اہلسنت والجماعت ASWJ کی جاری سرگرمیاں نیشنل ایکشن پلان کی ناکامی کو ظاہر کرتی ہیں، عامر حسینی

  • بدھ, 29 جون 2016 13:02

عامر حسینی معروف تجزیہ کار اور نامور صحافی ہیں۔ بنیادی طور پر خانیوال سے تعلق رکھتے ہیں، انہوں نے اعلٰی تعلیم فلاسفی میں حاصل کی مگر پیشہ کے اعتبار سے صحافی ہیں۔ بین الاقوامی ’’فرانس نیوز ایجنسی‘‘ AFP سے وابستہ ہیں اور اس کے علاوہ متعدد اخبارات میں کالم لکھتے ہیں۔ کئی ویب سائٹس پر ان کے کالم اور تجزیے شائع ہوتے ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا میں بھی معروف ہیں۔ حالات حاضرہ خصوصاً پاکستان کے داخلی معاملات پر ان کی گہری نظر ہے۔ ادارے نے حالات حاضرہ کے حوالے سے ان سے گفتگو کی ہے، جو کہ انٹرویو کی صورت میں پیش خدمت ہے۔ ادارہ

سوال: میڈیا میں دینی طبقے کو زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، وجہ کیا ہے۔؟
عامر حسینی:
 میرے خیال میں ایسا نہیں ہے۔ اگر اس حوالے سے کوئی اعداد و شمار یا دستاویز موجود ہیں، تب تو بات کی جاسکتی ہے۔ میرے خیال میں کسی بھی خاص طبقہ یا گروہ کو جرائم یا معاشرتی انحطاط کا ذمہ دار قرار دینا درست نہیں۔ البتہ دینی حلقوں کا معاشرے پر گہرا اثر ہے۔ چونکہ سوسائٹی ان سے خیر، نیکی اور اچھائی کی زیادہ توقع رکھتی ہے، لہذا جب ان کے حوالے سے کوئی قابل اعتراض چیز سامنے آتی ہے تو اسے زیادہ توجہ ملتی ہے۔ چنانچہ اگر کسی عالم دین، مفتی کی نسبت سے کوئی ایسا واقعہ سامنے آئے جو اس کی شخصیت یا منصب سے ہم آہنگ نہ ہو تو عوامی سطح پر اس کا ردعمل بھی زیادہ آتا ہے۔

سوال: نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد جاری ہونے کے باوجود دہشتگردی کا خاتمہ نہیں ہو پا رہا، ریاست کے پاس قوت کی کمی ہے، یا جو قوت موجود ہے اسے حقیقی معنوں میں بروئے کار نہیں لایا جا رہا۔؟
عامر حسینی:
 بات یہ ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کی کچھ شقوں پر تو عمل ہوا ہے اور ابھی تک عمل جاری بھی ہے، لیکن اکثر شقوں پر مصلحت کے تحت عملدرآمد یا تو کیا ہی نہیں گیا یا پھر روک دیا گیا ہے۔ جس میں سب سے زیادہ اہم ان مدارس کے خلاف ایکشن ہے، جو انتہا پسندی میں ملوث پائے گئے۔ جہاں انتہا پسندی کی تعلیم دی جاتی ہے یا نوجوانوں کی برین واشنگ کی جاتی ہے۔ ان مدارس کے خلاف کارروائی کی نوبت نہیں آئی۔ صرف سندھ میں 200 سے زائد ایسے مدارس کا وجود سامنے آچکا ہے، جن کا انتہا پسندی سے تعلق ہے۔ یہ رپورٹ منظر عام پر آنے کے باوجود بھی ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ کارروائی نہ ہونے کی بڑی وجہ سیاسی جرات کی کمی ہے۔ اسی طرح نیشنل ایکشن پلان کے تحت کالعدم تنظیموں کو غیر فعال کرنا بھی تھا۔ ایسی تنظیمیں جن پر پابندی ہے، انہیں نئے ناموں سے متحرک نہ ہونے دینا بھی شامل تھا، مگر ایک خاص مصلحت کے تحت اس پر حقیقی معنوں میں عمل نہیں کیا گیا۔ ASWJ ایک کالعدم تنظیم ہے، مگر پابندی کے باوجود وہ کام کر رہی ہے۔ جلسے کرتی ہے، ریلیاں نکالتی ہے۔ اس سے نیشنل ایکشن پلان کی ناکامی ظاہر ہوتی ہے۔

سوال: ملکی امن و امان میں خرابی کی زیادہ ذمہ دار سیاسی قوتیں ہیں یا انٹیلی جنس و سکیورٹی اداے۔؟
عامر حسینی:
 میرے خیال میں ذمہ داری سے کسی کو مبرا نہیں ہونا چاہیئے، مگر ملٹری اسٹیبلشمنٹ جو کہ زیادہ امور کی انجام دہی میں مصروف ہے، آج تک اپنی ہی پالیسی کو مقدم رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ناکامی کی ذمہ دار اسٹیبلشمنٹ ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ سیاسی قوتوں نے بھی کوئی احسن طریقے سے ذمہ داریاں سرانجام نہیں دیں۔

سوال: آپکے خیال میں زیادہ کرپٹ کون ہیں، سیاستدان یا جرنیل۔؟
عامر حسینی:
 میں کرپشن کو اس نظر سے نہیں دیکھتا۔ ہمارے ہاں دو طبقے موجود ہیں۔ جن میں سے ایک طبقہ سیاستدانوں اور ایک طبقہ جرنیلوں کیلئے صفائیاں پیش کر رہا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ کرپشن کے خاتمے کیلئے کوشش بلاامتیاز ہونی چاہیئے۔ ان لوگوں کے تحفظات اور خدشات دور کرنے لازم ہیں، جو کہہ رہے کہ سیاستدانوں کا تو احتساب ہو رہا ہے مگر جرنیلوں اور ججز کا احتساب نہیں ہو رہا۔ میرے خیال میں ہر کرپٹ کا احتساب ہونا چاہیئے۔

سوال: شہر قائد میں جاری ٹارگٹ کلنگ پر قابو کیوں نہیں پایا جاسکا۔؟
عامر حسینی:
 اس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی میں شیعہ ٹارگٹ کلنگ تسلسل کے ساتھ اور اعلٰی پیمانے پر ہو رہی ہے۔ اس ٹارگٹ کلنگ کے سامنے کوئی بند نہیں باندھا جاسکا، مگر شیعہ ٹارگٹ کلنگ کے علاوہ سیاسی بنیادوں پر بھی اہدافی قتل کا سلسلہ جاری ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کراچی میں رینجرز آپریشن کے دوران ایم کیو ایم، پیپلزپارٹی کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کے ہیڈ کوارٹرز پر بھی چھاپے مارے گئے۔ یہاں تک کہ سنی تحریک و دیگر تنظیموں کے لوگ گرفتار بھی ہوئے، مگر دوسری طرف سپاہ صحابہ جو کہ ایک کالعدم تنظیم ہے، اس کے ہیڈ آفس پر نہ کوئی چھاپہ مارا گیا، نہ کوئی گرفتاریاں عمل میں آئیں بلکہ ان کے گرفتار افراد و قیادت کو بھی رہا کر دیا گیا۔ یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔

سوال: افغان طالبان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان دو الگ الگ قوتیں ہیں یا ایک ہی ہے اور انکی ڈور کہاں سے ہلتی ہے۔؟
عامر حسینی:
 میرے خیال میں نظریاتی حوالے سے تو دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ دونوں کا نظریہ ایک ہی ہے۔ ان کے اپنے اندر مختلف ممالک کی مختلف پراکسیز ہوسکتی ہیں۔ جیسے ان کا کوئی گروہ بھارت کیلئے سرگرم ہو، تو کوئی گروہ پاکستان کیلئے کام کرتا ہو، اسی طرح ایران ہے، روس ہے، سعودی عرب ہے، سب کی کہیں نہ کہیں تاریں جڑی ہوئی ہیں۔

سوال: پاکستان کے حالات میں خرابی کی وجہ داخلی ہے یا خارجی۔؟
عامر حسینی:
 خارجی مشکلات اور سازشوں کا پروپیگنڈہ زیادہ کیا جاتا ہے۔ میرے خیال میں ملک کے اندر جو حالات ہیں، وہ ہماری داخلی کمزوری اور اندرونی انتشار کا نتیجہ ہیں۔ جس میں سب سے زیادہ ہاتھ ہمارے غلط فیصلوں اور پالیسیوں کا ہے۔

 

 

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.