کلایہ سمیت تمام شیعہ نشین علاقوں کا اندرونی انتظام خود انکے رضاکاروں کے سپرد کیا جائے، علامہ عابد الحسینی

  • پیر, 26 نومبر 2018 14:14

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) علامہ سید عابد حسین الحسینی کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ وہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ اور اسکے بعد تحریک جعفریہ میں صوبائی صدر اور سینیئر نائب صدر کے عہدوں پر فائز رہنے کے علاوہ ایک طویل مدت تک تحریک کی سپریم کونسل اور آئی ایس او کی مجلس نظارت کے رکن بھی رہے۔ 1997ء میں پاکستان کے ایوان بالا (سینیٹ) کے رکن منتخب ہوئے، جبکہ آج کل علاقائی سطح پر تین مدارس دینیہ کی نظارت کے علاوہ تحریک حسینی کے سرپرست اعلٰی کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ ’’شیعہ نیوز‘‘ نے اورکزئی کلایہ دھماکہ کے حوالے سے انکے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا ہے، جسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔(ادارہ)

شیعہ نیوز: اورکزئی کلایہ میں دھماکے کے پیچھے کون ہوسکتا ہے اور اسکے کیا اسباب ہوسکتے ہیں۔؟
علامہ سید عابد حسینی: اسکے پیچھے کون ہے، یہ تو سب کو معلوم ہے، بلکہ یہ قوتیں ایسی بزدلانہ کارروائیوں پر فخر کرتے ہوئے خود ہی اعتراف کرتی ہیں۔ مختلف ناموں سے ایک طرز اور مکتبہ فکر کے لوگ ہیں، حکومت کو جنکا بخوبی علم ہے، جبکہ اسباب مختلف ہوسکتے ہیں۔ ان میں سے ایک اور سب سے بڑا سبب سکیورٹی کا فقدان اور غفلت ہے۔ چند سال قبل جب طالبان اور ان کی ہمنوا قوتوں کا پورے قبائل پر سکہ جاری تھا۔ جب حکومت یہاں برائے نام تھی۔ اس وقت قبائل میں سے صرف دو علاقے طالبان کی اجارہ داری سے باہر تھے۔ کرم ایجنسی اور اورکزئی ایجنسی کے شیعہ نشین علاقے۔ باقی کوئی علاقہ انکے ظلم وبربریت سے نہیں بچا۔ چنانچہ ان علاقوں کے عوام نے مجبور ہوکر سیٹل علاقوں کی طرف ہجرت کی۔ اورکزئی اور کرم میں عوام نے اپنی سکیورٹی کا خود ہی بندوبست کیا۔

جسکا نتیجہ یہ ہوا کہ پانچ چھ سال کے اس پورے عرصے میں کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا۔ ہاں راستوں میں تکلیف تھی، راستوں میں نہتے لوگوں کو گاڑیوں سے اتار کر قتل کر دینے کے لرزا دینے والے واقعات سے ہماری تاریخ بھری پڑی ہے۔ راستوں میں ایسے خطرات کے باعث کرم کے لوگ افغانستان کے راستے سے ہوکر پشاور اور اسلام آباد جانے پر مجبور تھے۔ تاہم اندرونی سطح پر یہ علاقے محفوظ رہے۔ کلایہ میں کئی خودکش دھماکوں کو ناکام بنا دیا گیا۔ ایک دفعہ تو بارود سے بھری گاڑی کو مطلوبہ ہدف سے پہلے ہی روک دیا گیا اور یوں پورے علاقے کو ایک بہت بڑے نقصان سے بچا لیا گیا۔ چنانچہ اسکے اسباب میں سے سب سے بڑا سبب فورسز کی غفلت ہے۔ انہوں نے اپنی ڈیوٹی صحیح طریقے سے نہیں نبھائی۔

شیعہ نیوز: ایسے واقعات سے نمٹنے کا مناسب ترین حل کیا ہوسکتا ہے۔؟
علامہ سیدعابد حسینی: ایسے سانحات سے بچنے کا سب سے موزوں اور مناسب طریقہ یہی ہے کہ شیعہ نشین علاقوں کا اندرونی انتظام خود انکے رضاکاروں کے سپرد کیا جائے، جبکہ باہر سرحدی علاقوں یا ضلع کے داخلی راستوں پر فورسز تعینات ہوں تو میرے خیال میں تب جاکر ایسے سانحات سے بچا جاسکتا ہے۔

شیعہ نیوز: ایسے مطالبات تو پھر دیگر علاقوں میں بھی دہرائے جائینگے اور پھر حکومتی معاملات میں عوام کی مداخلت کا راستہ ہموار نہیں ہوگا۔؟
علامہ سیدعابد حسینی: کیا عوام کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری نہیں؟ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے عوام کی پوری پوری حفاظت کرے اور اس راہ میں جو بھی روکاوٹ ہو، اسے دور کرے۔ اب اسلحہ رکھنا جرم ہے۔ مگر امریکہ سمیت، بشمول پاکستان کے بہت سے ممالک میں عوام کو اپنی حفاظت کے لئے اسلحہ رکھنے کی قانونی اجازت ہے اور اسکے لئے لائسنس جاری کئے جاتے ہیں۔ اسی طرح عوام کو دیگر اقوام، دہشتگردوں یہاں تک کہ ہمسایہ ملک کے حملوں سے بچانے کی خاطر متعدد ممالک میں حکومت کی جانب سے اپنے عوام کو حسب ضرورت اسلحہ دیا جاتا ہے۔ ان سے اندرونی سطح پر رضاکار بھرتی کئے جاتے ہیں۔ انکے رضاکاروں کو تربیت دی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ عوم کی حفاظت کیلئے ہوتا ہے اور یہ کسی صورت میں حکومت کے معاملات میں مداخلت نہیں ہے اور یہ کہ دوسرے علاقوں کے ساتھ کرم اور اورکزئی کا موازنہ کیا جائے۔ دیگر علاقوں میں دہشتگردوں کو پناہ دی جاتی ہے، انہیں تربیت دی جاتی ہے، جبکہ کرم اور اورکزئی میں مقامی لوگ ہمیشہ دہشتگردوں کے خلاف نبرد آزما ہوتے ہیں۔

شیعہ نیوز: دہشتگردی کے حوالے سے حکومت کے علاوہ علماء کا کوئی فریضہ نہیں بنتا۔؟
علامہ سیدعابد حسینی: بیشک علماء کا فریضہ بنتا ہے، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستانی اور انڈین معاشرے میں دہشتگردی کا سب سے بڑا سبب ہی علمائے سوء ہیں۔ یہاں کفر کے فتوے اور واجب القتل قرار دینے کے فتوے دیئے نہیں جاتے بلکہ علمائے سوء کے ذریعے دلائے جاتے ہیں، کسی فرد، قبیلہ یا گروہ کی کسی شخص یا گروہ سے ذاتی دشمنی ہو، تو وہ ایسے ہی کسی عالم سوء کے پاس جا کر پیسوں کے عوض یا مفت میں فتویٰ حاصل کرکے نشر کر دیتا ہے۔ مگر یہ واضح ہو کہ ایسے علماء آپ کو شیعہ مسلک میں نہیں ملیں گے۔ کیونکہ شیعوں میں اجتہاد کا نظام رائج ہے۔ یہاں فتویٰ کوئی معمولی عالم دین صادر نہیں کرسکتا۔ بلکہ مجتہد اعظم (آیۃ اللہ العظمیٰ) ہی صادر کرسکتا ہے۔ چنانچہ انتہائی معذرت کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ فتوے دینے والے علماء کا تعلق اہلسنت والجماعت سے ہوتا ہے اور اس میں بھی 80 فیصد کے لگ بھگ دیوبندی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں۔

جہاں تک علماء کے فریضے کی بات ہے تو ہم نے اپنی سطح پر ہر ممکن کوشش کی ہے۔ ہمارے رہبر اور مجتہد مرحوم امام خمینی نیز شہید قائد علامہ سید عارف حسینی نے اتحاد بین المسلمین کیلئے عملی طور پر بہت کام کیا۔ اتحاد کا نعرہ بلند کرکے رہبر عظیم امام خمینی نے جمعۃ الوداع کو یوم القدس کے نام سے منسوب کراکر اسے اسرائیل کے خلاف احتجاج کا دن قرار دیا۔ 12 ربیع الاول تا 17 ربیع الاول کو ہفتہ وحدت قرار دیا۔ رمضان المبارک میں وحدت کے پروگرامات رکھے جاتے ہیں۔ اسی طرح ہم نے سینیٹ کی سطح پر اتحاد بین المسلمین کے لئے بھرپور کوشش کی ہے، جبکہ دوسری جانب سے مدارس اور مساجد سے باقاعدہ کفر اور واجب القتل ہونے کے فتوے دیئے جاتے ہیں۔

شیعہ نیوز: علماء سوء کو ایسے فتووں سے روکنے یا انکی برین واشنگ کیلئے کیا کیا جاسکتا ہے۔؟
علامہ سید عابد حسینی: میں نے عرض کیا کہ ایسے علماء کا تعلق شیعہ مسلک سے نہیں، تاہم یہ ذمہ داری حکومت ہی کی بنتی ہے کہ وہ بار بار علماء کو ایک میز پر بٹھا کر انکے درمیان مذاکرات کروائیں، انہیں قائل کروائیں۔ اگر قائل نہیں ہوتے تو ایسے علماء کے مدارس اور مساجد کو بند کیا جائے، یہی ایک صورت بنتی ہے۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.