تازہ ترین

نائجیریا: مذہبی عسکریت پسند گروپ بوکو حرام نے طبی رضاکار کو قتل کر دیا

  • بدھ, 17 اکتوبر 2018 14:17

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) برطانوی حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق انگلینڈ اینڈ ویلز میں مذہبی منافرت پر مبنی جرائم میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے جس میں سب سے زیادہ مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

وزارت داخلہ کے دفتر سے جاری سالانہ اعدادوشمار کے مطابق مذہبی منافرت کے 52 فیصد جرائم میں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ جرائم کی شرح بھی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔

پولیس کے مطابق مذہبی منافرت کے 94 ہزار 98 واقعات رونما ہوئے جو اب تک اس طرح کے جرائم کی سب سے بڑی تعداد ہے اور گزشتہ سال کے مقابلے میں اس میں 17 فیصد ہوا ہے اور گزشتہ پانچ سال میں یہ شرح دگنی ہو چکی ہے۔

نفرت پر مبنی جرائم میں سے تین چوتھائی نسلی پرستی کی بنیاد پر کیے گئے جبکہ ان میں سے 9 فیصد حملے جنسی بنیادوں پر کیے گئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہر طرح کے نفرت انگیز جرائم میں اضافہ ہوا ہے لیکن ہمارا ماننا ہے کہ اس کی ایک وجہ پولیس کے کام میں واضح بہتری ہے جس کے نتیجے میں یہ واقعات منظر عام پر آنا شروع ہوئے۔

تاہم 2016 میں بریگزٹ اور گزشتہ سال دہشت گرد حملوں کے بعد سے اس طرح کے حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔رپورٹ میں مزید بتایا کہ مذہبی منافرت کے حملوں میں مسلمانوں کے بعد برطانیہ میں سب سے زیادہ نشانہ یہودیوں کو بنایا گیا۔

رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد ہوم آفس نے اپنے بیان میں کہا کہ قانونی کمیشن منافرت پر مبنی جرائم کے موجودہ قانون کی افادیت کا جائزہ لے رہا ہے اور اس بات پر غور کیا جا رہا ہے کہ جرائم کی روک تھام کے لیے مزید سزائیں قانون کا حصہ بنائی جانی چاہئیں یا نہیں۔

ہوم سیکریٹری ساجد جاوید نے کہا کہ ہم گھناؤنے رویے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پرعزم ہیں کیونکہ منافرت پر مبنی جرائم اتحاد، برداشت اور باہمی احترام پر مبنی دیرینہ برطانوی اقدار کے خلاف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے نسل پرستی اور تعصب کی اصل جڑ کو پکڑنے کے لیے نیا منصوبہ بنایا جس کے تحت ان جرائم سے متاثرہ افراد کی مکمل مدد کرتے ہوئے ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لے کر آئیں گے۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.