تازہ ترین

نہضب امام حسینؑ نے اردو ادب پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں، کربلا ہر مظلوم کی طاقت ہے، پروفیسر ڈاکٹر احسان اکبر

  • منگل, 02 اکتوبر 2018 16:00

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) نامور شاعر، ادیب اور استاد جناب پروفیسر ڈاکٹر احسان اکبر صاحب پاکستان میں کسی تعارف کے محتاج نہیں، انتہائی شفیق انسان، اتحاد امت کے داعی، اردو ادبیات میں پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔ اقبال شناسی میں اہم نام ہے۔ فارسی سمیت مختلف زبانوں کے بارے میں مطالعہ کرنا انکا بہترین مشغلہ ہے۔ کئی کتابوں کے خالق ہیں، ادبیات اور مذہبیات انکا پسندیدہ موضوع ہیں۔شیعہ نیوز نے ڈاکٹر صاحب سے نہضت کربلا کے اردو ادب پر اثرات کے حوالے سے خصوصی گفتگو کی ہے، جو پیش خدمت ہے۔ادارہ

شیعہ نیوز: ڈاکٹر صاحب نہضت امام حسین علیہ السلام اور کربلا کے واقعہ نے اردو ادب پر کیا اثرات مرتب کئے ہیں۔؟
پروفیسر ڈاکٹر احسان اکبر: دیکھیں واقعہ کربلا کے اثرات ہیں، کربلا کے اندر اصول کی پاسداری، اصول کی خاطر بڑی سے بڑی قربانی دیئے جانے کی مثال اور پھر لوگوں کی محبت و عقیدت جو اپنے امام سے ہے، وہ واضح ہے، وہ کس طرح دیوانہ وار اپنی جان دے دیتے ہیں، کربلا بہت سی مثالیں رکھتا ہے، اردو ادب اور شاعری میں کہیں حضرت حر کے حوالے سے بات آتی ہے اور کہیں نوجوانوں کے جذبہ حریت کے حوالے سے بات آئی ہے، عون و محمد تک کے حوالے سے بات آئی ہے، بچوں کے حوالے سے بات آئی ہے، کہیں حضرت عباس علیہ السلام کی وفاداری کے حوالے سے بات ہے آئی ہے، آپ علیہ السلام نے چراغ بجھایا اور کہا کہ جو لوگ جانا چاہتے ہیں، چلے جائیں کیونکہ مجھے تو نظر آرہا ہے کہ ہماری تقدیر کیا ہے، ہمارا لشکر سے مقابلہ ہے، امام نے فرمایا کہ میں تمہارا شکر گزار ہوں، تم چلے جاو مجھے کوئی شکایت نہیں ہوگی، لیکن پھر بھی کوئی نہیں جاتا۔

یہ وہ مثالیں ہیں، جو رہتی دنیا تک کیلئے یادگار ہیں اور ہماری شاعری نے ان سب کے حوالے دیئے ہیں، صرف مرثیہ نگاری ہی نہیں شاعری اور غزل میں بھی ان سب کے حوالے دیئے گئے ہیں۔ ایک دیوبند کے عالم ہیں، وہ کہتے ہیں کہ وہ ایک قطرہ خون جو میری رگ میں ہے وہ مجھے ظلم کے ہاتھ پر بیعت نہیں کرنے دیتا، کہاں سے آئی یہ بات؟، ظاہر ہے کہ یہ بات سیدنا حسین علیہ السلام سے آئی ہے، کربلا کا ہماری شاعری پر گہرا اثر ہوا ہے، واقعہ کربلا کے اخلاقی درس کا بڑا اثر ہوا ہے، بڑی زبردست مثالیں ہیں، جو کربلا نے مرتب کی ہیں، ہماری شاعری نے تاریخ انسانیت میں انکو بڑی خصوصیت کے ساتھ لکھا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ جدید زمانے کی جو غزل ہے، وہ خصوصیت کے ساتھ اسکا حوالہ دے رہی ہے۔

شیعہ نیوز: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ دو دہائیاں پہلے جس انداز میں کربلا کے واقعہ کو شاعری میں جگہ دی جاتی تھی، آج بھی اسی طرح ہے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر احسان اکبر: دو دہائیاں پہلے کوئی خاص بات نہیں تھی، یہی زمانے کا تسلسل تھا جو چلا آرہا ہے۔

شیعہ نیوز جدید دور جیسا کہ انٹرنیٹ کا زمانہ ہے، کیا اس جدت نے نوجوان نسل کو ادب سے دور کیا ہے یا قریب، آپکے محسوسات کیا ہیں۔؟
پروفیسر ڈاکٹر احسان اکبر: یہ ایک مجموعی اثر ہے، انٹرنیٹ ہو یا موبائل اس کا ہماری نسل پر مجوعی اثر پڑا ہے، لیکن اسکا مطلب یہ نہیں کہ واقعہ کربلا کی جو اخلاقی اور مذہبی حیثیت ہے، دونوں حوالوں سے اسکی تاثیر میں کوئی کمی آئی ہے، ایسا بالکل نہیں ہے، کربلا نوجوانوں پر اسی طرح اثرانداز ہے، جیسا انٹرنیٹ کے بہاو سے پہلے تھا، میں سمجھتا ہوں کہ نوجوانوں نے خصوصیت کے ساتھ کربلائی کلچر کو اپنایا ہے، اپنے آپ کو کربلائی بنانے کے لئے نوجوان کالے کپڑے پہنتے ہیں، ضروری نہیں کہ صرف شیعہ پہنتے ہیں بلکہ سنی لڑکے بھی کالے کپڑے پہنتے ہیں، امام حسین علیہ السلام کی محبت ظاہر ہوتی ہے، کچھ نوجوان کڑے پہنتے ہیں۔

شیعہ نیوز: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ تحریک جدوجہد آزادی کشمیر اور تحریک فلسطین میں حماس جیسی تحریکیوں پر بھی اس تحریک کا اثر ہے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر احسان اکبر: جہاں ظلم ہوگا، وہاں مظلوم بھی ہوں گے، ان کو اپنی حمایت کے لئے کربلا کا حوالہ دینا پڑے گا، اس حوالے سے بات کرنی پڑے گی، اپنی تائید کے لئے امام حسین علیہ السلام کی قربانی یاد کرنا پڑے گی، اس کا اثر کم نہیں ہوگا بلکہ پھیلے گا۔

شیعہ نیوز: انگلش لیٹریچر یا دیگر لیٹریچرز پر واقعہ کربلا کا کوئی اثر ہوا ہے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر احسان اکبر: دوسرے لیٹریچر پر اسکا کیوں اثر ہوگا؟ یہ اثر وہاں ہوگا جہاں لوگ حسین علیہ السلام سے آشنا ہوں گے، وہ لوگ متاثر ہوں گے، جنہوں نے اکسٹھ ہجری کا واقعہ کربلا پڑھا ہوگا، جس نے اسلام کا مطالعہ کیا ہوگا یا اسلام قبول کیا ہوگا۔

شیعہ نیوز: کربلا کے حوالے سے کوئی پیغام دینا چاہیئں۔؟
پروفیسر ڈاکٹر احسان اکبر: کربلا کا پیغام میں کیا دے سکتا ہوں؟، یہ تو وہ بات ہوئی نہ کہ چھوٹا منہ اور بڑی بات، کربلا کے حوالے سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ کربلا مسلمانوں کے پاس ایک علامت کے طور پر بخشی ہوئی نشانی ہے۔ ہمارے سال کا آغاز ہی غم سے ہوتا ہے، غم مسلمانوں کو صبر سکھاتا ہے، اسکے علاوہ واقعہ کربلا ہمیں ایثار، قربانی اور صبر کا درس دیتا ہے۔

شیعہ نیوز: اردو ادب میں کس شخصیت نے آپکو متاثر کیا ہے۔؟
پروفیسر ڈاکٹر احسان اکبر: اردو ادب میں غالب اور اقبال نے بہت متاثر کیا ہے، اگر زیادہ کہوں تو اقبال نے متاثر کیا ہے، کیونکہ انہوں نے ہمیشہ مقصد حیات کی بات کی ہے جبکہ غالب نے اپنے جذبات کی بات کی ہے۔ غالب ہماری طرح سوال اٹھاتا ہے جبکہ اقبال آگے بڑھ کر راہ دکھاتا ہے، ہمت بندھاتا ہے، اقبال کا دائرہ بہت وسیع ہے، ایران میں اسے بہت اہمیت دی گئی ہے، اقبال کی فارسی شاعری میں ملتا ہے کہ وہ ایرانیوں کو بتا رہے ہیں کہ میں قید خانے کے سراخ سے دیکھ رہا ہوں کہ ایک شخص آئے گا، جو آپ کی زنجیریں توڑے گا۔ اقبال امام خمینی کی ذات کو کئی دہائیاں پہلے سے دیکھ رہے تھے۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.