نیا پاکستان بھی سعودی، اماراتی و امریکی اتحادی

  • جمعرات, 27 ستمبر 2018 13:05

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)تحریر: عرفان علی

نئی عالمی صف بندی کے امکانات کی جاری بحث کے تناظر میں بات کی جائے تو پاکستان کی نئی انصافین حکومت نے ملک کی خارجہ پالیسی کو ریورس گیئر میں ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ پہلے تین ماہ میں گھر کی درستگی کی بات کرکے اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں نہ جانے والے وزیراعظم عمران خان نے عجلت میں غیر ملکی دورے کر ڈالے اور وہ بھی محرم الحرام کے پہلے عشرے میں، حالانکہ یہ محرم کے بعد بھی ہوسکتے تھے اور یہ دورے بھی کن ممالک کے، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے۔ دورے کی دعوت تو اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حسن روحانی نے بھی دی تھی، لیکن اس کو شرف قبولیت نہیں بخشا گیا، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ایران سوتیلا بھائی ہے، یہ شاہ و شیوخ تو سگے بھائی ہیں۔ وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے دعوت دے کر اپنے ہم منصب سعودی وزیر کو پاکستان بلوایا، اعلیٰ سطحی ملاقاتیں ہوئیں، حتیٰ کہ چین کے وزیر خارجہ کے ساتھ ساتھ سعودی وزیر کسی بھی مسلمان ملک کی طرف سے واحد وزیر تھا جسے صدر ڈاکٹر عارف علوی کی حلف برداری کی تقریب میں مدعو کیا گیا تھا۔ یوں موجودہ سعودی وزیر خارجہ کی وہ بات حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی کہ سعودی عرب پاکستان کے معاملات میں آبزور کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ اس میں شریک ہے۔ یہ جملہ اس وقت کہا گیا جب وہ امریکہ میں سعودی عرب کے سفیر کی حیثیت سے تعینات تھے اور انکی بات وکی لیکس کے ذریعے دنیا بھر کو معلوم ہوئی۔

عمران خان کے اس دورے کی نوعیت سعودی سفیر برائے پاکستان نواف سعید المالکی نے خود ہی بیان کر دی ہے کہ پہلے غیر ملکی دورے کے لئے سعودی عرب کو منتخب کرنے سے ثابت ہوگیا کہ تزویراتی اتحادیوں میں پاکستان سعودی عرب کو سبھی پر مقدم رکھتا ہے۔ سعودی سفیر کا کہنا ہے کہ عمران خان کا دورہ درحقیقت (دنیا کے لئے) کئی پیغامات پر مشتمل تھا اور ان میں سے ایک پیغام یہ ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان یک جان دو قالب ہیں، جنہیں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان سعودی و امریکی تعلقات کی نوعیت پر اور نئی انصافین حکومت کے حوالے سے ہم ماضی میں متعدد مرتبہ حقائق بیان کرچکے ہیں، جس کو ملحوظ رکھتے ہوئے بات کی جائے تو عمران خان کی حکومت نے جس سمت میں سفر کا آغاز کیا ہے، یہ سب کچھ توقعات کے عین مطابق ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا پاکستان آجانا خواہ پانچ گھنٹوں کے لئے ہی سہی، پھر اس دورے میں پاک امریکہ تعلقات کی از سرنو ترتیب پر اتفاق ہو جانا، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس بمقام نیویارک میں امریکی صدر کے ظہرانے میں وزیر خارجہ شاہ محمود کی شرکت، غیر رسمی ملاقات اور ٹرمپ کے مثبت جواب برائے پاک امریکہ تعلقات، یہ سبھی کچھ ہم جیسوں کے لئے وہی پرانا گھسا پٹا اسکرپٹ ہے، جس پر ماضی میں بات کی جاچکی ہے۔

صدر ٹرمپ نے جنرل اسمبلی میں دوسری مرتبہ تقریر کی اور اس میں بھارت، جعلی ریاست اسرائیل اور سعودی عرب کی تعریف کے پل باندھے۔ ایران، شام، روس، چین، وینزویلا پر شدید تنقید بھی کی تو دھمکی آمیز لب و لہجے میں بات بھی کی۔ تجارتی جنگ کے حوالے سے چین اور توانائی کے شعبے میں اوپیک ممالک پر بھی شدید تنقید کی۔ ایک طرف سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کی شام و یمن کے معاملات پر فنڈز دینے کی تعریف کی تو نام لئے بغیر انہی پر تنقید بھی کی کہ جو ملک تیل کی قیمتوں میں امریکہ کے کہنے پر کمی نہیں کرسکتے، جو امریکہ کا ساتھ نہیں دے سکتے جبکہ انکا دفاع امریکہ کرتا ہے اور جنہیں امریکہ مدد و معاونت فراہم کرتا ہے، اب یہ اپنے اخراجات بھی خود ہی ادا کریں اور امریکہ ان کو امداد فراہم نہیں کرے گا۔ ٹرمپ کی تقریر میں بھارت کی تعریف اور اتحادی و دوست ممالک جو امریکی مفادات کا تحفظ نہیں کر رہے، انکو دھمکیاں، یہ پیغام صرف عرب اتحادیوں کے لئے نہیں بلکہ پاکستان حکومت کے لئے بھی تھا۔ پاکستان کو تو ویسے ہی واجب الادا رقوم کی ادائیگی بھی امریکہ نے روک لی ہے۔ اب دو اکتوبر کو واشنگٹن میں امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات میں شاہ محمود قریشی کیا حاصل کر پاتے ہیں، یہ دیکھنا باقی ہے۔

دورہ سعودی عرب و متحدہ عرب امارات میں وزیر خارجہ نے وہاں اپنے ہم منصبوں کو دورہ پاکستان کی دعوت دی ہے۔ اس کے علاوہ دعویٰ یہ کیا جا رہا ہے کہ سعودی وفد اکتوبر میں پاکستان کے دورے کے دوران سرمایہ کاری کے معاہدوں کا اعلان کرے گا۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک میں سعودی عرب کو تیسرا بڑا تزویراتی شراکت دار بنانے کا اعلان بھی ہوا ہے۔ یعنی عمران حکومت نے سعودی عرب کے لئے دیدہ و دل فرش راہ کر دیئے ہیں۔ ایک ایسے وقت جب امریکہ اسرائیل کی طرفداری میں اس حد تک کھل کر سامنے آیا ہے کہ اس نے مقبوضہ بیت المقدس سمیت پورے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا ہے اور ایران کے ساتھ بین الاقوامی سطح کے قانونی معاہدے سے یکطرفہ طور دستبردار ہوکر ایران پر اقتصادی پابندیوں میں اضافہ کر رہا ہے، ایک ایسے وقت کہ جب سعودی بادشاہت فلسطین کی آزادی کے حامی بڑے عرب ملک شام کے خلاف مسلمانوں اور عربوں کے دشمن اسرائیلی و امریکی اتحاد کا جزو لاینفک بن کر شام مخالف دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی و مدد کر رہا ہے اور یمن پر سعودی و اماراتی حکومتوں نے یکطرفہ جنگ مسلط کر رکھی ہے، ایسی صورتحال میں انصافین حکومت امریکی، سعودی و اماراتی حکومتوں کے لئے پاکستان کی غیر جانبداری، آزادی و خود مختاری کو کیوں داؤ پر لگا رہی ہے؟!

امریکہ کی چین کے ساتھ تجارتی جنگ کا ملبہ بھی پاکستان پر گرنا ہے۔ چین کو حاصل سہولیات جب امریکہ میں ختم ہو جائیں گی تو اسکی آمدنی کا بڑا حصہ قربان ہو جائے گا۔ چین کی اشیاء مہنگی ہو جائیں گی تو امریکہ میں اسکا خریدار کون ہوگا؟ چین کو جب اقتصادی شعبے میں نقصان ہوگا تو وہ دوسرے ممالک کو قرضے یا سرمایہ کاری پر نظرثانی کرے گا تو پاکستان تو زد میں ویسے بھی آئے گا۔ امریکی سی پیک کے مخالف ہیں، اس طرح سی پیک پر بھی امریکہ پاکستان پر دباؤ ڈالے گا۔ چین میں مقیم مسلمان آبادی کے حوالے سے ویسے ہی خبریں آرہی ہیں اور چین کے وزیر خارجہ نے اس وجہ سے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کی سازش ناکام ہوگی اور یہ ناکامی خود بخود تو نہیں ہوگی، اسکو ناکام بنانے کے لئے پاکستان حکومت کو مطلوبہ اقدامات کرنے ہوں گے۔ سعودی عرب کے سی پیک میں شامل ہونے سے چین اور امریکہ کے مابین موجودہ کشیدگی کیسے کم ہو جائے گی؟ خدشہ یہ ہے کہ سعودی عرب یہاں کوشش کرے گا کہ صوبہ بلوچستان میں قدم جماکر ایران کے لئے مسائل پیدا کرے۔ اس کے ہم فکر مذہبی جنونیوں نے پہلے کچھ کم قیامت ڈھائی ہے پاکستانیوں پر کہ اب جب سعودی خود یہاں ہوں گے تو کیا کیا غضب ڈھائے جائیں گے۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات یعنی طالبان حکومت کو تسلیم کرنے والے دو ملک جنہوں نے ہر دور میں سامراجی سازشوں میں فعال کردار ادا کیا۔ انکے جوائنٹ وینچرز کا مطلب پھر افغانستان، پاکستان و ایران کے لئے نئی مشکلات جو کہ افغان جہاد کے غلط عنوان سے شروع ہوئیں، ایک اور مرتبہ وہ نئے سرے سے سر اٹھائیں گی۔

چین اور روس کو دیکھیں تو وہ برکس میں بھارت کے ساتھ ہیں۔ ایران بھی ان دونوں کی طرح بھارت کو مائنس نہیں کرنا چاہتا۔ خطے میں سکیورٹی تعاون پر امریکہ کے اتحادی ہونے کے باوجود افغانستان و بھارت، ایران کی میزبانی میں آج روس اور چین کے ساتھ ایک کانفرنس میں شریک ہیں۔ پانچ نومبر کو جب ایران مخالف نئی اقتصادی پابندیوں کو امریکہ نافذ کرے گا، تب اگر بھارت نے امریکہ کو مجبور کر دیا کہ بھارت کو مستثنیٰ قرار دے تو بھارت کا ایران کے ساتھ تعلق اور زیادہ گہرا ہو جائے گا اور وہ بیک وقت امریکہ و ایران و چین و روس سے فوائد سمیٹے گا۔ اسی طرح یورپی یونین کی جانب سے بھی اعلان ہوچکا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ تجارت کے متبادل اقدامات کرچکے ہیں۔ یعنی اگر یورپی یونین اور بھارت جو امریکی اتحادی بھی ہیں، ان سے اگر ٹرمپ سرکار اپنی ایران مخالف پالیسی نہ منواسکی تو پھر ایران کے مخالف سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات یا امریکہ کے ناز نخرے اٹھانے پر مبنی پاکستان کی خارجہ پالیسی کو کس طرح قابل دفاع قرار دیا جاسکے گا؟ باقاعدہ نئی عالمی صف بندی نہ بھی ہو، تب بھی اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں ٹرمپ کی تقریر میں کامیابی کے دعوے پر جوقہقہے گونجے، وہ یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ امریکی حکومت بہت سارے محاذوں پر تنہائی کا شکار ہوچکی ہے اور ان میں سے ایک ایران کے ساتھ نیوکلیئر ڈیل کا ایشو بھی ہے۔ ان رخوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بات کریں تو پاکستان کی نئی حکومت کے آتے ہی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات و امریکہ کے حکمرانوں کا یکایک پاکستان پر نسبتاً زیادہ مہربان ہو جانا، خطرے کی گھنٹی کے مترادف ہے۔

پاکستان کی نئی حکومت نے غلط سمت میں قدم اٹھایا ہے۔ اس کو اپنی داخلہ و خارجہ پالیسی کا از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ نئی حکومت کے وزیراعظم ناتجربہ کار سعودی ولی عہد کے نمائشی احتساب سے بے حد متاثر ہیں، حالانکہ سعودی عرب کا بادشاہ اور اسکا بیٹا اپنے ذاتی اقتدار کے استحکام کے لئے اس راہ میں حائل خونی رشتے داروں تک کو قربانی کا بکرا بنارہے ہیں، لیکن عمران خان کی نظر میں یہ وائٹ کالر بدعنوان لوگوں کے خلاف کارروائی ہے، یعنی جس طرح سائیکل سوار مغربی حکمرانوں کی باتیں سنا کر خود ہیلی کاپٹروں میں سفر کرنا انصافین وزیراعظم کے قول و فعل میں تضاد کا ثبوت ہے، اسی طرح محمد بن سلمان کی پر تعیش زندگی و اسراف اسکے جھوٹے ہونے پر قاطع دلیل ہے۔ چونکہ دونوں ایک ہی ذہنیت کے حامل ہیں، اسلئے سعودی ولی عہد ہی عمران خان کے لئے نمونہ عمل ہوسکتا ہے اور عمران خان خود بھی محمد بن سلمان کی طرح ناتجربہ کار ہیں۔

موجودہ صورتحال کے پیش نظر کیا اس بات کا خدشہ نہیں کہ امریکی، سعودی و اماراتی اس خطے میں ایران کے خلاف سازش کے لئے پاکستان کی سرزمین استعمال کرنا چاہتے ہوں، تاکہ کالعدم جنداللہ یا جیش العدل ٹائپ کے گروہوں کے ذریعے کارروائیاں ہوں اور پاکستان اور ایران کے مابین تلخیاں پیدا کرکے انہیں ایک دوسرے کے خلاف کر دیا جائے؟ انصافین حکومت سے سوال ہے کہ امریکی، سعودی و اماراتی علی الاعلان ایران کے دشمن ہیں، وہاں کے نظام حکومت کی تبدیلی کی باتیں کرتے ہیں، ایسے ممالک کو ایران پر فوقیت و ترجیح دے کر ان سے قربتیں بڑھا کر پاکستان کو ماضی میں کیا فائدہ ہوا، جو اب ہوگا؟! سوچنے کی بات یہ ہے کہ لاطینی امریکہ اور ویتنام سے لے کر ایران و عراق تک پوری دنیا میں ذلیل و رسوا ہونے والے امریکی سامراج کو سوائے پاکستان کے کسی ملک نے کسی محاذ پر کامیاب نہیں ہونے دیا اور آج تک دنیا جانتی ہے کہ سوویت یونین کی افغانستان میں شکست پاکستان کی مدد کی وجہ سے ہوئی؟! اللہ کرے کہ اب ایسا نہ ہو اور نئی حکومت ماضی میں ہونے والے نقصانات سے سبق سیکھ کر ان ناقابل معافی غلطیوں کو نہ دہرائے، لیکن انصافین حکومت نے جس سمت سفر کا آغاز کیا ہے، یہ راستہ (خاکم بدہن) اسی منزل کو جاتا دکھائی دے رہا ہے۔ خدا خیر کرے!

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.