فلپائن داعش کا نیا گڑھ

  • جمعہ, 26 جنوری 2018 15:12

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) دہشت گرد تنظیم داعش کے معرض وجود میں آنے کے بعد تکفیری جماعتیں اور دہشت گردی کی سیاہ اور خونخوار تاریخ سیاہ تر اور مزید خونخوار ہوگئی،اس دہشت گرد تنظیم نے عراق اور شام جیسے مشرق وسطیٰ کے اہم ممالک کو تباہ کردیا،ان دونوں ممالک کے علاوہ داعش نے مصر کے علاقہ سینا کو اپنی لپیٹ میں لئے رکھا اور لیبیا کے کچھ علاقوں میں ابھی سرگرم ہے۔
تنظیم کے گڑھ عراق اور شام میں تو اسے تقریباً مکمل شکست حاصل ہوچکی ہے اور صرف چند ہی علاقوں میں اس کے جنگجو آخری سانسیں لے رہے ہیں۔عراق اور شام میں شکست کے بعد یہ تصور کرنا کہ داعش کا خاتمہ ہوچکا ہے درست نہیں،کیونکہ جس وقت یہاں داعش شکست کے نزدیک ہوتی جارہی تھی تو دنیا کے اس پار داعش پھر سے جنم لے رہی تھی۔فلپائن کے جنوبی شہر مراوی میں داعش اچانک سے ابھر آئی اور چند ہی دنوں میں عراق،شام،مصر اور لیبیا میں دکھائی دینے والے نقاب پوش دہشت گرد مراوی کی گلیوں میں نظر آنا شروع ہوگئے۔تسلی دینے والی بات تو یہ ہے کہ فلپائنی افواج نے مراوی پر کنٹرول پھر سے حاصل کر لیا ہے،البتہ پریشان کن بات یہ ہے کہ داعش کے بہت سے جنگجو مراوی سے فرار ہوگئے ہیں۔مراوی کا جغرافیائی محل وقوع داعش کے معاملے میں انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اور ہورہا ہے۔مراوی کے محل وقوع کی وجہ سے داعش کے جنگجو با آسانی فلپائن سے ملائیشیا اور انڈونیشیا میں بحری راستوں کے ذریعے داخل ہوسکتے ہیں ،اسی بات کی تصدیق انڈونیشیا کے آرمی چیف جاٹوٹ نور مانتیشو نے بھی حال ہی میں کر دی ہے ،ان کے بقول انڈونیشیا کے طول و عرض میں داعش کے روپوش جنگجو یا پھر تنظیم سے ہمدردی رکھنے والے افراد موجود ہیں۔انڈونیشیا کے علاوہ ملائیشیا میں بھی یہی صورت حال ہے اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کے خیال میں علاقے میں اس وقت داعش سے ہمدردی رکھنے والے لوگوں کی تعداد ہزاروں میں ہے جو کہ انتہائی تشویش ناک ہے۔اس حوالے سے خبروں کا جائزہ لیا جائے تو گزشتہ سالوں میں انڈونیشیا اور ملائیشیا میں بیسیوں ایسے افراد گرفتار کیے گئے جن کا تعلق داعش سے تھا۔اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے یوں لگ رہا ہے کہ آنے والے وقت میں جنوب مشرقی ایشیا کا علاقہ داعش کا نیا گڑھ بن سکتا ہے جہاں ایک اور سیاہ اور خونی دور کے آغاز کا امکان ہے۔خاص طور پر کہ داعش کی پشست پناہی اور اس کی مدد کرنے والے امریکہ،سعودی عرب اور برطانیہ جیسے ممالک کی یہی کوشش ہے کہ داعش کو ختم ہونے سے بچایا جائے اور اس کا بہترین طریقہ یہی ہوسکتا ہے کہ جنگ زدہ علاقوں سے داعش کو کچھ وقت کیلئے دور رکھا جائے اور اسے پھر سے مضبوط کر کے واپس لایا جائے۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.