افغانستان پر امریکی لشکر کشی کے بعد طالبان پہلے سے زیادہ مضبوط ہوا ہے،امریکی تجزیہ کار

  • بدھ, 31 جنوری 2018 13:41

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) امریکہ کےایک معروف سیاسی تجزیہ نگار کا کہنا ہےکہ افغانستان پر امریکہ لشکر کشی اورمسلسل فوجی موجودگی کے باعث اس ملک میں طالبان دہشتگرد پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئے ہیں۔ایرانی ذرائع ابلاغ کےساتھ انٹرویو میں ’’مائیکل کویل مین‘‘ نے کہاکہ افغانستان پر امریکہ لشکر کشی اورمسلسل فوجی موجودگی کے باعث اس ملک میں طالبان دہشتگرد پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ افغانستان سے متعلق سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ طالبان دہشتگرد گروہ اُمید سے زیادہ طاقتور بن گیا ہے اورٹرمپ کی حکمت عملی بھی اس ملک کے حوالے سے ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ امریکہ کی قیادت میں نیٹو افواج کی طرف سے طالبان پر قریب دودہائیوں سے جاری بمباری کے باوجود طالبان کمزور نہیں ہوا ہے اور افغانستان کے ایک وسیع علاقے میں اس کا قبضہ برقرار ہے۔انہوں نے کہاکہ افغانستان پر لشکر کشی کے بعدآج 40 سے 50 فیصد ملک کے چھوٹے بڑے شہروں پر طالبان کا قبضہ ہے۔انہوں نے کہاکہ طالبان دہشتگرد گروہ کو کابل میں ایک ایسی حکومت کا سامنا ہے جوپوے ملک میں امن واستحکام قائم کرنے میں پوری طرح ناکام ہے۔انہوں نے کہاکہ کابل حکومت آج داخلی اورذاتی تنازعات میں اس طرح پھنسی ہوئی ہے کہ وہ عوام کو بنیادی خدمات فراہم کرنے میں بھی ناکام ہورہی ہے۔انہوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ افغانستان کے حوالے سے امریکہ کی اسٹریٹجی کے نتائج پوری طرح واضح ہیں کہا کہ جنگ کے ذریعے ملک میں امن واستحکام کی بحالی ناممکن ہے اور ٹرمپ انتظامیہ کو افغانستان کے ہمسایہ ممالک کےساتھ مل کر ملک میں امن وسیکورٹی کی بحالی کی کوشش کرنی چاہئے۔انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے موجودہ مسائل کے حل کیلئے لوگوں کو اقتصادی طورپر مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.