اسرائیل کو اس کے مزموم عزائم سے روکنے کیلئے یوم القدس خاصی اہمیت رکھتا ہے، علامہ ارشاد علی

  • جمعہ, 01 جولائی 2016 11:38

علامہ ارشاد علی کا تعلق ضلع ہنگو سے ہے، آپ مجلس وحدت مسلمین خیبر پختونخوا کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل اور اس سے قبل ایم ڈبلیو ایم ضلع ہنگو کے سیکرٹری جنرل کے طور پر بھی ذمہ داری ادا کرچکے ہیں، آپ خیبر پختونخوا کی معروف دینی درس گاہ جامعہ العسکریہ ہنگو میں درس و تدریس کے عمل سے وابستہ رہے ہیں، علامہ ارشاد علی ضلع ہنگو کی فعال شخصیات میں شمار ہوتے ہیں، اس وقت آپ مجلس وحدت مسلمین خیبر پختونخوا کی آرگنائزنگ کمیٹی کے رکن ہیں،علامہ ارشاد علی کیساتھ یوم القدس کے حوالے سے ایک انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کے پیش خدمت ہے۔ (ادارہ) 

سوال: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ موجودہ حالات میں یوم القدس منانے کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔؟
علامہ ارشاد علی:
 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ آپ کا شکریہ کہ آپ نے اس اہم موقع کی مناسبت سے کچھ بولنے کا موقع دیا، دیکھیں، بات یہ ہے کہ بیت المقدس کی آزادی کسی ایک مسلک، ملک یا طبقہ کا مسئلہ نہیں، بلکہ پورے عالم اسلام کا مسئلہ ہے، اسرائیلی بربریت اور ناانصافیوں کی وجہ سے یہ ایک انسانی مسئلہ بن چکا ہے، اس مسئلہ پر آج غیر مسلم بھی بولتے ہوئے نظر آتے ہیں، اب میں آپ کے سوال کی جانب آتا ہوں، اس میں کوئی شک نہیں کہ یوم القدس منانے کی اہمیت موجودہ دور میں مزید بڑھ گئی ہے، عالمی حالات اس بات کا تقاضا کر رہے ہیں کہ بیت المقدس کو جلد سے جلد صہیونی ناپاک پنجوں سے آزاد کرایا جائے۔

سوال: کیا وجہ ہے کہ بعض اہم مسلم ممالک امت مسلمہ کے اس اہم مسئلہ پر خاموش نظر آتے ہیں۔؟
علامہ ارشاد علی:
 آپ کی یہ بات بالکل درست ہے، بعض عرب ممالک جو کہ امریکہ کے غلام اور اسرائیل کو اپنا ساتھی سمجھتے ہیں، وہ فلسطین کے مسئلہ پر نہ صرف خاموش ہیں بلکہ اس حوالے سے صہیونی کیمپ میں کھڑے ہیں، ان نام نہاد مسلم ممالک کی وجہ سے آج امت مسلمہ رسوا ہورہی ہے، ان ظالموں نے ہمیشہ امت مسلمہ کی پیٹھ میں چھرا گھونپا پے، سعودی عرب اس حوالے سے پیش پیش ہے، ترکی نے امت مسلمہ کو بہت مایوس کیا ہے، قطر، یو اے ای اور دیگر ممالک اس وقت قبلہ اول اور نہتے فلسطینیوں کیساتھ کھڑے نظر نہیں آتے۔

سوال: کیا فلسطین اور بیت المقدس کے مسئلہ پر حکومت پاکستان کے موقف سے آپ مطمئن ہیں۔؟
علامہ ارشاد علی:
 جتنا اہم یہ مسئلہ ہے، اس حوالے سے تو پاکستان کی کوششیں ناکافی ہیں، تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان نے آج تک اسرائیل کا تسلیم نہیں کیا اور ہمیشہ فلسطینیوں کی حمایت کی، تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستانی قوم حکومت سے اس سے کہیں زیادہ امیدیں رکھتی ہے۔

سوال: آپ نے پاکستانی عوام کے جذبات کا ذکر کیا، لیکن یہاں یوم القدس میں تو صرف ایک مکتب فکر (اہل تشیع) کے عوام و خواص پیش پیش نظر آتے ہیں۔؟

علامہ ارشاد علی: جی یہ درست ہے کہ اس مسئلہ کو عالمی سطح پر اجاگر کرانے کا سہرا رہبر کبیر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رح) کی ذات کو جاتا ہے، جنہوں نے جمعتہ الوداع کو یوم القدس کے عنوان سے منسوب کیا، تاہم اب اس حوالے سے عوام میں شعود اجاگر ہورہا ہے، اور پوری امت مسلمہ قبلہ اول کے مسئلہ پر اپنی توجہ دے رہی ہے۔

سوال: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل کو مسلم ممالک کے اتحاد سے نابود کیا جاسکتا ہے۔؟
علامہ ارشاد علی:
 میں اس حوالے سے امام خمینی (رح) کے اس جملہ کو دھراوں گا کہ ’’اگر تمام مسلمان ایک ایک بالٹی پانی بھی بہائیں تو اسرائیل صفحہ ہستی سے مٹ جائے‘‘۔ سید حسن نصراللہ فرماتے ہیں کہ اسرائیل کا وجود مکڑی کے جالے سے بھی کمزور ہے۔ لہذا میں سمجھتا ہوں کہ اگر تمام مسلم ممالک اتحاد کا مظاہرہ کریں تو نہ صرف قبلہ اول آزاد ہوسکتا ہے بلکہ اسرائیل کا وجود بھی ختم ہوسکتا ہے۔

سوال: یوم القدس کے حوالے سے کیا پیغام دینا چاہیں گے۔؟
علامہ ارشاد علی:
 اس یوم کو بھرپور انداز میں منانے کی ضرورت ہے، بیت المقدس کی آزادی اور فلسطینی بھائیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ضروری ہے کہ یوم القدس کے موقع پر گھروں سے نکلا جائے اور غاصب اسرائیل کیخلاف بھرپور آواز بلند کی جائے، اسرائیل کو اس کے مزموم عزائم سے روکنے کیلئے یوم القدس خاصی اہمیت رکھتا ہے، فلسطین کے مسئلہ کو ہر سطح پر اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔

 

 

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.