کوٹلی امام حسین (ع) کا مقدمہ اور صوبائی حکومت کی شفقت

  • بدھ, 17 اکتوبر 2018 14:37

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) تحریر: آئی اے خان

ڈیرہ اسماعیل خان میں کوٹلی امام حسین (ع ) کی تین سو سترہ کنال نو مرلے غیر متنازعہ اراضی کو حکومت متنازعہ بنانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ کوٹلی امام حسین (ع) کی اراضی جو کہ امام حسین (ع) کے نام پہ وقف تھی، اس پہ یکے بعد دیگر ے حکومت نے ایسے غیر قانونی اقدامات اٹھائے کہ جن کے سامنے لینڈ مافیا کی کارستانیاں بھی پانی بھرتی محسوس ہوں۔ پہلے تو اس وقف امام حسین (ع) اراضی کا انتقال محکمہ اوقاف نے اپنے نام پہ کیا حالانکہ اس کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں تھی کیونکہ ایک قانون کے مطابق تمام وقف شدہ املاک کی نگرانی اور دیکھ بھال کی ذمہ داری محکمہ اوقاف کے پاس ہے۔ 2013ء میں قائم ہونے والی نگران حکومت کے دور میں چپکے سے اس تمام اراضی کی قانونی ملکیتی حیثیت تبدیل کرکے اسے وقف امام حسین (ع) سے محکمہ اوقاف کے نام منتقل کیا گیا۔ ایسا کیوں کیا گیا۔؟ اس کی ضرورت کیونکر پیش آئی۔؟ تو اس کا جواب آج تک نہ کسی ادارے کے ترجمان نے دیا اور نہ ہی صوبائی یا وفاقی حکومت کے کسی نمائندے نے۔ حریص اشرافیہ کیلئے تو شہر کی مرکزی شاہراہ کے لب پہ واقع کروڑوں روپے کی قیمتی اراضی ہے تاہم ڈیرہ اسماعیل خان بسنے والی اہل تشیع کمیونٹی کیلئے یہ اراضی موت و حیات کا مسئلہ ہے اور ہونی بھی چاہیئے۔

یہاں پہ واقع گنج شہداء میں سینکڑوں شہداء مدفون ہیں کہ جو اندھی دہشتگردی کا نشانہ بنے۔ اسی اراضی پہ مقدسات، زیارات موجود ہیں، یہاں شبیہ روضہ امام حسین (ع)، روضہ غازی عباس (ع)، شبیہ ضریح سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے ساتھ ساتھ مسجد آخرالزمان علیہ السلام، مدرسہ جامعۃ النجف اور تھلہ (امام بارگاہ) امام حسین (ع) موجود ہیں۔ علاوہ ازیں روز عاشور کے تمام جلوسہائے عزا یہیں پہ آکر قیام پذیر ہوتے ہیں اور روز عاشور شبیہ کربلا اسی کوٹلی امام حسین (ع) میں برپا ہوتی ہے۔ ایک سو سالہ عزاداری امام حسین (ع) کی تاریخ رکھنے والی یہ اراضی حکومت نے اپنے نام منتقل اس انداز
وفاقی وزیر اور ان کے ہم خیال سکیورٹی کے نام پہ پھلجڑی چھوڑتے ہیں کہ حالات کی خرابی اور نزاکت کے باعث ہم قبرستان اور مذہبی اجتماع والے میدان یعنی 119 کنال پہ چاردیواری تعمیر کرنے جارہے ہیں۔ ہم نے چاردیواری کیلئے فنڈز جاری کردیئے ہیں۔ ہم نے ٹینڈر دے دیئے ہیں۔ کیوں بھئی، اتنی کیا جلدی اور فکر پڑی ہے، آپ کو سکیورٹی کیلئے چاردیواری دینے کی۔
میں منتقل کی کہ نا تو کسی کو خبر کی اور نہ ہی کسی کو خبر ہونے دی، دوئم یہ کہ اراضی وقف امام حسین (ع) تھی، اب ملکیتی حیثیت کی تبدیلی کے وقت کس ادارے یا شخصیت نے مالک کی حیثیت سے اس کی اجازت دی، تاحال یہ تمام امور صیغہ راز میں ہیں۔ پھر اسی اراضی کی قانونی ملکیتی حیثیت تبدیل کرنے کے بعد اس اراضی پہ تدفین اور عزاداری کی اجازت دیکر حکومت یہ بھی چاہتی ہے کہ اس کی داد و تحسین کی جائے، یعنی میں اپنے گھر پہ ناجائز قبضہ کرنے والا شکریہ محض اس لیے ادا کروں کہ اس نے مجھے اجازت دی ہے، فلاں دن آکر میں اپنے گھر میں نماز پڑھ سکتا ہوں۔ ڈی آئی خان مں جس کمیونٹی کو محض مذہب (مسلک) کی بنیاد پہ تہہ تیغ کیا جارہا ہے اور سینکڑوں لاشیں اٹھانے کے باوجود وہ اپنے عقائد پہ سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ کمیونٹی اس اراضی سے دستبردار ہوجائے کہ جس اراضی کا تعلق ان کی ذات کے ساتھ نہیں بلکہ روح اور عقیدے کے ساتھ ہے۔

تین سو سترہ کنال اراضی کو غیر قانونی طریقے سے اپنے نام منتقل کرنے کے بعد صوبائی حکومت نے موقف اختیار کیا کہ ایک سو انیس کنال یعنی (جس زمین پہ پہلے سے مقدسات، گنج شہداء ، مسجد و مدرسہ) موجود ہیں، وہ اہل تشیع کو دینے کیلئے تیار ہے۔ باقی اراضی چھوڑیں۔ چند ناعاقبت اندیش ساہوکاروں نے اس پہ خوب بغلیں بجائیں ۔ تاہم اہل تشیع ڈیرہ نے اپنا ایک ہی اصولی مطالبہ سامنے رکھا کہ تین سو ستائیس کنال نو مرلے وقف امام حسین (ع) اراضی محکمہ اوقاف سے دوبارہ وقف امام حسین (ع ) پہ انتقال کی جائے۔ اس مطالبے کے ساتھ ایک سال سے زائد عرصہ اسی کوٹلی کی اراضی پہ احتجاجی کیمپ لگا رہا اور تاحال جاری ہے۔ موجودہ وفاقی وزیر اور سابق وزیر مال علی امین گنڈہ پور نے فرداً فرداً اہل تشیع کے ضلعی اکابرین سے ملاقاتیں کیں اور زبانی کلامی تسلی سے کام چلایا۔ جنہوں نے ایک سو انیس کنال پہ رضامندی اختیار کی انہیں مزید اپنے قریب کیا اور جنہوں
کل اراضی پہ ’’کوٹلی امام حسین ‘‘ کاشتکار ہے۔ کوٹلی امام حسین (ع) جسے کاشتکار کہا گیا ہے کسی فرد، قوم، قبیلے کا نام نہیں ہے کہ جو کاشتکار کی بنیاد پہ اس اراضی پہ اپنی ملکیت کا دعویدار بنے بلکہ کوٹلی امام حسین (ع) اس جگہ کا نام ہے کہ جس کی ملکیت صوبائی حکومت کے پاس ہے۔
نے اصولی مطالبہ سامنے رکھا ، انہیں اس مسئلہ سے متعلق ہونے والے مذاکرات میں ہمیشہ باہر رکھنے کی کوشش کی۔

2018ء کے عام انتخابات تک سابق صوبائی وزیر اور حال وفاقی وزیر شیعہ کمیونٹی کو یہ نوید سناتے رہے کہ کوٹلی امام کی اراضی کی ملکیت کا مسئلہ حل ہو چکا ہے اور عنقریب اس کے ملکیتی انتقال کے کاغذات آپ کے ہاتھ میں ہوں گے، مگر یہ نوید انتظار کی سولی پہ امید بنکر لٹکتی رہی۔ صوبائی اور قومی اسمبلی کی دونوں نشستوں پہ اہل تشیع ووٹ کی بدولت بھرپور کامیابی سمیٹنے کے باوجود مسئلہ جوں کا توں برقرار رہا۔ ضمنی انتخابات کے اعلان کے بعد اور پی ٹی آئی کی جانب انتخابی ٹکٹ ملنے کے بعد علی امین خان گنڈ ہ پور کے بھائی فیصل امین گنڈہ پور نے اہل تشیع کمیونٹی کے ضلعی اکابرین کے ساتھ فرداً فرداً ملاقاتوں میں کوٹلی امام حسین (ع) کی اراضی کے ملکیتی انتقال کی کاپیاں حوالے کیں۔ اراضی کے انتقال کی جو نقول ان تشیع لیڈروں کو دیں گئیں، وہ اس کمیونٹی کے ساتھ مذاق سے کم نہیں۔ کوٹلی کی اراضی کا عوامی مقدمہ یہ تھا کہ 317 کنال 9 مرلے وقف امام حسین (ع) اراضی جو حکومت نے اپنے نام پہ منتقل کی، اسے دوبارہ امام حسین (ع ) کے نام پہ منتقل کیا جائے۔ جواب میں حکومت نے 316 کنال 17مرلے اراضی کا مالک صوبائی حکومت خیبر پختونخوا کو قرار دیا اور ’’کوٹلی امام حسین ‘‘ کو اس اراضی پہ کاشتکار تسلیم کیا۔

2013ء میں میں جو اراضی وقف امام حسین (ع) تھی، 2018ء میں اس اراضی کی مالک صوبائی حکومت اور کاشتکار ’’کوٹلی امام حسین ‘‘ ہے ۔ وفاقی وزیر برائے گلگت بلتستان کا یہ موقف اپنی جگہ ضرور اہمیت کا حامل ہے کہ قانون کے تحت کاشتکار کے مالکانہ حقوق تسلیم کئے گئے ہیں، لہذا کوٹلی کا مسئلہ حل ہو چکا ہے۔ ملکیتی انتقال کے ہمراہ جو لیٹر جاری کیا گیا، اس میں بتایا گیا کہ صوبائی حکومت خیبر پختونخوا نے 119 کنال زمین محکمہ اوقاف سے خریدی ہے، قبرستان اور مذہبی رسومات
2018ء کے عام انتخابات تک سابق صوبائی وزیر اور حال وفاقی وزیر شیعہ کمیونٹی کو یہ نوید سناتے رہے کہ کوٹلی امام کی اراضی کی ملکیت کا مسئلہ حل ہو چکا ہے اور عنقریب اس کے ملکیتی انتقال کے کاغذات آپ کے ہاتھ میں ہوں گے، مگر یہ نوید انتظار کی سولی پہ امید بنکر لٹکتی رہی۔
کی ادائیگی کیلئے ۔حالیہ انتقال کے بعد صورتحال یہ ہے کہ کل اراضی کی ملکیت صوبائی حکومت کے پاس ہے۔ جس میں 119 کنال صوبائی حکومت نے محکمہ اوقاف سے قبرستان اور مذہبی رسومات کیلئے باقاعدہ خریدی ہے جبکہ کل اراضی پہ ’’کوٹلی امام حسین ‘‘ کاشتکار ہے۔ کوٹلی امام حسین (ع) جسے کاشتکار کہا گیا ہے کسی فرد، قوم، قبیلے کا نام نہیں ہے کہ جو کاشتکار کی بنیاد پہ اس اراضی پہ اپنی ملکیت کا دعویدار بنے بلکہ کوٹلی امام حسین (ع) اس جگہ کا نام ہے کہ جس کی ملکیت صوبائی حکومت کے پاس ہے۔ یعنی کاشتکار وہ جگہ ہے کہ جس کی مالک صوبائی حکومت ہے اور اراضی کی مالک تو صوبائی حکومت ہے ہی سہی۔ مطلب سکہ الٹا ہو یا سیدھا، ملکیت صوبائی حکومت کے پاس ہے اور کاشتکار والے جملہ حقوق بھی صوبائی حکومت کے پاس ہیں۔ البتہ کل اراضی میں سے 119 کنال اراضی پہ صوبائی حکومت نے قبرستان اور مذہبی رسومات کی ادائیگی کے حقوق تسلیم کئے ہیں۔

جن افراد نے نومنتخب ممبر صوبائی اسمبلی فیصل امین گنڈہ پور کے ہاتھ سے اس انتقال کے کاغذات وصول کئے ، ان میں سے کوئی ایک بھی یقین کے ساتھ یہ کہنے کی پوزیشن میں نہیں کہ کوٹلی کی اراضی کا مسئلہ حل ہوا ہے یا انتہائی سیاست کے ساتھ اس معاملے پہ ان سے سرنڈر کرایا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کوٹلی امام حسین (ع) کی تین سو سترہ کنال نو مرلے اراضی کی پرانی قانونی حیثیت یعنی وقف امام حسین (ع) بحال کرنے کی راہ میں ایسا کون سا ہمالیہ حائل تھا کہ صوبائی حکومت یہ کرنے سے قاصر رہی۔ نیز صوبائی حکومت کو ایسی کیا مشکل درپیش تھی کہ 119 کنال اراضی کہ جس پہ پہلے سے ہی قبرستان اور زیارات موجود ہیں کیلئے باقاعدہ ادائیگی کی گئی۔ مسئلہ 119 کنال پہ قبرستان کا نہیں تھا۔ مسئلہ تو اس اراضی کی قانونی ملکیت کی بحالی کا تھا اور یہ مسئلہ بھی اس وقت پیش آیا، جب کوٹلی کی اراضی پہ محکمہ اوقاف اور ضلعی حکومت نے ملی بھگت سے اس اراضی پہ غیر قانونی تجارتی تعمیرات
اسی اراضی کی قانونی ملکیتی حیثیت تبدیل کرنے کے بعد اس اراضی پہ تدفین اور عزاداری کی اجازت دیکر حکومت یہ بھی چاہتی ہے کہ اس کی داد و تحسین کی جائے، یعنی میں اپنے گھر پہ ناجائز قبضہ کرنے والا شکریہ محض اس لیے ادا کروں کہ اس نے مجھے اجازت دی ہے، فلاں دن آکر میں اپنے گھر میں نماز پڑھ سکتا ہوں۔
شروع کیں۔ اس کی غیر قانونی لیز کے اقدامات شروع کئے۔ جس کے خلاف اہل تشیع نے آواز اٹھائی تو چپکے سے جعل سازی سے ملکیت اما م حسین (ع) سے محکمہ اوقاف نے اپنے نام منتقل کی۔ اس نام نہاد انتقال کے کاغذات کی تقسیم کے بعد گاہے بگاہے وفاقی وزیر اور ان کے ہم خیال سکیورٹی کے نام پہ پھلجڑی چھوڑتے ہیں کہ حالات کی خرابی اور نزاکت کے باعث ہم قبرستان اور مذہبی اجتماع والے میدان یعنی 119 کنال پہ چاردیواری تعمیر کرنے جارہے ہیں۔ ہم نے چاردیواری کیلئے فنڈز جاری کردیئے ہیں۔ ہم نے ٹینڈر دے دیئے ہیں۔ کیوں بھئی، اتنی کیا جلدی اور فکر پڑی ہے، آپ کو سکیورٹی کیلئے چاردیواری دینے کی۔ اگر چاردیواری دینی ہی ہے تو 317 کنال نو مرلے پہ دو۔ چار دیواری نہ سہی خاردار تاروں کا باڑ ہی لگا دو۔ نشاندہی تو کرو، پتہ تو چلے کہ امام حسین (ع) کے نام پہ وقف جس اراضی کو تم ہڑپنے کیلئے عجلت کا شکار ہو ، یہ اراضی کہاں سے شروع اور کہاں پہ ختم ہورہی ہے۔ اس اراضی پہ کون کون سی ناجائز اور تجارتی تعمیرات قائم ہیں۔ اس کی کتنی بندر بانٹ ہوچکی ہے اور مزید کتنی کرنے کے واسطے تیار بیٹھے ہو۔ خبر نہیں اس مسئلہ پہ اتنی خاموشی کیوں ہے۔؟

اگر ڈی آئی خان کے اہل تشیع کے حالات پہ تمہارا دل اتنا ہی کڑھتا ہے، حقیقی معنوں میں ان کے غمگسار ہو تو ذرا لگے ہاتھوں گزشتہ 35سال کے ریکارڈ پہ بھی ایک نظر ڈال لو۔ ڈی آئی خان میں ان آخری 35 سالوں میں کتنی مساجد اور کتنے مدارس رجسٹرڈ ہوئے ہیں، ان مساجد اور مدارس میں سے کتنے ایسے ہیں کہ جو سرکاری زمین پہ قائم ہیں۔ (چاہے وہ قبضے سے تعمیر ہوئے یا حکومت نے الاٹ کئے)۔ اب لگے ہاتھوں ان سینکڑوں مساجد و مدارس میں کوئی ایک اہل تشیع کی مسجد بھی بتا دو، کوئی ایک امام بارگاہ ہی بتا دو، کوئی ایک مدرسہ یا مکتب ہی بتا دو۔ اگر نہ ملے تو دل پہ ہاتھ رکھ کے یہ جواب دو کہ کیا اس عرصے میں ڈیرہ کے اہل تشیع کی آبادی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ کیا عبادات کی بجاآوری
گنج شہداء میں سینکڑوں شہداء مدفون ہیں کہ جو اندھی دہشتگردی کا نشانہ بنے۔ اسی اراضی پہ مقدسات، زیارات موجود ہیں، یہاں شبیہ روضہ امام حسین (ع)، روضہ غازی عباس (ع)، شبیہ ضریح سیدہ زینب سلام اللہ علیہا کے ساتھ ساتھ مسجد آخرالزمان علیہ السلام، مدرسہ جامعۃ النجف اور تھلہ (امام بارگاہ) امام حسین (ع) موجود ہیں۔ علاوہ ازیں روز عاشور کے تمام جلوسہائے عزا یہیں پہ آکر قیام پذیر ہوتے ہیں
کیلئے انہیں کسی مسجد، امام بارگاہ، مدرسے، عزا خانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اگر سمجھتے ہیں کہ اس ضمن میں بھی اس کمیونٹی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو اب تو کوئی مشکل ہی نہیں ہے، صوبے اور وفاق دونوں میں ایسی پارٹی حکمران ہے کہ جو خود انصاف کی تحریک قرار دیتی ہے۔ اگر انصاف کرنا ہی ہے تو ڈیرہ کے مظلوم تشیع کے ساتھ اس بارے میں انصاف کرو۔ اگر گزشتہ تیس برس میں سرکاری اراضی پہ دیگر مکاتب کی 100عبادت گاہیں رجسٹرڈ ہوئی ہیں اور آپ ڈیرہ میں اہل تشیع کی آبادی 30 فیصد تسلیم کرتے ہیں تو کم از کم 30 مساجد و امام بارگاہوں کیلئے اراضی لینے کا حق تو یہ مظلوم ملت رکھتی ہی ہے۔ آپ 30 نہ سہی 10 مختلف مقامات پہ اہل تشیع مسجد و امام بارگاہ کیلئے زمین الاٹ کریں۔ (بشرطیکہ یہ زمین کوٹلی امام حسین (ع) کی اراضی میں نہ ہو)۔ وہی کوٹلی امام حسین (ع) کہ جس کی سینکڑوں کنال اراضی ایک ہندو نے عشق امام حسین (ع) میں امام کے نام پہ وقف کی اور پہلے محکمہ اوقاف نے پھر صوبائی حکومت نے اس کی ملکیت غصب کرتے ہوئے اسے اپنے نام پہ منتقل کیا۔ امام حسین (ع) کا نام آتے ہی کربلا ذہن میں آتی ہے، کوٹلی امام حسین (ع) کے معاملے پہ میرے ذہن میں کربلا کا ایک جلوس آیا ہے، خوش نصیب زائرین کے بقول عیسائیوں کا ایک جلوس کربلا میں برآمد ہوتا ہے، جو چادریں لیکر آتے ہیں اور امام مظلوم سے اپنی عقیدت و محبت کے اظہار کے ساتھ ساتھ تاریخ دہراتے ہیں۔ روایات میں ہے کہ یزیدیوں نے جب سیدانیوں کی ردائیں چھین کر انہیں برہنہ سر کیا تو عیسائیوں نے اسیر سیدانیوں کی خدمت میں چادریں پیش کیں، تاہم یہ چادریں بھی چھیں لیں گئیں۔ (کتنی سیاہ تاریخ ہے ، ردائیں چھیننے والوں کیلئے، کتنی روشن تاریخ و تابندہ تاریخ ہے ان عیسائیوں کیلئے)۔
کوٹلی امام حسین (ع) کی اراضی بھی ایک ہندو نے امام حسین (ع) کے نام پہ وقف کی تھی۔۔۔۔۔۔
عشق حسین (ع) کے ضمن میں کتنی روشن تاریخ ہے، اس ہندو کیلئے۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.