تازہ ترین

سعودی سرمایہ کاری یا نئی گریٹ گیم کا آغاز؟

  • پیر, 01 اکتوبر 2018 14:25

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) تحریر: عرفان علی

جیسا کہ معلوم ہے کہ بادشاہت سعودیہ العربیہ عمران خان کی انصافین حکومت کے قیام کے ساتھ ہی یکایک الجمہوریہ الاسلامیہ الباکستان میں نئی سرمایہ کاری پر آمادہ ہوچکی ہے۔ وزیراعظم کے سعودی دورے کے بعد سعودی عرب کے سفارتکار اور پاکستانی وزارت خارجہ کے حکام نے چین و پاکستان اقتصادی راہداری سی پیک میں شامل تین منصوبوں کے لئے تین نامہ ہائے اتفاق پر دستخط کر دیئے ہیں، جس کے تحت گرانٹ فراہم کی جائے گی۔ آج بروز اتوار سعودی عرب کا اعلیٰ سطحی وفد برائے سرمایہ کاری پاکستان پہنچ رہا ہے۔ سرکاری ذرایع کا دعویٰ ہے کہ اس وفد میں سعودی وزراء برائے خزانہ، پٹرولیم و توانائی بھی شامل ہوں گے۔ عمران حکومت نے سی پیک منصوبے میں بادشاہت سعودی عربیہ کو پاکستان اور چین کے بعد تیسرے بڑے شراکت دار کی حیثیت دینے کا اعلان کیا ہے۔ سعودی اعلیٰ سطحی وفد چھ روزہ دورے میں صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی میں ریکوڈک اور ضلع گوادرمیں بندرگاہ بھی جائے گا۔ پاکستان کے مایع شدہ قدری گیس پر چلنے والے دو بجلی گھروں کی نجکاری اور فاسفیٹ پر مشتمل فرٹیلائزر کی پاکستان کو فروخت بھی اس وفد کے ایجنڈا میں شامل ہے۔ سعودی وفد گوادر میں تیل ریفائنری کی تعمیر کا جائزہ بھی لے گا۔ امکان یہ ہے کہ سعودی عرب پانچ اہم منصوبوں کے رسمی معاہدوں کے لئے ابتدائی نوعیت کی کاغذی کارروائی یعنی مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کرے گا۔ ان میں سب سے اہم سعودی شمولیت ریکو ڈک منصوبے میں ہوگی۔

ایک جانب سعودی عرب کینیڈا تعلقات کی حالیہ کشیدگی ہے تو دوسری طرف سعودی بادشاہت اور اسکے اتحادیوں کے ایران کے خلاف اقدامات ہیں، جس کے برے اثرات پورے خطہ خلیج فارس و مشرق وسطیٰ میں آشکار ہیں۔ سعودیہ کی ایران کے ساتھ کشیدگی پر پاکستان حکومت بیانات کی حد تک ایران کے خلاف نہیں ہے، لیکن اقدامات دیکھیں تو ایران کے ساتھ تعلقات کی سطح یہ سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ حکمران اس صف بندی میں کس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ایران سے آنے والی گیس کے لئے پاکستان میں پائپ لائن بچھانے کا کام جو زرداری دور حکومت کے آخری ایام میں حتمی طور طے پایا گیا تھا، نواز کی پانچ سالہ حکومت کے دوران بھی اس پر ایک انچ کا کام بھی نہیں ہوسکا۔ یمن کے ایشو پر بھی پاکستان حکومت کا موقف اس حقیقت کا اظہار ہے کہ پاکستان یمن پر جارحیت کا ارتکاب کرنے والے، جنگ مسلط کرنے والے سعودی عرب کے ساتھ ہے، کیونکہ یمن کی جانب سے سعودی عرب کے حملوں کا جب جب جواب دیا جاتا ہے تو دفتر خارجہ کے بیانات میں یمن کے حوثیوں کی مذمت کی جاتی ہے اور بھارت سے زیادہ سنگدل سعودی افوج کے حملوں میں مظلوم یمنی عوام کے قتل عام، بچوں اور خواتین پر ڈھائے گئے ظلم و ستم، انکی مساجد، اسپتال، تعلیمی اداروں اور بازاروں پر برسائے گئے سعودی و اتحادی بمباری پر سعودی عرب کی مذمت نہیں کی جاتی۔

اگر نواز شریف ہی سعودی پٹھو تھا تو یہ ساری عنایات جس پر سعودی بادشاہت عمران خان کے دورے میں راضی ہوئی، اس پر پہلے کیوں آمادہ نہیں ہوئی؟ عمران کی انصافین حکومت کے دور میں پاکستان میں سرمایہ کاری میں بہت زیادہ دلچسپی اور پھر اس میں بھی صوبہ بلوچستان پر اس سخاوت کا سبب کیا ہے؟ ایران و افغانستان کی سرحدوں سے نزدیک ریکو ڈک منصوبے اور گوادر کی بندرگاہ میں سرمایہ کاری، یہ سب کچھ کیا صرف دو ملکی معاملہ ہے؟ یا پھر اسے عالمی سیاسی اور خاص طور خطے کے موجودہ حالات و صف بندیوں کے وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔؟ اس تحریر میں فوکس ریکوڈک منصوبے پر رکھتے ہوئے جائزہ لیں گے کہ سعودی عرب سرمایہ کاری کی آڑ میں ایران کے خلاف کسی نئی گریٹ گیم کے لئے تو وارد نہیں ہوا ہے۔ ریکوڈک منصوبہ گذشتہ ربع صدی سے جاری ہے۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی میں ایران و افغانستان کی سرحدی پٹی پر سونے اور تانبے سمیت قیمتی دھاتوں کے ذخائر ہیں اور ریکوڈک منصوبے کے تحت غیر ملکی کمپنیوں کو ٹھیکے دیئے جاتے رہے ہیں کہ وہ کان کنی کے ذریعے ان کی حتمی موجودگی و دیگر تفصیلات کی تصدیق کریں اور اسے نکالنے میں مدد و معاونت فراہم کریں۔ غالباً پہلا ٹھیکہ ایک امریکی کمپنی ہی کو دیا گیا تھا، شاید کمپنی کا امریکی ہونا ہی ٹھیکہ دینے کی وجہ ہو!

چاغی کی پہاڑیوں میں دھاتوں کی کھوج لگانے کے لئے بی ایچ پی منرلز نام کی امریکی کمپنی اور بلوچستان حکومت کے مابین اس ضمن میں مشترکہ منصوبہ طے پایا تھا۔ قطع نظر اس کے کہ وہ معاہدہ سراسر غیر عادلانہ اور مالی نقصانات پر مشتمل تھا، پاکستان کے مرکزی یا صوبائی قوانین کے بھی خلاف تھا، کیونکہ امریکی کمپنی پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں تھی۔ حتیٰ کہ بلوچستان ترقیاتی ادارے جس نے یہ معاہدہ کیا تھا، اسے بھی قانونی اختیارات حاصل نہیں تھے۔ اس وقت بلوچستان میں نگران حکومت تھی اور نگران وزیراعلیٰ میر نصیر مینگل تھے۔، بلوچستان اسمبلی کا وجود نہیں تھا۔ ابتدائی معاہدے میں امریکی کمپنی کو صرف کلومیٹر کے رقبے میں کھوج لگانے کی اجازت دی گئی تھی، لیکن بتدریج امریکی کمپنی نے چالاکی سے ایک ہزار کلومیٹر حدود تک متوقع تلاش کے نام پر آئندہ کے لئے دس لائسنس بھی مانگ لئے تھے۔ سال 2000ء میں امریکی بی ایچ پی نے آسٹریلیا کی مائننگ کمپنی منکور ریسورسز کو اس منصوبے میں ساتھ ملا کر ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) بنا لی۔ اس دوران چلی کی اینٹوفیگسٹا جو برطانیہ میں رجسٹرڈ کی گئی تھی اور کینیڈا کی بیرک گولڈ کمپنی نے مل کر برابر کی حصے داری کی بنیاد پر نئی کمپنی ایٹاکیما بنا لی اور اسے بھی برطانیہ ہی میں رجسٹرڈ کروایا گیا۔

سال 2006ء میں آسٹریلوی اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے اس نئی کمپنی نے ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) کے سارے حصص خرید لئے اور اس کمپنی ٹی سی سی نے شروع میں پاکستان میں ایک مقامی سطح کا دفتر قائم کیا جبکہ مرکزی دفتر آسٹریلیا میں تھا۔ اسی سال حکومت بلوچستان اور اس بی ایچ پی کے مابین معاہدے میں ترمیم کرکے بی ایچ پی کی جگہ ٹی سی سی کا نام دوسرے فریق کی حیثیت سے لکھا گیا، جس نے ٹی سی سی پاکستان کے نام سے ذیلی کمپنی پاکستان میں رجسٹرڈ کروالی تھی اور بعد ازاں ٹی سی سی اس اصل معاہدے میں ترامیم کرواتی رہی، جو معاہدے کی اصل روح کے خلاف تھیں۔ اس کمپنی نے لابنگ کرکے اور ایک قانونی فرم کے ذریعے تیار کردہ ضوابط کو پرویز مشرف کے زیر سایہ کام کرنے والے سیٹ اپ میں بی ایم آر 2000ء ضوابط کو نافذ کروا دیا، یعنی بلوچستان معدنی رعایتی ضوابط 1970ء (بی ایم آر) کو ہی تبدیل کروا دیا۔ اس کے تحت ٹی سی سی کو وہ وہ رعایتیں دی گئیں کہ پاکستان میں کسی کمپنی کو ایسی رعایتیں حاصل نہیں تھیں۔ پرویز مشرف کے مرکزی سطح کے جرنیلی سیٹ اپ میں میر نصیر مینگل وزیر مملکت برائے پٹرولیم و قدرتی ذخائر تھے۔ کالعدم دہشت گرد گروہ لشکر جھنگوی کا بدنام زمانہ شفیق مینگل انہی میر نصیر خان مینگل کا بیٹا ہے۔

قانون کے تحت اس کمپنی (ٹی سی سی) پر لازم تھا کہ ان علاقوں میں اپنی کان کنی کی سرگرمیوں کی عمل پذیری کی رپورٹس باقاعدگی کے ساتھ حکومت کو فراہم کرے، لیکن اس کمپنی نے اس اصول کی بھی خلاف ورزیاں کیں، اس کے باوجود اس کمپنی کو دیئے گئے لائسنس کی سال 2009ء تک تجدید کی جاتی رہی۔ سال 2002ء میں ٹی سی سی نے اپنے سارے لائسنسز میں سے صرف ایک ای ایل پانچ کو برقرار رکھا، جو 13ہزار مربع کلومیٹر علاقے میں کھوج لگانے کی اجازت پر مبنی تھا۔ دیگر تمام لائسنسز سے دستبردار ہوگئی، کیونکہ تقریباً یک و نیم عشرے میں یہ معلوم کیا جاچکا تھا کہ سونے اور تانبے کے ذخائر کس علاقے میں ہیں۔ 2007ء میں ٹی سی سی نے کان کنی کرنے کے ایک معاہدے کا مسودہ تیار کیا، جس کے تحت حکومت کو معدنی آپریشنز کی مد میں محض دو فیصد رائلٹی دینے کا نکتہ درج تھا، جبکہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ شرح چھ فیصد تھی۔ اس میں بی ایم آر ضوابط 2000ء کے تحت طے شدہ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ٹی سی سی نے دوسرے اور تیسرے درجے کی پروسیسنگ سہولیات (تنصیبات) سے بھی انکار کر دیا۔ بعد ازاں پی پی پی کی مخلوط صوبائی حکومت کے وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی نے 2009ء میں ٹی سی سی سے معاہدہ ختم کر دیا۔ ٹی سی سی نے 2018ء میں بین الاقوامی ثالثی اداروں میں پاکستان کے خلاف مقدمہ درج کر دیا تھا۔ پی پی پی حکومت نے اس منصوبے میں شامل ایک علاقے تنجیل میں چھ کلومیٹر کے رقبے میں ذخائر کی دریافت، جس کی الگ سے درخواست ٹی سی سی نے دی تھی، اس کام کو اپنے طور انجام دینے کا فیصلہ کیا اور نیوکلیئر سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند کو اسکا مسؤل قرار دیا، لیکن نواز لیگی حکومت میں اس کو وقت اور پیسے کا زیاں سمجھ کر ختم کر دیا گیا۔

ریکوڈک منصوبے میں جو معدنی ذخائر ہیں، ایک اندازے کے مطابق اس میں تقریباً ساڑھے 24 ارب کلو گرام تانبا اور 11 لاکھ 62 ہزار 330 کلو گرام سے کچھ زیادہ سونا شامل ہیں۔ 2013ء میں ہی بین الاقوامی ثالث ادارے اور بین الاقوامی چیمبر کی یہ رائے آچکی تھی کہ ٹی سی سی جس نے پاکستان حکومت پر مقدمہ کر رکھا ہے، اس کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ بلوچستان حکومت کو اس منصوبے پر کام سے روک سکے۔ 2015ء میں اس وقت وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے ٹی سی سی کے معاملے میں آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کی کوششوں کے ساتھ ریکو ڈک پر نئے سرے سے ٹھیکہ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ لیکن تاحال یہ معاملہ اٹکا ہوا ہے۔ ٹی سی سی نے پاکستان پر 11.43 بلین ڈالر کا ہرجانہ دائر کر رکھا ہے، جبکہ ماضی میں پاکستانی حکام یہ کہہ چکے ہیں کہ ٹی سی سی کا دعویٰ مبالغہ آرائی پر مبنی ہے اور اس میں اکسٹھ فیصد کمی کی جا سکتی ہے۔ اگر اس رائے کو درست مان لیں، تب بھی ہرجانے کی کم ترین رقم 4.45 بلین ڈالر سے بھی کچھ زائد رقم بنتی ہے۔ سال 2009ء میں اس وقت جب زرداری حکمران تھے، تب ٹی سی سی اور چینی کمپنی ایم ایم سی کے ساتھ ایک مشترکہ اجلاس منعقد کیا گیا تھا، جس میں دونوں کمپنیوں نے اپنی تجاویز پیش کی تھیں۔ ٹی سی سی نے اعتراض کر دیا کہ ٹھیکہ اس کے پاس ہے تو چینی کمپنی کو قانونی حق نہیں کہ وہ ریکوڈک پر کوئی رائے دے۔ ٹی سی سی کے بعض پاکستانی ملازمین کا خیال ہے کہ اس کے لائسنس کے تحت ایک علاقے میں وسیع ذخائر کو یہ کمپنی حکومت سے چھپا رہی تھی۔

چینی میٹالرجیکل گروپ کارپوریشن یعنی ایم سی سی کے بارے میں افغانستان میں اسکے ناکام معاہدے کی مثال دی جاتی ہے کہ وہاں اس نے تین بلین ڈالر مالیت کے ایک معاہدے میں طے کئے گئے اپنے حصے کے کام کی تکمیل نہ کرکے اسکی خلاف ورزی کی اور معاہدے پر نظرثانی کی خواستگار ہے۔ یہی کمپنی پاکستان میں ایران کے ساتھ ملحق تفتان سرحدی علاقے سے نزدیک سینڈک منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ ریکوڈک اس جگہ سے تقریباً 143 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ٹی سی سی کے ساتھ کئے گئے 23 جولائی 1993ء کے اس معاہدے کو سپریم کورٹ نے 7 جنوری 2013ء کو کالعدم قرار دے کر منسوخ کر دیا تھا۔ کینیڈا کی کمپنی کی آدھی ملکیت کینیڈا کی کمپنی کے پاس ہے اور اس کمپنی نے 11.43 بلین ڈالر کا ہرجانہ جو بقول پاکستانی حکام کم ہوسکتا ہے (اسکے باجود تقریباً پونے پانچ ارب ڈالر کی ادائیگی کرنا ہوگی)۔ دوسری طرف چین یہاں سرمایہ کاری کا خواہشمند تھا، لیکن اچانک سعودی عرب کو درمیان میں لایا گیا ہے، جو نہ صرف کینیڈا بلکہ ایران پر بھی سخت ناراض ہے۔

سعودی عرب امریکی بلاک کا جزو لاینفک ہے، جس نے رسمی طور چین کو حریف قرار دیا ہے۔ سعودی عرب اور امریکہ نے ماضی میں افغان جہاد کے غلط عنوان کو استعمال کرکے جو اقدامات کئے، اس کے نتیجے میں پوری دنیا میں اسلام و مسلمین کو بدنام کرنے والے انسانیت دشمن، اسلام دشمن انتہاء پسند و دہشت گرد گروہوں کا ظہور ہوا اور آج تک پاکستان اسکی لپیٹ میں ہے۔ افغانستان میں سعودی و امریکی نام نہاد جہاد بھی’’امریکی گریٹ گیم‘‘ ہی تھا، جس کے تحت پاکستان میں ایک مخصوس مسلک کے مدارس و مساجد بنائے گئے اور پرانے مدارس کی بھی سرپرستی کی گئی۔ یعنی جنگ بظاہر سوویت یونین کے خلاف تھی، لیکن انہی امریکی و سعودی فنڈڈ مدارس نے جو نظریہ پیش کیا، اسکے تحت پاکستان میں مخالف مسلمان مسالک کو کافر و مشرک قرار دے کر ان پر مسلح حملوں کے لئے فضاء سازگار کی گئی۔ مساجد و امام بارگاہوں، مزارات و اجتماعات میں فائرنگ اور بم دھماکے و خودکش دھماکے کروائے جاتے رہے۔ پیٹروڈالرز (ریال و درھم) کے ذریعے ’’امریکی گریٹ گیم‘‘ میں پاکستان کو جہنم بنا دیا گیا۔ حکومتی سطح پر کہا جاتا ہے کہ پچاس ہزار پاکستانی شہید ہوچکے ہیں اور پاکستان کو 120 بلین ڈالر کا مالی نقصان بھی ہوا ہے۔

یہ سارے نقصانات امریکی و سعودی ’’سرمایہ کاری‘‘ کے سبب ہی ہوئے ہیں۔ پچھلے دنوں سعودی سفارتخانے نے سعودی عرب کے قومی دن کی مناسبت سے جو دعوت اسلام آباد میں کی تھی، اس میں ایک کالعدم دہشت گرد گروہ کا سرغنہ بھی مدعو تھا۔ اس دعوت میں عمران خان کی انصافین حکومت کے وفاقی وزیر مذہبی امور نے اس سرغنہ کو جسے تحریک انصاف ہی کی خاتون سیاستدان نے ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا تھا، اسی شکست خوردہ شخص کو گلے لگایا اور خوب قہقہے لگا کر بات چیت بھی کی۔ اسی کالعدم گروہ کے واحد رکن پنجاب اسمبلی بھی تحریک انصاف کی پنجاب حکومت کے اتحادی ہیں اور پی ٹی آئی نے وزیراعلیٰ منتخب کرانے کے لئے ایک ووٹ اسی کالعدم گروہ کے رکن سے بھی لیا ہے۔ سعودی حکومت جانب سے کالعدم تکفیری دہشت گرد گروہ سے اس دوستانے کو اس لئے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ یہ پاکستان میں مسلمانوں کے لئے کافر کافر کے نعرے لگا کر اپنے بانی حق نواز جھنگوی کے لشکر سے تعلق کو ثابت کرتا ہے اور پاکستان کے آئین و قانون کے تحت یہ نظریہ بھی جرم ہے، جبکہ خود سعودی عرب کے اپنے قوانین کے تحت بھی یہ گروہ مجرم ہیں، لیکن مخصوص اسلام دشمن مفادات کی وجہ سے اس گروہ کو ساتھ ملا کر رکھا ہوا ہے۔

ماضی کے نام نہاد افغان جہاد کے نام پر امریکی و سعودی سرمایہ کاری کے تاحال جاری نقصانات اور دہشت گردوں سے مذکورہ تعلق، صرف یہ دو مثالیں سمجھداروں کے سمجھنے کے لئے کافی ہیں کہ پاکستان کو ان سے مالی و جانی نقصانات کے سوا کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے اور نقصانات بھی ایسے جو آئندہ عشروں تک جاری رہتے ہیں۔ امریکی سعودی گریٹ گیم سے دور رہنا پاکستان کے مفاد میں ہے۔ اس میں شرکت سے نہ تو کشمیر نے آزاد ہونا ہے اور نہ ہی بھارت کے مقابلے میں آپکو کسی بھی محاذ پر کوئی ٹھوس کامیابی ملنی ہے۔ امیج تو ویسے ہی اتنا خراب ہے کہ تاحال بسیار کوششوں کے باوجود دہشت گردی سے پاکستان کو نتھی کرنے کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ جب امریکہ نے بھارت کو شراکت دار اور اتحادی بنا لیا ہے تو امریکہ کے وزیر خارجہ برائے مسلم بلاک یعنی سعودی عرب کی سرمایہ کاری بھی اسی سمت میں ایک قدم سمجھا جانا چاہیئے۔ بات تو تب تھی کہ ایران سے آنے والی گیس کے لئے پاکستان میں پائپ لائن کی تعمیر میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پاکستان کی مدد کرتے۔ گریٹ گیم یہ ہے کہ وہ مدد کرنے کے بہانے مدد لینے آرہے ہیں۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ صدام نے ایران سے جنگ لڑی اور بالآخر امریکہ کو عراق میں گھس کر زبردستی ایران کا پڑوسی بننے کی راہ ہموار کی۔ طالبان نے افغانستان کی سرزمین سے ایران کے خلاف غیر اعلانیہ جنگ لڑی اور نتیجہ یہ نکلا کہ امریکہ یہاں بھی ایران کا زبردستی کا پڑوسی بن گیا۔ ریکوڈک منصوبے سے پہلے امریکی کمپنی کی صورت میں امریکہ آیا، لیکن قسمت کہ امریکی کمپنی کینیڈا و چلی کی کمپنیوں نے خرید لی۔ اب سعودی عرب ایران کا زبردستی کا پڑوسی بننے آرہا ہے، لیکن یہاں چین بھی ساتھ ہی ہے۔ کیا تاریخ خود کو دہرانے جا رہی ہے؟!

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.