جرار مغربی کنارے میں مزاحمتی ہیرو

  • منگل, 04 ستمبر 2018 14:38

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) نام : احمد نصر جرار
تاریخ پیدائش: 5 جون 1994ء
جائے پیدائش : وادی برقین ، ۔۔۔ مغربی کنارہ ، فلسطین
تاریخ شہادت: ؛6 فروری 2018
والد: نصر جرار (مجاہد ، مزاحمت کار اور حماس کے رکن)
مادری علمی: عرب امیریکن یونیورسٹی، ۔۔۔
فلسطینی نوجوان احمد جرار کا تعلق اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس کے ملٹری ونگ القسام بریگیڈ سے تھا، اپنی زندگی کے آخری ہفتوں میں جرار کو اسرائیلی فوج کے تعاقب کا سامنا تھا جس نے جرار پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے جنوری 2018 میں مغربی کنارے کے شہر نابلس میں اسرائیلی باشندوں کو قتل کیا ہے، کئی ہفتوں کےتعاقب کے بعد بالآخر اسرائیلی فوج احمد جرار کو 6 فروری 2018 کو قتل کرنے میں کامیاب ہوئی۔

اس واقعہ کے بعد جرار مغربی کنارے میں مزاحمتی ہیرو کے طور پر یاد کئے جاتے ہیں، فلسطین ، اردن اور شام میں جرار کی تعزیت کے لئے کئی گھرانوں نے تعزیتی پروگرامز منعقد کیے۔

احمد جرار کے والد نصر جرار بھی مزاحمتی تحریک حماس سے وابستہ تھے اور اسرائیلی فوج ایک سال سے بھی زائد عرصے تک انکا تعاقب کرتی رہی اور 2002 میں انہیں قتل کرکے ہی چین کا سانس لیا۔

احمد جرار نے اپنی ابتدائی تعلیم وادی برقین میں ہی حاصل کی اور پھر مینجمٹ کے شعبے میں عرب امیریکن یونیورسٹی سے سند حاصل کی ، جرار کافی عرصے تک تجارت کے شعبے سے بھی وابستہ رہے۔

اسرائیلی فورسز نے کئی مرتبہ جرار کے گھر کو زمین بوس کیا تھا اور ایسا آخری مرتبہ انکی شہادت سے چند ہفتے قبل ہو ا تھا ۔ جرار کی شہادت کے بعد اسرائیلی وزراء اور عہدیداروں نے خوب خوشیاں منائی اور فلسطینیوں کا مذاق اڑاتے ہوئے بہت سےجملے کسے۔

جبکہ فلسطینیوں نے جرار کو ہیرو قرار دیتے ہوئے اس بات کا عزم پھر دہرایا کہ وہ بھی احمد جرار اور ان کے والد نصر جرار کے بتائے ہوئے راستے پرگامزن رہیں گے جس کا اختتام اگر غازی ہونے سے نہیں تو شہید ہونے سے ضرور ہوتا ہے ۔

اسرائیلی وزیرداخلہ ’’لیبرمین‘‘ نے جرار کی شہادت کے موقع پر کہا تھا کہ ’’ہم نے جرار کے ساتھ حساب برابر کرلیا ہے ‘‘ لیبرمین شاید یہ بھول گیا ہوگا کہ ایک دن اس کے ساتھ بھی فلسطینیوں کا حساب برابر ہوگا اور حساب لینے والا کوئی اور نہیں خدائے متعال ہوگا۔

 

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.