زائرہ زبیدہ خانم کے بہیمانہ قتل پر خاموش نہیں رہیں گے، فیصل عابدی کے کیس میں انصاف کے تقاضوں کوپورا کیاجائے، ایم ڈبلیوایم

  • بدھ, 17 اکتوبر 2018 14:58

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ سید احمد اقبال رضوی نے کہاہے کہ پاکستان میں کسی بھی شہری کو ایک شہر سے دوسرے شہرمیں داخل ہونے کیلئےاین اوسی کےحصول کوآئین پاکستان کے مطابق بنیادی شہری آزادی پر قدغن شمار کرتے ہیں ،سندھ اور بلوچستان کو زائرین کے لئے نوگوایریا بنا دیاگیا ہے، سندھ سے بلوچستان میں داخل ہونے ہوالے زائرین سے سکیورٹی اداروں کا این او سی طلب کرنا علاقائی، لسانی اور مذہبی تعصب کو فروغ دے رہاہے، ہم زائرین سے ایک صوبے سے دوسرے صوبے میں داخلے پر این اوسی کی طلبی کو مسترد کرتے ہیں ،این او سی کے نام پر زائرین کی آمد ورفت میں رکاوٹ ملت جعفریہ کو کسی صورت منظور نہیں، وفاقی حکومت این اوسی کی آڑ میں شہری آزادیوں پر قدغن کا فوری نوٹس لے اور سابقہ حکومت کے شیڈول روٹس کے قانون پر نظر ثانی کرے بصورت دیگر بھرپور احتجا ج کیاجائے گا۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے صوبائی سیکریٹریٹ وحدت ہائوس سولجر بازارمیں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اس موقع پر علامہ مرزایوسف حسین،علامہ صادق جعفری ،علامہ مبشرحسن، علامہ نعیم الحسن الحسینی،علامہ علی انور جعفری،ناصرحسینی ، میر تقی ظفراورمیثم عابدی بھی موجود تھے۔

انہوں نے کہاکہ حالیہ انتخابات کے بعد وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور وزیر داخلہ شہریار آفریدی کی جانب سے زائرین کے مسائل اور تفتان بارڈر پر درپیش مشکلات کے ازالے کے لئے فوری اقدامات کی ہدایات جاری کیں تھیں ملت جعفریہ میں امید کی کرن جاگی تھی کہ سابقہ دور حکومت سے زائرین کو درپیش مشکلات کے خاتمے کا وقت قریب آپہنچا ہے لیکن افسوس بلوچستان حکومت ، سکیورٹی اداروں اور ایف سی حکام نے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے احکامات کو ہو ا میں اڑا دیا ہے، تفتان، کوئٹہ اور اب سندھ بلوچستان بارڈر پر زائرین کو شدیدازیتوں اور مصائب میں مبتلا کیا جارہا ہے، توبت زائرین کی ہلاکتوں تک پہنچ چکی ، وزیر اعظم پاکستان اور وزیر داخلہ اس صورت حال کا فوری نوٹس لیں اور سابقہ مسلم لیگ نواز کی طرز حکمرانی کی روش پر چلنےسے اجتناب کریں۔ورنہ ملت جعفریہ ن لیگ حکومتی کی طرح موجودہ حکومت کے ظالمانہ کردار اور رویئے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرے گی۔

ان کا کہنا تھاکہ ہر سال کی طرح اس سال بھی زمینی اور ہوائی راستے سے تقریباً1لاکھ 40ہزار سے زائد زائرین کربلا معلیٰ کی زیارت کی تیاری کرچکے ہیں، اس وقت بھی تین ہزار سے زائد زائرین ایک ہفتے سے کوئٹہ میں موجود ہیں اور تفتان بارڈر کی جانب روانگی کے لئے حکومتی اجازت نامے کے منتظر ہیں لیکن تاحال انہیں اجازت نہیں دی جارہی ، کوئٹہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق آئندہ وآنے والے چند روز میں 40ہزار کے قریب زائرین کوئٹہ پہنچنے والے ہیں،ایسی ہی صورت حال کا سامنا زائرین کو تفتان بارڈر پربھی ہے جہاں ایران وعراق سے واپس آنے والے زائرین ہفتوں کھلے آسمان تلے دن کی دھوپ اور رات کی سردی میں زندگی گذارنے پر مجبور ہیں،تفتان بارڈر پر بھی زائرین کو سکیورٹی کلیئرنس کے نام پر ہفتوں ازیت پہنچانے کاسلسلہ تاحال جاری ہے، حکومتی اداروں کی نا اہلی اورسہولیات کی عدم فراہمی کے سبب تفتان اور کوئٹہ میں تین زائرین گذشتہ ایک ہفتے میں جاں بحق ہوچکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہاکہ زائرین امام حسین ؑ پر ظلم وبربریت کے قصے فقط کوئٹہ اور تفتان بارڈر تک محدود نہیں یہ مظالم سندھ بلوچستان بارڈر تک پھیل چکے ہیں، جیکب آباد کے راستے سندھ سے بلوچستان میں داخل ہونے والے زائرین کے قافلوں کو پولیس اور سکیورٹی اداروں کی جانب سے این او سی کے نام پر روکا جارہا ہے، جہاں رشوت کی وصولی کی بھی اطلاعات ہیں ، آج الصبح ایک خاتون زائرہ کوشراب کے نشے میں دہت پولیس اہلکاروں نے مبینہ غفلت کے نتیجے میں بس سے کچل کر شہید کردیاہے، شہید زائرہ زبیدہ خانم کا تعلق کراچی سے تھا جنہیں بے دردی سے کچل دیا گیا، ہم اس ظلم پر خاموش نہیں رہیں گے،بلوچستان کی بیوروکریسی اور پولیس میں سفارشی بھرتیوں کے باعث شدید بد انتظامی دیکھنے میں آتی ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سانحے میں ملوث ایس ایچ او گل حسن ،چوکی انچارج داد محمد ودیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری طور پر مقدمہ درج کیا جائے اور انہیں قرارواقعی سزادی جائے، بصورت دیگر ملت جعفریہ شدید احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

رہنمائوں نے مزید کہاکہ عراقی سفارت خانے کی جانب سے ویزے کے اجراءمیں تاخیر کے باعث اب تک ایک درجن سے زائد فلائٹس زائرین کو لئے بغیر روانہ ہوگئی ہیں جس سے ہزاروں زائرین کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا ہے،ہم عراقی وزارت خارجہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسلام آباد میں قائم عراقی سفارت خانے کوبروقت ویزوں کے اجراء کا پابند بنائے تاکہ ایک لاکھ 40ہزار سے زائرین جنہوں نے عراقی ویزوں کے لئے رجوع کیا ہوا ہے بروقت اپنے ویزے حاصل کرکے اپنی بک شدہ فلائٹس سے عراق روانہ ہوسکیں اور ٹکٹس کی بکنگ کی مدمیں کروڑوں روپے کا ضیاع نا ہوسکے ، اس حوالے سے پاکستانی وزارت خارجہ بھی اپناسفارتی کردار اداکرتے ہوئے عراقی حکومت سے پاکستان میں پھنسے ہوئے ایک لاکھ سے زائد زائرین کی فوری طور پر عراق روانگی کے لئے دبائو ڈالےتاکہ لاکھوں زائرین کی تشویش اور مشکلات کا خاتمہ ممکن ہو سکے ۔

رہنمائوں کا آخر میں کہناتھا کہ فیصل رضا عابدی ایک محب وطن اور شہید پرور شخصیت ہیں،ان پر دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمے کا اندراج قابل مذمت ہے ، افسوس کی بات ہے کہ اس وطن عزیز میں ہزاروں بے گناہ شیعہ سنی پاکستانیوں ، افواج پاکستان اور معصوم بچوں کے قاتل آزاد گھوم رہے ہیں، چوک چوراہوں پر بیٹھ پر معزز جج صاحبان کو مغلظات بکنے والے سینہ تان کر گھوم رہے ہیں، ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر اعلیٰ عدلیہ پر صبح شام لعن طعن کرنے والوں کو کوئی نہیں پوچھتا لیکن ایک تنقیدی انٹرویو پر فیصل رضا عابدی کے خلاف دہشت گردی کی دفعات پر مشتمل مقدمے کا اندراج پولیس کے متعصبانہ کرادر کی عکاسی کرتا ہے، فیصل رضا عابدی کو زنجیروں میںجکڑ کر عدالت میں لایا جانا قابل مذمت ہے ایسے مناظر تو قوم نےبھارتی ایجنٹ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے وقت بھی نہیں دیکھے تھے، ہم محترم چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کرتے ہیں ہے کہ فیصل رضا عابدی کے حوالے سےعدلیہ کے سخت موقف میں نرمی برتے ہوئےفوری رہائی کے احکامات جاری فرمائیں تاکہ قوم کی اضطراب اور تشویش کا بھی خاتمہ ممکن ہو سکے ۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.