تازہ ترین

ٹرمپ کی قومی حکمت عملی برائے انسداد دہشتگردی

  • پیر, 08 اکتوبر 2018 13:06

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) تحریر: عرفان علی

ٹرمپ سرکار نے اسلامی جمہوریہ ایران اور اسکی حامی فلسطینی، لبنانی، عراقی، بحرینی و یمنی سیاسی جماعتوں کے خلاف اسکی اپنی یا اسکے اتحادیوں کی پرانی جنگ کو نئے مرحلے میں داخل کردیا ہے۔ ہوا یوں ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ’’قومی حکمت عملی برائے انسداد دہشت گردی‘‘ پر گذشتہ جمعرات کو دستخط کر دیئے ہیں۔ اس سے قبل صدر باراک اوبامہ نے سال 2011ء میں نیشنل اسٹرٹیجی فار کاؤنٹر ٹیررازم جاری کی تھی۔ القاعدہ اور داعش کا تذکرہ بھی اس دستاویز میں جا بجا ہے لیکن نائن الیون سے پہلے سے القاعدہ اور اسکے سہولت کاروں اور 2014ء سے داعش اور اسکے سہولت کاروں کے حوالے سے امریکی حکومتوں کا عملی کردار اس حقیقت کا مظہر ہے کہ امریکی اتحاد نے ان گروہوں کو تاحال اس لئے ختم نہیں کیا کہ انکی موجودگی ہی امریکا اور اسکے اتحادیوں کی مختلف ممالک میں مداخلتوں کا بہانہ قرار پاتی رہے۔ حد تو یہ ہے کہ داعش اس افغانستان تک پہنچ چکی ہے جہاں نائن الیون کے بعد امریکا نے جنگ مسلط کرکے قبضہ کرلیا، جو مختلف عنوانات سے آج بھی جاری و ساری ہے۔ پہلے صرف طالبان کے ہاتھوں افغان عوام کی ایسی کی تیسی کی جا رہی تھی اور نائن الیون کے بعد امریکی فوجی اتحاد جس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی، سمیت مختلف امریکی اتحادی مسلم ممالک بھی براہ راست یا بالواسطہ شریک تھے، ان سب نے مل جل کر افغانستان کو جہنم بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ بےگناہ عام افغان شہریوں کا قتل عام کیا جاتا رہا اور اب طالبان ہی نہیں بلکہ داعش بھی آ چکی ہے۔

داعش و القاعدہ کے خلاف کارروائی اس لئے قابل فہم ہے کہ ان گروہوں نے امریکا و مغربی ممالک میں نیٹ ورک بنائے اور متعدد مقامات پر کاررائیاں بھی کیں لیکن ایران، حزب اللہ لبنان، حماس و جہاد اسلامی فلسطین، حرکت انصار اللہ یمن، جمعیت الوفاق بحرین یا عراق کی حشد الشعبی میں شامل تنظیمیں، انکی بات کی جائے تو ان میں سے کسی ایک نے بھی امریکا، یورپی ممالک، یا دیگر ممالک میں کبھی بھی کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ لبنان، یمن اور عراق کی یہ تنظیمیں غیر ملکی قابضین کے خلاف مزاحمت کر رہی ہیں جو کسی طور قابل گرفت یا قابل تنقید بات نہیں ہے۔ انکے مادر وطن میں جس کی حیثیت بھی غیر ملکی حملہ آور، جارح یا قابض کی ہو، ایسے غیر ملکی جارحین اور قابضین سے آزادی انکا وہ مسلم حق ہے جس کو موجودہ ورلڈ آرڈر میں بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ لبنان کے بعض علاقوں پر آج بھی اسرائیل کا قبضہ ہے اور جو لبنانی علاقے آزاد ہوئے ہیں وہ اسی حزب اللہ نے آزاد کروائے ہیں۔اس لئے حزب اللہ لبنان کے خلاف امریکا کا موقف پوری ملت لبنان کے خلاف ہے، اسکی سالمیت و خودمختاری کے خلاف ہے۔ یمن میں سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات اور دیگر اتحادی ممالک کی افواج پر مشتمل اتحاد کے ذریعے یلغار کر رکھی ہے۔ سعودی عرب نے یمن میں جارحیت کا ارتکاب کیا ہے۔

یمن میں نظام حکومت سمیت ہر معاملہ موجودہ ورلڈ آرڈر یا عالمی قوانین کے تحت یمن کا اندرونی معاملہ ہے اور اسکے اپنے اسٹیک ہولڈرز کو تنازعات کو طے کرنا ہے۔ کسی بھی دوسرے ملک کو کسی بھی ملک کے داخلی معاملات میں مداخلت کا حق ہی نہیں ہے۔ سعودی جارحیت غیر قانونی ہے۔ اس لئے قومی حکمت عملی برائے انسداد دہشت گردی میں یمن کا تذکرہ کرکے درحقیقت صدر ٹرمپ نے سعودی عرب و متحدہ عرب امارات کی جارحیت کا دفاع کیا ہے۔ حرکت انصار اللہ (حوثی تحریک) بھی یمن کی آئینی و قانونی جماعت ہے اور ایک اہم ترین اسٹیک ہولڈر ہے جسکو شراکت اقتدار کے کسی بھی فارمولا میں مائنس نہیں کیا جا سکتا۔ اسکی جانب سے یمن کا دفاع یمن کے مظلوم عوام کی نمائندگی پر مبنی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی بادشاہت پر طنز کیا ہے کہ وہ امریکی فوج کی وجہ سے محفوظ ہیں ورنہ دومہینے بھی انکی حکومت چل نہیں سکتی۔ یہ بیان امریکا و سعودی عرب کے مابین کسی اختلاف کی نشاندہی نہیں کرتا بلکہ یمن جنگ سمیت اس خطے میں سعودی عرب نے جو کچھ انجام دیا ہے ، اس کو امریکی فوجی تحفظ حاصل تھا، اس اہم نکتے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یعنی سعودی عرب کے اندر اتنی طاقت و توانائی نہیں ہے کہ وہ اتنے ظلم و ستم کے بعد عوام کے غیظ و غضب سے بچ جاتا، یا یمن پر جنگ مسلط کرنے کے بعد یمن کے غیرت مند فرزندوں کے جوابی حملوں کے ہوتے ہوئے بھی محفوظ رہ پاتا۔ یعنی امریکا اس کا سرپرست، پشت و پناہ ہے، جس کی وجہ سے سعودی بادشاہت اب تک مزے کررہی ہے۔

بحرین کا سیاسی اتحاد جمعیت الوفاق یا حزب اختلاف کی دیگر جماعتیں بحرین کے غیر منتخب موروثی شیخ کے ظالمانہ اقتدار کی جگہ نمائندہ جمہوری سیاسی نظام چاہتے ہیں، جس میں سبھی کو شہری کی حیثیت سے برابر کے حقوق حاصل ہوں لیکن امریکا کے اتحادی آل خلیفہ حکمران خاندان نے ایک طرف تو بحرین کے فرزندان زمین پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے۔ بحرین کی آبادی کی غالب اکثریت شیعہ مسلمانوں پر مشتمل ہے لیکن حد یہ ہے کہ محرم میں مجلس عزا یا جلوس عزا پر سرکاری کارندے حملے کرتے ہیں۔ یوم عاشورا پر بھی چھاپہ مارکر بارہ علمائے کرام سمیت متعدد عزاداروں کو تشدد کرکے گرفتار کرلیا اور تاحال قید میں رکھا ہوا ہے۔ ان گنت سیاسی کارکنان کو جیلوں میں قید کرکے بدترین تشدد کیا جارہا ہے۔ فرزندان زمین کی شہریت و قومیت ختم کرکے ملک بدر کیا جا رہا ہے اور ایک طویل عرصے سے غیر ملکیوں کو بحرین کی شہریت دی جا رہی ہے۔ کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی ظلم ہو سکتا ہے کہ کسی کو اسکے مادر وطن سے نکال دیا جائے، اسکی شہریت منسوخ کر دی جائے لیکن بحرین میں یہ سب کچھ ہو رہا ہے کیونکہ بحرین خلیج فارس کے کنارے آباد جزیرہ نما وہ چھوٹا سا ملک ہے جس کی ظالم و جابر حکومت آل خلیفہ امریکا کے پانچویں بحری بیڑے کی میزبان ہے۔ برطانیہ سرکار بھی اسی بحرینی سرکار کی مہمان بنی بیٹھی ہے۔ اس لئے جمہوریت دشمن بحرینی حکومت کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا جا سکتا۔ اس سے امریکا و برطانیہ کے سامراجی مفادات خطرے میں پڑسکتے ہیں، اسی کے پیش نظر ٹرمپ نے بحرین کا تذکرہ بھی قومی حکمت عملی برائے انسداد دہشتگردی میں کیا ہے۔

شام کا مسئلہ بھی واضح ہے کہ وہاں امریکی، صہیونی و سعودی اتحاد نے ایک آزاد و خودمختار عرب ملک پر پراکسی جنگ مسلط کر رکھی ہے کیونکہ اسرائیل کو براہ راست شام کی فلسطین دوست عرب دوست جمہوری حکومت سے خطرہ ہے۔ سعودی عرب و بحرین و متحدہ عرب امارات کے ان شیوخ کو شام اس لئے پسند نہیں کہ وہاں باقاعدہ الیکشن ہوتے ہیں، وہاں پارلیمنٹ ہے جہاں سنی عرب بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہاں سنی عرب وزیراعظم ہے۔ اور یہ امریکی اتحادی خلیجی شیوخ تو خاندانوں کی حکومت کے قائل ہیں۔ دوسرا سنی عربوں کی نمائندگی و قیادت کا انہوں نے جو دعویٰ کر رکھا ہے، شام کا جمہوری سیاسی نظام اور اسرائیل کے خلاف اس کا دوٹوک موقف انکے جھوٹ کو بےنقاب کرتا ہے۔ عام مسلمان اور سنی عرب انہیں نفرت کی نگاہ سے دیکھنے لگے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنی سرزمین پر جو بےحیائی پھیلا رکھی ہے اور حکمران خاندانوں کی بدعنوانی کی داستانیں زبان زد عام ہیں۔ اس لئے شام بھی انہیں پسند نہیں۔ اسی طرح عراق کا معاملہ ہے جس پر آئندہ تفصیلی لکھا جائے گا۔ چونکہ ایرانی ریاست و حکومت، پاسداران انقلاب اسلامی یہ سبھی شام کے موقف کا دفاع کررہے ہیں۔ انہوں نے فلسطینی گروہوں کی علی الاعلان حمایت و مدد کی ہے۔ یہ حزب اللہ لبنان، حرکت انصار اللہ یمن اور جمعیت الوفاق بحرین سمیت پورے لبنان و یمن و بحرین کی آزادی و خودمختاری و نمائندہ سیاسی نظام کی حمایت کرتے ہیں۔

ایران چونکہ اسرائیل کے خلاف لبنان و فلسطین و شام کی حمایت کررہا ہے، ایران چونکہ سعودی و اماراتی جارحیت کی یمن میں جارحیت کا مخالف ہے یا بحرین میں اپوزیشن کے جائز مطالبات کو جائز کہتا ہے، اسی لئے سعودی و اماراتی و بحرینی و اسرائیلی آقا امریکا نے ایران کو نئی حکمت عملی میں باقاعدہ طور پر اپنے لئے خطرہ قرار دے کر امریکی عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی ہے۔ اصل میں لگ ہی نہیں رہا کہ یہ امریکا کی قومی حکمت عملی ہے بلکہ دستاویز کے نکات سے لگتا ہے کہ یہ سعودی و صہیونی حکمت عملی برائے انسداد فلسطین، لبنان، شام و یمن ہے۔ یہ نئی حکمت عملی بھی پرانی حکمت عملیوں کا ہی تسلسل ہے اور پرانی حکمت عملیاں بھی ایران کو اس کے مبنی بر حق موقف سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹا پائیں تو ٹرمپ حکومت کیوں کر ایران یا اس کی حمایت یافتہ ان سیاسی و مقاومتی جماعتوں اور تحریکوں کے خلاف کامیاب ہو سکے گی۔ بس یہ نئی امریکی دستاویز امریکا کے ان طفیلی اتحادیوں کو مطمئن کرنے کا ایک ٹوٹکا ہے جبکہ پانچ نومبر سے امریکا کی ایران پر نئی پابندیاں نافذ ہو رہی ہیں تو دیگر ممالک کو بھی ٹرمپ نے پیغام دیا ہے کہ وہ بھی خبردار رہیں کہ امریکی حکومت ایران اور اسکی حمایت یافتہ جماعتوں کو دشمن و خطرہ قرار دے چکی ہے۔ ایران بدترین پابندیوں کے باجود کسی ایک محاذ پر پسپا نہیں ہوا تو امریکا کی یکطرفہ پابندیوں کا انجام بھی ماضی سے مختلف نہیں ہوگا،خواہ کوئی ایران کا ساتھ دے یا نہ دے۔ ایران کی پچھلی چالیس سالہ تاریخ اس حقیقت کا عملی اظہار ہے کہ ایران اپنے انقلابی افکار سے دستبردار ہونے کے موڈ میں نہیں چاہے امریکا کو برا لگے یا آل سعود و اسرائیل کو!۔

 

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.