آل سعود تنہائی کا شکارہوجائے گے

  • منگل, 04 دسمبر 2018 14:31

شیخ نعیم قاسم 1953ء کو لبنان میں پیدا ہوئے ہیں، یونیورسٹی سے کیمیکل انجینئرنگ کر رکھی ہے اور فرانسوی زبان پر عبور رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی حوزی و فقہی تعلیم کو یونیورسٹی میں پڑھائی کے دوران ہی مکمل کر لیا تھا۔ وہ لبنان کے سیاسی میدان میں شیعہ آبادی کے اندر اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیت ہیں۔ وہ معاشرتی اور ثقافتی امور میں بھی بہت زیادہ متحرک ہیں۔ وہ امام موسیٰ صدر کے ہمراہ الامل جماعت اور حزب اللہ بنانے میں پیش پیش تھے۔ وہ 1991ء سے اب تک مسلسل پانچ مرتبہ حزب اللہ کے نائب صدر منتخب ہوچکے ہیں۔ شیخ نعیم قاسم نے دسیوں کتابیں مختلف موضوعات پر تصنیف کی ہیں، جن میں معاشرتی حقوق، اسلامی معاشروں میں عورتوں کا مقام، طلبہ اور اساتذہ کے حقوق، اسلام میں معاشرتی حقوق کی اہمیت، قابل ذکر موضوعات ہیں۔ انکی مشہور ہونیوالی کتابوں میں ایک کتاب حزب اللہ لبنان ہے۔ جس میں انہوں نے تاریخ کے آئینہ میں حزب اللہ کا جائزہ لینے کیساتھ ساتھ اسکے مستقبل پر بھی سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ یہ کتاب 2002ء میں لکھی گئی تھی اور اب تک اس کتاب کا فارسی، انگریزی، فرانسوی، ترکی، اردو اور انڈونیشی زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ یہ کتاب عوام میں بہت زیادہ مقبول ہوئی ہے۔ اسیطرح انہوں نے ایک کتاب بنام رہبر احیاگر حضرت آیت اللہ خامنہ ای کے سیاسی کردار پر لکھی ہے۔ حزب اللہ لبنان کے نائب صدر علاقے میں تحریک مقاومت کی واشگاف الفاظ میں حمایت کرنے میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ وہ صہیونی حکومت اسرائیل کو خطے میں ہر طرح کے جرم کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں، نیز شام میں تکفیری تحریک کا مقابلہ کرنے میں حزب اللہ کی مداخلت کو بیان کرنے سے بھی بالکل نہیں ڈرتے۔ شیخ نعیم قاسم ایک ایسے سیاست دان ہیں، جو سعودی حکومت کے مخالف ہونے اور یمن کی حمایت کرنیکی بنا پر امریکہ کیطرف سے بلیک لسٹ قرار دیئے جا چکے ہیں۔ حزب اللہ لبنان کے معاون دبیر اور نائب صدر جناب شیخ نعیم قاسم نے میڈیا کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے یمن کے مسئلہ پہ انتہائی تفصیل کیساتھ روشنی ڈالی، جو کہ اپنی اہمیت اور افادیت کے پیش نظر انٹرویو کیصورت پیش خدمت ہے۔ادارہ

سوال: آپکے خیال میں یمن کا مسئلہ کیا ہے اور آپکی جماعت اس معاملے کو کس نگاہ سے دیکھتی ہے۔؟
شیخ نعیم قاسم: یمن کا مسئلہ، حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حالات میں یمن کا مسئلہ ایک پیچیدہ ترین مسئلہ ہے۔ اس پیچیدگی کی وجہ یہ ہے کہ سعودی عرب کوشش کر رہا ہے کہ بعض عربی و مسلمان ممالک کو یمن پر حملہ کے جرم میں اپنے ساتھ شامل کرے۔ یمن پر اس تجاوز و حملہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ اور بعض دوسرے ممالک سعودی عرب کی حمایت کر رہے ہیں۔ یمن پر حملہ کرنے میں سعودی عرب کا مقصد اس ملک کی سیاست پر اپنا مکمل قبضہ جمانا تھا، تاکہ یمن کے ذریعے سے خطے میں سعودی مفادات کی حفاظت کی جا سکے۔ بہرحال یمنی عوام نے یہ مقصد پورا نہیں ہونے دیا، اسے قبول نہیں کیا بلکہ اپنے استقلال اور اپنی آزادی کے راستے پر ثابت قدمی دکھائی۔ یمنی عوام اس بات پر تاکید کرتے اور چاہتے ہیں کہ اس ملک میں سیاسی نظام مستحکم ہو اور سیاسی لوگ اپنے فیصلوں میں آزاد ہوں۔ سعودی عرب کے حملے اور ان پر امریکی حمایت کے باعث ایسی صورتحال بن چکی ہے کہ یمن کے عوام اپنی اس جائز خواہش پہ عمل نہیں کرسکتے۔

اس جنگ نے یمنی عوام سے ان کے اپنے لئے فیصلہ کرنے کی آزادی کو چھین لیا ہے۔ حزب اللہ کا یقین اس بات پر ہے کہ یمن پر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کا ناجائز حملہ اصل میں ایک مظلوم اور صلح جو قوم پر حملہ ہے۔ اس جنگ پر سعودی عرب کی جانب سے دلائل بالکل بے بنیاد اور غیر قابل قبول ہیں۔ اس لئے کہ کسی بھی ملک کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی بھی بہانے کے ساتھ دوسرے ملک پر لشکر کشی کرے اور اپنے مفادات حاصل کرنے کی خاطر اسے ہدایات دے۔ سعودیوں نے کوشش کی ہے کہ مسلمان عربی ممالک کو جنگ یمن میں اپنے ساتھ ملا لے۔ لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئے۔ قابل غور نکتہ یہ ہے کہ جمہوریت و حقوق بشر کا راگ الاپنے والے بڑے ممالک نے مظلوم یمنی عوام پر سعودی امریکی عسکری حملے کی ذرا برابر بھی مذمت نہیں کی۔ ہم حزب اللہ کی جانب سے یہ سمجھتے ہیں کہ یمنی عوام ایک مظلوم قوم ہے اور ان پر حملہ ایک بے رحمانہ اقدام شمار کیا جائے گا۔ اس بات کو مدنظر رکھیں کہ یمن پر حملہ کرنے والے کسی فوج سے نہیں لڑ رہے حتٰی کہ یمنی مقاومتی گروہوں کے ساتھ بھی جنگ نہیں کر رہے بلکہ میرے مطابق وہ یمنی عورتوں اور بچوں
جنگ یمن میں عملی طور پر سعودی نہ ہونے کے برابر ہیں، سعودی کوشش کر رہے ہیں کہ اس ظالمانہ جنگ میں دوسروں کو زیادہ شامل کرے، سعودی عرب نے بہت زور لگایا ہے کہ پاکستان اور مصر بھی اس کے ساتھ تعاون کریں لیکن ان دو بڑے مسلمان ملک اس کے ساتھ تعاون کرنے پر آمادہ نہیں ہوئے، جبکہ امارات، سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔
پر بم گرا رہے ہیں اور انہیں خون میں نہلا رہے ہیں۔

حملہ آو شہری آبادی، سکول اور ہسپتالوں کو تباہ کر رہے ہیں۔ ہم ہر روز دیکھ رہے ہیں کہ عوامی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور یمنی فوج کے خلاف کوئی جنگ نہیں لڑی جا رہی، لہذا جو کچھ یمن میں ہو رہا ہے، وہ واضح طور پر سعودی و امریکی حملہ آوروں کے جنگی جرائم ہیں۔ اس یک طرفہ عسکری حملہ کو فوجوں کے درمیان جنگ یا کسی سیاسی میدان میں لڑائی بھی شمار نہیں کیا جاسکتا۔ ہم نے حزب اللہ میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہر صورت یمن کے ساتھ کھڑے ہونگے۔ اس لئے کہ دنیا بھر میں مظلوم یمنی عوام کے لئے سوائے ایران اور حزب اللہ کے کوئی مددگار نہیں پایا جاتا۔ حملہ آوروں کے خلاف بھی کوئی آواز اٹھتی ہوئی سنائی نہیں دے رہی۔ جس میں یمن کی آزادی اور یمنی عوامی حقوق کو جائز شمار کیا جائے اور سعودی جرائم کی مذمت کی جا رہی ہو۔

یمن میں اب صورتحال ایسی ہے کہ امریکی نگرانی میں چلنے والے ادارے اقوام متحدہ نے بھی مجبور ہو کر یمن میں پھیلنے والی وبائی بیماری، غذائی قلت اور لاکھوں بھوکوں کی موجودگی کا اعلان کر دیا ہے، نیز اس نے حملہ آوروں کی جانب سے نہتے یمنی شہریوں پر ہونے والے جرائم کو بھی قبول کیا ہے۔ اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ حملوں کی شدت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ ان حالات میں ضروری تھا کہ حزب اللہ فریاد بلند کرتی اور دنیا کو متوجہ کرنے کی خاطر تاکید کرتی کہ ایک بڑی تباہی ہونے والی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ لبنان میں صہیونی دشمن کے خلاف جہاد کرنے میں حزب اللہ ہمیشہ سے تنہا رہی ہے اور سوائے ایران و شام کے، کبھی بھی خطے میں سے کسی ملک یا بین الاقوامی سطح پر کسی ملک نے یا حتی کسی بین الاقوامی تنظیم نے حزب اللہ کی حمایت نہیں کی، لہذا ہم یقین رکھتے ہیں کہ یمنی عوام مظلوم ہیں اور ہمیں اس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیئے، تاکہ وہ تنہائی کا احساس نہ کریں۔ آپ جانتے ہیں کہ حزب اللہ کی آواز کو سنا جاتا ہے۔ اس کی رائے اور فیصلوں کو دنیا بھر میں پذیرائی حاصل ہوتی ہے۔

سوال: یمن کیخلاف سعودی جنگ اسرائیل کی خدمت کیونکر ہے۔؟
شیخ نعیم قاسم: اس مسئلہ کی اہمیت اس حوالے سے ہے کہ حزب اللہ ایک دفاعی و جہادی گروہ ہے اور اس نے بے شمار قربانیاں پیش کی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ حزب اللہ نے بہت بڑی کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں۔ سید حسن نصراللہ نے متعدد بار تاکید کی ہے کہ حزب اللہ، تمام حملہ آوروں کے خلاف ڈٹ کر کھڑی ہوگی۔ میں بھی واضح طور پر کہوں گا کہ یمن پر ناجائز عسکری حملہ کے پہلے دن ہی سید حسن نصراللہ نے باقاعدہ اعلان کیا کہ حزب اللہ اس حملہ اور ایسے حملوں کے خلاف ہے۔ ہمارا یقین ہے کہ یمن کا مسئلہ ایک سیاسی یا جغرافیائی مسئلہ نہیں ہے بلکہ سعودی عرب اور امریکیوں کی جانب سے یمنی عوام پر تسلط قائم کرنے کا بہانہ ہے۔ سید حسن نصراللہ نے اس بارے میں کئی ایک تقاریر کی ہیں اور اپنی حالیہ گفتگو میں انہوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ کاش وہ ایک سپاہی ہوتے اور یمن میں حملہ آوروں کے خلاف جنگ کرتے۔

حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے اپنے اس بیان کے ساتھ اصل میں یمنی مسئلہ کی گہرائی اور اہمیت کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ یمنی عوام ایک مجاہد قوم ہے، جنہوں نے جذبہ ایثار کا مظاہرہ کیا ہے اور بے شمار قربانیاں پیش کی ہیں۔ ہمیں پورا یقین ہے کہ اس لڑائی میں بالآخر یمنی قوم سرخرو رہے گی۔ سعودی امریکی حملہ آور کبھی بھی فتح حاصل نہ کر پائیں گے، لیکن ان کی طرف سے اس ظالمانہ حملہ کے جاری رہنے کی صورت میں جنگ طویل ہو جائے گی، حزب اللہ، یمن میں جاری دفاع کی سیاسی و اخلاقی حمایت کر رہا ہے، لیکن عملی حمایت کے بارے میں میں واضح کروں گا کہ یمنی عوام کو اس حمایت کی ضرورت ہی نہیں ہے، اس لئے کہ سارے یمنی بھرپور طریقے سے اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں، وہ ہر جنگ کے لئے پوری طرح سے تیار ہیں، لہذا انہیں کسی بیرونی طاقت کی عسکری مدد نہیں چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک حزب اللہ نے یمن میں اپنی عسکری یا غیر عسکری موجودگی پر بات نہیں کی۔

یمنی قوم کو ابھی تک بیرونی عسکری امداد کی احتیاج نہیں ہے بلکہ انہیں سیاسی و اخلاقی حمایت و مدد کی ضرورت ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب حزب اللہ نے واضح طور پر یمنی قوم کی حمایت کا اعلان کیا تو سعودی اعلیٰ حکام پاگل ہوگئے۔ میں نے پہلے بھی عرض کی ہے، اس کی وجہ یہی ہے کہ حزب اللہ کی آواز ہر جگہ سنی جاتی ہے۔ ہم اس بات پر تاکید کرتے ہیں کہ یمنی قوم حق رکھتی
اپنی عزت و کرامت کو بحال کرنے کی خاطر یمنی عوام کی قربانیاں سچ میں قابل تعریف ہیں، اس اعتبار سے بھی حزب اللہ اور انصار اللہ، نیز یمنی قوم کے مابین مشابہت ہے۔ حزب اللہ اور انصار اللہ دونوں جہاد کر رہے ہیں اور استقلال حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک مثبت رویہ شمار کیا جائے گا، منفی نہیں۔
ہے کہ سارے اس کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔ اس مظلوم قوم کی حمایت کے لئے ہر کسی کو اپنی صدا بلند کرنی چاہیے، لہذا جب حزب اللہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کی آواز بلند ہوتی ہے اور دوسرے بھی یمن کی حمایت میں بولیں گے تو حملہ آوروں کو تنہائی کا احساس ہوگا۔ سعودی عرب جانتا ہے کہ ابھی تک وہ یمن میں اپنے اہداف حاصل نہیں کرسکا، اگر اس موقع پہ یمنی عوام کے حق میں کوئی آواز بلند ہو تو ہوسکتا ہے کہ وہ اس مسئلہ کے حل کی طرف انتہائی اہم اقدام ثابت ہو۔

سوال: یمنی عوام کا انداز مقاومت حزب اللہ سے مشابہ کیوں ہے۔؟
شیخ نعیم قاسم: اس میں شک نہیں ہے کہ یمنی قوم بالخصوص تحریک انصار اللہ کے انداز دفاع و جہاد اور صہیونیست کے خلاف حزب اللہ کے انداز دفاع و جہاد میں بہت ساری مشابہتیں پائی جاتی ہیں۔ یہ مشابہتیں کیا ہیں، پہلی مشابہت ایمان کی ہے، ہمارا ایمان ہے کہ ہمیں ہر صورت قیام کرنا چاہیئے اور اپنی مقبوضہ زمین کو واپس لینا ہے۔ یہ اتفاق ہے کہ یمن میں آج ایک بڑا عسکری حملہ جاری ہے کہ جو یمنی عوام کے لئے بہت سے درد و الم اور رنج و مصیبت کا باعث بنا ہے۔ ان ظالمانہ حملوں میں یمنی عوام کی مظلومیت صاف دکھائی دے رہی ہے۔ یمن پہ بعض شخصیات اور افراد کی جانب سے موقف اور آوازیں سچائی پر مبنی تھیں، جیسا کہ عبدالمالک حوثی، انہوں نے مخلص ہو کر مظلوم یمنی عوام کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ ان کا راستہ اور ان کی خواہش میں سوائے سچائی کے کچھ نہیں پایا جاتا۔ دوسری جانب ایسے لوگوں نے آزادی کے راستے کا اس وقت انتخاب کیا، جب مال و دولت کے غلاموں اور مقام و منصب کے غلاموں میں اضافہ ہو رہا تھا۔ انہوں نے خود ہی یہ شجاعت اور سچائی کا راستہ انتخاب کیا ہے۔ یہ لوگ اپنی انہی خصوصیات کے ساتھ جب سارے عربی ممالک ان کی طرف پشت کرچکے تھے، تو یہی لوگ اسرائیلی قبضہ اور حملے کے خلاف ڈٹ گئے۔

یہ آزاد مرد لوگ ایک وقت میں انہی حالات کا سامنا کر رہے تھے، جن حالات و مشکلات کا سامنا آج یمنی قوم کر رہی ہے۔ یہ لوگ بے شک حزب اللہ لبنان کے کارکنان ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کامیابی انہی کا مقدر ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں، جو ایک مجاہد سید یعنی سید حسن نصر اللہ کی قیادت و رہبری میں چل رہے ہیں۔ یہ مرد، مرد وفادار، شجاع اور با ایمان ہے۔ خداوند متعال سے چاہتے ہیں کہ وہ انہیں بہترین اجر عنایت فرمائے، ان کی عزت و توقیر میں اضافہ کرے۔ دوسری مشابہت یہ ہے کہ ہم بھی اور وہ بھی جہاد پر اعتقاد رکھتے ہیں۔ تیسری مشابہت یہ ہے کہ ہمارے پاس جانثار جوان موجود ہیں، ہمارے پاس، خواتین و مرد اور بچوں پر مشتمل ایسے خاندان ہیں، جو ہماری حمایت کر رہے ہیں، اسی طرح یمنی قوم بھی اپنے مجاہدوں کی بڑھ چڑھ کر حمایت کر رہی ہے۔ چوتھی مشابہت یہ ہے کہ ہم اس لئے لڑ رہے ہیں، تاکہ اپنی زمینوں سے قابض اسرائیل کو نکال باہر کریں، یمنی بھی سعودی، اماراتی اور امریکی قابضین کو اپنی سرزمین سے باہر نکالنے کی خاطر لڑ رہے ہیں۔ اسرائیلی قابضین اور سعودی قابضین کے نظریات اور ان کی سوچ ایک ہی جیسی ہے۔ اسرائیلی قابضین اس سرزمین پر قبضہ جمائے رکھنا چاہتے ہیں، جو زمین ان کی نہیں ہے، سعودی اور اماراتی قابضین بھی ایسا ہی کر رہے ہیں۔ اسی بنا پر حزب اللہ لبنان اور تحریک دفاع یمنی کے درمیان کئی ایک مشابہتیں پائی جاتی ہیں۔

اپنی عزت و کرامت کو بحال کرنے کی خاطر یمنی عوام کی قربانیاں سچ میں قابل تعریف ہیں۔ اس اعتبار سے بھی حزب اللہ اور انصار اللہ، نیز یمنی قوم کے مابین مشابہت ہے۔ حزب اللہ اور انصار اللہ دونوں جہاد کر رہے ہیں اور استقلال حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ایک مثبت رویہ شمار کیا جائے گا، منفی نہیں۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ حزب اللہ اور انصار اللہ کے مابین مشابہتیں پائی جاتی ہیں، تو آپ کی نظر میں وہ کس ہدف کو لئے ہوئے ہیں؟ کیا ان کا کہنا یہ ہے کہ اس مشابہت میں کوئی مشکل پائی جاتی ہے، نہیں بلکہ ہمارا اعتقاد یہ ہے کہ حزب اللہ ایک مثال بن گئی ہے اور اگر ساری دنیا میں مقاومتی گروہ اس کی اقتدا کریں تو یہ ایک مثبت تبدیلی شمار کی جائے گی۔ اس کا معنی یہ ہے کہ حزب اللہ اپنے عملی میدان میں کامیاب ہے اور اس نے اسلامی دینی چہرہ کو معاشرے میں کامیابی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ اس قسم کی مثال کو اپنانے سے نجات اور کامیابی کی امید پیدا ہوتی ہے۔ پروردگار عالم کا ارشاد ہے کہ والذین جاہدوا فینا لنہدینہم سبلنا و ان اللہ مع المحسنین یہ آیت مبارکہ ہر اس چیز
اسرائیلی قابضین اور سعودی قابضین کے نظریات اور ان کی سوچ ایک جیسی ہے، اسرائیلی قابضین اس سرزمین پر قبضہ جمائے رکھنا چاہتے ہیں جو زمین ان کی نہیں ہے، سعودی اور اماراتی قابضین بھی ایسا ہی کر رہے ہی، اسی بنا پر حزب اللہ لبنان اور تحریک دفاع یمنی کے درمیان کئی ایک مشابہتیں پائی جاتی ہیں۔
کا مصداق ہے، جو کچھ یمن میں ہونے جا رہا ہے۔ میں آپ سے عرض کرتا ہوں کہ ہم سختی سے معتقد ہیں، یمنی قوم اور انصار اللہ، ان شاء اللہ بہت جلد یمن میں کامیاب ہو جائیں گے۔ بالکل ویسے ہی جیسے ہم نے 2006ء میں اسرائیل کے مقابلہ میں کامیابی حاصل کی ہے۔

سوال: یمن پہ مسلط کردہ جنگ کس کے اشارے پہ چل رہی ہے۔؟
شیخ نعیم قاسم: دیکھیں، یمن کے خلاف جنگ سعودی، امریکی اور اسرائیلی اشاروں پر چل رہی ہے۔

سوال: یمن کیخلاف جنگ کیلئے سعودی عرب کیجانب سے کرائے کے فوجیوں کا کس حد تک استعمال جاری ہے۔؟
شیخ نعیم قاسم: اس جنگ میں سعودی عرب دنیا بھر سے کرایہ پر فوجی حاصل کر رہا ہے، حقیقت یہ ہے کہ جنگ یمن میں عملی طور پر سعودی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ سعودی کوشش کر رہے ہیں کہ اس ظالمانہ جنگ میں دوسروں کو زیادہ شامل کریں۔ سعودی عرب نے بہت زور لگایا ہے کہ پاکستان اور مصر بھی اس کے ساتھ تعاون کریں، لیکن یہ دو بڑے مسلمان ملک اس کے ساتھ تعاون کرنے پر آمادہ نہیں ہوئے، جبکہ امارات، سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہوگیا اور اس کے ساتھ قدم ملا کر آگے بڑھنے لگا ہے۔ دوسری جانب یہ بات ٹھیک ہے کہ بعض اماراتی فوجی یمن میں جنگ کے لئے وہاں موجود ہیں، لیکن امارات جن کے ذریعہ سے جنگ لڑ رہا ہے، وہ زیادہ تر کرایہ پر لئے ہوئے سوڈانی فوجی ہیں، یہ کرایہ کے فوجی، اپنی کارروائیوں کے بدلے میں امارات سے بڑی رقمیں وصول کرتے ہیں۔ ہمیں موصولہ اطلاعات کے مطابق یہ کرایہ کے فوجی یمن کی طرف اپنی ہر پرواز اور بمباری کے عوض الگ سے پیسہ وصول کرتے ہیں۔ یعنی یہ پیسہ ہر اڑان کے حساب سے ہوتا ہے۔ انہی جیسے دوسرے بھی، اماراتی وغیرہ، سب کرایہ کے لوگ بے دردی کے ساتھ لڑتے ہیں، البتہ کبھی کسی مقابلہ میں فتح یاب نہیں ہوئے۔

مثال کے طور پر یمن کے شہر الحدیدہ میں حالیہ حملہ بھی ناکام ہوگیا ہے، جس میں سعودی عرب و امارات نے امریکہ اور برطانیہ کی مدد کے ساتھ جنگی حکمت عملی تیار کی، جس کے نتیجہ میں وہ خیال کر رہے تھے کہ وہ اپنے تمام مقاصد کو حاصل کر لیں گے، لیکن آپ نے دیکھا کہ نتیجہ کیا ہوا؟ انہیں الحدیدہ میں شکست ہوگئی۔ ہم نے بھی دیکھا کہ صرف دو دن کے اندر 150 سعودی و اماراتی جنگی مزدور، یمنی دفاع کے نتیجہ میں مارے گئے اور 50 فوجی گرفتار کر لئے گئے، لہذا یہ جنگ جسے سعودیوں اور اماراتیوں نے شروع کیا ہے، ان کے لئے شکست و تباہی پر اختتام پذیر ہوگی، وہ خود بھی اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ آج جب سعودی اور اماراتی خود بھی یمن پر حملہ کی خاطر اپنے جنگی مزدوروں سے رابطہ کرتے ہیں اور انہیں لڑنے کے لئے کہتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ یہ مزدور ثابت قدمی نہیں دکھاتے۔ دوسری جانب سعودی اور اماراتی فوج بھی تمامتر وسائل ہونے کے باوجود یمنی مجاہدین کو شکست دینے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ میرا اعتقاد ہے کہ اب جنگ یمن میں سعودیوں اور اماراتیوں کے لئے اور ان کی پشت پر امریکیوں کے لئے کچھ نہیں رکھا۔ وہ لوگ اس جنگ کو کسی نامعلوم مقصد کی خاطر طویل کر رہے ہیں، ایسا مقصد جس سے وہ خود بھی آگاہ نہیں ہیں، لیکن اس کا نتیجہ ان شاء اللہ یمنی عوام کے حق میں ہوگا۔

سوال: آپ نے سال 2001ء میں ایک کتاب لکھی تھی، جس میں حزب اللہ کے اندرونی حالات و واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔ اس کتاب کو لکھنے میں آپکی کیا سوچ تھی۔؟
شیخ نعیم قاسم: یہ کتاب ’’حزب اللہ تاریخ کے آئینہ میں‘‘ 2001ء میں، یعنی جنوبی لبنان کی آزادی کے ایک سال بعد لکھی گئی۔ اس کتاب کو لکھنے کا مقصد لبنان کے اندر اور دنیا کے دوسرے علاقوں میں بسنے والی اقوام کو حزب اللہ سے متعارف کروانا تھا۔ جس میں حزب اللہ کے نصب العین، اغراض و مقاصد اور طریقہ کار کی وضاحت کی گئی ہے۔ نیز یہ کہ حزب اللہ کیا سوچتی ہے اور کن چیزوں پر اعتقاد رکھتی ہے۔ اس کتاب کے اندر میں نے بتایا ہے کہ حزب اللہ ایک اسلامی جماعت کا نام ہے، جو نظام ولایت فقیہ پر یقین رکھتی ہے، جسے امام خمینی قدس سرہ شریف اور ان کے بعد امام خامنہ ای حفظہ اللہ تعالیٰ نے آگے بڑھایا، ہم اس نظام کے پابند ہیں۔ اس کتاب میں تاکید کی گئی ہے کہ مقبوضہ سرزمین کی آزادی کے لئے جہاد در راہ خدا حزب اللہ کی ترجیح ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ اسرائیل کا وجود تمام امت عربی و اسلامی کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ اگر اسرائیل باقی رہتا ہے تو ہمیں نہ صرف فلسطین اور فلسطینیوں کا مسئلہ درپیش رہے گا بلکہ تمام عربی و اسلامی معاشروں میں ہمیں اور بھی بہت ساری مشکلات سے دوچار ہونا پڑے
ہمارا اعتقاد یہ ہے کہ حزب اللہ ایک مثال بن گئی ہے اور اگر ساری دنیا میں مقاومتی گروہ اس کی اقتدا کریں تو یہ ایک مثبت تبدیلی شمار کی جائے گی، اس کا معنی یہ ہے کہ حزب اللہ اپنے عملی میدان میں کامیاب ہے اور اس نے اسلامی دینی چہرہ کو معاشرے میں کامیابی کے ساتھ پیش کیا ہے، اس قسم کی مثال کو اپنانے سے نجات اور کامیابی کی امید پیدا ہوتی ہے۔
گا۔ اسی بنا پر میں نے یہ کتاب لکھی ہے، جس میں حزب اللہ کی جہادی و دفاعی تحریک کو بیان کیا ہے، تاکہ عوام جان لے، حزب اللہ کیا ہے اور اس کے اراکین کیا یقین رکھتے ہیں۔

کتاب کے دوسرے حصہ میں میں نے حزب اللہ کے اندر رہتے ہوئے اپنے تجربات و مشاہدات کو تحریر کیا ہے۔ یہ تجربات تلخ، گہرے اور ان میں سے بعض مثبت اور ایجابی ہیں۔ ان کا سلسلہ 1988ء سے شروع ہوتا ہے، 1993ء میں اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع ہوئی، نیز 1996ء میں ایک مرتبہ پھر سخت جنگ ہوئی۔ البتہ ان جنگوں کے بعد 2000ء میں ہمیں بڑی کامیابی حاصل ہوئی اور اسرائیل بلا مشروط لبنانی سرزمین کو چھوڑ کر چلا گیا بلکہ یوں کہوں کہ فرار کر گیا۔ تمام کامیابیاں حزب اللہ کے جوانوں کی بے مثال قربانیوں کے باعث حاصل ہوئی ہیں۔ یہ مقاومتی و دفاعی تحریک 1988ء میں بہت کمزور تھی، ان دنوں اسرائیل لبنانی سرزمین میں داخل ہوچکا تھا اور اس نے دفاعی تحریک کو پیچھے دھکیل دیا تھا، ان حملوں میں اسرائیل کا ہدف، دفاعی تحریک کے لئے ہر دروازہ بند کرنا تھا۔ حزب اللہ کی دفاعی تحریک نے اس وقت انگڑائی لی جب اسرائیل نے اپنے زعم میں ہر جہادی و دفاعی تحریک کو گردن سے دبوچ لیا تھا۔ آپ ذرا تصور کریں کہ ان دنوں میں کتنی سخت مشکلات تھیں، اس کے باوجود حزب اللہ نے اسرائیل کا غرور توڑ دیا، آگے بڑھنے لگی، دفاع کے لئے ظاہری وسائل بھی خود مہیا کئے۔

کچھ وقت کے بعد میں نے 2006ء کے تجربات بھی اپنی اس کتاب میں ضمیمہ کئے ہیں۔ اس حصہ میں بالکل مختصر طور پر بیان کیا ہے کہ حزب اللہ نے 33 دن کس طرح اسرائیلی حملہ آوروں کا مقابلہ کیا ہے۔ ایک حصہ میں حزب اللہ کے مستقبل پر بات کی ہے اور پیش گوئی کی ہے کہ کیسا ہوسکتا ہے۔ اس کتاب میں حزب اللہ کے مستقبل پر بات کرتے ہوئے میں نے کہا ہے کہ حزب اللہ اپنے موجودہ راستے کو جاری رکھے گی اور کئی ایک اہم کامیابیاں حاصل کرے گی۔ میں نے اپنی کتاب میں تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا بھر میں تمام تنظیموں کے لئے حزب اللہ ایک عملی مثال بن کر ابھرے گی۔ درحقیقت اس کتاب کو اگر اس سال یعنی سال 2018 ء میں آپ پڑھیں گے تو آپ خیال کریں گے کہ آج کل میں ہی لکھی گئی ہے، 2001ء میں نہیں لکھی گئی۔ اس لئے کہ اس کتاب کے تمام جملے پیش آنے والے واقعات کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں۔ یہ بات بہت اہم ہے۔ اصل میں کتاب لکھنے کے اہم مقاصد میں سے ایک، لوگوں کو حزب اللہ اور اس کے اثر و نفوذ کے بارے میں آگاہی دینا تھا۔ خاص طور سے آج اٹھارہ، بیس سال یا حتی تیس سال کے جوان حزب اللہ کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں جانتے۔ انہوں نے حزب اللہ کی طاقت کے بارے میں سن رکھا ہے، لیکن نہیں جانتے کہ یہ گروہ کس زمانے میں اور کس طرح وجود میں آیا ہے اور یہ ایک اہم بات ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے بتایا ہے کہ یہ کتاب حزب اللہ کے تجربات کو بھی بیان کرتی ہے۔ یہ کتاب دنیا کی سات زندہ زبانوں بشمول فارسی اور انگریزی میں بھی ترجمہ ہو کر چھپ چکی ہے، لہذا ساری دنیا میں عوامی سطح پر اس سے استفادہ کیا گیا ہے۔

سوال: اسرائیل کیخلاف 33روزہ جنگ کے بعد لبنان اور اسرائیل کی سرحد بیروت سے زیادہ پرامن ہے، کیا وجہ ہے۔؟
شیخ نعیم قاسم: 33 روزہ جنگ کے دوران ہم خود کو ایک تاریخی مرحلہ میں دیکھ رہے تھے، جہاں کوئی درمیانی راستہ موجود نہ تھا۔ دفاعی تحریک یا کامیاب ہوتی یا پھر ہمیشہ کے لئے ختم ہو جاتی۔ اس وقت اسرائیل نے دفاعی تحریک کو ختم کرنے کی ٹھان رکھی تھی اور اسے یقین تھا کہ اس شکست کے ساتھ خطے میں ہر طرح کی دفاعی تحریک ہمیشہ کے لئے دم توڑ دے گی، لیکن جو نتیجہ سامنے آیا، اس میں دفاعی تحریک اور مقاومت جیت گئی۔ اجازت دیں کہ میں آپ کو ایک اہم بات بتاوں: حزب اللہ لبنان کی عسکری کمیٹی 2006ء سے پہلے نیز 33 روزہ جنگ سے پہلے اسرائیل کی جانب سے آئندہ ہونے والے حملوں کا بغور جائزہ لے چکی تھی۔ اس کمیٹی نے اسرائیلی فوج کے فضائی، بحری اور بری حملوں کا ایک اندازہ لگایا تھا، اور 33 روزہ جنگ میں جو کچھ ہوا، بالکل عسکری کمیٹی کے لگائے ہوئے اندازوں کے عین مطابق تھا۔

مثال کے طور پر ہم نے اندازہ لگایا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے بعض اہم مورچوں پر حملہ کے لئے زمینی راستہ کے علاوہ چند ایک دوسرے طریقہ کار کے علاوہ کوئی راہ حل نہیں ہے اور یہ بات ایک سو فیصد ٹھیک ثابت ہوئی۔ ان مورچوں پر ہم اسرائیلی فوج کے حملہ کا انتظار کر رہے تھے۔ ایک اور مثال یہ ہے کہ ہم نے 33 روزہ جنگ کے دوران 1996ء کے جنگی تجربات سے بھی فائدہ اٹھایا تھا۔ ہم نے اسرائیلی
یمن میں سعودیوں اور اماراتیوں کے لیے اور ان کی پشت پر امریکیوں کے لیے کچھ نہیں رکھا۔ وہ لوگ اس جنگ کو کسی نامعلوم مقصد کی خاطر طویل کر رہے ہیں، ایسا مقصد جس سے وہ خود بھی آگاہ نہیں ہیں لیکن اس کا نتیجہ ان شا اللہ یمنی عوام کے حق میں ہو گا۔
حملہ سے پہلے اپنے جوانوں کو اسلحہ کے ساتھ لیس کرکے جنوب لبنان کے مختلف علاقوں میں تعینات کر دیا تھا۔ یہ وہ نقشہ تھا، جو باعث بنا کہ بیت جمیل لبنان اور دوسرے علاقوں میں حزب الہیٰ جوان ڈٹ کر مقابلہ کرسکے۔ اس زمانے میں حزب اللہ کے جنگی نقشے بہت مضبوط اور قابل بھروسہ تھے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ہم 33 روزہ جنگ میں عوام کے ساتھ داخل ہوئے تھے۔ تمام لبنانی مرد و زن، سب اکٹھے ہمارے ساتھ آکھڑے ہوئے تھے۔

مثال کے طور پر ہم نے دیکھا کہ مغربی میڈیا، ایک سکول گیا، جہاں مہاجرین اور پناہ گزین پناہ لئے ہوئے تھے۔ میڈیا والوں نے ایک عورت، جس کا گھر تباہ ہوچکا تھا، بے گھر ہوچکی تھی، اس کی زندگی مناسب نہیں تھی، سے سوال کیا کہ کیا تم اس صورتحال سے ناراض ہو؟۔ آپ کے خیال میں انہیں کیا جواب ملا ہوگا؟
انہیں جواب ملا کہ ہم اسرائیل کے ساتھ جنگ چاہتے ہیں اور ہم اس جنگ میں کامیاب ہونگے۔ مغربی میڈیا میں سے کوئی ایک بھی کسی ایک تباہ حال شخص کو تلاش نہ کرسکا، جو حزب اللہ یا مقاومت کے خلاف ہو۔ حزب اللہ کی کامیابی میں یہ عوامی حمایت بہت زیادہ موثر تھی۔ دوسری جانب اسرائیل، لبنان کے اندر حزب اللہ کی طاقت سے غافل اور لاپروا تھا۔ اسرائیلی حکام کو اندازہ نہیں تھا کہ حزب اللہ کے پاس ضد ٹینک میزائل کرونٹ موجود ہے۔ یہ میزائل اسرائیلی ٹینکوں کو چڑیوں کی طرح ہوا میں اڑا دیتے تھے۔ کرونٹ میزائل کے ساتھ اسرائیلی ٹینک یکے بعد دیگرے نشانہ بن رہے تھے۔ لبنانی وادی الحدیرہ میں اسرائیلی ٹینکوں کی تباہی و بربادی کا واقعہ بہت مشہور ہے۔ اسرائیلی بحری جہازوں کو نشانہ بنانا بھی ایک مضبوط و مستحکم جنگی حکمت عملی کا نتیجہ تھا۔

33 روزہ جنگ بہت کامیاب اور اثر گزار تھی۔ اس جنگ میں حزب الہیٰ جوانوں کے جذبات اور حوصلے بہت زیادہ بلند تھے۔ وہ ہر حوالے سے جانثاری کرنے کے لئے آمادہ تھے۔ خداوند متعال کی طرف سے ہونے والی مدد کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ اس لئے کہ وہ مومن تھے اور کلام خدا پر ایمان رکھتے تھے، جس میں کہا گیا ہے کہ و ما رمیت اذ رمیت و لکن اللہ رمی وہ اس پر مکمل ایمان رکھتے تھے۔ شاید آپ کہیں کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ میں آپ کو جواب دوں گا۔ بسا اوقات جنوب لبنان کے ایک چھوٹے سے علاقے پر اسرائیلی بموں کی بارش کی جاتی تھی اور وہاں ہمارے مجاہد نوجوانوں میں سے حتی ایک بھی زخمی نہیں ہوا کرتا تھا، جبکہ عسکری علم آپ سے کہتا ہے کہ اس قسم کے حملے میں کم سے کم وہ لوگ جنہیں نشانہ بنایا گیا ہے، انہیں مرنا چاہیئے، لیکن دوسری جانب علم الہی کا تقاضا یہ تھا کہ ابھی ان جوانوں کی زندگی ختم نہ ہو، لہذا وہ شہید نہ ہوئے۔ ہمارے جوان بتاتے ہیں کہ ہم ایک خاص نشانے کی طرف گولہ مارتے تھے، لیکن بعد میں ہمیں معلوم ہوتا کہ یہ گولہ ایک ایسی جگہ پر جا کر لگا ہے، جس کے بارے میں ہمیں کوئی اطلاع نہیں تھی، اس حملے کے نتیجہ میں دشمن کا بھاری نقصان ہو جایا کرتا تھا۔

ایک مقبوضہ علاقے میں ایک اسرائیلی ہیلی کاپٹر کی تباہی کا واقعہ بھی بہت مشہور ہے۔ ہمارا ایک مجاہد نوجوان بتاتا ہے کہ اس نے زمین سے زمین پر مار کرنے والے ایک معمولی گولے کے ساتھ اس ہیلی کاپٹر کو مار گرایا تھا۔ اس موقعہ پر اسرائیلی حکام کو اندازہ ہوا کہ حزب اللہ کی مدد میں غیبی طاقت کا ہاتھ کار فرما ہے۔ ہم خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ 33 روزہ جنگ کے دوران ہم نے حزب الہی جوانوں کے حوصلے بہت بلند دیکھے ہیں۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے کہ ایک ناقابل شکست فوج کو بدترین شکست ہوگئی اور اب وہ فوج کسی کے لئے بھی مثالی نمونہ نہیں بن سکتی۔ اس دوران سید حسن نصراللہ کی بابصیرت اور حکیمانہ قیادت کو فراموش نہیں کیا جاسکتا، وہ ایک مجاہدانہ شخصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے مختلف سخت اور مشکل مراحل پر اپنی تقاریر کے ذریعہ مجاہدین کے گروہوں کی ہمت بندھائی اور ان کی روحانی طاقت میں اضافہ کیا۔ اس کے علاوہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلسل اخلاقی حمایت اور خاص طور پر امام خامنہ ای حفظہ اللہ تعالیٰ کی ہمدردانہ حمایت کو اس کامیابی میں فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح 33 روزہ جنگ میں ملک شام کی جانب سے حزب اللہ کی حمایت قابل تعریف ہے۔ یہ سارے اسباب مل کر حزب اللہ کی کامیابی کا باعث بنے ہیں۔ میں کہوں گا کہ جنگ تموز یعنی 33 روزہ جنگ ایک تاریخی مرحلہ تھا، جس نے خطے میں ہر توازن کو بدل کر رکھ دیا۔ یہ سلسلہ ان شاء اللہ اسرائیل کی مکمل نابودی تک جاری رہے گا۔

 

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.