آئی ایس او کا ’’رحمۃ للعالمین کنونشن‘‘ اتحاد امت کی عظیم مثال ثابت ہوگا، جمیل طوری

  • منگل, 06 نومبر 2018 14:30

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )جمیل طوری امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی نائب صدر ہیں۔ سرگودھا یونیورسٹی میں سافٹ ویئر انجینئرنگ کے طالبعلم ہیں۔ کرم ایجنسی کے صدر مقام پاراچنار سے تعلق رکھتے ہیں۔ سرگودھا یونیورسٹی کے طالبعلم ہیں۔ سرگودھا یونیورسٹی یونٹ کے صدر بھی رہے، بعدازاں سرگودھا کے ڈویژنل صدر بھی بنے۔ چھٹی کلاس سے ہی آئی ایس او سے وابستہ ہوگئے تھے، 3 سال تک محب یونٹ کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ انتہائی بااخلاق، مخلص اور انسان دوست شخصیت کے مالک ہیں، آئی ایس او کے کارکنوں کے تربیتی امور کے حوالے سے ہی ہر وقت مصروف عمل دکھائی دیتے ہیں۔ آئی ایس او کے سالانہ مرکزی کنونشن کیلئے انہیں ’’چیئرمین کنونشن‘‘ کی بھی اضافی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ اس حوالے سے ’شیعہ نیوز‘ نے کنونشن کی تیاریوں، تنظیمی امور اور ملکی حالات کے حوالے سے ان سے کچھ گفتگو کی، جو قارئین کیلئے پیش خدمت ہے۔

شیعہ نیوز: آئی ایس او پاکستان کا امسال کنونشن کس عنوان سے منایا جا رہا ہے۔؟
جمیل طوری: آئی ایس او پاکستان کا سالانہ کنونشن 23 سے 25 نومبر بانی تنظیم شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کے مرقد پہ ’’رحمة للعالمین کنونشن‘‘ کے عنوان سے منعقد کیا جا رہا ہے۔ 23 سے 25 نومبر جن دنوں کنونشن کا انعقاد کیا جا رہا ہے، یہ ایام ہفتہ وحدت کے ہیں چونکہ ہر سال امام خمینی کے فرمان کے مطابق دنیا بھر میں ہفتہ وحدت تزک و احتشام سے منایا جاتا ہے اور رسول خدا حضرت محمد ۖ کی ذات تمام امت مسلمہ کیلئے نقطہ اشتراک ہے، اس لئے مجلس عاملہ اور مرکزی کابینہ کے عہدیداران کی مشاورت سے اسی مناسبت سے کنونشن کا نام رحمة للعالمین کے نام سے منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا اور اس سلسلہ میں کنونشن میں سیرت النبی کانفرنس بھی منعقد ہوگی اور جشن صادقین بھی منایا جائے گا۔

شیعہ نیوز: آئی ایس او کی روایت تھی کہ کنونشن لاہور شہر میں ہی ہوتا تھا جبکہ اب جامعۃ المنتظر کی بجائے علی رضا آباد میں ہوتا ہے، کیا جامعہ سے کوئی اختلافات ہیں۔؟
جمیل طوری: نہیں جامعہ سے ہرگز کوئی اختلاف نہیں، گذشتہ سالوں میں جامعہ میں تعمیراتی کاموں کا سلسلہ جاری تھا تو جامعہ کی جانب سے کچھ سال تک کنونشن کی اجازت نہیں ملی، اب جبکہ تعمیرات کا کام مکمل ہوگیا ہے اور اجازت کے لئے کوشش کی گئی، لیکن جامعہ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ہم کسی تنظیم کو یہاں اجتماع کی اجازت نہیں دیں گے۔ البتہ یہ ایک قومی اثاثہ ہے اور ہر ایک کو یہاں پروگرام کے انعقاد کی اجازت ہونی چاہیئے۔ کنونشن تجدید عہد اور نئے عزم کا موقع ہوتا ہے، اس لئے بانی تنظیم شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید کے مرقد پہ منعقد ہونا کارکنان کیلئے رشد و ہدایت کا سبب بھی بنے گا۔ اس لئے پھر تنظیم کی مجلس عاملہ نے فیصلہ کیا تھا کہ اگر جامعہ المنتظر والے اجازت نہیں دیں گے تو مرقد شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی پر ہی کنونشن کا انعقاد کروایا جائے گا۔

شیعہ نیوز: کنونشن میں امسال کتنی شرکت متوقع ہے؟ کیا بیرون ملک سے بھی کوئی شخصیت شریک ہوگی۔؟
جمیل طوری: رحمة للعالمین کنونشن میں ملک بھر سے ہزاروں امامیہ طلبہ، سابقین شریک ہوں گے، اس حوالے سے رابطہ مہم کا آغاز کیا گیا ہے۔ تمام ڈویژن میں وفود یونٹ اراکین اور سابقین کو دعوت دیں گے۔ دعوتی عمل کا آغاز بھی ہوچکا ہے۔ تشہیری مہم سوشل میڈیا پر اور یونٹس میں شروع کر دی گئی۔ جہاں تک اہم شخصیات کا تعلق ہے تو ملکی و غیر ملکی شخصیات کی آمد حتمی طور پر ممکن ہے، جو کنونشن کی کانفرنس اور سیمینار میں شریک ہوں گے۔

شیعہ نیوز: کنونشن کے اہم پروگرامات کیا ہونگے۔؟
جمیل طوری: پاکستان بھر میں اب تک پانچ سو سے زائد علماء کرام اور کنونشن کے مقررین سمیت باہر سے بھی شخصیات سے رابطہ کیا گیا ہے۔ تعلیمی کانفرنس، اُنس با قرآن، جشن صادقین، محفل دوستان، محبین کنونشن اور محسنین انسانیت کانفرنس کا انعقاد ہوگا، جس سے شیعہ سنی علما کرام جن میں علامہ راغب نعیمی، صاحبزادہ حامد رضا، غلام عباس رئیسی، پیر معصوم شاہ، ناصر شیرازی اور جید علماء کرام شامل ہیں شریک ہوں گے۔ جشن صادقین میں نعت خواں اور منقبت خواں حضرات جن میں برادر عاطر، زوار بسمل، شادمان رضا، حافظ طاہر قادری سمیت دیگر شامل ہیں، جبکہ کنونشن کے آخری روز مرکزی صدر کا اعلان ہوگا۔

شیعہ نیوز: کنونشن میں طلبہ، سابقین اور شرکاء آخر کس مقصد و ہدف کیلئے آئینگے۔؟
جمیل طوری: اچھا سوال ہے۔ جی دیکھیں، آئی ایس او کا یہ سالانہ کنونشن نوجوانوں کی رائے سازی میں سنگ میل ثابت ہوگا۔ سٹڈی سرکل سمیت کنونشن کے اہم پروگرامات میں نوجوانوں کی فکری تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور یہ تین روزہ کنونشن نوجوان نسل کی تعلیمی فکری تربیت کیساتھ ساتھ ترقی اور فکری بالیدگی کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، آئی ایس او کا یہ کنونشن عالمی حالات کے تناظر میں اور ملکی صورتحال کے حوالے سے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ عالمی امور کے ماہرین اور دانشور بین الاقوامی صورتحال کے حوالے سے امت مسلمہ کا بالخصوص نوجوانوں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے خطاب کریں گے۔

شیعہ نیوز: ملی مسائل کی بات کی جائے تو آئی ایس او کے سابق مرکزی صدر کو اغواء کر لیا گیا ہے، اس حوالے سے کوئی موثر قدم کیوں نہیں اٹھایا جا رہا۔؟
جمیل طوری: ملت تشیع کے جن جوانوں، علماء کرام اور بزرگان کو جبری طور پہ لاپتہ کیا جا رہا ہے، یہ قابل مذمت عمل ہے اور آئی ایس او پاکستان ملت کے اس سنگین مسئلہ پہ خاموش نہیں، جہاں تک ممکن ہوا ہے دیگر ملی تنظیموں کیساتھ ملکر اس مسئلہ کے حل کیلئے عملی کوششیں کی ہیں، جس کے نتیجہ میں کئی افراد واپس بھی آئے ہیں، اس حوالے سے قانون نافذ کرنیوالے اداروں سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے، اگر لاپتہ افراد نے کوئی جرم کیا ہے تو ملک میں قانون اور عدالتیں موجود ہیں، اگر وہ مجرم ہیں تو عدالت میں پیش کیا جائے، وہ کس حال میں ہیں اور کہاں ہیں، ورثاء کیلئے بھی تکلیف دہ ہے، ہم قانون کی عملداری اور بالادستی کے قائل ہیں۔ آپ دیکھیں گذشتہ دنوں پاکستان بھر میں کیسے اداروں کیخلاف پروپیگنڈہ کیا گیا، لاقانونیت کا مظاہرہ کیا گیا، لیکن ملت تشیع پاکستان نے ہمیشہ مظلومیت کیساتھ پُرامن جدوجہد جاری رکھی، کیونکہ ہم حقیقی محب وطن پاکستانی ہیں۔

شیعہ نیوز: آئی ایس او پاکستان کے بارے میں رائے پائی جاتی ہے کہ تعلیم سے زیادہ ملی مسائل میں پیش پیش نظر آتی ہے۔؟
جمیل طوری: ایسا ہرگز نہیں، آئی ایس او پاکستان ملت تشیع کے نوجوان طلبہ تنظیموں کی نمائندہ تنظیم ہے، تعلیم و تربیت آئی ایس او کی اولین ترجیح ہے، جس کیلئے ملک بھر کی یونیورسٹیز میں عملی طور پر عمل پیرا ہے، کیرئیر گائیڈنس ہو یا تعلیمی وظائف کا معاملہ اور امتحان سے پہلے امتحان کا انعقاد، آئی ایس او پاکستان کی یہ کاوشیں تشخص بن چکی ہیں۔ یہاں یہ بھی بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ مرکزی کابینہ کے نصف عہدیدران گولڈ میڈلسٹ ہیں اور ہائر ایجوکیشن حاصل کر رہے ہیں، جس کیلئے وہ دنیا کی ٹاپ ریکنگ یونیورسٹیز کا رخ بھی کرچکے ہیں۔ ہاں جہاں قومی حوالے سے نوجوانوں کے کردار کی بات ہوتی ہے تو آئی ایس او وہاں بھی اپنا کردار ادا کرتی ہے، ظاہر ہے کچھ کام ہوتے ہی جوانوں کے کرنے کے ہیں، تو قوم آئی ایس او کے صالح نوجوانوں کی طرف ہی دیکھتی ہے اور قوم کو اس حوالے سے الحمدللہ آئی ایس او پر اعتماد بھی ہے، یہ ہمارے لئے اعزاز کی بات ہے کہ قوم کسی اور پر اعتماد کرے یا نہ کرے، آئی ایس او اور آئی ایس او کے موقف پر ہمیشہ اعتماد کرتی ہے۔

شیعہ نیوز: جامعات میں پُرتشدد کارروائیاں، خاص طور پہ پنجاب یونیورسٹی میں گذشتہ دنوں ہونے والے واقعہ کو بطور طالعبعلم کس نظر سے دیکھتے ہیں۔؟
جمیل طوری: جامعات میں پُرتشدد کارروائیاں پُرامن طلبہ تنظیموں کیلئے بدنامی کا باعث ہیں، آئے روز طلباء کے مابین تصادم اور پُرتشدد واقعات جنم لیتے ہیں، ایسی پرتشدد کارروائیاں ہی طلباء یونین کی بحالی میں رکاوٹ ہیں، تمام طلباء تنظیموں کو تعلیم کے فروغ اور ملک کی ترقی کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیئے اور ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیئے، جو جامعات میں انتہا پسندانہ کارروائیوں میں ملوث پائے جاتے ہیں۔

شیعہ نیوز: بطور مرکزی نائب صدر آپ کیا سمجھتے ہیں کہ عصر حاضر میں آئی ایس او کو کونسی مشکلات درپیش ہیں۔؟
جمیل طوری: قوم کو درپیش مشکلات ہی آئی ایس او کی مشکلات ہیں۔ میڈیا کی یلغار، نوجوان کے ہاتھ میں اینڈرائڈ ہے، افراد کے درمیان رابطہ جو ہوتا تھا، آج ٹیکنالوجی نے نوجوان کو اپنی ذات تک محدود کر دیا ہے۔ تعلیم کے بوجھ والے نظام نے، تعلیمی اداروں کے ماحول نے بچوں کو انگیج کر لیا ہے۔ میڈیا اور استعمار کے ہتھکنڈے، پاکستان کے حالات، دہشتگردی، ایسے مسائل ہیں کہ والدین بچوں کیلئے ضرورت محسوس کرنے کے باوجود منع کرتے ہیں کہ آپ تنظیم کو جوائن نہ کریں۔ پاکستان کے اندر بدامنی اور خوف بہت بڑا چیلنج ہے۔ ایسے ماحول میں یونیورسٹی کے نظام میں موجود آج کے نوجوان کو خرافات سے نکال کر دین کی طرف لانا بذات خود ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ یہ مشکلات ہیں، جن کیلئے آئی ایس او طلبہ کو دین کی طرف راغب کرتی ہے اور انکی دینی خطوط پر تربیت کرتی ہے، تاکہ وہ صالح انسان اور اچھے مومن بن کر معاشرے میں موثر کردار ادا کرسکیں۔ ہم نوجوانوں کو یہ شعور دیتے ہیں، جس کی بدولت وہ استعمار کی ان سازشوں کا ادراک کر لیتا ہے اور پھر ان مشکلات کا نہ خود شکار ہوتا ہے اور نہ اپنے دوستوں کو ہونے دیتا ہے۔

شیعہ نیوز: عالمی حالات کے تناظر میں یمن میں آل سعود کے مظالم اور امریکہ و اسرائیل کی دنیا میں بربریت کیصورت میں عالم اسلام کے پاس کیا راہ حل ہے۔؟
جمیل طوری: عالم اسلام کے تمام مسائل کا حل اتحاد و یگانگت میں ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ہمیشہ استعمار، استکبار جس چیز سے خائف رہا ہے یا جس طاقت نے اٹھ کر ان ظالموں کا مقابلہ کیا ہے، وہ مکتب تشیع ہے۔ عالم اسلام میں بھی آج تک کسی نے مزاحمت کی ہے یا آواز حق بلند کی ہے اور استعمار کو للکارا ہے تو وہ مکتب تشیع ہے اور اسی طرح امام راحل، امام خمینی کی اسلامی تحریک کی کامیابی کے بعد استعمار زیادہ خوفزدہ ہے کہ کہیں یہ اسلامی انقلاب پورے عالم اسلام میں نہ پھیل جائے، یہی وجہ ہے کہ شیعہ نشین مناطق کو نشانہ بنا رہے ہیں، تاکہ خانہ جنگی کی فضا پیدا کرکے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کی جاسکے۔ جہاں تک اس کے حل کی بات ہے، اس کا حل استعمار شناسی، حقیقی دشمن کی پہچان، رہبریت سے تمسک اور مسلمانوں کا آپس میں اتحاد ہے، اسرائیل کے مقابل حماس کی کامیابی آپکے سامنے ہے، جو نظام ولایت سے تمسک کا نتیجہ ہے۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.