علماء کرام پر ذمہ دارای عائد ہوتی ہے کہ وہ مراسم عزاداری کیساتھ ساتھ قیام حسینی (ع) کا اصل ہدف بیان کریں، مولانا مسرور عباس

  • منگل, 18 ستمبر 2018 13:06

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) مولانا مسرور عباس انصاری کا تعلق مقبوضہ کشمیر کے شہر خاص سرینگر سے ہے، وہ جموں و کشمیر اتحاد المسلمین کے صدر ہیں۔ جموں و کشمیر اتحاد المسلمین گذشتہ 53 برسوں سے کشمیر کی سرزمین پر فعال رول ادا کر رہا ہے، اتحاد و اخوت اسلامی کے علاوہ یہ تنظیم کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کا دفاع کر رہی ہے، تنظیم کے سرپرست مولانا عباس انصاری نے 1962ء کے ابتداء میں ملکی سیاست میں فعالیت شروع کی اور اپنے سیاسی اہداف کو پیش نظر رکھتے ہوئے ”جموں و کشمیر اتحاد المسلمین“ کا قیام عمل میں لائے۔ جسکے اہم ترین اہداف میں مسلمانوں کے مختلف فرقوں اور مسلکوں کے درمیان وحدت برقرار رکھنا اور فرقہ پرست قوتوں کا مقابلہ کرنا تھا، شیعہ سنی اختلافات کی گہری خلیج کو پاٹنے کیلئے اتحاد المسلمین نے ہمیشہ اہل سنت علماء کیساتھ قریبی رابطہ قائم رکھا، اس تنظیم کے رہنماء مسئلہ کشمیر کی سفارتی سطح پر حمایت حاصل کرنے کیلئے پاکستان، ایران، کویت، سعودی عرب، دوبئی، مراکش، برطانیہ، قطر وغیرہ میں کئی کانفرنسوں اور سمیناروں میں کشمیر کی نمائندگی اور مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی فورموں میں اجاگر کرچکے ہیں۔ شیعہ نیوز نے مولانا مسرور عباس انصاری سے ایک خصوصی ملاقات میں کشمیر کی موجودہ صورتحال پر انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کرام کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)

شیعہ نیوز : سب سے پہلے یہ جاننا چاہیں گے کہ محرم الحرام کی تقریبات کے حوالے سے آپکی تنظیم نے کیا تیاریاں کی ہوئی ہیں۔؟
مولانا مسرور عباس انصاری: حسب دستور اس سال بھی شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کرنے کی خاطر کشمیر کے اطراف و اکناف میں عزاداری کی مجالس اور سیمیناروں کا انعقاد کیا جا رہا ہے اور آنے والے دنوں میں مختلف مقامات سے جلوس ہائے عزاء برآمد کئے جائیں گے۔ اس سال بھی حسب روایت سرینگر سے برآمد ہونے والے مرکزی جلوس شاندار طریقے سے برآمد کئے جائیں گے۔ اس سلسلے میں انتظامات کو حتمی شکل دی جا چکی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ہم نے اپنے تمام ممبران کو ہدایت دی ہے کہ اتحاد و اتفاق کی روایت برقرار رکھنے کے لئے وہ اپنے اپنے علاقوں میں کوشاں رہیں اور اس سلسلے میں اہم رول ادا کریں۔

شیعہ نیوز : کیا ایام عزا اور محرم و صفر کی پیروی میں ہماری تمام موجودہ ضروریات پوری ہوسکتی ہیں۔؟
مولانا مسرور عباس انصاری: موجودہ تقاضوں کے تناظر میں کربلا انسانیت کا پیغام اور دین کا مقصد روشن کرتا ہے۔ انسان کے دل میں اُتر کر انسانی اقدار کو اُجاگر کرتا ہے۔ کربلا عقائد اساسی کو درست کرتا ہے، توہم پرستی سے نجات دلاتا ہے، کربلا سعادت و شقاوت کے درمیان خطِ فاصل کھینچتا ہے۔ کربلا اسلام اور ملوکیت کے خدوخال کو طے کرکے منافقت کے چہرہ سے پردہ ہٹاتا ہے۔ پیغام کربلا سمجھے بغیر عزاء بھی بے روح رہ جاتی ہے۔ ذکر حُسین کے ساتھ فکر حُسین لازم ہے۔ واضح رہے کہ عزائے حُسین (ع) رسم نہیں کہ جو بھی چاہیں کریں، یہ سیرت رسول اکرم (ص) اور شیوہ ائمہ اہل بیت (ع) ہے، اس لئے اگر روحِ عزاء کو بھول کر رسموں میں ہی اٹکا جائے تو روحِ عزاء سے بھٹکنے کا موجب ہوگا۔

شیعہ نیوز : ان مقدس ایام میں دشمنانِ دین کی روشن، واضح اور مکروہ سازشیں جنکی نشاندہی آپ ہمارے لئے کرنا چاہیں گے۔؟
مولانا مسرور عباس انصاری: ان مقدس ایام میں دشمن کی جو سازشیں ہیں، وہ سب پر عیاں ہیں، ان سازشوں میں سے ایک یہ ہے کہ امت مسلمہ خصوصاً مکتب اہل بیت (ع) کے پیروکاروں کے درمیان تفرقہ اور اختلافات پھیلانا اور امت مسلمہ کے ان مسائل کو جنم دینا ہے، جو جذباتی دنیا تک محدود ہیں اور شریعت کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں، دشمن کی کوشش یہ رہتی ہے کہ ان ایام میں مجالس اور عزاداری میں ایسے کام انجام دیئے جائیں، جن کی وجہ سے یہ مجالس اور عزاداری شیعوں تک محدود رہے، دوسرے مکاتب کے لوگ ان سے استفادہ نہ کرسکیں اور جس کی وجہ سے دشمن اسلام کو مکتب اہل بیت (ع) پر انگلیاں اٹھانے کا موقع ملے، وہ اپنے زہریلے پروپیگنڈہ کے ذریعے مکتب اہل بیت (ع) کو بدنام کرے اور عزاداری سیدالشھداء (ع) کو داغدار بنائے۔

شیعہ نیوز : دشمن کی ہمیشہ یہی کوشش رہتی ہے کہ عزاداری میں بدعات و خرافات داخل کی جائیں، کسطرح سے دشمن ان خرافات و بدعات کو عزاداری میں داخل کرتے ہیں۔؟
مولانا مسرور عباس انصاری: دیکھیئے عاشورہ شیعت کی شہہ رگ ہے اور جب تک عاشورہ زندہ ہے، محرم زندہ ہے، تب تک شیعت زندہ اور شیعت کا پیغام دنیا تک پہنچتا رہے گا۔ جب بنا کسی جبر کے لوگ ان مجالسوں میں اپنا وقت دیتے ہیں اور پیسہ خرچ کرتے ہیں تو یہ ہمارے دشمنوں کے لئے بار گراں گزرتا ہے اور وہ ہمیشہ اس کوشش میں مصروف رہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح عاشورہ کو ذہنوں سے ماند کرایا جائے، جس کے لئے انہوں نے مختلف اوقات میں مختلف حکمت عملی بنائی ہیں اور ان حکمت عملیوں کو عملی شکل دینے کے لئے انہوں نے بہت ساری سرمایہ گزاری کی ہے۔ دشمنوں نے جعلی اور جاہل علماء کو سامنے لا کر اور جعلی روایات گڑھ کر دین و عزاداری میں خرافات و بدعات داخل کروائے ہیں۔

شیعہ نیوز : ان رسومات اور خرافات کو اسلام ناب محمدی (ص) سے الگ کرنے کیلئے کیا لائحہ عمل اپنانا چاہیئے۔؟
مولانا مسرور عباس انصاری: اس میں پہلی ذمہ داری ہمارے مبلغین کی ہے کہ وہ اسلام حقیقی لوگوں تک پہنچائیں، دوسرا ہماری مجلسیں رونے اور رلانے تک محدود نہیں ہونی چاہیئیں، میں سمجھتا ہوں کہ عزاداری میں یا دین میں تبھی خرافات یا رسومات داخل ہوتی ہیں، جب ہمارے مبلغین حضرات مجلس کو جمانے کے لئے جھوٹی اور من گھڑت روایات کا سہارا لیتے ہیں، مبلغین حضرات کو چاہیئے کہ ان چیزوں سے اجتناب کریں اور واقعہ کربلا کے حقیقی واقعات لوگوں تک پہنچائیں اور میں سمجھتا ہوں کہ واقعہ کربلا ایک دل سوز واقعہ ہے کہ جسے سن کر آنکھوں سے خود بہ خود آنسو نکل آتے ہیں، اگر ہماری یہ روش اسی طرح سے باقی رہی تو ایسا وقت آئے گا کہ لوگ شک و شبہات ظاہر کریں گے اور واقعہ کربلا ایک سنی سنائی کہانی محسوس ہوگی، ہمیں کربلا کو اس طرح دنیا کے سامنے بیان کرنا چاہیئے، جس طرح واقعہ پیش آیا ہے، دوسری چیز مبلغین حضرات لوگوں میں جرأت پیدا کریں کہ وہ جھوٹی اور من گھڑت روایات بیان کرنے والے ذاکرین و واعظین کو ٹوک سکیں۔

شیعہ نیوز : محرم الحرام کے حوالے سے آپ عوام تک کیا پیغام پہنچانا چاہیں گے۔؟
مولانا مسرور عباس انصاری: ایام عزاء کے دوران آپسی اتحاد و اتفاق اور بھائی چارے کی مثال قائم و دائم رکھیں۔ دشمنان اسلام کسی نہ کسی بہانے سے وحدت اسلامی کے مضبوط قلعے پر وار کرنا چاہتے ہیں اور وہ مذہبی لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کے صفوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی تاک میں لگے رہتے ہیں۔ کربلا درسگاہ اتحاد اور درسگاہ مساوات ہے، لہذا ہمیں چاہئے کہ ایام عزاء میں ان تمام چیزوں کو مدنظر رکھ کر عزادری کے مراسم انجام دیئے جائیں۔ علمائے کرام، دانشور، مفکرین اور ذاکرین حضرات پر ذمہ دارای عائد ہوتی ہے کہ وہ مراسم عزاداری کے ساتھ ساتھ قیام حسینی (ع) کا اصل ہدف اور مقصد بیان کریں۔

 

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.