جمال خاشقجی کی ہلاکت کے معاملے پر برطرف کیے گئے جنرل احمد العسیری کون ہیں؟

  • اتوار, 21 اکتوبر 2018 12:18

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) 17 دنوں تک شدید تردید کرنے کے بعد سعودی عرب کے سرکاری ٹی وی نے سنیچر کو تصدیق کی کہ صحافی جمال خاشقجی استنبول میں سعودی قونصل خانے میں جھگڑے میں ہلاک ہوگئے تھے۔یہ پہلا موقع تھا کہ سعودی حکام نے جمال خاشقجی کی موت تسلیم کی تھی، جو بظاہر قونصل خانے کے اندر ہونے والے 'جھگڑے اور زور آزمائی' کا نتیجہ تھی۔یہ بھی سامنے آیا کہ ولی عہد محمد بن سلمان کے قریبی ساتھی سمجھے جانے والے دو اہم افراد نائب انٹیلی جنس چیف احمد العسیری اور رائل کورٹ کی میڈیا ایڈوائزر سعود القحطانی کو شاہ سلطان نے اس معاملے پر برطرف کر دیا ہے۔میجر جنرل احمد العسیری کو ولی عہد محمد بن سلمان کے قریبی حلقے میں کلیدی فرد سمجھا جاتا ہے۔جنرل عسیری عالمی سطح پر اس وقت منظرعام پر آئے جب مارچ 2015 میں یمن کی جنگ کا آغاز ہوا۔ انھوں نے سعودی عرب اور ہمسایہ ملک یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف سعودی عرب کی سربراہی میں بننے والے اتحاد کے ترجمان کا کردار ادا کیا۔اس کے دو سال تک انھوں نے اس وقت کے وزیر دفاع اور جنگ کے معمار ولی عہد محمد بن سلمان کے قریب رہتے ہوئے کام کیا۔

سعودی ترجمان
جنرل عسیری کو عربی، انگریزی اور فرانسیسی زبان پر عبور حاصل ہے اور انھوں نے یمن میں بلاامتیاز بمباری کے الزامات کے خلاف سعودی عرب کا موقف واضح دلائل کے ساتھ پیش کی اپنی صلاحیت سے صحافیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔لیکن مارچ 2017 میں دورہ لندن کے دوران وہ اس وقت اپنے اوپر قابو نہ رکھ جب ایک بین الاقوامی کانفرنس میں تقریر سے پہلے مظاہرین نے ان پر انڈے پھینکے تھے۔اس واقعے کی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ جنرل عسیری کو جب ایک اڑتا ہوا انڈا لگتا ہے تو وہ مظاہرین کے جانب مڑتے ہیں اور انھیں اپنے ہاتھ کی درمیانی انگلی دکھاتے ہیں۔اس کے کچھ عرصہ بعد ہی انھیں سعودی عرب کے سرکاری انٹیلی جنس ادارے جنرل انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کا نائب سربراہ مقرر کر دیا جاتا ہے۔

فوجی کیریئر
یہ عہدہ ایک ایسے شخص کے لیے مزید ایک اور اعزاز تھا جو سعودی عرب کی فوج میں اعلیٰ سطح پر پہلے ہی کئی اعزازات کے ساتھ پہنچا تھا۔سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنرل عسیری سعودی عرب کے جنوب مغربی صوبے عسیر کی چھوٹے سے قصبے محایل سے تعلق رکھتے ہیں۔لیکن فوج میں ان کی اٹھان غیرمعمولی رہی ہیں۔اطلاعات کے مطابق انھوں نے مغرب کی کئی نامور فوجی اکیڈمیوں سے تربیت حاصل کی جن میں امریکہ کی سینڈہرسٹ اور ویسٹ پوائنٹ اور فرانس میں سینٹ سیر سے تربیت شامل ہیں۔

زوال
جنرل عسیری ایک ایسا شخص کے طور پر تسلیم کیے جاتے تھے جن کے پاس اپنے طور پر کوئی اہم فیصلہ لینے کا خاصا اختیار تھا لیکن جمال خاشقجی کے قتل میں ان کا کردار تاحال ایک اسرار ہے۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے ایک ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ انھیں مبینہ طور پر محمد بن سلمان کی جانب سے جمال خاشقجی کو سعودی عرب میں تفتیش کے لیے پکڑنے کا زبانی اختیار دیا گیا تھا۔سنیچر کو انھیں برطرف کرنے سے پہلے، نیویارک ٹائمز نے چند روز قبل کہا تھا کہ سعودی عرب جمال خاشقجی کی گمشدگی کا الزام جنرل عسیری پر عائد کر سکتی ہے تاکہ طاقت ور ولی عہد محمد بن سلمان پر کسی قسم کا الزام نہ آئے۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.