انجمن شرعی شیعیان کے زیر اہتمام سرینگر میں سیرت النبی (ص) کانفرنس منعقد

  • جمعہ, 30 نومبر 2018 14:46

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے اہتمام سے مقبوضہ کشمیر کے ضلع سرینگر میں ایک پروقار سیرت النبی (ص) کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کی صدارت سینئر حریت رہنما اور انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے کی جبکہ نظامت کے فرائض سید عدیل الموسوی نے انجام دئے۔ جن معززین نے سیرت النبوی (ص) اور امت مسلمہ کے موجودہ دلخراش حالات کے حوالے سے سیرت کانفرنس سے خطاب کیا، ان میں انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ آغا سید حسن الموسوی الصفوی، کاروان اسلامی کے امیر مولانا غلام رسول حامی، نائب مفتی اعظم مفتی ناصر الاسلام، محمد رفیق اویسی نمائندہ سید علی شاہ گیلانی، غازی معین الاسلام ندوی نمائندہ امیر جماعت اسلامی، حمایت الاسلام کے صدر مولانا خورشید احمد قانونگو، ڈاکٹر یوسف العمر چیئرمین اسلامک اسٹیڈی سرکل اور پروفیسر سید محمود مہدی وغیرہ شامل ہیں۔

مقررین نے سیرت النبوی (ص) کے مختلف گوشوں کی وضاحت کرتے ہوئے عالم اسلام کی موجودہ دلخراش صورتحال کو قرآن و سنت سے مسلمانوں کے انحراف کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے قرآن و سنت کی طرف مراجعیت کو وقت اور حالات کا ناگزیر تقاضا قرار دیا۔ آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے سیرت النبی (ص) پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پیغمبر اکرم (ص) کی حیات طیبہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، جس میں عالم بشریعت کے تمام مسایل کا حل موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اغیار کے ظلم و ستم سے نجات کی جدوجہد میں اسوہ رسول (ص) کو لائحہ عمل بناکر ہی مظلوم مسلمان قومیں کامیابی کی منزل سے ہمکنار ہوسکتی ہیں۔

مولانا غلام رسول حامی نے مسلمانوں کے باہمی اتحاد و اخوت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ علماء دین کی بنیادی اور منصبی ذمہ داری یہی ہے کہ وہ ملت میں پیدا شدہ اختلافات کو دور کرنے کے لئے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں لیکن افسوس کہ اختلافات اور انتشار کا بنیادی محرک یہی طبقہ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیریوں پر ظلم و ستم کی انتہا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے دیگر خطوں برما، عراق، شام، یمن وغیرہ میں مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ خونین صورتحال صرف اور صرف قرآن و سنت سے انحراف کا خمیازہ ہے۔

سیرت النبی (ص) کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سید علی شاہ گیلانی کے نمائندے رفیق اویسی نے سیرت النبوی (ص) کو قرآن کریم کا عملی مظاہرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ قرآن و سنت کی بالادستی ہر راسخ العقیدہ مسلمان کی دلی آرزو ہونی چائیے اور کسی بھی باطل نظام سے آزادی اس راہ کی پہلی منزل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام عرصہ دراز سے بھارتی جبر و بربریت سے نجات کی جدوجہد میں مصروف ہیں اور یہ جدوجہد ہر حال میں اپنے منطقی انجام تک پہنچ کر ہی دم لے گی۔ اپنے خطاب میں مولانا خورشید احمد قانونگو نے کہا کہ اکثر اسلامی ممالک کے حکمرانوں نے قرآن و سنت سے منہ موڑ کر عملی طور پر امریکہ اور اسرائیل کی سرپرستی تسلیم کی ہے اور یہی صورتحال عالم اسلام کی زبون حالی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں سیرت رسول (ص) سے وابستگی کا بہترین مظاہرہ اخوت اسلامی ہے۔

مفتی ناصر الاسلام نے کہا کہ اگر مسلمان خود کو فرقہ و مسالک کے بجائے غلامان اور عاشقان نبی (ص) کے طور پر متعارف کرتے اور اس کے عملی تقاضے بھی پورا کرتے تو اس ملت کی شان رفتہ بحال ہونے میں کوئی دیر نہیں لگتی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کشمیری قوم کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن کشمیری قوم بھارتی جبر و قہر سے مرعوب ہو کر اپنی تحریک آزادی سے دست بردار نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیریوں کو کرو یا مرو کے مرحلے تک پہنچا دیا ہے۔ اس دوران اپنے خطاب میں مولانا یوسف العمر نے اتحاد ملت کو ایک قرآنی فریضہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے فروعی اختلافات کو ہوا دینے میں ہمیشہ سامراجی قوتوں کا عمل دخل رہا ہے اور آج بھی دنیائے اسلام میں اپنے حقیر مفادات کے حصول کے لئے یہ قوتیں اسی ایجنڈے پر گامزن ہیں۔ اس دوران معروف نعت خواں غلام حسن غمگین نے بارگاہ رسالت مآب (ص) میں گلہائے عقیدت نذر کئے۔

 

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.