شام میں تو سب کو لڑنا چاہئے تھا مگر …

  • جمعہ, 10 اگست 2018 13:12

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) کوئی مسلمانوں کو مدد کے لئے پکارے تو سارے مسلمانوں پر لبیک کہنا واجب ہے نہ صرف ایرانیوں اور تحریک مزاحمت کے مجاہدوں پر، جیسا کہ افغانستان، بوسنیا اور فلسطین میں ہوا۔ گوکہ آج فلسطین سے بھی ’یا للمسلمین‘ کی صدائیں سنائی دے رہی ہیں لیکن حتی فرقہ واریت کو تزویری حکمت عملی کے طور پر اپنی پالیسیوں کی بنیاد بنانے والے ممالک بھی لبیک کہنے کے لئے تیار نہیں ہیں بلکہ فلسطینیوں سے کہہ رہے ہیں کہ یہودیوں کے آگے ہتھیار ڈال دو تا کہ جان بخشی ہو!!! شام کی بھی یہی صورت حال ہے اور مسلم دنیا کا بچہ بچہ جانتا ہے کہ یہ کفر کی جنگ ہے اسلام اور امت مسلمہ کے خلاف، اور یہاں بھی مسلمانوں کو مدد کے لئے بڑھنا چاہئے تھا لیکن فرقہ وارانہ تنگ نظری یا پیٹرو ڈالروں نے انہیں ایسا کرنے نہیں دیا۔
اس میں شک نہیں ہے کہ جس طرح کہ لیبیا میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مداخلت کرنے والے مغربی اور سعودی، قطری، خلیفی، نہیانی اور ترکی حکمرانوں نے مل کر اس ملک کو تباہ کرکے دہشت گردوں کے حوالے کیا اور شام دوسرا ملک تھا جبکہ یہ سازش یہیں رکنے کے لئے تیار نہیں ہوئی تھی اور اس کو ترکی، اردن، عراق اور سعودی ریاست سمیت خلیج فارس کی عرب ریاستوں تک پہنچنا تھا اور ان مماک کی بدامنی مقصود تھی گوکہ ایران بھی اگلے اہداف میں شامل تھا لیکن عجب یہ کہ ترکی اور عرب ریاستوں نے اپنے خلاف ہونے والی اس سازش میں دشمن کا ساتھ دیا اور سازش کی کامیابی کے لئے مکمل منصوبہ بندی کی گئی لیکن سازش ناکام ہوئی تو اس کا سبب اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے اعلی افسران کا کردار تھا جنہوں نے شام اور عراق میں دشمن کی سازشوں کا سد باب کیا ورنہ تو اگر امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) نے فرمایا کہ “اگر دہشت گردی کا فتنہ شام میں نہ روکا جاتا تو ہم (ایرانیوں) کو اپنے شہروں میں ان کا مقابلہ کرنا پڑتا”؛ تو سعودیوں کو حجاز میں، ترکوں کو انقرہ اور استانبول میں، پاکستانیوں کو اسلام آباد اور لاہور میں، اور کویتیوں، قطریوں، عمانیوں، اور بحرینیوں کو کویت سٹی، ابوظہبی، دوحہ، مسقط اور منامہ میں ان ہی دہشت گردوں کا مقابلہ کرنا پڑتا جنہیں اسلامی مزاحمت محاذ نے عراق و شام میں ہزیمت سے دوچار کیا۔
آج کسی پر بھی مخفی نہیں ہے کہ طالبان، القاعدہ، داعش اور ان جیسے ٹولے ـ جو مذہب کا اوزار لے کر مسلمانوں کا کشت و خون کررہے ہیں یا وہ لادین ٹولے جو بظاہر ان ٹولوں سے شدید اختلاف رکھتے ہیں لیکن وہ بھی گوریلا جنگوں میں شامل ہوکر اسی مقصد کے لئے لڑ رہے ہیں جس کے لئے بظاہر مذہبی ٹولے لڑ رہے ہیں۔ یہ ٹولے اسلامی جمہوریہ ایران ہی کے نہیں بلکہ ان تمام اسلامی ممالک کے خلاف بھی برسرپیکار ہیں جو یا تو خودمختاری اور استکبار کی سازشوں کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں یا پھر ان میں کسی وقت خودمختاری کے عنصر کی تقویت اور استکبار کے آگے ڈٹ جانے کی اہلیت ابھرنے کا امکان نظر آتا ہے۔ وہ اگر ایران کے دشمن ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ دوسرے اسلامی ممالک کے مخلص دوست یا حقیقتا ً تزویری شریک ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جنگ میں عام طور پر اگلے مورچے پر سب سے پہلے حملہ کیا جاتا ہے چنانچہ کسی کو بھی بنی سعود کا ساتھ دے کر خیر منانے کی ضرورت نہيں ہے اور اگر آج استکباری طاقتیں ان کا نام نہیں لے رہیں تو وجہ یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ نے انہیں مصروف کر رکھا ہے اور اگر خدا نخواستہ انہیں کبھی کامیابی ہوتی ہے تو دوسرے بڑے اور اہم اسلامی ممالک کی باری بھی آئے گی، اگرچہ ان کی قسمت میں شاید مزید کوئی کامیابی نہیں لکھی ہے کیونکہ اسلامی مزاحمت کا دائرہ روز بروز بڑھ رہا ہے جو استکبار کی توسیع پسندی کا سد باب کرنے کا بہترین علاج ہے۔
مغرب کے کاز کے لئے لڑنے والے دہشت گرد ٹولے امریکہ، برطانیہ، فرانس، جڑواں سعودی ـ یہودی ریاستوں اور دوسری مطلق العنان بادشاہتوں اور آمریتوں کے حمایت یافتہ ہیں جو مغربی اور جنوبی ایشیا کا جغرافیہ بگاڑنے کے سلسلے میں استکبار کے لئے راستہ صاف کرنے پر مامور ہیں۔ سامراجیت نے ۱۹۹۰ع‍کے عشرے کے آغاز پر ـ مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ کے صد سالہ نقشے کی تاریخ گذرنے کے بعد ـ “عظیم تر مشرق وسطی ٰ ” کے سپنے دیکھنا شروع کئے۔
انھوں نے اسلامی جمہوریہ کے خلاف جنگوں، بغاوتوں، نیابتی جنگوں ( Proxy Wars )، نرم جنگ وغیرہ جیسے حربے آزما لئے اور سنہ ۲۰۰۰ع‍کے عشرے میں لبنان، فلسطین، عراق اور یمن پر مسلسل جنگیں مسلط کرکے، اور بعدازاں ۲۰۱۰ع‍کے عشرے میں بحرین، یمن، شام اور عراق میں فوجی مداخلت کرکے، داعش اور النصرہ سمیت متعدد نئی دہشت گرد تنظيمیں بنا کر، ہزاروں یورپی اور وسطی ایشیائی، چینی اویغور اور انڈونیشیا اور ملیشیا، پاکستان اور بنگلہ دیش کے دہشت گردوں کو دہشت گردی کا نشانہ بننے والے ممالک میں پہنچا کر جدید ترین ہتھیاروں اور زبردست مالی وسائل سے لیس کرکے ایران کے اسلامی نظام ـ یعنی پورے عالم اسلام کے اگلے مورچے ـ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی لیکن ان بخت آزمائیوں میں انہيں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اور نتیجہ الٹا نکلا۔
شام پر مغرب، یہودی ریاست اور ان کے علاقائی کٹھ پتلیوں نے شام پر حملہ، ـ حزب اللہ، حماس، اسلامی جہاد ـ یعنی لبنان اور غزہ پر حملے کے بعد ـ کیا اور یہ حملہ درحقیقت اسلامی جمہوریہ ایران اور عالم اسلام کے طاقتور ترین حملہ تھا۔ تا کہ اسلامی جمہوریہ ایران محدود اور اندرونی طور پر بدامنی کا شکار ہوجائے، عظیم تر مشرق وسطی کا منصوبہ بھی نافذ کیا جاسکے، حزب اللہ کا بھی خاتمہ ہو اور شام بھی یہودی ریاست کی کمان میں خون کی ہولی کھیلنے والی دہشت گرد تکفیری جماعتوں کی آماجگاہ بن جائے؛ لیکن یہ بھی نہیں ہوا اور حزب اللہ کے خاتمے سمیت نہ صرف ان کا کا کوئی مقصد حاصل نہیں ہوا بلکہ پاکستانی، افغانی، عراقی، یمنی، شامی اور ایرانی رضاکاروں نے حزب اللہ جیسی متعدد مزاحمتیں جماعتیں قائم کیں۔
انھوں نے شام کو نابود کرنا چاہا تا کہ اسلامی دنیا ایک با استقامت ملک بھی ان کے راستے سے ہٹ جائے، دوسرے اسلامی ممالک پر یلغار کی تمہید بھی فراہم ہو اور انہیں دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑا جائے، اور ایران اور حزب اللہ کے درمیان رابطے کا پل بھی منہدم ہو، چنانچہ انھوں نے جنگ کے آغاز پر ہی یہودی ریاست اور امریکہ کی منصوبہ بندی کے عین مطابق ـ جو تقریبا ۹۰ ماہ قبل شروع ہوئی تھی ـ شام کے دارالحکومت تک پہنچنے والے تمام راستوں سمیت لبنان کو دمشق سے ملانے والے راستوں پر قبضہ کرلیا تھا؛ لیکن اسلامی مزاحمت مغرب اور یہودی ریاست کی خواہش کے برعکس، پہلے سے زیادہ طاقتور ہوئی تھی چنانچہ اس نے اس پل کو منہدم ہوکر تکفیری ـ صہیونی ٹولوں کے قبضے سے چھڑا لیا اور پل باقی رہا ہمیشہ کی طرح فعال اور محفوظ۔
علاقے میں اسلامی بیداری کی تحریکیں عروج کو پہنچیں تو مغرب نے اس کا سد باب کرنے کے لئے لیبیا میں فوجی مداخلت کی اور اسے ویرانے میں تبدیل کیا اور اس کے بعد شام کی طرف پیشقدمی کی۔ جو ملک کسی وقت اسلامی جمہوریہ ایران کے قریب تھا، تباہ و برباد کردیا گیا اور جو ملک مزاحمت کا اگلا مورچہ سمجھا جاتا تھا، نشانہ بنا اور مغربی درندے بقول ان کے، ان ہی کی پیدا کردہ “عربی بہار” کی لہروں پر سوار ہوئے اور عراق، سے بھی اور ترکی اور اردن کے راستے بھی، ہزاروں دہشت گرد دنیا بھر سے شام میں داخل کردیئے؛ لیکن سب مل کر شکست کھا گئے، اور پل رہ گیا اور پل پر سے گذرنے والے بھی؛ اور اسلامی دنیا کے ایک اور ملک “اسلامی جمہوریہ ایران” کے خلاف نئی جنگ شروع کرنے کا مغربی ـ یہودی منصوبہ خاک میں مل گیا؛ اور واشنگٹن، لندن، پیرس اور ریاض کا خواب ایک بار پھر چکنا چور ہوگیا۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا شام میں اسلامی مزاحمت محاذ کی موجودگی صرف اخلاقی اور انسانی تقاضوں کی بنا پر تھی یا یہ کہ “سیاسی عقلیت” کے مطابق، فتنے کے آغاز پر اس کا انسداد کرنا چاہئے تھا؟ یا پھر شرانگیزیوں کو دوسرے اسلامی ممالک تک سرایت کرنے کی اجازت دینا چاہئے تھی؟
اس مغربی اور یہودی فتنے کا سدّ باب کرنے کے میدان میں علاقے کے رجعت پسند عرب حکمرانوں یا ترکی میں سلطنت عثمانیہ کا تاج اپنے سر پر سجانے کے خواہشمند اخوانی صاحبان اقتدار کو چھوڑ کر، باقی اسلامی ممالک ـ بالخصوص سیاسی و تزویری تقاضوں کے باوجود، غیر جانبداری کا ڈھنڈورا پیٹنے والے مسلم حکمرانوں ـ کی جگہ خالی تھی، جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران نے نہایت دانشمندانہ اور حکمت آمیز پالیسی پر عمل پیرا ہوکر سازشوں کا گلا گھونٹ دیا؛ نئی مزاحمتی تنظیمیں تشکیل دے کر مستقبل میں اس قسم کے فتنوں کا مقابلہ کرنے کی راہ ہموار کرلی، روس کو دعوت دے کر محاذ مزاحمت کو تقویت پہنچائی، غاصب یہودی ریاست کی ناجائز سرحدوں کو اس کی ۷۰ سالہ منحوس تاریخ میں پہلی بار نہتا کردیا، یہودی ریاست کے تحفظ کے اخراجات میں ناقابل برداشت حد تک اضافہ کیا، اسلامی نظام کی سرحدوں کو محفوظ بنایا، فلسطینی کاز کی نابودی کی سازش کو ناکام بنایا، فلسطین کی آزادی کی سمت ایک بہت بڑا قدم اٹھایا، عراق اور شام کو مغربی ـ صہیونی آسیب کی زد سے چھڑا لیا، یمن پر قبضہ کرنے کے سلسلے میں خلیج فارس کی شکم پرست ننھی ریاستوں کے خواب کو ڈراؤنے سپنے میں تبدیل کردیا، اور پھر اسلامی جمہوریہ ایران اور اسلامی محاذ مزاحمت نے شام کی قانونی حکومت کی درخواست پر اس اسلامی ملک اور اس کے مقدس مقامات کی حفاظت کی ذمہ داری کو بطور احسن نبھایا، اور اگر شام کی نابودی پر عربوں نے اربوں ڈالر خرچ کئے تو محاذ مزاحمت نے بہت کم خرچے پر ان کی اربوں ڈالروں کی سازشوں کو ناکام بنایا؛ اور آج بآسانی کہا جاسکتا ہے کہ سعودی ـ یہودی جڑواں ریاستیں ـ جو شام کو بدامن کرنے کے لئے میدان میں آئی تھیں ـ خود ہی بدامنی سے دوچار ہیں اور اس بدامنی کے اثرات ابھی سے ظاہر ہونا شروع ہوچکے ہيں۔
یہ صرف اور صرف محاذ مزاحمت کی عظیم کامیابیوں کا ایک نمونہ تھا، اور جب تک شرانگیزی ہوگی اور فتنہ انگیزی ہوگی اور جب تک شیطانی قوتیں آپے سے باہر ہوکر مسلم ممالک کے امن کو تاراج کرنے کی سازشیں بناتی رہیں گی، محاذ مزاحمت کی ضرورت اور افادیت اتنی ہی آشکار اور ناقابل انکار ہوجائے گی۔

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.