تازہ ترین

دفعہ 35 اے آئین ہند کا ایک مُکمل اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے، حکیم محمد یاسین

  • پیر, 08 اکتوبر 2018 16:49

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) حکیم محمد یاسین مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع چاڑودرہ سے تعلق رکھتے ہیں، وہ جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ نامی سیاسی پارٹی کے صدر ہیں، جسکی بنیاد 2008ء میں ڈالی گئی، حکیم محمد یاسین مقبوضہ جموں و کشمیر کے ایک معروف سیاستدان ہیں، جنھوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ سیاسی میدان میں گزارا ہے، حکیم محمد یاسین نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز 1977ء میں کیا، 1977ء میں پہلی بار محض اُنیس سال کی عمر میں نیشنل کانفرنس کی ٹکٹ پر اسمبلی انتخابات میں جیت حاصل کی، اسکے بعد 1983ء میں دوسری بار الیکشن لڑ کر جیت درج کی، حکیم محمد یاسین نیشنل کانفرنس کے دور حکومت میں وزیر بھی رہ چکے ہیں، 1984ء میں جب عوامی نیشنل کانفرنس کی بنیاد پڑی تو انہوں نے نیشنل کانفرنس سے علیحدگی اختیار کی۔ شیعہ نیوزنے حکیم محمد یاسین سے ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کرام کی خدمت میں پیش ہے۔(ادارہ)


شیعہ نیوز: بی جے پی کی پوری کوشش ہے کہ مقبوضہ کشمیر کو حاصل خصوصی درجہ دفعہ 35 اے کو ختم کریں، دفعہ 35 اے کشمیر کے لئے کیا حیثیت رکھتی ہے۔؟
حکیم محمد یاسین: آئین ہند کی دفعہ 35 اے مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کی شناخت ہے اور اس کے ساتھ کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔ دفعہ 35 اے کو ایک مضبوط آئینی اور قانونی بنیاد کے تحت معرضِ وجود میں لایا گیا تھا تاکہ کشمیری عوام کے تحفظات کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ سپریم کورٹ آف انڈیا نے اس سے قبل بھی تین بار دفعہ 35 اے کے خلاف عذر داریاں منسوخ کی ہیں۔ ہمارا ماننا ہے کہ دفعہ 35 اے آئین ہند کا ایک مُکمل اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے، جس کو کسی بھی صورت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا ہے۔

شیعہ نیوز: کیا آپ محسوس کررہے ہیں کہ دفعہ 35 اے کے دفاع میں تمام کشمیری رہنما و تنظیمیں متحد و منظم ہیں۔؟
حکیم محمد یاسین: یہ بات حوصلہ افزاء ہے کہ دفعہ 35 اے کے دفاع کے سلسلے میں کشمیر کی لگ بھگ تمام سول سوسائٹی گروپس اور مین سٹریم سیاسی جماعیتں یکجا ہو گئی ہیں۔ یہ ایک بہترین موقع ہے کہ ہم سبھی سیاسی و غیر سیاسی جماعتیں کشمیر کی 1953ء سے پہلے کی پوزیشن کو بحال کرنے کے سلسلے میں مُتفقہ طور بھارتی حکومت پر دباؤ ڈالیں، جس کی بدولت کشمیری عوام کے تمام تحفظات اور خدشات کی خود بخود پاسداری یقینی بن جائے گی۔

شیعہ نیوز: بھارت کا مذاکرات سے دور بھاگنا اور مسئلہ کشمیر پر بھارتی ہٹ دھرمی پر آپ کیا کہنا چاہیں گے۔؟
حکیم محمد یاسین: دیکھئیے اگر بھارت یہ کہتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ کوئی مسئلہ نہیں ہے تو پھر مذاکراتکار کی تعیناتی کیوں عمل میں لائی گئی، کیوں بھارتی وزیراعظم نے لال قلعہ سے کہا کہ کشمیریوں کو گلے لگانے سے بات بنے گی۔ بھارتی حکمرانوں کی جانب سے امن اور آشنی کی بات کی جاتی ہے لیکن کشمیر میں جمعہ نماز پڑھنے پر پابندی عمل میں لائی جاتی ہے۔ یہ دہرا معیار کب تک چلتا رہے گا۔

شیعہ نیوز: بھارت اور پاکستان کی قیادت کو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے آپ کیا مشورہ دینا چاہیں گے۔؟
حکیم محمد یاسین: بھارت و پاکستان کے درمیان صلح اور قیام امن کے لئے نئے سرے سے ٹریک ٹو ڈپلومیسی جیسے اعتماد سازی کے اقدامات سے ہی برِصغیر میں امن کا سورج طلوع ہوسکتا ہے۔ عالمی سطح پر قیامِ امن کے لئے تیزی سے اُبھرتی ہوئی طلب و خواہش کے مثبت اثرات ہندوستان اور پاکستان کے سیاسی اُفق پر بھی نمودار ہوں گے۔ ہم آپ کے ذریعے بھارت و پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت پر زور دینا چاہتے ہیں کہ وہ مسئلہ کشمیر کے بارے میں اپنے سخت رویہ میں لچک پیدا کر کے اپنے تمام حل طلب معاملات کو افہام و تفہیم اور گُفت و شنید کے ذریعے حل کریں۔ دو ہمسایہ ممالک کے درمیانہ رسہ کشی اور دشمنی کا خمیازہ براہ راست کشمیر کے لوگوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے حالانکہ یہاں کے لوگ قیام امن کے لئے دہائیوں سے تڑپ رہے ہیں۔

شیعہ نیوز: کشمیر کی موجودہ صورتحال کے بارے میں آپ کا تجزیہ جاننا چاہیں گے۔؟
حکیم محمد یاسین: آپ جانتے ہیں کہ کشمیر میں داروگیر کا ماحول عرصہ دراز سے جاری ہے، خون خرابہ عروج پر ہے، انسانی حقوق کی پامالیاں رکنے کا نام نہیں لے رہی ہیں، وقفہ وقفہ کے بعد اعلانیہ اور غیر اعلانیہ کرفیو کا نفاذ اس پر مستزاد ہے، نیز احتجاجی مظاہروں پر گولی باری، لاٹھی چارج، آنسو گیس کا استعمال، پکڑ دھکڑ اور گرفتاریاں بے دریغ ہو رہی ہیں۔ پُرامن احتجاجی مظاہرین پر راست فائرنگ کا سلسلہ بھی رکنے کا نام نہیں لیتا۔ اس خون ریز تصادم کے باعث نہ صرف روز انسانی جانیں تلف ہوتی ہیں بلکہ اس وقت بھی ہزاروں افراد زخمی پڑے ہیں، سینکڑوں زخمی جسمانی طور پر ناکارہ ہو چکے ہیں اور لاتعداد نوجوان قوت بینائی سے محروم ہونے کے علاوہ دماغی بیماریوں میں مبتلا ہوچکے ہیں، اس پر کوئی سنجیدہ گفتگو کوشش نہیں ہوتی۔ یہ سب سے بڑا المیہ ہے۔

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.