمان، کویت اور حتٰی کہ یمن بھی شامل ہے، حالانکہ یمن میں ایسی کوئی حکومت اپنا وجود نہیں رکھتی، جسے سعودی عرب اور اسکے اتحادی تسلیم کرتے ہیں اور یمن کے دارالحکومت سمیت اہم علاقوں پر جس عبوری حکومت کا کنٹرول ہے، اسے سعودی عرب تسلیم نہیں کرتا جبکہ عمان یمن کی جنگ میں شامل نہیں اور ایران سے اس نے تعلقات خراب بھی نہیں کئے، بلکہ ایران اور امریکہ کے مابین سفارتکاری کا ایک ذریعہ بھی عمان کی سلطنت ہے اور کویت بھی ایران کے بارے میں سعودی عرب، بحرین یا متحدہ عرب امارات کی طرح کا مخاصمانہ رویہ نہیں رکھتا بلکہ خیر سگالی کے بیانات و پیغامات جاری کرتا رہتا ہے۔ سعودی شہزادے کے یہ دعوے دنیا کی نظر میں اس لئے اہمیت کے حامل نہیں ہیں کہ اہل نظر پس پردہ حقائق سے آگاہ ہیں۔ سعودی شہزادے کا یہ موقف کسی طور اسلام یا قرآن سے مطابقت نہیں رکھتا۔ نہ تو اسے شیعی امامت کا عقیدہ قبول ہے اور نہ ہی سنی خلافت کا نظریہ، جیسا کہ اس نے اپنے انٹرویو میں کہا۔

وہ سنیوں کے چار فقہی آئمہ کی تشریحات کے بالکل برعکس حنبلی تشریح کی محمد بن عبدالوہاب والی تشریح و ترامیم کی دنیا بھر میں تبلیغ کرواتا رہا ہے، جس کے تحت مسلمانوں کی جان و مال و عزت امریکی مفاد پر قربان کی جاتی رہی ہے، جیسے کہ افغانستان، شام، یمن سمیت بہت سے ممالک میں اس نظریئے پر عمل کیا، حتٰی کہ داعش بھی محمد بن عبدالوہاب کا لٹریچر ہی تبلیغ میں استعمال کرتی رہی ہے اور اسکا انکشاف ایک سعودی صحافی و دانشور نے کیا بھی تھا۔ القاعدہ و اسامہ بن لادن یہ سبھی سعودی امریکی و برطانوی گیم پلان کا حصہ ہی تھے، جیسے رابن کک نے اشارہ کیا تھا، انگریزی ذرائع ابلاغ داعش کو اسلامک اسٹیٹ کہتے ہیں۔ امریکہ ہی کے ایک تھنک ٹینک کارنیگی(CEIP) نے ایک سکالر کا داعش کی فرقہ واریت: نظریاتی جڑیں اور سیاسی سیاق و سباق کے عنوان سے ایک مقالہ پیش کیا تھا۔ جس کے مطابق:The Islamic State presents itself as the representative of authentic Islam as practiced by the early generations of Muslims, commonly known as Salafism. Many postcolonial and modern Islamic movements describe themselves as Salafist, including the official brand of Islam adopted by Saudi Arabia known as Wahhabism, named after founder Muhammad Ibn Abd al-Wahhab, the eighteenth-century cleric who helped establish the first Saudi state with the assistance of Muhammad Ibn Saud.
Wahhabism is the intellectual legacy of the thirteenth-century Islamic scholar Taqi al-Din Ibn Taymiyyah and the Hanbali school of jurisprudence, as interpreted and enforced by Ibn Abd al-Wahhab and his successors. Marked by extreme traditionalism and literalism, Wahhabism rejects scholastic concepts like maqasid (the spirit of sharia law), a principle that many other Islamic schools uphold; kalam (Islamic philosophy); Sufism (Islamic spirituality); ilal (the study of religious intentions in the Quran and hadith, sayings attributed to the Prophet); and al-majaz (metaphors).

حنفی ملک ترکی کے صدر رجب طیب اردگان پر جس طرح سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات تنقید کر رہے ہیں، اس پر پاکستان میں بھی ایک نیم سیاسی و نیم مذہبی جماعت کے رہنما نے تنقید کی تھی۔ باوجود اس کے کہ محمد بن سلمان نے بہت سے جھوٹ کہے ہیں، لیکن ہم اس سعودی شہزادے کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اس نے سعودی عرب کا وہ اصلی چہرہ بےنقاب کر دیا ہے، جس کے بارے میں عالم اسلام کا ایک وسیع حلقہ موجودہ جدید سعودی سلطنت کے قیام سے لے کر اب تک دنیا کو آگاہ کرتا آیا تھا۔ انہوں نے واشنگٹن پوسٹ اور دی اٹلانٹک کے ان افراد سے جو گفتگو کی، وہ یہ سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ اس خطے میں سعودی عرب امریکہ و اسرائیل کے بلاک کا تاحال اٹوٹ انگ ہے اور یہ امریکی و اسرائیلی بیانیہ ہے، جو سعودی شہزادے کے توسط سے پھیلایا جا رہا ہے۔ امریکہ کے اہل نظر ان معاملات سے ہم سے زیادہ آگاہ ہیں، تبھی تو اس دورے پر ایک شہہ سرخی یہ تھی: ولی عہد محمد بن سلمان کا دورہ امریکہ، جنگ (کے سامان کی) خریداری پر مبنی ایک سفر ہے۔ ویسے بھی اس مرتبہ وہ ہالی ووڈ بھی گئے ہیں، جہاں انکا ریڈ کارپٹ استقبال ہوا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ہالی ووڈ سے کوئی اچھا اسکرپٹ اور اداکاری کے نئے انداز و مکالمے سیکھ کر فرضی طاقت کا سرور حاصل کرسکیں۔ انکے دورہ امریکہ کے حوالے سے بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے اور جو انٹرویوز انہوں نے دیئے ہیں، ان میں ابھی بھی بہت سی کام کی باتیں ہیں، جو مستقبل میں شیئر کی جاسکتی ہیں۔ انتہائی اختصار سے جو ایک جملہ کہا جاسکتا ہے کہ سعودی سلطنت نہ سنی مسلمانوں سے متفق ہے، نہ ہی شیعہ مسلمانوں سے، یہ اسی نظریئے پر قائم ہے جسے اصطلاحاً وہابیت کہا جاتا ہے اور یہی نظریہ داعش اور القاعدہ اور ان کے دیگر ممالک میں موجود اتحادیوں کا بھی ہے، جس سے اسلام و انسانیت کو خطرات لاحق ہیں۔