سلطان قابوس: اسرائيل، ایران اور عمان کی 'لو ٹرائینگل کا ہیرو'

  • منگل, 13 نومبر 2018 12:53

شیعہ نیوز :پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) عمان کی اپنی مخصوص خارجہ پالیسی رہی ہے اور شاید اسی لیے مشرق وسطیٰ کے ایک سرے پر موجود یہ چھوٹا سا ملک ایک بار پھر سے خطے کے مختلف تنازعات میں سے ایک کے مرکز میں آ گیا ہے۔اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامن نتن یاہو کی میزبانی سے عمان مشرق وسطیٰ کے اخبارات کی سرخیوں میں آیا ہے۔شاید عمان کی یہ پیش قدمی مشرق وسطیٰ کے ممالک میں اسرائیل کو تسلیم کرنے اور تل ابیب کے ساتھ دوسرے عرب ممالک کے تعلقات استوار کرنے کے لیے راستہ ہموار کرے۔اسرائیلی وزیر اعظم کے دارالحکومت مسقط کے غیر متوقع دورے کے ایک دن بعد ایران کی پالیسی کے برخلاف عمان نے کہا کہ شاید اب وقت آ گیا ہے کہ اسرائیل کو بھی علاقے کے دیگر ممالک کی طرح قبول کیا جائے۔خیال رہے کہ ایران کے ساتھ عمان کے رشتے ہمیشہ دوستانہ اور میٹھے رہے ہیں۔
عمان کی خارجہ پالیسی
نتن یاہو کے مسقط کے دورے سے صرف چار دن پہلے عمانی وزیر خارجہ کے سیاسی معاون محمد بن الحسن نے تہران کا دورہ کیا تھا اور ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف سے ملاقات بھی کی تھی۔بیک وقت اسرائیلی وزیراعظم کی میزبانی اور ایران کے ساتھ دوستانہ رشتے ہی درحقیقت سلطان قابوس کی مخصوص خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہیں۔عمان نے 70 سال سے اب تک ایک منفرد حکمت عملی اپنا رکھی ہے جس کی مثال مشرق وسطیٰ میں کم ہی پائی جاتی ہے۔عمان علاقائی تنازعات میں عام طور پر غیرجانب دار ہی رہتا ہے۔عمان عرب ملک ہے اور خلیج تعاون کونسل کا رکن بھی ہے، لیکن وہ اس علاقے میں 'اتحادی ممالک کو دھوکہ دینے والے' ممالک کے گروپ میں شامل نہیں ہے۔دیگر ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کبھی نہیں کرتا اگرچہ حالیہ برسوں میں مشرق وسطیٰ میں ایسے حالات کئی بار پیدا ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر شام اور یمن کی صورت حال۔اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ عمان نے ہمیشہ طرفین کا ساتھ دیا ہے تاکہ ثالثی کا اعزاز حاصل کر سکے۔
عمان ہی کیوں؟
عمان کی انھی خصوصیات نے اسے ایک غیر جانبدار اہم سیاسی کھلاڑی کے طور پر قائم کیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ گذشتہ چند دنوں کے دوران عمان کے سفارت کار بڑی تعداد میں دوسرے ممالک کا دورہ کرتے نظر آئے ہیں اور دوسرے ممالک کے رہنما اور سفارت کار مسقط آئے ہیں۔ اس آمدورفت نے وہاں کی سیاست کے بارے میں قیاس آرائیوں کی ہوا دی ہے۔آج اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کی بحالی کی کوششوں میں بڑھتی ہوئی نامیدی کے سائے تلے اگر عمان کو اس تاریخی تنازعے میں ثالثی کا کردار ادا کرنے کا موقع مل رہا ہے تو یہ راتوں رات کیے گئے فیصلوں کا نتیجہ نہیں ہے۔ بلکہ اس کی وجہ سلطان قابوس کی پالیسیاں ہیں۔سلطان قابوس نے 70 کی دہائی میں اقتدار میں آنے کے بعد اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد کا فیصلہ کیا۔ اس سے قبل عمان ایک الگ تھلگ رہنے والا ملک تھا۔آزادی کو دو دہائیاں گزر چکی تھیں لیکن دنیا کے دیگر ممالک سے عمان کا کوئی تعلق، کوئی سروکار نہیں تھا۔لیکن جب سلطان قابوس نے اپنے والد کا تختہ الٹنے کے بعد اقتدار سنبھالا تو انھوں نے اپنے ملک کو اس تنہائی سے باہر نکالا۔عمان کے ایران کے شاہ کے تعلقات اور اس کی خارجہ پالیسی اس وقت سامنے آئی جب عمان نے ظفار صوبے میں مسلح کمیونسٹ بغاوت کو کچلنے کے لیے ایران سے مدد لی تھی۔عمان اور دوسرے عرب ممالک کے درمیان سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ یہاں زیادہ تر 'اباضی' فرقے کے لوگ آباد ہیں جو نہ شیعہ ہیں اور نہ ہی سنی۔عمان تاریخی طور پر بھی اپنی علیحدہ شناخت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ سلطان قابوس کا خاندان 18 ویں صدی کے وسط سے عمان پر حکمراں ہے۔
ایران اور عمان کے تعلقات
عوام اس خاندان کو اس 'عمانی سلطنت' کے وقار کا محافظ خیال کرتی ہے جو کبھی موزمبیق سے لے کر تنگنائے ہرمز تک پھیلا ہوا تھا اور جس پر عمان آج بھی اپنا دعویٰ پیش کرتا ہے۔ایران کے ساتھ اچھے تعلقات کے ساتھ عمان نے کبھی بھی اپنی عرب شناخت نہیں کو نہیں بھلایا اور ہمیشہ اپنے عرب پڑوسیوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھے۔ ان کے ساتھ عمان ن 'خلیج تعاون کونسل' قائم کی۔ایرانی انقلاب کے بعد گذشتہ چار دہائیوں میں ایران اور عرب ممالک کے تعلقات تنازعات کا شکار رہے جیسے ایران-عراق جنگ، ایران اور سعودی عرب میں 'انقلاب کی برآمد' پر تنازع، اور حج کے موقعے پر تصادم اور خلیج کے کچھ جزائر پر ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تنازعات وغیرہ لیکن ان میں سے کسی بھی معاملے پر عمان اور ایران کے تعلقات کبھی خراب نہیں ہوئے۔بلکہ ایران نے عمان اور امریکہ کے درمیان سنہ 1980 کے اہم فوجی معاہدے پر بھی تعلقات میں تلخی نہیں آنے دی۔
عمان اور اسرائیل
عمان کا ایک طرف ایران سے خصوصی تعلق رہا ہے تو دوسری طرف عرب ممالک کے ساتھ اس کی خارجہ پالیسی غیر جانبداری کی رہی اور وہ آزادانہ طور پر فیصلے لینے کے اصول پر کاربند رہا ہے۔عمان کی یہ خصوصیت یمن کی جنگ کے معاملے پر یا قطر سے تعلق توڑنے کے معاملے پر یا جمال خاشقجی کی موت کے معاملے پر عرب ممالک کے مختلف گروہ بنے تو کسی ملک نے یہ امید نہیں رکھی کہ عمان نے ان کے ساتھ آئے گا۔اسی طرح عمان نے ہمیشہ اسرائیل کے معاملے میں مختلف پالیسی کی پیروی کی ہے۔عمان ہی نے سنہ 1977 میں مصری صدر انوار سادات اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کی حمایت کی تھی۔مصر اسرائیل امن معاہدے کے بعد عمان ان تین عرب ممالک میں تھا جس نے مصر سے تعلقات ختم نہیں کیے تھے۔سلطان قابوس ان عرب رہنماؤں میں شامل ہیں جو ہمیشہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان براہ راست مذاکرات کی حمایت کرتے رہے ہیں۔اسی طرح 90 کی دہائی میں جب خلیج فارس کے عرب ممالک اسرائیل کے خلاف سخت پالیسی اپنائے ہوئے تھے تو سلطان قابوس نے اسرائیل کے بائیں بازو کے وزیر اعظم اسحاق رابن کا مسقط میں خیر مقدم کیا تھا۔اس کے باوجود عمان اور اسرائیل کے درمیان تعلقات سرکاری طور پر سفارتی سطح تک نہیں پہنچے ہیں، لیکن عمان نے باقی عرب ممالک کی طرح اسرائیل کے خلاف پروپیگنڈے کا سہارا بھی نہیں لیا بلکہ مختلف راستے پر چلنے کا فیصلہ کیا۔خیال رہے کہ نتن یاہو نے اسی ہفتے مسقط کا دورہ کیا جس ہفتے فلسطین کی خومختاری کے حامی محمود عباس نے عمان کا دورہ کیا۔ایسے میں یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ شاید عمان مشرق وسطیٰ کے اس تاریخی تنازعے میں ثالثی کا کردار ادا کرے گا۔
عمان کا کردار
عمان نے کئی بار شدید تنازعات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان میں برطانوی بحریہ کے اہلکاروں کی رہائی ، ایران میں امریکی قیدیوں کا معاملہ، یہاں تک کہ ایران-امریکہ مذاکرات میں خفیہ رابطہ کے کردار شامل ہیں۔پہلے وہ خفیہ طور پر ثالث کا کردار ادا کرتا رہا ہے لیکن اس بار ان کی ثالثی کی کوشش قبل از وقت سامنے آ گئی ہے۔بہر حال اگر عمان اسی قسم کی کوشش تہران اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے سلسلے کرے اس سے اسرائیل اور خلیجی عرب ممالک کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔اور عمان کے لیے یہ اپنے آپ میں ایک بڑی سفارتی کامیابی ہو گی۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.