تاریخی تناظر میں تین محرم

  • جمعہ, 14 ستمبر 2018 10:17

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) 1-حضرت یوسف (علیہ السلام) کا کنویں سے باہر آنا
حضرت یوسف(علیہ السلام) کے بھائیوں نے حسد کی وجہ سے آپ کو کنویں میں ڈالدیا تھا، جبرئیل امین نے آپ کو پکڑ کر ایک تختہ پر بٹھایا، اور آپ کی دلجوئی کی۔ اس وقت ایک قافلہ وہاں پہنچا اوروہ اپنے گھوڑوں کو پانی پلانے کیلئے کنویں کے پاس آئے تاکہ وہاں سے مصر کی طرف روانہ ہوں ، اس قافلہ کے سردار ، ”مالک“ نے اپنے غلام کو حکم دیا:کنویںمیں ڈول ڈال کر پانی نکالو، غلام نے ڈول میں رسی باندھ کر اس کو کنویں میں ڈالا، جب ڈول کنویں میں پہنچی تو حضرت یوسف(علیہ السلام) نے ڈول کی رسی کو کھول دیا۔ غلام نے رسی کو کھینچا تو ڈول واپس نہیں آئی، وہ گھبرایا ہوا ”مالک“ کے پاس آیا اور قضیہ بیان کیا۔ مالک خود کنویں کے پاس آئے : اور آواز دی: جس کسی نے بھی اس ڈول کی رسی کو کھولا ہے وہ انسان ہے یا جن؟ حضرت یوسف(علیہ السلام) نے کہا: میں انسان ہوں مجھ پر ظلم کیا گیا ہے مجھے کنویں سے باہر نکالو۔
مالک نے مضبوط رسی کنویں میں ڈالی اور حضرت یوسف(علیہ السلام) کو کنویں سے باہر نکالااور ان کے بارے میں معلومات حاصل کیں، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے پورا واقعہ سنایا، جناب یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں نے جب یہ دیکھا کہ جناب یوسف کو نجات مل گئی تو مالک کے پاس آئے اور کہا : یہ ہمارا غلام ہے جو ہمارے پاس سے بھاگ گیا تھا،اس کو ہمیں واپس دیدو، یا اس کو ہم سے خرید لو۔ مالک نے کہا: اس کوواپس نہیں دوں گا لیکن میں تم سے اس کو خرید لیتا ہوں۔مالک نے بہت کم قیمت ان کو دی اور حضرت یوسف(علیہ السلام) کو اپنے ساتھ لے کر مصر گئے اور وہاں پر عزیز مصر کو فروخت کردیا (۱)۔
۱۔ حوادث الایام، ص ۱۴۔

2-قید خانہ سے حضرت یوسف(علیہ السلام) کی رہائی
حضرت یوسف (علیہ السلام) عزیز مصر کی بیوی کے ساتھ خیانت نہ کرنے کے جرم میں چند سال قیدخانہ میں رہے، قیدخانہ میں آپ کے دوستوں نے خواب دیکھا اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان کے خواب کی تعبیر اس طرح کی : ایک کو فرعون قتل کردے گا اور دوسرے کو آزاد کردے گا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے آزاد ہونے والے شخص سے کہا: فرعون سے میرا تذکرہ کرنا تاکہ وہ مجھے قید خانہ سے آزاد کردے۔
اتفاقا وہ شخص آزاد ہوگیا، لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) کی سفارش کو بھول گیا۔ اس کو کئی سال گذر گئے ، ایک رات کو فرعون نے خواب میں دیکھا جس کی تعبیر بتانے والوں نے صحیح تعبیر نہیں بتائی۔ آزادہ شدہ قیدی کو حضرت یوسف(علیہ السلام) کی یاد آئی اور فرعون سے کہا: میں ایسے شخص کو جانتا ہوں جو خواب کی تعبیر بتانے میں ماہر ہے، وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے پاس گیا اور آپ سے فرعون کے خواب کی تعبیر معلوم کی، اس نے حضرت یوسف(علیہ السلام) کی تعبیرکو فرعون تک پہنچا دیا ، فرعون نے کہا: یہ شخص بہت زبردست اور عالم ہے اس کو میرے پاس لاؤاور حضرت یوسف(علیہ السلام) کو آزاد کردیا۔
حضرت یوسف(علیہ السلام) کی مصر میں وفات ہوئی، آپ کودفن کرنے کی جگہ پر لوگوں میں اختلاف ہوا ، ہر کوئی چاہتاتھا کہ آپ کو اس کے محلہ میں دفن کریں تاکہ اس کا محلہ بابرکت ہوجائے ۔ آخر کار آپ کو سنگ مرمر کے ایک صندوق میں رکھ کر نیل میں دفن کیا اور اس کے اوپر سے پانی کو جاری کردیا تا کہ تمام اہل مصر اس کی برکت اور خیر میں شریک ہوں۔ حضرت موسی(علیہ السلام) نے مصر سے نکلتے وقت آپ کی ہڈیوں کو اٹھا کر اپنے والد کے پاس دفن کیں۔مشہور ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کامل طور سے ۱۲ سال قید رہے ، پانچ سال تعبیر خواب سے پہلے اور سات سال تعبیر خواب کے بعد۔ لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ آپ سات سال قید خانہ میں رہے۔ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ سب سے پہلے کاغذ کو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ایجاد کیا اس سے پہلے اینٹوں کے اوپر لکھتے تھے۔(۱)۔
۱۔ حوادث الایام، ص ۱۴۔

3-کربلا میں عمر سعد کا وارد ہونا
سعد بن ابی وقاص کے رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے خاندان سے اچھے تعلقات نہیں تھے ، یہاں تک کہ عمر کی شوری میں اس نے اپنا ووٹ عبدالرحمن بن عوف کو دیا تھا اور عثمان کے قتل ہونے کے بعد اس نے حضرت علی(علیہ السلام) کی بیعت نہیں کی تھی ۔ اس کا بیٹے عمربن سعد اپنے باپ کے راستہ پر گیا اور اس خاندان کے ساتھ اس کے بھی تعلقات اچھے نہیں تھے ، ابن زیاد نے شہر رے کی ملکیت عمر سعد کو دی تھی ۔ جب ابن زیاد کو امام حسین (علیہ السلام) کے عراق میں وارد ہونے کی خبر ملی تو اس نے عمر بن سعد کے پاس ایک قاصد بھیجا کہ پہلے وہ امام حسین بن علی(علیہ السلام) سے جنگ کرنے کیلئے جائے اور ان کو قتل کرنے کے بعد شہر رے کی طرف روانہ ہو۔عمر سعد ، ابن زیاد کے پاس آیا اور کہا: مجھے معاف کر، اس نے کہا: تجھے معاف کرتا ہوں لیکن شہر رے کی ملکیت تجھ سے واپس لیتا ہوں ۔ عمر بن سعد نے کہا ایک رات کی مہلت دے۔ آخر کار شہر رے کی ریاست نے اس پر غلبہ کرلیا اوروہ امام حسین (علیہ السلام) کے ساتھ جنگ کرنے کا فیصلہ کرکے اگلے روز ابن زیاد کے پاس آیا اور امام حسین (علیہ السلام) کو قتل کرنے کی ذمہ داری لے لی۔ ابن زیاد نے عظیم لشکر کے ساتھ اس کو کربلا کی طرف روانہ کیا، یہاں تک کہ وہ تین محرم کو کربلا میں وارد ہوگیا۔ابن قولویہ نے کتاب ”کامل“ کے صفحہ نمبر ۷۴ اور طبرسی نے کتاب احتجاج کے صفحہ نمبر ۱۳۴ پر معتبر سند کے ساتھ اصبغ بن نباتہ وغیرہ سے نقل کیا ہے کہ ایک روز حضرت علی(علیہ السلام)منبر کوفہ پر خطبہ دے رہے تھے اورفرمارہے تھے: جو کچھ پوچھنا چاہتے ہو مجھ سے پوچھ لو، قبل اس کے کہ میں اس دنیا میں نہ رہوں۔ خدا کی قسم گذشتہ اور آئندہ سے متعلق جو بھی سوال کرو گے میں ا س کا جواب دوںگا۔عمر سعد کا باپ سعد بن ابی وقاص کھڑا ہوا اور کہا: یا امیر المومنین! مجھے یہ بتاؤ کہ میری ڈاڈھی اور سر میں کتنے بال ہیں۔حضرت نے فرمایا: رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ نے مجھے خبر دی ہے کہ تیرے ہر بال میں ایک شیطان ہے جو تجھے گمراہ کرتا ہے اور تیرے گھر میں ایک بچہ ہے جو میرے بیٹے حسین (علیہ السلام) کو شہید کرے گا اور اگرمیں تجھے یہ بتادوں کہ تیرے بالوں کی تعداد کتنی ہے تو پھر بھی تو میری تصدیق نہیں کرے گا، لیکن جس حقیقت کی میںنے خبر دی ہے وہ ظاہر ہوگی۔توجہ رہے کہ اس وقت عمر بن سعد بہت چھوٹا بچہ تھا جس نے ابھی چلنا شروع کیا تھا ، بعض کہتے ہیں کہ کربلا میں اس کی عمر ۲۳ سال کی تھی، لیکن بعض قائل ہیں ۳۶ سال کی تھی، سعد بن وقاص کا ۷۵ ہجری میں ۷۴ سال کی عمر میں انتقال ہوا اور بقیع میں دفن ہوا (۱)۔۱۔ حوادث الایام، ص ۱۵۔


4-امام حسین (علیہ السلام) کا خط ،اہل کوفہ کے نام
آپ نے اس دن بزرگان کوفہ کے نام خطوط جاری فرمائے۔ یہ خطوط لکھ کر قیص بن مسہر صیداوی کے حوالے کئے کہ وہ کوفہ پہنچائیں۔ ابن زیاد کے فوجیوں نے انہیں راستے میں گرفتار کرلیا۔ انہیں یزید اور ابن زیاد کی مخالفت کرنے پر شہید کردیا گیا۔(۱)۔
۱۔ تقویم شیعہ، ص ۱۷۔

تاریخی تناظر میں تین محرم

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.