کراچی : اورنگی ٹاون میں تکفیری دہشتگردوں کی گھر میں گھس کر فائرنگ، باپ شہید بیٹے زخمی

  • بدھ, 15 فروری 2017 09:54

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) کراچی کے علاقہ اورنگی ٹاوں میں کالعدم اہلسنت و الجماعت کے دہشتگردوں نے ایک گھر میں گھس باپ شبیر حسین اوراُنکے بیٹوں وقاص اور عادل پر فائرنگ کردی جسکے نتیجے میں شبیر حسین شہید ہوگئے جبکہ ان کے دونوں بیٹے شدیدزخمی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق واقعہ اورنگی ٹاون میںواقع معراج النبی (ص) کالونی میں پیش آیا جسکے اطراف میں کالعدم لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ اور داعشی دہشتگرد آباد ہیں۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق گذشتہ رات تکفیری دہشتگردوں شبیر حسین کے گھر آئے اور باہر بیٹھے چھوٹے بیٹے سے والد کے بار ے میں پوچھا ،یہ معلوم ہونے کے بعد کہ شبیر حسین گھر میں ہیں وہ اندر داخل ہوگئے اور شبیر حسین کے منہ اور پیٹ میں گولیاں برسادیں ،جبکہ وہاں موجود انکے دونوں بیٹوں کو بھی قتل کرنے کی کوشیش کی تاہم وہ شدید زخمی ہیں اور انکا علاج کیا جارہا ہے ، شبیر حسین موقع پر ہی شہید ہوگئے اور انکی میت رضویہ امام بارگاہ میں موجود ہے۔

دوسری جانب پولیس نے اس واقع کو ڈکیٹی قرار دینے کی کوشیش کی ہے، لیکن جس گھر میں یہ سانحہ رونما ہوا ہے وہاں دو الماریوں کے سوائے ایک پلنگ ہی اں غریبوں کی ملکیت تھی لہذا یہ ڈکیٹی کا نہیں بلکہ شیعہ نسل کشی کا سانحہ ہے۔ واضح رہے کہ کالعدم سپاہ صحابہ کا دہشتگرد حافظ احمد بخش۹۰ کی دہائی میں بفرزون اور ضلع غربی میں اس ہی قسم کی ٹارگیٹ کلنگ میں ملوث رہا تھا جسے پولیس ڈکیٹی کا کیس قرار دیدتی رہی تاہم دہشتگرد حافظ بخش گرفتاری کے بعد انکشاف ہوکے یہ فرقہ وارانہ بنیادوں پر قتل کیئے جارہے تھے۔

اس بات کا بھی دھیاں رہے کہ کراچی کا علاقہ ضلع غربی عالمی دہشتگرد تنظیم داعش کے لئے جنت بن گیا ہے جہاں کالعدم جماعتوں کے دہشتگرد داعش کے لئے مضبوط نیٹ ورک قائم کررہے ہیں، لہذا اس سے پہلے کہ شہر میں کوئی بڑا سانحہ رونما ہو سیکورٹی اداروں کو چاہئے کہ وہ اس جانب فوری متوجہ ہوں اور ضلع غر بی میں دہشتگرد عالمی تنظیم داعش کے لئے زمینہ سازی کرنے والی تنظیم سپاہ صحابہ کے چینل کو بریک کرکے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ کریں۔

Image may contain: indoor

No automatic alt text available.

Image may contain: 2 people

Image may contain: 4 people

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.