عہد تمیمی انٹرویو

  • منگل, 07 اگست 2018 14:53

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)
عہد تمیمی: اگر ہم خدانخواستہ اپنی آزادی کو اگلی نسل تک نہیں بھی پہنچا پاتے تو ہم یہ تو کر سکتے ہیں کہ ایک آزاد فلسطین کیلئے آئندہ آنیوالی نسلوں میں اسرائیل کے ناجائز قبضہ اور ظلم و انصافی کے خلاف بغاوت کرنے کی جرأت پیدا کر سکیں۔

سوال :جب آپ قید میں تھیں تو آپ کس چیز کو سب سے زیادہ مس (miss) کرتی تھیں؟
جواب: میں کھلے آسمان کی طرف دیکھنے اور گلیوں میں روزانہ کئی بار آزادی سے گھومنے کو بہت مس کرتی تھی۔

سوال: مجھے اس دن کے بارے میں بتائیں جس دن آپ نے اسرائیلی فوجی کے منہ پر تھپڑ مارا تھا، اس دن کیا ہوا تھا؟

جواب: اسرائیلی فوجی مجھے بھڑکانے کی کوشش کر رہا تھا، وہ ہمارے گھر کی سیڑیوں سے نیچے آ رہا تھا میں اسے کہا کہ نیچے نہ آؤ آخر کار یہ ہمارا گھر ہے، اسی دوران مجھے معلوم ہوا کہ میرے کزن کو گولی مار دی گئی ہے، اس کے چہرے پر گولی ماری گئی تھی جس کے بعد اسے ہسپتال لے جایا گیا، میرے کزن کو گولی مارنے کے بعد اسرائیلی فوجی ہمارے گھر آئے اور گھر کے دروازے سے گھر کے لوگوں پر گولیاں برسانا شروع کر دیں، میں نے انہیں کہا کہ وہ لوگ یہاں سے چلے جائیں اور اس طرح ہمارے گھر کے لوگوں پر گولیاں چلانا ٹھیک نہیں ہے، اس کے بعد وہ مجھے متواتر اکساتے رہے جس پر مجھے غصہ آ گیا اور میں نے اسکے منہ پر تھپڑ رسید کر دیا ۔

سوال: آپ کو ایسا کرتے ہوئے ڈر نہیں لگا؟
جواب: انسان کو اپنے خوف کو خود پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہئے؟

سوال: لیکن آپ نے یہ ہمت کہاں سے حاصل کی؟ آپ ایک لڑکی ہو، آپ نے ایک مسلح فوجی کو تھپڑ مارا، وہ آپ کو قتل بھی کر سکتے تھے؟
جواب: میرے والدین نے میری تربیت اس طرح کی ہے کہ جہاں بھی ظلم اور ناانصافی ہو رہی ہو، آپ نے خاموش نہیں رہنا اور مجھے ہر ظلم اور ناانصافی کے خلاف کھڑا ہونا ہے، میرا ردعمل فطری تھا کیونکہ وہ فوجی میرے گھر، میری زمین اور میرے ملک میں لوگوں پر گولیاں چلا رہے تھے۔

سوال: تھپڑ مارنے کے بعد کیا آپ کو ایسا محسوس ہوا کہ وہ آپ کو گرفتار کر لیں گے؟
جواب: جی ہاں! مجھے توقع تھی، وہ مجھے نیچے لائے اور سیڑھیوں پر ہی مجھے ہتھکڑی لگا دی، جس کے بعد انہوں نے مجھے بکتر بند گاڑی میں بند کر دیا، وہ مسلسل قسمیں کھا کھا کر مجھے دھمکیاں دے رہے تھے تا کہ میں اشتعال میں آ کر کوئی ردعمل دکھاؤں، اس طرح وہ چاہتے تھے کہ میرے خلاف مزید الزامات لگا سکیں لیکن میں نے تمام وقت مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی بعد میں وہ مجھے تحقیقات کیلئے لے گئے۔

سوال : مجھے بتائیں آپ سے کیا کیا پوچھا گیا؟
جواب: تحقیقات کے دوران کئی بار قانون کی خلاف ورزی کی گئی:
پہلی خلاف ورزی یہ تھی کہ تحقیقات کے پورے عرصے کے دوران میرے ساتھ کوئی خاتون سپاہی نہیں تھی دو مرد فوجی تحقیقات کر رہے تھے۔دوسری خلاف ورزی یہ تھی کہ تحقیقات کے وقت میرے ساتھ نہ ہی میرا کوئی وکیل وہاں موجود تھا اور نہ کوئی فیملی ممبر، حالانکہ قانونی طور پر یہ میرا حق تھا کہ میرا وکیل یا میرے گھر میں سے کوئی فرد میرے پاس ہوتا، کیونکہ میں نابالغ تھی، میں نے فیصلہ کیا تھا کہ میں مکمل خاموش رہوں گی۔

تیسری خلاف ورزی یہ تھی کہ پوری تحقیقات کے دوران اسرائیلی فوجی میرے ساتھ نامناسب الفاظ میں بات کرتے رہے۔ وہ کہتے تھے ’’آپ بہت پیاری ہو‘‘ ، ’’آپ کے بال بہت خوبصورت ہیں ‘‘ ، ’’آپ کی شکل بالکل میری بہن سے ملتی ہے‘‘ ، باہر کیا ہوا تھا؟ ِاس کو پڑھو، پڑھو ، پڑھو۔ (یعنی اسرائیلی فوجی اپنی مرضی کے لکھے ہوئے بیان کے مطابق مجھ سے کہلوانا چاہتے تھے)
چوتھی خلاف ورزی یہ تھی کہ وہ مجھے میرے گھر والوں کی دھمکیاں دیتے تھے، اگر تم نے ہماری مرضی کے مطابق جواب نہ دیئے تو ہم اس وڈیو میں موجود سب لوگوں کو گرفتار کر لیں گے، آپ نور، مروان، اسامہ، مارہ کو جانتی ہو، آپ ان سب کو جانتی ہو، اگر تم نے ہمارے ساتھ تعاون نہ کیا تو ہم ان سب لوگوں کو اٹھا کر لے آئیں گے۔

سوال : آپ نے انہیں کیا بتایا؟
جواب: میں نے انہیں کہا کہ میں خاموش رہوں گی۔

سوال : قید کے دوران اپنوں نے آپ سے کیسا سلوک کیا؟
جواب: جیل انتظامیہ کی طرف سے ہم پربہت دباؤ ڈالا گیا، یہ کہ میری طرح دوسری تمام لڑکیوں کو سکول سے نکال دیا جائے گا، میرے لاء کے کورسز (عالمی قوانین اور انسانی حقوق کے پیپرز) کے دوران مجھے دوبارہ جیل میں بند کرنے کی دھمکیاں دیتے۔

سوال : کیا آپ نے ہائی سکول کے امتحانات جیل میں قید کے دوران دیئے؟
جواب: جی ہاں! میں نے ہائی سکول کا فائنل امتحان جیل میں قید کے دوران دیا اور پاس ہو گئی، میں نے اور میرے ساتھ جیل میں موجود لڑکیوں نے اس خوشی میں جیل کے اندر ایک چھوٹی سی پارٹی بھی کی تھی۔ انشاءاللہ میں قانون کی تعلیم جاری رکھوں گی تا کہ میں وکیل بن سکوں اور عالمی عدالت میں کیسں دائر کر سکوں، میں نے سب لوگوں سے کہا ہے چاہے وہ کوئی بھی فرد ہو، وہ عالمی عدالت میں اسرائیل کے ناجائز قبضہ کے خلاف کیس دائر کرے، یقیناً اس سے بہت زیادہ فرق پڑے گا، میرے ساتھ جیل میں میرے علاوہ اور بھی بہت سے بچے موجود تھے۔

سوال : مجھے ان خواتین قیدیوں کے بارے میں بتائیں جن سے آپ کی جیل میں ملاقات ہوئی؟
جواب: اسرائیلی جیل میں قید بچے، بڑے اور خواتین بہت بہادر ہیں، وہ اپنے عظیم اور مقدس مشن کو سمجھتے ہیں، انہیں معلوم ہے کہ انہوں نے جیل میں کیا کرنا ہے، میں ایک عام قیدی تھی، جیل میں ایسے بہت سے قیدی ہیں جنہیں بہت لمبی سزائیں دی گئی ہیں، وہاں بہت سے ایسے لوگ ہیں جنہیں ہماری توجہ کی ضرورت ہے۔

سوال: کیا آپ امید رکھتی ہیں کہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان کبھی امن دیکھ سکیں گی۔
جواب: ہم مسلمان، یہودی، عیسائی سب اکٹھا اور مل جل کر رہنے کے عادی ہیں، صرف صہیونیت ہمارا مسئلہ ہے، یہی وہ چیز ہے جو امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، ہمیں یہودیوں سے کوئی مسئلہ نہیں صرف صہیونیت سے ہے، یہی وہ بات ہے جسے ہم باربار دہراتے ہیں ۔

سوال: آپ اپنی ہم عمر اسرائیلی لڑکیوں کو کیا پیغام دینا چاہیں گی جو اگلے سال اسرائیلی فوج میں شامل ہو رہی ہیں ؟
جواب : میں ان سے کہوں گی کہ آپ خود کو کیسے آمادہ کر سکو گی کہ ہاتھ میں بندوق اُٹھاؤ اور کسی انسان کو قتل کر دو، میں کسی انسان کو قتل کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی، یہاں تک کہ اگر آپ اس شخص کو بھی پکڑ کر میرے سامنے لائیں جس نے میرے چچا کو قتل کیا تھا، میں اسے بھی قتل نہیں کر سکتی۔ میں کس طرح اس اذیت کو کسی دوسرے شخص کے لیے پسند کر سکتی ہوں، یہ نہایت ہی تکلیف دہ چیز ہے اور ناقابل برداشت ہے۔ میری خواہش ہے کہ یہ لوگ انسانیت کی طرف واپس آ جائیں، صرف ایک بار ہی سہی، وہ اپنے ساتھ اخلاص اور دیانتداری کا مظاہرہ کریں، تا کہ وہ صحیح اور غلط میں تمیز کر سکیں۔

سوال: لوگ آپ کو ’’فلسطین کا فخر‘‘ کہتے ہیں، آپ کو فلسطین کی علامت کہا جا رہا ہے، آپ اس کو قابل فخر چیز سمجھتی ہیں یا اپنے اوپر ایک اضافی بوجھ؟
جواب: یقیناً یہ میرے لیے بہت بڑے فخر اور اعزاز کی بات ہے اور فلسطین ہر گز ہمارے لیے بوجھ نہیں ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ میں اس قابل ہوئی کہ اپنی آواز دنیا تک پہنچا سکوں، بطور احد تمیمی میرا پیغام یہ ہے کہ ’’ایک جنگی مجرم کی حیثیت سے اسرائیل کا محاصرہ کریں اور اس کا مکمل بائیکاٹ کریں‘‘ ساتھ ساتھ ’’قومی جدوجہد اور سماجی آزادی کی تحریک کو متحد کریں‘‘ تا کہ ہم نہ صرف خود کو اسرائیل کے ناجائز قبضے سے آزاد کرا سکیں بلکہ ہم ایک ایسے معاشرے کیلئے جنگ کر سکیں جس میں مرد و خواتین چھوٹے اور بڑے کے لیے مساوات اور انصاف ہو۔ درحقیقت ہمیں ان دونوں چیزوں کے درمیان ربط پیدا کرنے کی ضرورت ہے، اگر ہم نے صرف اسرائیلی قبضے سے آزادی حاصل کرنی ہے تو پھر فلسطین کے لیے شدید مسائل پیدا ہو جائیں گے، ہمیں اس با ت کا اداراک ہونا چاہیے کہ قومی تحریک اور سماجی تحریک ساتھ ساتھ چلنی چاہیے۔

 

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.