ابتدائے آفرینش ز مین و آسمان اور پیدائشِ آدم (بازبان امام علی علیہ السلام)

  • بدھ, 05 دسمبر 2018 14:06

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)تمام حمد اس اللہ کیلئے ہے، جس کی روح تک بولنے والوں کی رسائی نہیں، جس کی نعمتوں کو گننے والے گن نہیں سکتے۔ نہ کوشش کرنے والے اس کا حق ادا کر سکتے ہیں۔ نہ بلند پرواز ہمتیں اسے پا سکتی ہیں نہ عقل و فہم کی گہرائیاں اس کی تہ تک پہنچ سکتی ہیں۔ اس کے کمالِ ذات کی کوئی حد معین نہیں۔ نہ اس کے لئے توصیفی الفاظ ہیں نہ اس (کی ابتداء ) کے لئے کوئی وقت ہے، جسے شمار میں لایا جا سکے، نہ اس کی کوئی مدت ہے جو کہیں پر ختم ہو جائے۔ اس نے مخلوقات کو اپنی قدرت سے پیدا کیا، اپنی رحمت سے ہواؤں کو چلایا، تھرتھراتی ہوئی زمین پر پہاڑوں کی میخیں گاڑی۔ دین۱ کی ابتداء اس کی معرفت ہے۔ کمالِ معرفت اس کی تصدیق ہے، کمالِ تصدیق توحید ہے۔ کمالِ توحید تنزیہ و اخلاص ہے اور کمالِ تنز یہ و اخلاص یہ ہے کہ اس سے صفتوں کی نفی کی جائے۔ کیونکہ ہر صفت شاہد ہے کہ وہ اپنے موصوف کی غیر ہے۔ اور ہر موصوف شاہد ہے کہ وہ صفت کے علاوہ کوئی چیز ہے۔ لہذا جس نے ذاتِ الٰہی کے علاوہ صفات مانے۔ اس نے ذات کا ایک دوسرا ساتھی مان لیا اور جس نے اس کی ذات کا کوئی اور ساتھی مانا۔ اس نے دوئی پیدا کی، اس نے اس کے لئے جز بنا ڈالا اور جو اس کے لئے اجزاء کا قائل ہوا وہ اس سے بے خبر رہا۔ اور جو اس سے بے خبر رہا۔ اس نے اسے قابلِ اشارہ سمجھ لیا اور جس نے اسے قابلِ اشارہ سمجھ لیا اس نے اس کی حد بندی کر دی اور جو اسے محدود سمجھا۔ وہ اسے دوسری چیزوں ہی کی قطار میں لے آیا جس نے یہ کہا کہ وہ کس چیز میں ہے اس نے اسے کسی شے کے ضمن میں فرض کر لیا اور جس نے یہ کہا کہ وہ کس چیز پر ہے۔ اس نے اور جگہیں اس سے خالی سمجھ لیں۔ وہ ہے، ہوا نہیں۔ موجود ہے۔ مگر عد م سے وجود میں نہیں آیا۔ وہ ہر شے کے ساتھ ہے، نہ جسمانی اتصال کی طرح، وہ ہر چیز سے علٰیحدہ ہے، نہ جسمانی دُوری کے طور پر، وہ فاعل ہے، لیکن حرکات و آلات کا محتاج نہیں، وہ اس وقت بھی دیکھنے والا تھا جب کہ مخلوقات میں کوئی چیز دکھائی دینے والی نہ تھی۔ وہ یگانہ ہے۔ اس لئے کہ اس کوئی ساتھی نہیں ہے کہ جس سے وہ مانوس ہو اور اسے کھو کر پریشان ہوجائے۔ اس نے پہلے پہل خلق کو ایجاد کیا۔ بغیر کسی فکر کے جولانی کے اور بغیر کسی تجربہ کے جس سے فائدہ اٹھانے کی اسے ضرورت پڑی ہو اور وہ بغیر کسی حرکت کے جسے اس نے پیدا کیا اور بغیر کسی ولولہ اور جوش کے جس کے وہ بیتاب ہوا ہو۔ ہر چیز کو اس کے وقت کے حوالے کیا۔ بے جوڑ چیزوں میں توازن اور ہم آہنگی پیدا کی۔ ہر چیز کو جداگانہ طبیعت اور مزاج کا حامل بنایا۔ اور ان طبیعتوں کے لئے مناسب صورتیں ضروری قرار دیں۔ وہ ان چیزوں کو ان کے وجود میں آنے سے پہلے جانتا تھا۔ ان کی حدو نہایت پر احاطہ کیا ہوئے تھا اور ان کے نفوس و اعضاء کو پہچانتا تھا۔ پھر یہ کہ اس نے کشادہ فضا، وسیع اطراف و اکناف اور خلا کی وسعتیں خلق کیں اور ان میں ایسا پانی بہایاجس کے دریائے مواج کی لہریں طوفانی اور بحر زخار کی موجیں تہ بہ تہ تھیں اسے تیز ہوا اور تند آندھی کی صشت پر لادا۔ پھر اسے پانی کے پلٹانے کا حکم دیا اور اسے اس کے پابند رکھنے پر قابو دیا اور اسے پانی کی سرحد سے ملا دیا۔ اس کے نیچے ہوا دُور تک پھیلی ہوئی تھی اور اوپر پانی ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ پھر اللہ سُبحانہ نے اس پانی کے اندر ایک ہوا خلق کی، جس کا چلنا بانجھ (بے ثمر) تھا اور اسے اس کے مرکز پر قرار رکھا۔ اس کے جھونکے تیز کر دیئے اور اس کے چلنے کی جگہ دُور و دراز تک پھیلا دی۔ پھر اس ہوا کو مامور کیا کہ وہ پانی کے ذخیرے کو تھپیٹرے دے اور بحرِ بے کراں کی موجوں کو اچھالے۔ اس ہوا نے پانی کو یوُں متھ دیا۔ جس طرح دہی کے مشکیزے کو متھا جاتا ہے اور اسے دھکیلتی ہوئی تیزی سے چلی۔ جس طرح خالی فضا میں چلتی ہے اور پانی کے ابتدائی حصے کو آخری حصے پر اور ٹھہرے ہوئے کو چلتے ہوئے پانی پر پلٹانے لگی۔ یہاں تک کہ اس متلاطم پانی کی سطح بلند ہو گئی اور وہ تہ بہ تہ پانی جھاگ دینے لگا اللہ نے وہ جھاگ کھلی ہوا اور کشادہ فضا کی طرف اٹھائی اور اس سے ساتوں آسمان پیدا کئے۔ نیچے والے آسمان کو رُکی ہوئی موج کی طرح بنایا اور اوپر والے آسمان کو محفوظ چھت اور بلند عمارت کی صورت میں اس طرح قائم کیا کہ نہ ستونوں کے سہارے کی حاجت تھی نہ بندھنوں سے جوڑنے کی ضرورت پھر ان کو ستاروں کی سج دھج اور روشن تاروں کی چمک دمک سے آراستہ کیا اور ان میں ضُو پاش چراغ او رجگمگاتا چاند رواں کیا جو گھومنے والے فلک چلتی پھرتی چھت اور جنبش کھانے والی لوح میں ہے۔ پھر خداوند عالم نے بلند آسمانوں کے درمیان شگاف پیدا کئے اور ان کی وسعتوں کو طرح طرح کے فرشتوں سے بھر دیا۔ کچھ ان میں سر بسجود ہیں جو رکوع نہیں کرتے، کچھ رکوع میں ہیں، جو سیدھے نہیں ہوتے، کچھ صفیں باندھے ہوئے ہیں جو اپنی جگہ نہیں چھوڑتے اور کچھ پاکیزگی بیان کررہے ہیں جو اکتاتے نہیں، نہ ان کی آنکھوں میں نیند آتی ہے۔ نہ ان کی عقلوں میں بھول چوک پیدا ہوتی ہے، نہ ان کے بدنوں میں سستی و کاہلی آتی ہے نہ ان پرنسیان کی غفلت طاری ہوتی ہے، ان میں کچھ تو وحی الٰہی کے امین، اس کے رسوُلوں کی طرف پیغام رسانی کے لئے زبانِ حق اور اس کے قطعی فیصلوں اور فرمانوں کو لے کر آنے جانے والے ہیں، کچھ اس کے بندوں کے نگہبان اور جنت کے دروازوں کے پاسبان ہیں، کچھ وہ ہیں،جن کے قدم زمین کی تہ میں جمے ہوئے ہیں۔ اور ان کے پہلو اطراف عالم سے بھی آگے برھ گئے ہیں۔ ان کے شانے عرش کے پایوں سے میل کھاتے ہیں۔ عرش کے سامنے ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہیں اور اس کے نیچے اپنے پروں میں لپٹے ہوئے ہیں۔ اور ان میں اور دوسری مخلوق میں عزت کے حجاب اور قدرت کے سرا پردے حائل ہیں۔ وہ شکل وصورت کے ساتھ اپنے رب کا تصور نہیں کرتے، نہ اس پر مخلوق کی صفتیں طاری کرتے ہیں۔ نہ اسے محل و مکان میں گھرا ہوا سمجھتے ہیں۔ نہ اشباہ و نظائر سے اس کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

(آدم علیہ السلام کی تخلیق کے بارے میں فرمایا)

پھر اللہ نے سخت و نرم اور شیریں و شورہ زار زمین سے مٹی جمع کی، اسے پانی سے اتنا بھگویا کہ وہ صاف ہو کر نتھر گئی اور تری سے اتنا گوُندھا کہ اس میں لس پیدا ہو گیا۔ اس سے ایک ایسی صورت بنائی، جس میں موڑ ہیں اور جوڑ، اعضا ہیں اور مختلف حصے۔ اسے یہاں تک سکھایا کہ وہ خود تھم سکی اور اتنا سخت کیا کہ وہ کھنکھنانے لگی۔ ایک وقت معین اور مدت معلوم تک اسے یونہی رہنے دیا۔ پھر اس میں روح پھونکی، تو وہ ایسے انسان کی صورت میں کھڑی ہو گئی جو قوائے ذہنی کو حرکت دینے والا۔ فکری حرکات سے تصرف کرنے والا۔ اعضا و جوارح سے خدمت لینے والا اور ہاتھ پیروں کو چلانے والا ہے اور ایسی شناخت کا مالک ہے۔ جس سے حق و باطل میں تمیز کرتا ہے۔ اور مختلف مزوں، بوؤں، رنگوں اور جنسوں میں فرق کرتا ہے۔ خود رنگا رنگ کی مٹی اور ملتی جلتی ہوئی موافق چیزوں اور مخالف ضدوں اور متضاد خلطوں سے اس کا خمیر ہوا ہے۔ یعنی گرمی، سردی، تری خشکی کا پیکر ہے۔

پھر اللہ نے فرشتوں سے چاہا کہ وہ اس کی سونپی ہوئی ودیعت ادا کریں اور اس کے پیمان وصیت کو پورا کریں۔ جو سجدہ آدم کے حکم کو تسلیم کرنے اور اس کی بزرگی کے سامنے تواضع و فروتنی کے لئے تھا۔ اس لئے اللہ نے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ ابلیس کے سوا سب نے سجدہ کیا۔ اسے عصبیت نے گھیر لیا۔ بدبختی اس پر چھا گئی۔ آگ سے پیدا ہوانے کی وجہ سے اپنے کو بزرگ و برتر سمجھا۔ اور کھنکھناتی ہوئی مٹی کی مخلوق کو ذلیل جانا۔ اللہ نے اسے مہلت دی تاکہ وہ پورے طور پر غضب کا مستحق بن جائے اور (بنی آدم) کی آزمائش پایہ تکمیل تک پہنچے اور وعدہ پورا ہو جائے۔ چنانچہ اللہ نے اس سے کہا کہ تجھے وقتِ معین کے دن تک کی مہلت ہے۔ پھر اللہ نے آدم کو ایسے گھر میں ٹھہرایا۔ جہاں ان کی زندگی کو خوش گوار رکھا۔ انہیں شیطان اور اس کی عداوت سے بھی ہوشیار کر دیا۔ لیکن ان کے دشمن نے ان کے جنت میں ٹھرنے اور نیکو کاروں میں مل جُل کر رہنے َپر حسد کیا اور آخر کار انہیں فریب دے دیا۔ آدم نے یقین کو شک اور ارادے کے استحکام کو کمزوری کے ہاتھوں بیچ ڈالا۔ مسرت کو خوف سے بدل لیا۔ اور فریب خوردگی کیوجہ سے ندامت اٹھائی۔ پھر اللہ نے آدم کے لئے توبہ کی گنجائش رکھی۔ انہیں رحمت کے کلمے سکھائے، جنت میں دوبارہ پہنچانے کا ان سے وعدہ کیا اور انہیں دارِ ابتلا و محل افزائشِ نسل میں اتار دیا۔ اللہ سبحانہ نے ان کی اولاد سے انبیاء چُنے۔ وحی پر ان سے عہدو پیمان لیا۔ تبلیغ ُ رسالت کا انہیں امین بنایا۔ جبکہ اکثر لوگوں نے اللہ کا عہد بدل دیا تھا۔ چنانچہ وہ اس کے حق سے بے خبر ہو گئے۔ اوروں کو اس کا شریک بنا ڈالا۔ شیاطین نے اس کی معرفت سے انہیں رو گرداں اور اس کی عبادت سے الگ کر دیا۔ اللہ نےان میں اپنے رسول مبعوث کئے۔ اور لگاتار انبیاء بھیجے تاکہ ان سے فطرت کے عہدو پیمان پورے کرائیں۔ اس کی بھولی ہوئی نعمتیں یاد دلائیں۔ پیغامِ ربانی پہنچا کر حجت تمام کریں۔ عقل کے دفینوں کو ابھاریں اور نہیں قدرت کی نشانیاں دکھائیں۔ یہ سروں پر بلند بام آسمان، ان کے نیچے بچھا ہوا فرشِ زمیں، زندہ رکھنے والا سامانِ معیشت فنا کرنے والی اجلیں، بوڑھا کر دینے والی بیماریاں اور پے در پے آنے والے حادثات۔

اللہ سبحانہ نے اپنی مخلوق کو بغیر کسی فرستادہ پیغمبر یا آسمانی کتاب یا دلیلِ قطعی یا طریقِ روشن کے کبھی یونہی نہیں چھوڑا۔ ایسے رسول، جنہیں تعداد کی کمی اور جھٹلانے والوں کی کثرت درماندہ و عاجز نہیں کرتی تھی۔ ان میں کوئی سابق تھا، جس نے بعد میں آنے والے کا نام و نشان بتایا۔ کوئی بعد میں آیا، جسے پہلا پہچنوا چکا تھا۔ اسی طرح مدتیں گذر گئیں۔ زمانے بیت گئے۔ باپ داداؤں کی جگہ پر ان کی اولادیں بس گئیں۔ یہاں تک کہ اللہ سبحانہ نے ایفائے عہد و اتمام نبوت کے لئے محمد کو مبعوث کیا، جن کے متعلق نبیوں سے عہد وپیمان لیا جا چکا تھا، جن کے علاماتِ (ظہور) مشہور، محل ولادت مبارک و مسعود تھا۔ اس وقت زمین پر بسنے والوں کے مسلک جُدا جُدا خواہشیں متفرق و پراگندہ اور راہیں الگ الگ تھیں۔ یوں کہ کچھ اللہ کو مخلوق سے تشبیہ دیتے، کچھ اس کے ناموں کو بگاڑ دیتے۔ کچھ اسے چھوڑ کر اوروں کی طرف اشارہ کرتے تھے خدا وندِ عالم نے آپ کی وجہ سے انہیں گمراہی سے ہدایت کی راہ پر لگایا اور آپ کے وجود سے انہیں جہالت سے چھڑایا۔ پھر اللہ سبحانہ نے محمد کو اپنے لقا و قرب کے لئے چنا، اپنے خاص انعامات آپ کے لئے پسند فرمائے اور دارِ دنیا کی بود و باش سے آپ کو بلند تر سمجھا اور زحمتوں سے گھری ہوئی جگہ سے آپ کے رخ کو موڑا اور دنیا سے باعزت آپ کو اٹھا لیا۔ حضرت تُم میں اسی طرح کی چیز چھوڑ گئے، جو انبیاء اپنی امتوں میں چھوڑتے جاتے آئے تھے۔ اس لئے کہ وہ طریق واضح و نشانِ محکم قائم کئے بغیر یوں ہی بے قید و بند انہیں نہیں چھوڑتے تھے۔ پیغمبر ﷷ نے تمہارے پروردگار کی کتاب تم میں چھوڑی ہے۔ اس حالت میں کہ انہوں نے کتاب۲ کے حلال و حرام، واجبات و مستحبات، ناسخ و منسوخ رخص و عزائم، خاص و عام، عبرو امثال، مقیدو مطلق، محکم و متشابہ کو واضح طور سے بیان کر دیا۔ مجمل آیتوں کی تفسیر کر دی۔ اس کی گتھیوں کو سلجھا دیا۔ اس میں کچھ آیتیں وہ ہیں، جن کے جاننے کی پابندی عائد کی گئی ہے اور کچھ وہ ہیں کہ اگر اس کے بندے ان سے ناواقف رہیں تو مضائقہ نہیں، کچھ احکام ایسے ہیں جن کا وجوب کتاب سے ثابت ہے اور حدیث سے ان کے منسوخ ہونے کا پتہ چلتا ہے اور کچھ احکام ایسے ہیں، جن پر عمل کرنا حدیثِ کی روُ سے واجب ہے لیکن کتاب میں ان کے ترک کی اجازت ہے۔ اس کتاب میں بعض واجبات ایسے ہیں۔ جن کو وجوب وقت سے وابستہ ہے اور زمانہ آئندہ میں ان کو وجوب برطرف ہو جاتا ہے۔ قرآن کے محرمات میں بھی تفریق ہے۔ کچھ کبیرہ ہیں۔ جن کے لئے آتشِ جہنم کی دھمکیاں ہیں اور کچھ صغیرہ ہیں جن کے لئے مغفرت کے توقعات پیدا کئے ہیں۔ کچھ اعمال ایسے ہیں جن کا تھوڑا سا حصہ بھی مقبول ہے۔ اور زیادہ سے زیادہ اضافہ کی گنجائش رکھی ہے۔

اسی خطبہ میں حج کے سلسلہ میں فرمایا : اللہ نے اپنے گھر کا حج تم پر واجب کیا۔ جسے لوگوں کا قبلہ بنایا۔ جہاں لوگ اس طرح کھنچ کر آتے ہیں۔ جس طرح پیاسے حیوان پانی کی طرف اور اس طرح وارفتگی سے بڑھتے ہیں، جس طرح کبوتر اپنے آشیانوں کی جانب۔ اللہ جلّ شان نے اس کو اپنی عظمت کے سامنے ان کی فروتنی و عاجزی اور اپنی عزت کے اعتراف کا نشان بنایا ہے۔ اُس نے اپنی مخلوق میں سے سننے والے لوگ چن لیے جنہوں نے اس کی آواز پر لبیک کہیں اور اس کے کلام کی تصدیق کی وہ انبیاء کی جگہوں پر ٹہرے۔ عرش پر طواف کرنے والے فرشتوں سے مشابہت اختیار کی۔ وہ اپنی عبادت کی تجارت گاہ ہیں منفعتوں کو سمیٹتے ہیں اور اس کی وعدہ گاہ مغفرت کی طرف بڑھتے ہیں۔ اللہ سبحانہ نے اس گھر کو اسلام کا نشان پناہ چاہنے والوں کے لیے حرم بنایا ہے اس کا حج فرض اور ادائیگی حق کو واجب کیا ہے اور اس کی طرف راہ نوردی فرض کر دی ہے۔ چنانچہ اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ ا للہ کا واجب الادا حق لوگوں پر یہ ہے کہ وہ خانۂ کعبہ کا حج کریں، جنہیں وہاں تک پہنچنے کی استطاعت ہو اور جس نے کفر کیا تو جان لے کہ اللہ سارے جہان سے بے نیاز ہے۔

 

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.