تازہ ترین

نیا پاکستان بھی آئی ایم ایف اور امریکی اتحاد کا محتاج(1)

  • جمعرات, 11 اکتوبر 2018 15:34

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) تحریر: عرفان علی

پاکستان تحریک انصاف کی اس نئی حکومت کی حقیقت آہستہ آہستہ عوام الناس کے سامنے آشکار ہو رہی ہے۔ آج ایک رکشہ ڈرائیور سے پوچھا کہ سی این جی کی قیمت میں کتنا اضافہ ہوا تو جواب ملا کہ ایک ساتھ چوبیس روپے فی کلو اضافہ۔ صنعتکاروں و تاجروں اور خاص طور برآمد کنندگان سے پوچھ لیں تو قدرتی گیس کی قیمتوں میں 46 فیصد تا 186 فیصد اضافے نے انکے اوسان خطا کر دیئے ہیں۔ انصافین حکومت بنتے ہی حکمران جماعت و حکمران شخصیات نے متعدد مر تبہ کہا ہے کہ سخت فیصلے کرنا ہوں گے۔ یعنی آگے بھی ہماری اس ستم دیدہ پاکستانی قوم کو سختیاں ہی جھیلنی ہیں، کیونکہ قربانی کے لئے حکمران طبقے کے پاس اس محروم قوم کے علاوہ کوئی اور ہے ہی نہیں۔ وہ جو پچھلی دو حکومتوں کے دور میں بڑا شور مچایا کرتے تھے کہ زرداری و نواز لٹیرے ہیں، انہوں نے پاکستان کو بھکاری بنا دیا ہے، مقروض کر دیا ہے، اب وہی عمران خان اور انکی پی ٹی آئی بھی سابقین کی تقلید کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ممکن ہے کہ اس مقابلے میں ان سے بھی دو ہاتھ آگے نکل جائیں۔

ابھی پہلے سو دن مکمل نہیں ہوئے کہ یو ٹرن کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ ایک دن بیان آتا ہے کہ سعودی عرب چین و پاکستان اقتصادی راہداری یعنی سی پیک کا تیسرا بڑا تزویراتی شراکت دار ہے تو کچھ دن بعد کہا جاتا ہے کہ جی صرف سرمایہ کاری کرے گا، سی پیک کا تیسرا اسٹرٹیجک پارٹنر نہیں ہے۔ یو ٹرن کی تعداد اتنی ہیں کہ پی پی پی سے تعلق رکھنے والی رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ یہ تجویز دینے پر مجبور ہوگئیں کہ موجودہ حکومت ایک نئی وزارت برائے یوٹرن بنالے۔ دوسرے یوٹرن پر تو پاکستان مسلم لیگ نواز (ن لیگ) نے عمران خان کو آڑے ہاتھوں لے رکھا ہے۔ ہون کر لو خودکشی! پنجابی میں تحریر یہ مختصر جملہ سابق وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے ٹویٹ کیا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان پر یہ طنز اس لئے کیا ہے کہ موصوف ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ وہ دنیا بھر میں قرض یا ادھار مانگنے پر خودکشی کو ترجیح دیں گے۔

ابھی انکی حکومت کے پہلے سو دن بھی مکمل نہیں ہوئے ہیں اور نئی انصافین حکومت کے وزیراعظم عمران خان پرانا کشکول اٹھا کر پہلے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے در پر قرضہ مانگنے گئے۔ ابھی وہاں سے اس کشکول میں کچھ ڈالا ہی نہیں گیا تھا کہ وزیر خزانہ کا وڈیو پیغام جاری ہوگیا کہ عمران خان نے بین الاقوامی مالیاتی ادارے یعنی آئی ایم ایف سے قرض مانگنے کی منظوری دے دی ہے۔ اقتصادی مشاورتی کاؤنسل نے ان پر واضح کر دیا کہ آئی ایم ایف کے پاس جائے بغیر چارہ ہی نہیں ہے۔ وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ایک نجی ٹی وی چینل کی خاتون میزبان کو انٹرویو میں بتایا کہ پاکستان حکومت چین سمیت دیگر دوست ممالک کے پاس گئی، لیکن انکی شرائط پر ادھار پاکستان حکومت کو قبول نہیں۔ یعنی سعودی و اماراتی حکومتوں نے بھی کوئی نرمی نہیں دکھائی۔

عمران خان اور انکی پاکستان تحریک انصاف جو کہ دیگر حکومتوں کے ادوار میں بیانات کے لاتعداد میزائل فائر کرکے یہ تاثر دیا کرتی تھی، گویا سارے مسائل کی جڑ حکمران وقت ہیں، اب انہیں خواجہ آصف، طلال چوہدری یا مریم اورنگزیب جیسے پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں کی تنقید پر برا نہیں منانا چاہیئے۔ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اب کر لو خودکشی! پر کیا کیا جائے اسکے لئے بھی شرم اور حیا چاہیئے! طلال چوہدری کہتے ہیں کہ ریاست مدینہ کی باتیں کرنے والے یہود و نصاریٰ کے پاس چلے گئے! عمران خان کی نئی حکومت کے وزیر خزانہ اسد عمر نے نواز شریف حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف سے قرضہ لینے پر لاہور اکنامک جرنلسٹس ایسوسی ایشن کے رکن صحافیوں سے جو کہا تھا، وہ 29 ستمبر 2013ء کو ایکسپریس ٹریبیون سمیت ذرایع ابلاغ میں شایع ہوا اور آج بھی ریکارڈ پر موجود ہے۔ اسد عمر نے 2013ء کے بیل آؤٹ پیکیج پر کہا تھا کہ اس سے 12 لاکھ ملازمتیں ختم ہو جائیں گی، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی ہوگی، افراط زر، مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوگا۔

انکا کہنا تھا کہ اگر ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں ایک روپے کی بھی ڈی ویلیویشن ہوتی ہے تو اس سے پاکستان کی اقتصاد کو 70 بلین روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ آج ڈالر کھلی منڈی میں ایک سو اٹھائیس روپے کا ہوچکا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ شاید ایک سو تیس روپے تک جا پہنچے۔ صورتحال وہی ہے کہ سال 2013ء میں نواز حکومت کو دگرگوں اقتصادی صورتحال ورثے میں ملی تھی اور جیسی انہیں ملی تھی، تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ انہوں نے نئی حکومت کے حوالے کر دی۔ بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی سال 2008ء میں جب عام انتخابات کے نتیجے میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی، تب بھی پچھلی حکومت سے اسے خراب معاشی حالات ورثے ہی میں ملے تھے، بلکہ اس دور میں تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمت سو ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کرچکی تھی۔ نواز لیگی حکومت کے دور میں بتدریج ڈالر فی بیرل قیمت میں کمی ہوتی رہی تھی۔

انیس سو اسی کے عشرے کے اواخر سے مختلف عنوانات کے تحت آئی ایم ایف سے پاکستان نے جو قرضے یا ادھار لئے ہیں، انکی تعداد ایک درجن ہوچکی ہے اور اب یہ تیرہواں قرضہ ہوگا۔ حتیٰ کہ جنرل پرویز مشرف کی سربراہی میں جو سیٹ اپ کام کر رہا تھا، اس نے بھی سال 2000ء میں آئی ایم ایف سے قرضہ لیا تھا اور موجودہ حکومت میں بھی پرویز مشرف سیٹ اپ کے بہت سارے افراد اہم عہدوں پر رکھے گئے ہیں۔ عمران خان نے پچھلی حکومت کے دور میں 31 اکتوبر 2013ء کو لاہور میں وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت پاکستان کے دفتر اور پی ٹی آئی کے دفتر میں کاروباری شخصیات اور صحافیوں سے خطاب میں کہا تھا کہ وزارت خزانہ کو ختم کر دینا چاہیئے، کیونکہ یہ ٹیکس نہیں بلکہ جگا ٹیکس یعنی بھتہ لے رہی ہے۔ اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ نون لیگ حکومت سرطان کا علاج ڈسپرین (یعنی درد دور کرنے والی گولی) سے کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

آج عمران خان کی وزارت عظمیٰ کے دور میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2 بلین ڈالر ماہانہ ہے تو کیا پچھلی حکومتوں میں ایسا نہیں ہوا کرتا تھا؟ یقیناً پچھلی حکومتوں کے ادوار میں بھی اقتصادی مشکلات تھیں اور محض سویلین عسکری کشیدہ تعلقات ہی نہیں بلکہ دہشت گردی اور امریکی و یورپی پابندیاں وغیرہ بھی ہوا کرتی تھیں اور آج کم از کم اس حوالے سے جب صورتحال برعکس ہے، تب بھی عمران خان کی اقتصادی ٹیم کے پاس پاکستان کے پرانے امراض کا کوئی نیا طریقہ علاج نہیں ہے۔ آہستہ آہستہ سب پر عیاں ہو رہا ہے کہ اپوزیشن کے دور میں تحریک انصاف کی قیادت نے کھوکھلی بڑھکیں ماریں تھیں۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا سالانہ اجلاس انڈونیشیاء کے جزیرے بالی میں ہو رہا ہے، جہاں وزیر خزانہ اسد عمر کی سربراہی میں پاکستانی وفد شرکت کر رہا ہے۔ انصافین حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کو نئے بیل آؤٹ پیکیج کے لئے رسمی طور درخواست دی جائے گی۔

وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق درخواست کی وصولی کے بعد دس دن کے اندر آئی ایم ایف کا وفد پاکستان کا دورہ کرے گا۔ مذاکراتی عمل چار تا چھ ہفتوں پر محیط ہوگا اور انکی شرائط ماننے پر بین الاقوامی مالیاتی ادارہ پاکستان کو اگلے تین برسوں میں چھ تا سات بلین ڈالر قرضہ دے گا۔ فوری طور پر پاکستان کو اقتصادی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کم از کم 9 بلین ڈالر کی ضرورت ہے، کیونکہ سرکاری خزانے میں جو زرمبادلہ ہے، وہ صرف چھ ہفتوں کے لئے کافی ہے۔ یعنی آئی ایم ایف کے بیل آؤٹ پیکیج کے علاوہ بھی پاکستان کو قرضے لینا ہوں گے، یا پھر حکومت اسحاق دار فارمولا اپناتے ہوئے نئے بونڈ یا سکوک سرٹیفیکیٹ کی طرز پر کوئی نئی اسکیم جاری کرے۔

پاکستان کے حوالے سے یہ صورتحال پرانی ہی ہے، لیکن عمران خان نے جتنی ڈینگیں ماریں تھیں، اس کے پیش نظر اب ان تمام ایشوز پر انکا عمل اگر پرانی حکومتوں جیسا ہی رہا تو پھر عوامی سطح پر جو امید کی کیفیت پیدا ہوئی تھی، وہ بھی دم توڑ جائے گی اور خاموش حمایت کرنے والے بھی عمران خان اور انکی حکومت سے نفرت پر خود مجبور پائیں گے، کیونکہ سبھی مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ اقتصادی مسائل کا حل اقتصادی ماہرین تجویز کرچکے ہیں، بہتر ہوتا کہ ان پر توجہ دی جاتی، لیکن نیا پاکستان کا نعرہ لگانے والا نیا وزیراعظم پرانا کشکول لے کر ان شرائط پر ادھار لیتا نظر آرہا ہے کہ جس سے عام پاکستانی مسائل کی دلدل میں دھنستے چلے جائیں گے، مہنگائی میں تو آتے ہی اضافہ کر دیا ہے، بتدریج بے روزگاری میں بھی اضافے کا امکان ہے۔ نیا قرضہ لے کر پچھلا قرضہ ادا کرنا پرانی پالیسی تھی، اب یہ حکومت تحریک انصاف اور عمران خان کا امتحان ہے، آزمائش ہے کہ حالات کو بہتر کریں۔

آئی ایم ایف سے قرضہ مانگنے والے عمران خان اب بتائیں کیا وہ خودکشی کریں گے؟ کیا وہ بھی سرطان کا علاج ڈسپرین سے کریں گے۔ کیا اب اسد عمر کی وزارت خزانہ ختم کرنا پسند کریں گے یا انکو اصل مسئلہ اسحاق ڈار کی وزارت خزانہ سے تھا، کیونکہ عمران خان نے جس ٹیکس کو جگا ٹیکس یعنی بھتہ قرار دیا تھا، وہ تو اب بھی وصول ہو رہا ہے! اس حکومت نے پہلے پچاس دنوں ہی میں ان خدشات کو سچ ثابت کرنے کی سمت قدم بڑھا دیا کہ جو ہم اس حکومت کے بارے میں اسلام ٹائمز کے اسی فورم پر 31 جولائی 2018ء اور 7 اگست 2018ء کی تحریروں میں خدشات کے طور پر بیان کرچکے ہیں۔ (نوٹ: یہ پہلا حصہ ہے، جس میں تحریر کو صرف آئی ایم ایف کے قرضوں تک محدود رکھا گیا ہے۔ آخری حصہ میں دوسرا پہلو یعنی امریکی اتحاد کی محتاجی پر بات ہوگی، کیونکہ پاکستان کی اس کمزور اقتصادی صورتحال کے پیش نظر امکانات یہ ہیں کہ امریکہ اور اسکے اتحادی پاکستان کو پھر کسی افغان سوویت جنگ کے دور کے طرز کے منصوبے میں استعمال کریں۔)

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.