سعودی میرے بھائی کا سر کاٹنے لگے ہیں، ایک بہن کی التجا

  • بدھ, 05 دسمبر 2018 13:26

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)یہ وزیراعظم سیکرٹریٹ میں جمع ہونے والا ایک خط ہے، جس میں ایک بہن نے وزیراعظم پاکستان عمران خان سے فریاد کی ہے کہ سعودی عرب کی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی احوال پرسی کریں، کیونکہ آپ کی حکومت آنے کے بعد سعودی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی سزاؤں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور پاکستانیوں کے سر قلم کئے جاتے ہیں، اس بہن نے وزیراعظم کو اپنے بھائی کی زندگی بچانے کیلئے کوشش کرنے کی درخواست کی ہے۔ وزیراعظم سیکرٹریٹ میں جمع ہونے والا یہ خط میڈیا پہ بھی جاری ہوچکا ہے، خط کے مندرجات ذیل ہیں۔

محترم وزیراعظم پاکستان عمران خان
میرا نام اسما شفیع ہے۔ میرا تعلق چیچہ وطنی سے ہے۔ میرا بڑا بھائی کامران (فرضی نام) گذشتہ نو سال سے بریمان جیل جدہ (سعودی عرب) میں قید ہے۔ جناب وزیراعظم آپ کی حکومت کے سو دن مکمل ہوچکے ہیں اور میں آج آپ کے نام اپنے بھائی اور اُس جیسے بے شمار ایسے قیدیوں کی جانب سے خط لکھ رہی ہوں، جن کے سر کسی بھی وقت قلم کئے جا سکتے ہیں۔ میں یہ خط اس امید کے ساتھ لکھ رہی ہوں کہ پچھلی حکومتوں کے برعکس آپ اور آپ کی حکومت ہمارے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے تدارک کے لئے فوری اقدامات کریں گے۔

مجھے اپنے بھائی کی وساطت سے اس بات کا علم ہوا ہے کہ سعودی حکام پاکستانی قیدیوں کی سزاوں میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔ بغیر کسی پیشگی نوٹس کے قیدیوں کی چند برس قید کی سزائیں بھی سزائے موت میں تبدیل کی جا رہی ہیں۔ کئی برس تک اپنی سزائیں کاٹنے کے بعد ان قیدیوں کو ایک روز اچانک عدالت میں طلب کیا جاتا ہے، جہاں انہیں بتایا جاتا ہے کہ ان کی سزا، سزائے موت میں تبدیل کر دی گئی ہے اور ان کے سر قلم کر دیئے جائیں گے۔ میرا بھائی نو برس سے قید ہے اور کسی بھی وقت اس کی سزا پر عملدرآمد ممکن ہے۔ میں یہ بھی آپ کے علم میں لانا چاہتی ہوں کہ صرف پچھلے ایک ماہ کے دوران سعودی عرب میں تین مختلف جیلوں میں قید آٹھ پاکستانیوں کے سر قلم کئے جا چکے ہیں۔

یہ صورت حال قیدیوں کے لیے پریشانی اور خوف کا باعث بن رہی ہے۔ ان کے حقوق کے تحفظ اور بہبود کے ذمہ دار قونصل خانے انہیں ان کے حال پر چھوڑ چکے ہیں۔ قونصل خانے انہیں کسی قسم کی قانونی یا اخلاقی مدد فراہم نہیں کر رہے۔ سب سے زیادہ اذیت ان بچوں اور عورتوں کو برداشت کرنی پڑ رہی ہے جنہیں علیحدہ جیلوں میں سڑنے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے۔ سعودی حکام کی جانب سے پاکستانی قیدیوں سے متعلق معلومات اکٹھی کرنے کی منظم کارروائیوں سے اس خوف میں اضافہ ہوا ہے۔ بعد ازاں ان پاکستانی قیدیوں کے سرقلم کرنے کے لیے انہیں عام قیدیوں سے علیحدہ کر دیا جاتا ہے۔

میرا بھائی تمام عمر میرا سہارا بنا رہا ہے۔ بچپن میں ہی ہمارے والدین کا انتقال ہوگیا تھا۔ گھر اور خاندان کی دیکھ بھال کی ذمہ داری میرے بھائی پر آن پڑی۔ اس کی گرفتاری کے بعد میں دور پار کے رشتے داروں کے رحم و کرم پر ہوں۔ میرے بھائی کی ایک بیوی اور ایک بیٹی بھی ہے۔ اس کے بغیر وہ بھی بے یارومددگار ہیں۔ اس کی بیٹی صرف آٹھ ماہ کی تھی، جب وہ سعودی عرب روانہ ہوا اور تب سے اب تک وہ باپ کی شکل تک دیکھنے سے محروم ہے۔ اب اس کی عمر نو سال ہے اور وہ بے تابی سے اپنے باپ کا انتظار کر رہی ہے۔ باپ کے بغیر اس کی زندگی میں سوائے دکھ اور تکلیف کے کچھ نہیں۔ میرا بھائی اور میں تنہا اس مصیبت کا شکار نہیں، سینکڑوں ہزاروں خاندان اس وقت سعودی جیلوں میں قید اپنے اہل خانہ کی واپسی کے حوالے سے بے یقینی کی کیفیت میں ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ کب کسی کے بیٹے، بھائی، شوہر یا باپ کا سر قلم کر دیا جائے گا۔ بیسیوں خاندان ایسے بھی ہیں جو اب بھی اپنے پیاروں کی موت پر سوگوار ہیں، ان بے چاروں کو اپنے پیاروں کے آخری دیدار یا کفن دفن کا موقع تک نہیں ملا۔

آپ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد قوم کے نام اپنی پہلی تقریر میں کہا تھا کہ آپ بیرون ملک قید پاکستانیوں کے مسائل کو سنیں گے۔ ان نو برسوں میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ مجھے اپنے بھائی کی واپسی کی امید ہوئی ہے۔ آپ کے حالیہ دورہ سعودی عرب نے بھی ہماری امیدوں کو تقویت بخشی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کی حکومت سعودی عرب کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ کرے گی، جس کا اعلان اس برس مارچ میں کیا گیا تھا۔ میں اور مجھ جیسے ہزاروں پاکستانی آپ سے التجا کرتے ہیں کہ آپ سعودی عرب کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کا معاہد ہونے تک پاکستانی قیدیوں کے سرقلم کرنے کا سلسلہ رکوائیں۔ ہم آپ سے اپیل کرتے ہیں کہ سعودی جیلوں میں میرے بھائی سمیت قید ہزاروں پاکستانیوں کی زندگیاں بچانے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں۔ ہمیں یقین ہے کہ آپ دوسروں کی طرح ہمیں بے یارومددگار نہیں چھوڑیں گے۔ ہم ملک کے لئے آپ کی برسوں کی خدمات پر آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آپ ہمارے رشتے داروں کی زندگیوں کا تحفظ کریں گے۔
آپ کی مخلص
اسما شفیع

(یہ خط وزیراعظم سیکریٹیریٹ میں جمع کروایا جا چکا ہے، تاہم اس ضمن میں تاحال کوئی پیش رفت دیکھنے کو نہیں ملی ہے۔) حکومت کو چاہیئے کہ سعودی حکومت کے سامنے اس اہم مسئلہ کو اٹھائے، گذشتہ دنوں وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے یہی معاملہ اسلامک یونیورسٹی کے سربراہ کے سامنے اٹھایا تھا تو سعودی حکومت نے اس پہ اتنی ناراضگی ظاہر کی کہ وزیر مملکت کو سعودی سفارتخانے میں جاکر سعودی سفیر سے معافی مانگنی پڑی تھی۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.