غزہ پر اسرائیلی فوج کی بمباری، حاملہ خاتون سمیت 4 افراد جاں بحق

  • جمعہ, 10 اگست 2018 16:57

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) حماس کی جانب سے اسرائیل پر فائر کیے گئے 200 راکٹ کے جواب میں اسرائیلی فوج کی غزہ پٹی اور ثقافتی مرکز پر وحشیانہ بمباری سے حاملہ خاتون سمیت 4 افراد جاں بحق جبکہ 18 افراد زخمی ہوگئے۔اس واقع کے بعد اسرائیل اور فلسطینی تنظیم حماس کے درمیان مسلح کشیدگی شدت اختیار کرگئی۔

لاس اینجلس ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق حماس کی جانب سے اسرائیل پر کم از کم 200 راکٹ فائر کیے گئے جبکہ اس کے جواب میں اسرائیل نے وحشیانہ بمباری کرتے ہوئے غزہ پٹی پر 150 سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا۔اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ پٹی پر ال مہسل عمارت کے معاملے پر تنازع شدت اختیار کرگیا۔

حماس کی جانب سے کہا گیا کہ یہ عمارت نوجوانوں کے لیے مشہور ثقافتی مرکز ہے جبکہ اسرائیل نے دعویٰ کیا کہ یہ عمارت حماس کی جانب سے ’فوجی مقاصد‘ کی تربیت کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔

غزہ میں موجود محکمہ صحت کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فضائی حملے میں یہ عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی جبکہ اس کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک بھی ہوئے۔اس حوالے سے ایرانی نشریاتی ادارے ‘پریس ٹی’ نے ایک ویڈیو بھی ٹوئٹ کیا، جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح اسرائیل کے فضائی حملے میں ثقافتی سینٹر کو تباہ کیا گیا۔

حاملہ خاتون کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد کی شرکت
دوسری جانب اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری سے جاں بحق فلسطینی حاملہ خاتون اور اس کی 18 ماہ کی بیٹی کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔عربی نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق غزہ میں ہزاروں سوگواروں نے 23 سالہ حاملہ خاتون عنس ابوخمش اور ان کی 18 ماہ کی بیٹی بایان کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔خیال رہے کہ گزشتہ روز اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ پر 140 سے زائد حملے کیے گئے تھے، جس میں 18 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ حماس کی جانب سے اسرائیل پر 150 راکٹ فائر کیے جانے کے بعد اسرائیلی فوج نے غزہ پٹی پر 140 سے زائد مقامات پر حملہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ حماس کے فائر کیے گئے راکٹ ساحلی علاقے کے اندر تک آئے اور اس سے 6 اسرائیلی زخمی بھی ہوئے تھے۔

اس واقعے کا رد عمل دیتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے غزہ پر وحشیانہ بمباری کا دوبارہ سے آغاز کیا گیا، جس کے نتیجے میں حاملہ خاتون اپنی بچی سمیت جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔محکمہ صحت کے حکام کا کہنا تھا کہ جمعرات کی شام تک ہونے والی بمباری میں 18 فلسطینی زخمی ہوئے۔

اسرائیلی فضائی حملوں میں غزہ شہر میں دیر ال بلاح کے علاقے کو بھی نشانہ بنایا گیا، جہاں تقریباً 9 ماہ کی حاملہ خاتون عنس، اپنے شوہر محمد اور بچی بایان کے ساتھ اپریل 2017 سے رہائش پذیر تھی۔عنس کے پڑوسیوں نے الجزیرہ کو بتایا گزشتہ شب رات 2 بجے کے قریب ایک زور دار دھماکے کی آواز سنی گئی، جس میں ابتدائی طور پر یہ سنا گیا کہ محمد کے گھر کو نشانہ بنایا گیا۔

اس واقعے کو دیکھنے والے مختلف پڑوسیوں میں سے ایک ابو سنجر کا کہنا تھا کہ حملے کے بعد کا منظر بہت خوفناک تھا اور سب کچھ تباہ ہوچکا تھا۔انہوں نے کہا کہ ’ہر جانب خون ہی خون تھا اور ہم نے عنس اور بایان کی باقیات دیکھیں، جس کے بعد ہم نے فوری طور پر ایمبولینس بلائی اور جسم کے اعضاء اکھٹا کرنا شروع کیے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ محمد کی سانسیں چل رہی تھیں اور انہیں ایمبولنس کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا گیا۔اس حوالے سے غزہ میں موجود محکمہ صحت کے ترجمان اشرف القائدہ کا کہنا تھا کہ محمد کو سر اور جسم کے دیگر حصوں پر گہرے زخم آئیں ہیں۔

حماس اور اسرائیل میں جنگ بندی کا معاہدہ
ادھر 24 گھنٹوں سے زائد جاری رہنے والے ان حملوں کے بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پانے کی بھی اطلاعات سامنے آئیں۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے اپنی رپورٹ میں دعوٰی کیا کہ جمعرات کی رات کو حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہوگیا۔رپورٹ میں سفارتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ مذاکرات کے بعد اس بات کا امکان تھا کہ اس پر مقامی وقت کے مطابق رات تک عمل درآمد ہوجائے گا۔

ذرائع کے مطابق یہ معاہدہ مصر اور اقوام متحدہ کے خصوصی معاون برائے مشرق وسطیٰ امن عمل کی حمایت سے طے پایا جو گزشتہ ماہ سے اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے لیے کوشش کر رہے تھے۔

تاہم اسرائیلی حکام کی جانب سے اس طرح کے کسی جنگ بندی کے معاہدے سے انکار کیا گیا، اسرائیل کی جانب سے حماس کے ساتھ حالیہ معاہدے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا جبکہ حماس کی جانب سے بھی اس بارے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

خیال رہے کہ 30 مارچ 2018 سے اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے اب تک کم از کم 157 فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ وقفے وقفے سے اسرائیل کی جانب سے غزہ پٹی پر فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

 

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.