وزیراعظم عمران خان کو دورہ سعودی عرب پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیئے، نواب یوسف تالپور

  • جمعہ, 05 اکتوبر 2018 12:39

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) رکن قومی اسمبلی نواب محمد یوسف تالپور کا تعلق سندھ کے حلقہ این اے 228 عمر کوٹ سے ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے اہم رہنما ہیں، دوٹوک موقف بیان کرتے ہیں، خارجہ پالیسی پر بھی پارٹی کیطرح انکا موقف واضح ہے۔ ہمسائیوں کیساتھ بنا کر رکھنے کے روا دار ہیں۔شیعہ نیوزنے نواب یوسف سے عمران خان کے دورہ سعودی عرب اور دیگر ملکی ایشوز پر انٹرویو کیا ہے، جو پیش خدمت ہے۔ادارہ

شیعہ نیوز: عمران خان کا پہلا دورہ سعودی عرب، میڈیا میں آواز اٹھ رہی ہے کہ سعودی عرب کیساتھ یمن کے معاملے پر کوئی ڈیل ہوئی ہے، کیا آپ بھی ایسا ہی سمجھتے ہیں۔؟
نواب محمد یوسف تالپور: میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہاں یمن کی بات ہوئی ہے، پاکستان اور سعودی عرب دونوں ممالک یمن کے معاملے پر ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب کچھ پہلے سے ہی طے تھا، یہ سب پلان بنا ہوا تھا، اسکے بعد عمران خان اور ان کی کابینہ کے افراد دورہ ریاض کے لئے گئے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ انہیں پیسے بھی ملے ہیں اور کمٹمنٹ بھی ہوئی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اپنی ایک ہی پالیسی رکھنی چاہیئے اور وہ یہ کہ یمن، ایران اور سعودی عرب کے ساتھ اچھا تعلق قائم رہے۔

شیعہ نیوز: کیا وزیراعظم کو دورہ سعودی عرب پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں نہیں لینا چاہیئے تھا، کیا آپ لوگ تقاضا نہیں کرسکتے۔؟
نواب محمد یوسف تالپور: جی بالکل ہم یہی چاہتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان صاحب قومی اسمبلی میں تشریف لائیں اور دونوں ایوانوں کو اعتماد میں لیں۔ میرے خیال میں فنانس بل پر بحث ختم ہو جائے تو ہم اس پر باقاعدہ سے مطالبہ کریں گے۔ اس معاملے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیئے اور ایوان میں سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے معاہدوں پر مکمل بحث ہونی چاہیئے۔

شیعہ نیوز: بھارت نے پاکستان کو مذاکرات کا مثبت جواب نہیں دیا۔ کیا یہ رویہ درست ہے۔؟
نواب محمد یوسف تالپور: انڈیا کا رویہ ہمیشہ سے ہی ایسا رہا ہے، لیکن افسوس ہمارا رویہ تو ایسا نہیں تھا، ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا۔ عمران خان یعینی وزیراعظم کے لیول پر ٹوئٹ کرنا درست عمل نہیں تھا۔ سفارتی تعلقات اس طرح قائم نہیں ہوتے۔

شیعہ نیوز: کیا آپکو نہیں لگتا کہ اب وزیراعظم اور دیگر کو ٹوئٹر کا استمعال نہیں کرنا چاہیئے، ترجمان کس لئے ہیں۔؟
نواب محمد یوسف تالپور: ہاہاہا، ہنستے ہوئے، دیکھیں اس پر آئے دن بات ہوتی ہے، عمران خان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اب بھی اپنے آپ کو اپوزیشن میں سمجھتے ہیں۔ اب وہ وزیراعظم ہیں اور انہیں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیئے۔ آج بھی قومی اسمبلی میں جو انفارمیشن منسٹر نے زبان استعمال کی، وہ پارلیمانی تاریخ میں کسی نے استعمال نہیں کی۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ آج تک پارلیمنٹ میں اسطرح کی زبان استعمال نہیں کی گئی، جو فواد چوہدری نے کی ہے۔ حکومتی بینچوں سے اس طرح کی زبان استعمال نہیں ہونی چاہیئے۔

شیعہ نیوز: افغانستان اور خطے کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے پاکستان کی خارجہ پالیسی کیا ہونی چاہیئے۔؟
نواب محمد یوسف تالپور: میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں نیوٹرل رہنا چاہیئے اور ہمارے جتنے بھی پڑوسی ممالک ہیں، انہیں ہمیں راضی کرنا چاہیئے، انہیں ساتھ لے کر آگے چلنا چاہیئے۔ خاص طور پر ایران، افغانستان اور انڈیا کو ناراض نہیں کرنا چاہیئے، یہ ہمارے پڑوسی ہیں، جو ہمیں نظر نہیں آرہے۔

شیعہ نیوز: نئی حکومت کے قیام کے بعد ایران واحد ملک تھا جسکا وزیر خارجہ سب سے پہلے پاکستان کے دورے پر آیا، اب سعودی عرب کیساتھ پیار کی پینگیں بڑھائی جا رہی ہے، کیا پیغام جا رہا ہے۔؟
نواب محد یوسف تالپور: بالکل بھی مثبت پیغام نہیں گیا، آپ کی بات بالکل درست ہے، ہماری طرف سے برا تاثر گیا ہے، ایران کا سب سے پہلا دورہ پاکستان اور اسلام آباد کا پہلا دورہ سعودی عرب کا، یہ کیا پیغام دیا گیا ہے۔؟

شیعہ نیوز: کیا آپ کشمیر کا معاملہ حل ہوتا دیکھ رہے ہیں۔؟۔
نواب محمد یوسف تالپور: ہم کہتے ہیں کہ کشمیر ہمارا ہے اور انڈیا والے کہتے ہیں کہ کشمیر ہمارا ہے، ہمیں کشمیریوں کو ان کے اپنے حال پر چھوڑنا چاہیئے، انکی مرضی ہے، وہ جس طرف جائیں، انکو اپنا حق دیں، یہ معاملہ یونائٹڈ نیشن میں لانا چاہیئے، یہ میری ذاتی رائے ہے۔

شیعہ نیوز: جنکو انصاف دلانا چاہیئے وہ ڈیم بنا رہے ہیں اور جنہیں ڈیم بنانا چاہیئے وہ کوئی اور کام کر رہے ہیں۔ یہ ریاست کیسے چل رہی ہے۔؟
نواب محمد یوسف تالپور: واقعی یہی بات ہے کہ جنہیں ڈیم بنانا چاہیئے وہ کوئی اور کام کر رہے ہیں اور جنہیں انصاف فراہم کرنا چاہیئے، وہ ڈیم بنا رہے ہیں۔ بس دعا ہے کہ ہر کوئی سیدھے راستے پہ چلے۔ امید ہے کہ ایک دن یہ ضرور واپس اپنے ٹریک پر آئیں گے۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.