بصرہ کے واقعات اور شیعہ گروہوں کی سیاسی بصیرت

  • منگل, 11 ستمبر 2018 10:36

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) تحریر: سید رحیم لاری

اگرچہ بصرہ میں رونما ہونے والے ہنگاموں اور ناگوار واقعات کو چند روز گزر چکے ہیں لیکن یہ کہنا درست ہو گا کہ عراق اب تک ان سے پیدا ہونے والے اثرات کی لپیٹ میں ہے اور یہ اثرات نہ صرف بصرہ بلکہ بغداد اور عراق میں جاری سیاسی ایشوز پر بھی موثر ثابت ہو رہے ہیں۔ ساری کہانی اس وقت شروع ہوئی جب گذشتہ ہفتے منگل کے روز بصرہ میں عوامی مظاہروں کا آغاز ہوا اور ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ اس احتجاج کی اصل وجہ صوبے میں پانی، بجلی اور دیگر سہولیات کی قلت اور حکومتی اداروں میں پائی جانے والی کرپشن ہے۔ یہ ایسے مسائل ہیں جو عراق میں نئے نہیں اور دو سال پہلے اپریل کے مہینے میں انہیں مشکلات کے خلاف احتجاج کرنے والے افراد نے کچھ دیر کیلئے بغداد میں پارلیمنٹ کی عمارت پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔ ان مسائل نے ملکی سیاست پر براہ راست اثر ڈالا ہے۔

اگرچہ پارلیمنٹ پر مظاہرین کے قبضے کے منفی نتائج سامنے آئے لیکن سب اس بات پر متفق تھے کہ پارلیمنٹ کی عمارت پر مظاہرین کا قبضہ اور توڑ پھوڑ درحقیقت اراکین پارلیمنٹ کی بے توجہی کے خلاف عوامی غصے کا نتیجہ تھا لہذا سب کی رائے یہی تھی کہ ان عوامی مظاہروں اور احتجاج کے پیچھے کوئی ملک دشمن قوت سرگرم عمل نہیں۔ لیکن اس بار کوئی سیاسی ماہر یا تجزیہ کار اس بات سے اتفاق رائے نہیں کرتا کہ بصرہ میں جمعہ کے روز ہونے والے مظاہرے اور ہنگامہ آرائی کا اصل سبب عوامی ناراضگی تھی بلکہ جیسے ہی مخصوص افراد نے کچھ خاص مراکز اور عمارتوں کو توڑ پھوڑ اور حملوں کا نشانہ بنایا سب کیلئے یہ ایک واضح امر تھا کہ ان ہنگاموں اور ناگوار واقعات کے پیچھے ملک دشمن قوتوں کا ہاتھ ہے اور شیطانی اہداف کے حامل ہیں۔ ان ہنگاموں کے بعد سب سے پہلے تکفیری دہشت گرد گروہ داعش نے اس کی تصاویر اپنے ٹویٹر پیج پر شائع کیں اور اس کی ذمہ داری قبول کی اور یہ دعوی کیا کہ اس کے بعض عناصر نے عراق کے جنوب میں توڑ پھوڑ اور تخریب کاری کی ہے۔

بعد میں انجام پانے والی تفتیش اور تحقیق کے نتیجے میں جمعہ کے روز بصرہ میں ہونے والے ہنگاموں میں داعش کے ملوث ہونے کی تصدیق ہو گئی۔ مزید برآں، بصرہ کے صوبائی حکام نے اعلان کیا ہے کہ حکومتی مراکز، سیاسی جماعتوں کے دفاتر اور ایران کے قونصل خانہ پر حملہ کر کے آگ لگانے اور توڑ پھوڑ کرنے میں داعش سے وابستہ دہشت گرد عناصر کے ساتھ ساتھ سابقہ بعث پارٹی کے افراد بھی شامل تھے۔ ان عناصر کی موجودگی کے علاوہ عراق کے خبررساں ادارے المعلومہ نے اپنے ایک کالم میں اس حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے کہ جمعہ کے روز بصرہ میں ہنگامہ آرائی کرنے والے شرپسند عناصر نے پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت بصرہ کینٹونمنٹ، سنٹرل کالج اور النموینیہ کارڈ سنٹر سے ہوتے ہوئے ایرانی قونصل خانے اور حشد الشعبی کے دفاتر کا راستہ اختیار کیا اور وہاں توڑ پھوڑ کر کے آگ لگائی۔ دوسری طرف ان ہنگاموں کو عراق کے دیگر صوبوں جیسے ذی قار، میسان، واسط، بغداد اور کرکوک تک پھیلانا بھی داعش اور بعث پارٹی سے وابستہ شرپسند عناصر کے ایجنڈے میں شامل تھا۔

مذکورہ بالا نکات کی روشنی میں جمعہ کے روز بصرہ میں انجام پانے والے واقعات میں کارفرما تین ایسے عوامل کی نشاندہی کی جا سکتی ہے جو دو سال پہلے بغداد میں ہونے والے عوامی مظاہروں اور پارلیمنٹ پر عوامی قبضے کے دوران یا تو نہیں تھے اور اگر تھے بھی تو اس قدر کمزور حد تک تھے کہ ان کا کردار قابل توجہ نہ تھا۔ پہلا عامل اس ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ میں داعش، بعث پارٹی اور سعودی عرب اور امریکہ کے پے رول پر کام کرنے والے جاسوسوں کے کردار پر مشتمل ہے۔ دوسرا عامل اس ہنگامہ آرائی اور تخریب کاری کو ایرانی قونصل خانے اور حشد الشعبی کے مراکز تک لے جانے پر مبنی پہلے سے طے شدہ منصوبہ بندی ہے اور تیسرا عامل بدامنی اور انارکی بصرہ سے پورے عراق میں پھیلانے پر مبنی وسیع سازش ہے۔ یہ تین بنیادی عوامل عراق میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اہم موڑ لانا چاہتے تھے۔ داعش اور بعث پارٹی نے جنگ کے میدان میں واضح شکست کھانے کے بعد اپنے عناصر کو شہر کے گلی کوچوں میں بھیج دیا ہے تاکہ عوامی مظاہروں میں گھس کر انہیں اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کر سکیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ داعش اور بعث پارٹی سے وابستہ عناصر کا حتمی مقصد عراق کی سیاسی جماعتوں میں ٹکراو پیدا کر کے ملک کا سیاسی ڈھانچہ تباہ کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمعہ کے روز بصرہ میں ہونے والے ہنگاموں کے دوران بعض سیاسی جماعتوں جیسے مقتدی صدر کی سربراہی میں سائرون اور حیدر العبادی کی سربراہی میں النصر پارٹی کے دفاتر کو بالکل نہیں چھیڑا گیا۔ مقتدی صدر کی پارٹی کے ایک اعلی سطحی عہدیدار الزاملی کا کہنا ہے کہ اس سازش کا مقصد یہ تاثر دینا ہے کہ حشد الشعبی کے مراکز اور ایرانی قونصل خانے پر حملوں کے پیچھے مقتدی صدر اور حیدر العبادی کا ہاتھ ہے اور اس طرح شیعہ قوتوں کے درمیان ٹکراو پیدا کیا جا سکے۔

انہی وجوہات کی بنا پر بصرہ میں جمعہ کے روز ہنگامہ آرائی اور فتنہ انگیزی پر مبنی اقدامات کے بعد عراق ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اس مرحلے میں تکفیری دہشت گرد گروہ داعش اور بعث پارٹی کا مقابلہ کرنے میں فوجی طاقت بنیادی کردار ادا نہیں کر سکتی بلکہ ان کا مقابلہ سیاسی بصیرت سے کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت عراق کی قومی سلامتی کیلئے شیعہ گروہوں میں سیاسی بصیرت کی اہمیت بہت زیادہ بڑھ چکی ہے اور داعش جیسے دشمن کو شکست دینے میں سیاسی بصیرت ہی فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔ ان دنوں مقتدی صدر کی سربراہی میں سائرون اتحاد اور ہادی العامری کی سربراہی میں الفتح اتحاد کے درمیان نئی حکومت کی تشکیل سے متعلق بات چیت کا آغاز ہو چکا ہے۔ یہ امر دور حاضر کیلئے ضروری سیاسی بصیرت کی ابتدائی علامت ثابت ہو سکتی ہے۔ الفتح اتحاد کے رکن حسین الاسدی نے دونوں اتحادوں کے درمیان گفتگو میں پیشرفت کی خبر دی ہے۔ لہذا بصرہ کے ناگوار واقعات کے بعد عراق کے سیاسی میدان میں نئی تبدیلیاں رونما ہونا شروع ہو گئی ہیں جس کے نتیجے میں توقع کی جا رہی ہے کہ مستقبل قریب میں نئے سیاسی اتحاد ابھر کر سامنے آئیں گے۔ اس طرح داعش اس بار سیاسی میدان میں بھی شکست کا مزہ چکھے گی۔

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.