تازہ ترین

یمنی مسلمانوں کی مظلومیت پر پاکستانی مسلمان خاموش کیوں؟

  • ہفتہ, 29 ستمبر 2018 16:50

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) تحریر: محمد حسن جمالی

ظالم کوئی بھی ہو اس سے نفرت اور اس کی مذمت کرنا اسی طرح مظلوم کی حمایت کرنا پاک فطرت انسان کی نشانی ہے، کیونکہ ظلم عقلا ایک قبيح عمل ہے جس سے حکم عقلی کی طرف ارشاد کرتے ہوئے دین مبین اسلام نے سختی سے بنی آدم کو منع کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ ظالمین کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ دینی تعلیمات میں اس مطلب کی طرف بھی واضح اشارہ ہوا ہے کہ جس طرح دوسروں پر ستم کرنا گناہ ہے، مظلوم کی نصرت کرنے کے بجائے ظالم کی مدد کرنے والا بھی مجرم ہے۔

آج کرہ ارض پر یوں تو سارے مسلمان بالخصوص کشمیر، فلسطین اور یمن کے مسلمان امریکہ اسرائیل اور ان کے نمک خوار غلام آل سعود کی بربریت کی آگ میں جل رہے ہیں لیکن پاکستانی مسلمان خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، خادم الحرمين کے دعویدار آل سعود یمن میں تین سال سے زیادہ عرصے سے مسلسل یمنی غریب عوام کا قتل عام کرکے امریکہ و إسرائيل کی خوشنودی حاصل کرنے میں مگن ہیں مگر پاکستانی مسلمان اس حوالے سے تجاہل عارفانہ کا مظاہرہ کر رہے ہیں، کیوں آخر کیوں؟ کیا آل سعود کے مظالم ظلم نہیں؟

کیا اسلامی تعلیمات میں آل سعود کو استثنائی طور پر اس قدر وحشت و بربریت کرنے کی اجازت ملی ہوئی ہے؟ کیا یمن کے باشندے مسلمان نہیں؟ کیا آل سعود نے کفار کے اشارے سے یمن پر جنگ مسلط نہیں کر رکھی ہے؟حلب اور شام پر واویلا کرنے والے نام نہاد پاکستانی مسلمان آل سعود کے مظالم پر خاموش کیوں ہیں؟ انہیں یمن میں جلتی انسانیت کیوں دکھائی نہیں دے رہی ہے؟ ان کے دلوں میں یمنی بچوں اور عورتوں کے لئے نرم گوشہ کیوں نہیں؟ کیا یہ اسلامی تعلیمات کے ساتھ کھلا مذاق نہیں کہ جب حلب میں داعشی درندے مارے گئے تو وہ فریاد کریں احتجاج کریں،

اور احتجاجی ریلیوں میں مولوی حضرات گلے پھاڑ پھاڑ کر روتے ہوئے مسلمانوں کو حلب اور شام کی مدد کے لئے پکاریں مگر یمن کے بے یارومددگار مسلمانوں کی مظلومیت پر وہ خاموشی کے بت بنے رہیں؟ کیا منافقت اسی رویئے کا نام نہیں؟ مسئلہ یمن کے حوالے سے پاکستانی مسلمانوں کی خاموشی کے اسباب و علل تلاش کریں گے تو ہر انصاف پسند انسان یہ کہتا ہوا نظر آئے گا کہ اس کا نمایاں سبب آل سعود کے ريال سے پلنے والے مولویوں کے مفادات خطرے میں ہونا ہے، ظاہر سی بات ہے کہ پاکستان کے اندر مسلمانوں کی اکثریت کے مذہبی پیشوا یہی مولوی حضرات ہیں جو سعودی عرب کے ريال کے ذریعے اپنی زندگی کی گاڑی چلا رہے ہیں،

انہوں نے اپنے مادی مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کی خاطر اقدار دینی اور تعلیمات دینی کو یکسر طور پر نظر انداز کرتے ہوئے وہ آل سعود کے سلفی غلط افکار اور اعتقادات کی ترویج و اشاعت کرنے میں کوشاں رہتے ہیں جن میں سرفہرست مسلمانوں کی تکفیریت کی فکر کو پروان چڑھانا ہے۔اسی بےبنیاد تکفیری سوچ سے پاکستان کے اندر دہشتگردی عروج پا گئی، داعش اور طالبان وجود میں آگئے جنہوں نے لاتعداد محب وطن پاکستانیوں کو قتل کر دیا گیا، مستقبل کے بےشمار معماروں کو جوانی کے بہار میں ہی ابدی نیند سلا دیا گیا،

پھول جیسے بہت سارے نونہالوں کو قوم سے چھین لیا گیا، وطن عزیز میں افراتفری اور وحشت و بربربیت کی فضا حاکم کرکے پاکستانی پاشندوں کو امنیت کے لئے ترستے رہنے پر مجبور کر دیا گیا، سعودی ریال کو رازق سمجھنے والے مولویوں کے ذریعے پاکستان کو اپنا مرکز بنانے میں وہ کامیاب ہوگئے، وہ پاکستان میں اس قدر مضبوط ہوگئے کہ آمر ضیاء الحق کے دور حکومت سے لیکر آج تک پاکستان کے حکمران آل‌ سعود کے اشارے ہی سے ملک کے داخلی اور خارجی پالیسیاں مرتب کرتے آرہے ہیں۔

جب اس سال تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے موروثی سیاست کا تختہ الٹ کر پاکستان کے وزیراعظم بننے کی تاریخی کامیابی حاصل کی تو ساری قوم کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی، قوم کو اس بات پر ظن غالب ہوا کہ ہمیں اغیار کی غلامی کے زندان سے رہائی دلانے کے لئے عمران خان صاحب مسیحا بن کر آگئے ہیں، جب انہوں نے پاکستانی قوم کا سرمایہ لوٹ کر بیرون ملک اپنے بچوں کے لئے بینک بیلنس اور جائیداد بنائے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف سمیت مریم نواز کو جیل میں ڈالا گیا تو قوم کو یقین ہوگیا کہ پاکستان میں انصاف کا بول بالا ہونے والا ہے۔

پاکستان میں تبدیلی آکر نیا پاکستان بننے میں دیر نہیں لگے گی….. لیکن قوم کی امید پھر مایوسی میں اس وقت تبدیل ہوئی جب وزیراعظم عمران نے اپنے خارجی دورے کے لئے سب سے پہلے سعودی عرب کا انتخاب کیا اور جیسے ہی ان کی ملاقات ریاض میں آل سعود کے سربراہان سے ہوئی ادھر پاکستان کے جیل میں قید نواز شریف اور ان کی بیٹی کو جیل سے آزاد کرنے کا حکم صادر ہوا، جس سے اس بات کو مزید تقویت ملی کہ پاکستان کے حکمران آل سعود کے اشارے سے سرمو اختلاف کرنے کی سکت نہیں رکھتے ہیں۔

ریاض میں سعودی حکمرانوں نے جہاں عمران خان سے نواز شریف و مريم نواز کی رہائی کا مطالبہ کیا وہیں شنید ہے عمران خان سے یمن کی جنگ میں اپنی مدد کے لئے پاکستان سے فوج بھیجنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے اگر عمران خان نے اس غلط مطالبے کو قبول کرکے خدانخواستہ فوج بھیجنے کی غلطی کی تو پاکستانی قوم اور خارجی ممالک کے نزدیک اس کی ساکھ بری طرح متاثر ہوگی، سب اسے نفرت کی نگاہ سے دیکھیں گے اور اس کا انجام بھی دوسروں سے مختلف نہیں ہوگا لہٰذا تحریک انصاف کی حکومت کو تمام زاویوں سے سوچ کر اگر یمن کے مظلوم مسلمانوں کی مدد نہیں کرسکتی تو کم از کم ان کے لئے جلتی پر تیل کا کام کرنے سے اجتناب کرنا ضروری ہے۔

پاکستانی قوم کے باشعور افراد کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ تحریک انصاف کی حکومت کو اسب بےمہار کی طرح چھوڑ کر نہ رکھیں بلکہ قومی اور ملکی مفاد سے ٹکرانے والی پالیسیوں پر اسے نظر ثانی کرنے پر مجبور کرائیں اور ہمیشہ حق کو حق اور باطل کو باطل کہنے کی اپنے اندر اخلاقی جرات پیدا کریں ہمارے پیارے نبی نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی مسلمان دوسرے مسلمان بھائیوں کو مدد کے لیے پکارے اور وہ اس کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس کی نصرت نہ کریں تو وہ مسلمان نہیں۔ آج پوری دنیا دیکھ رہی ہےکہ یمن کے مسلمان آل سعود کے مظالم کی چکی میں پس رہے ہیں اور دلسوز مسلمان ان کی ہر طرح سے مدد کررہے ہیں مگر یمن کے مسلمانوں کی مظلومیت پر پاکستانی مسلمان خاموش کیوں۔؟

 

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.