تازہ ترین

گلگت بلتستان میں علیحدگی کی مسلح تحریک چلانے کی سازش بےنقاب

  • پیر, 08 اکتوبر 2018 13:16

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) گلگت بلتستان میں مسلح کارروائی کے ذریعے علیحدگی کی تحریک چلانے کی سازش بےنقاب ہوگئی، قوم پرست جماعت بلاورستان نیشنل فرنٹ (بی این ایف) کے سابق رہنما آفاق بالاور نے انکشاف کیا ہے کہ گلگت بلتستان میں انارکی پھیلانے، نوجوانوں کی برین واشنگ کرکے افغانستان لے جاکر مسلح ٹریننگ دی جاتی ہے، سیاسی جدوجہد کے نام پر بننے والی بی این ایف مکمل طور پر عسکری تنظیم میں تبدیل ہورہی ہے، بی این ایف کے سربراہ عبدالحمید خان، سنگے حسین سکندر اور کرنل (ر) وجاہت خان بیرون ملک بیٹھ کر گلگت بلتستان اور پاکستان کیخلاف سازش کررہے ہیں ان کے پیچھے ملک دشمن طاقتیں موجود ہیں، گلگت پریس کلب پریس کانفرنس کرتے ہوئے آفاق بالاور نے کہا کہ مجھ جیسے بہت سے طالبعلموں کو بی این ایف اور بی این ایس او کی اندرونی کہانی کا پتا نہیں ہوتا اور وہ علاقے کی بہتری سمجھ کر کام کرتا رہتا ہے مگر حقیقت میں ملک دشمن عناصر کے ہاتھوں وطن عزیز پاکستان کیخلاف کام کر رہا ہوتا ہے اور دشمن ایجنسیوں کے کہنے پر چند لوگ اس علاقے کے نوجوانوں کا مستقبل تباہ کر رہے ہوتے ہیں اور ملک سے باہر بیٹھ کر دشمن سے پیسے لے کر ان کی ہدایات کے مطابق وہی احکامات نوجوان نسل کو دے کر بے وقوف بنایا جا رہا ہوتا ہے، حالانکہ گلگت بلتستان تعمیر و ترقی، تعلیم، صحت، روزگار اور سیاحت کے لحاظ سے پاکستان کے بہت سے علاقوں میں بہتر ہے لیکن جو کمی رہتی ہے اس کو آڑ بنا کر نوجوان نسل اور علاقے کے لوگوں کو پاکستان کیخلاف اکسایا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2010ء میں تعلیم کے سلسلے میں لاہور تھا جب بی این ایف، بی این ایس ایف عبدالحمید گروپ کی تنظیم سازی ہو رہی تھی تو مجھے بی این ایس او لاہور زون کا صدر منتخب کیا گیا اور کہا گیا کہ گلگت بلتستان سٹوڈنٹس کو جن مسائل کا سامنا ہے ان کا حل نکالنا ہے اس کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کے باشندوں کو اپنے حقوق کے بارے میں شعور دلانے کے بارے میں کہا گیا، میرے صدر منتخب ہونے کے بعد عبدالحمید خان نے خاص طور پر مبارکباد دی اور کہا کہ تم محنت اور لگن سے گلگت بلتستان کیلئے کام کرو اور کالج اور یونیورسٹیوں میں زیرتعلیم گلگت بلتستان کے سٹوڈنٹس کو تنظیم کی طرف راغب کرنے کی کوشش کرو، اس مقصد کیلئے جتنا پیسہ چاہیئے میں بھیج دوں گا، کیونکہ مستقبل میں آپ جیسے طالبعلم ہی گلگت بلتستان کے غریب عوام کو غلامی سے آزادی دلوائیں گے۔ لہٰذا ہمیں اپنے حقوق کی جنگ لڑنی ہے جس کیلئے ہمیں منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے اس کے بعد میں گاہے بگاہے قیادت کی طرف سے ملنے والے احکامات کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کوشاں رہا، اس کے بعد میں کراچی منتقل ہو گیا جہاں میں نے کراچی یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا اور تعلیم حاصل کے ساتھ ساتھ ایک ریسٹورنٹ میں ملازمت بھی کرتا رہا۔ ایک دن ریسٹورنٹ والوں نے بتایا کہ کچھ سرکاری اہلکار میرا پوچھنے آئے اور انہوں نے بتایا کہ میرے اوپر گلگت بلتستان میں ایک ایف آئی آر درج ہے اور میں ان کو مطلوب ہوں جس سے میں خوفزدہ ہو گیا، کراچی میں رہتے ہوئے میرا قوم پرست حلقوں سے رابطہ تھا اور انہی کے ذریعے نائلہ قادری بلوچ نامی ایک خاتون سے سوشل میڈیا پر تعارف ہوا اور مختصر عرصے میں ہمارا مستقل تعلق بن گیا۔ میں نے اپنی پریشانی کا تذکرہ نائلہ بلوچ سے کر دیا تو اس نے مجھے کوئٹہ والے گھر جانے کا کہا تاکہ ادھر محفوظ رہوں اور کوئی مجھے تنگ نہ کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ پھر میں اگست 2017ء میں بذریعہ بس کراچی سے کوئٹہ چلا گیا، مجھے نائلہ قادری نے میر مرتضٰی نامی بندے کا حوالہ دیا اور اس کا موبائل نمبر بھی دیا تھا، کہا تھا کہ کوئٹہ میں یہ بندہ تمام معاملات برابر کرے گا، کوئٹہ پہنچنے پر میر مرتضٰی مجھے ایک گھر لے گیا جو اس کے چچا میر ودود رئیسانی کا تھا۔ کوئٹہ میں 15/20 دن اس گھر میں قیام کے دوران مجھے مرتضٰی نے بتایا کہ یہاں پر حالات ٹھیک نہیں ہیں لہٰذا میں آپ کو اپنے دوسرے گھر چمن لے جاتا ہوں لیکن چمن میں پہنچ کر اس نے مجھے سردار نامی ایک بندے کے حوالے کیا اور بارڈر کراس کر کے افغانستان ویش منڈی سپین بولدک لے گیا جہاں عمر نامی بندے نے مجھے خوش آمدید کہا اور مجھے کمپلیکس میں لے گیا اور مجھے علیحدہ کمرہ دے دیا مجھے افغان سمیں دے دیں تا کہ میں لوگوں سے اپنا رابطہ بحال رکھ سکوں، اس دوران میری ملاقات میر ودود رئیسانی سے ہوئی جس نے مجھے خوش آمدید کہا اور گلگت بلتستان کے حقوق کی آواز اٹھانے پر شاباش دی، اسی دوران میری نائلہ قادری سے واٹس اپ اور فیس بک پر بات ہوتی رہی۔ ایک ہفتے بعد میر ودود رئیسانی نے ہدایات دے کر میری ایک ویڈیو سٹیمنٹ بنوائی جس میں میں نے اپنا نام، علاقہ اور تنظیم کا بتا کر سی پیک کو جی جی میں Reject کیا اور اس کو جی بی کی عوام کے لئے نامناسب قرار دیا اور اس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ میر ودود رئیسائی نے یہ بھی بتایا کہ میری یہ ویڈیو جنیوا میں بھیجی جائے گی اور یہ بھی کہا کہ یہ ویڈیو عبدالحمید، وجاہت، سردار شوکت اورحسنین سکندر کے ساتھ میرا تعلق مضبوط بنائے گی، جو پہلے سے ہی اس ایجنڈے پرکام کر رہے ہیں۔

کچھ دنوں بعد میر ودود رئیسانی اور نائلہ نے مجھے بتایا کہ میرا افغان پاسپورٹ بنا کر مجھے جنیوا میں بھجوا دیا جائے گا، جہاں پر مختلف پلیٹ فارم پر مجھے عبدالحمید اور حسنین سکندر کے ساتھ جی بی کے لئے آواز اٹھانے کے لئے بٹھایا جائے گا اور اس کے ساتھ مجھے ایک کثیر رقم، گھر گاڑی وغیرہ کی بھی یقین دہانی کرائی گئی۔ چند دن بعد میر ودود میرے پاس آیا اور مجھے کہا کہ میں جی بی سے چار چار بندوں کے پانچ سے چھ گروپ تیار کروں جن کو افغانستان میں ٹریننگ دلا کر واپس جی بی میں بھیجیں گے اور ان کے ذریعے باقاعدہ علیحدگی کی تحریک کا آغاز حملوں کے ساتھ ساتھ جی بی میں حکومت کے خلاف آواز اٹھا کر کریں گے۔ جس کے لئے مجھے کہا گیا کہ ان بندوں کے نام کی لسٹ اور تفصیل بیان کروں جن میں اس کام کا جذبہ ہو۔ اس لمحے مجھے احساس ہونا شروع ہوا کہ غلط ہاتھوں میں آ چکا ہوں جبکہ میں تو صرف جی بی کے حقوق کے اوپر آواز اٹھانے کے ارادے سے آیا تھا لیکن دراصل جی بی کے حقوق کی آڑ میں یہ لوگ مجھے میری ہی سرزمین کے خلاف استعمال کرنا چاہ رہے تھے، لیکن میرے ضمیر نے اس کو گوارا نہیں کیا تو میں نے وہاں سے بھاگنا مناسب سمجھا۔ بذریعہ چمن اسلام آباد پہنچا اور اپنے آپ کو قانون کے حوالے کردیا۔ جہاں سے پولیس نے مجھے عدالت میں پیش کیا اور ایک لمبے عرصے کیلئے مجھے جیل بھیج دیا گیا اور میرا کیس چلتا رہا اس کے بعد میری رہائی ہوئی۔

جیل سے واپس آنے کے بعد میں نے یہ مناسب سمجھا کہ دشمن بنانے کی ناکام کوشش کی گئی اور میری ہی سرزمین کے خلاف استعمال کرنے کا سوچا تھا تو میں نے مناسب سمجھا کہ میں ان تمام عناصر کو اپنی قوم اور نوجوانوں کے سامنے بےنقاب کروں گا تاکہ وہ کبھی بھی دشمن کے ہاتھوں میں آ کر ملک اور اپنے لوگوں کے خلاف کسی بہکاوے میں نہ آئیں اور والدین کے لئے بھی ایک آگاہی ہوگی کہ وہ اپنے بچوں کو ان ہاتھوں میں کھیلنے سے بچا سکیں۔ آفاق بلاور نے کہا کہ حقوق کی بات کرنا بجا ہے مگر اس کی آڑ میں وطن کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کرنا غداری ہے۔ قوم پرستی شجرہ ممنوعہ نہیں ہے، لیکن بیرون ملک مقیم نام نہاد قوم پرستوں کے ہاتھوں استعمال ہونا قوم پرستی نہیں بلکہ قوم فروشی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں تمام سیاسی و مذہبی قوم پرست جماعت کے کارکنان اور اپنی قوم کے معماروں سے گزارش کروں گا کہ وہ حقوق کی بات کریں جو میں خود بھی کرتا ہوں اور کرتا رہوں گا، لیکن دائرے میں رہتے ہوئے کیونکہ ہمارے چند لفظوں کی وجہ سے دشمن عناصر کو فائدہ پہنچتا ہے۔ صوبائی اور وفاقی حکومتوں سے بھی استدعا ہے کہ وہ گلگت بلتستان کے آئینی مسئلے کو حل کریں اور یہاں کے لوگوں کو بااختیار بنائیں تاکہ یہاں کے نوجوانوں میں پائی جانے والی احساس محرومی کا ازالہ ہو سکے اور دشمن عناصر کو موقع نہ ملے کہ ہمارے نوجوان ان کے بہکاوے میں آجائیں۔ واضح رہے کہ 2016ء میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سی پیک کیخلاف ایک اور سازش ناکام بناتے ہوئے بی این ایف عبدالحمید گروپ کے کئی افراد کو گرفتار کرکے بھاری تعداد میں اسلحہ برآمد کیا تھا۔

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.