گزشتہ 20 سال سے وحدت کا پیغام دے رہا ہوں، امت کو متحد کرنا مقصد ہے، مولانا طارق جمیل

  • پیر, 30 جولائی 2018 21:23

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)ممتاز تبلیغی رہنما مولانا طارق جمیل نے سوشل میڈیا پر اپنا ایک وضاحتی انٹرویو جاری کیا ہے جس میں ان سے پوچھا گیا ہے کہ وہ اپنے بیانات میں شیعی (اہل تشیع) کے عقائد بیان کر رہے ہیں اور آج کل ان کے تمام خطابات کو موضوع بھی یہی ہے، جس کے جواب میں مولانا طارق جمیل کا کہنا تھا کہ میں نے ہمیشہ امت کی بات کی ہے، میں گزشتہ 20 سال سے وحدت کی بات کر رہا ہوں، میں چاہتا ہوں ہم ایک امت بنیں، فرقہ واریت نے ہمیں بہت نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا تعلق اس علاقے سے ہے جو ماضی میں فرقہ واریت کی لپیٹ میں رہا ہے، اس فرقہ واریت کا بہت نقصان ہوا، قتل و غارت ہوئی، جبکہ میں چاہتا ہوں کہ ہم ایک امت بنیں، میں نے ہر تقریر میں سچائی بیان کی، ایسے عقائد بیان کئے جو مشترکات ہیں۔ مولانا طارق جمیل کا کہنا تھا کہ میرے بیان میں شیعہ، سنی، بریلوی، دیوبندی تمام مکاتب فکر کے لوگ شریک ہوتے ہیں، اس لئے میں بات بھی اتحاد کی کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ تمام مکاتب فکر میں امن پسند لوگ زیادہ ہیں جبکہ شرپسند چند ایک ہیں، لیکن بدقسمتی سے شرپسندوں نے منبر پر قبضہ کر رکھا ہے اور وہ ہمیشہ شرپسندی کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برصغیر میں خطابت کو بہت پذیرائی دی جاتی ہے، اسی لئے شعلہ بیان مقرر فرقہ واریت کی بات کرکے مقبولیت حاصل کر لیتا ہے۔ مولانا طارق جمیل نے وضاحت کی کہ وہ اہلسنت والجماعت دیوبندی عقیدہ کے پیروکار ہیں اور عقائد میں علمائے دیو بند کی ہی پیروی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں کبھی شیعہ سنی کی بات نہیں کرتا بلکہ میں امت کی بات کرتا ہوں، اور چاہتا ہوں امت متحد ہو جائے۔ یاد رہے کہ مولانا طارق جمیل کے بیان کے بہت سے کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ہیں جن میں انہوں نے اہلبیت اطہارؑ کی شان بیان کی ہے، شانِ اہلبیتؑ بیان کرنے کے بعد نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ مولانا طارق جمیل کو وضاحت کرنا پڑ گئی ہے کہ کہیں وہ شیعہ تو نہیں ہو رہے۔ جید علماء کا کہنا ہے کہ اسلام دین فطرت ہے اور اسلام کو بہتر انداز میں سمجھنا ہے تو اہلبیتؑ کو سمجھنا ہوگا۔

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.