تازہ ترین

پاراچنار، قبائلی عمائدین کا نئے اسسٹنٹ کمشنر کی ناانصافیوں پر سرکاری جرگوں سے انکار

  • جمعرات, 11 اکتوبر 2018 14:14

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) ضلع کرم کے مختلف قبیلوں کے عمائدین نے کہا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر پاراچنار نے تبادلے کے بعد راتوں رات طویل عرصے سے پڑے مقدمات میں ایگزیکٹو احکامات جاری کئے اور قانون کی دھجیاں اڑانے کے ساتھ ناانصافی کے باعث قبائل کے مابین خونریزی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ قبائلی سردار حاجی اصغر حسین نے ناانصافی کے خلاف احتجاجا سرکاری جرگے نہ کرنے کا اعلان کیا ہے، عمائدین نے فوری انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔ پاراچنار میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مختلف قبیلوں کے عمائدین محسن رشید، حاجی اصغر حسین، صوبیدار میجر (ر) سید مشیر حسین، سفر علی اور مجاہد حسین نے کہا کہ اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنر پاراچنار اکبر افتخار نے تبادلے کے احکامات کے بعد قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے راتوں رات درجنوں مقدمات میں فریقین کو پیش کئے بغیر ایگزیکٹو آرڈرز جاری کر دیئے، جس سے لوگوں میں بےچینی پیدا ہوگئی ہے۔ عمائدین نے فوری تحقیقات اور انکوائری کمیٹی بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے۔ صوبیدار میجر (ر) سید مشیر کا کہنا تھا کہ محمد اصغر نامی ایک شخص کی فوتگی کے دس سال بعد اس کی اراضی کا انتقال کسی اور کے نام کردیا اور مرحوم کے جعلی دستخط کئے گئے۔

پاراچنار کے شہری مجاہد حسین کا کہنا تھا کہ کئی ماہ سے اس کا کیس جرگے کے پاس تھا مگر مخالف فریق کی ایک درخواست پر ایک ہی روز میرے خلاف، ہمیں پیش کئے بغیر ایگزیکٹو آرڈر کئے گئے۔ سلمان علی کا کہنا تھا کہ 20 سال قبل خریدی گئی اراضی سے اسے محروم کردیا گیا۔ محسن رشید کا کہنا تھا کہ شہر میں 6 کمروں پر مشتمل کروڑوں روپے مالیت کا ان کے مکان قابضین کو ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے غیر قانونی طور پر دیا گیا۔ حالانکہ الاٹمنٹ 70 سال سے ہمارے نام پر ہیں محمد کونین کا کہنا تھا کہ 5 جرگہ ممبران نے ان کے حق میں رائے دی تھی، مگر اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنر نے اکثریتی رائے کو مسترد کرتے ہوئے ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے انہیں اپنے حق سے محروم کردیا گیا، جرگہ ممبر اور قبائلی رہنما حاجی اصغر حسین کا کہنا تھا کہ لوگوں کو انصاف نہیں مل رہا ہے اور عدالت سے ان کا اعتماد بھی اٹھ گیا ہے، اس لئے انہوں نے آئندہ کیلئے سرکاری جرگے نہ کرنے کا اعلان کردیا۔ عمائدین نے مطالبہ کیا کہ پاراچنار میں ہونے والی اس ناانصافی کا فوری نوٹس لیا جائے اور اعلٰی سطحی تحقیقاتی ٹیم روانہ کردی جائے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ انصاف نہ ملنے کی صورت میں وہ اعلٰی عدالتوں سے رجوع کریں گے اور احتجاجی تحریک شروع کریں گے۔

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.