خارجہ پالیسی: ایران کے خلاف امریکہ اپنی دوہری حکمت عملی پر سرگرم

  • جمعرات, 06 دسمبر 2018 13:14

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)امریکہ کی خارجہ پالیسی میں توانائی ہمیشہ سے ہی ایک اہم عنصر رہا ہے۔تیل اور گیس کے عالمی بازار میں جو کچھ بھی ہو رہا ہو امریکہ اس کے پیدا کرنے والے ممالک اور اس کے صارف ممالک کی خارجہ پالیسی کو براہ راست متاثر کرتا رہا ہے۔لیکن تیل اور گیس کی پیداوار، فراہمی اور بازار تک پہنچانے کے متعلق کسی بھی تنازعے کی صورت میں نئی علاقائی اور بین الاقوامی تنظیمیں بھی وجود میں آئی ہیں۔اور یہ تنظیمیں علاقائی اور عالمی تنازعات کو حل کرنے اور تیل اور گیس کی پیداوار کے لیے متبادل ذرائع کے متعلق فیصلے کرتی ہیں۔وینزویلا اور ایران کے خلاف پابندیوں نے امریکہ کو اپنے ایل این جی (سیال شکل میں قدرتی گیس) کے لیے زیادہ سے زیادہ بازار تک رسائی کے مواقع فراہم کیے ہیں۔ایران کے خلاف دوسرے مرحلے کی پابندی اور امریکہ کی سعودی عرب اور روس کے ساتھ مل کر اپنے اپنے تیل کی پیداوار میں اضافے سے ان کے مشترکہ مقاصد بخوبی ظاہر ہوتے ہیں۔

اوبامہ انتظامیہ کے دوران پابندی
امریکی صدر براک اوباما کے دور حکومت میں ایران پر پابندی کا بنیادی مقصد ایرانی تیل کی برآمدات کو کم کرنا تھا اور ایران کے فروخت کردہ پٹرول کی قیمت کی ادائيگی پر بین الاقوامی مالی نظام کے ذریعے پابندی عائد کرنا تھا۔پہلی بار اوباما انتظامیہ نے سوئفٹ (سوسائٹی فار ورلڈ وائڈ انٹربینک فانینشیئل ٹیلی کمیونیکیشن) کے ذریعے ایران کے لین دین کے امکانات کو محدود کرنے کی کوشش کی۔اس کا اثر یہ ہوا کہ ایران کے لیے اپنے تیل کی قیمت کی وصولی مشکل تر ہوتی گئی۔ایران کو اپنی معیشت کو فروغ دینے اور خطے میں اپنا سیاسی دبدبہ قائم رکھنے کے لیے تیل، گیس اور پیٹرو کیمیکل کی فروخت سے حاصل ہونے والے رقوم کی سخت ضرورت رہی ہے۔اوباما دور حکومت میں عائد پابندی کے سبب نہ صرف ایران کے تیل کی برآمدات میں کمی واقع ہوئی بلکہ اس کے ایل این جی کے تمام پروجیکٹس کو بھی درمیان میں ہی روک دیا گیا اور ایران ایل این جی کے بازار میں اپنا ہدف حاصل نہیں کر پایا۔ایران کا منصوبہ یورپ کو ایل این جی برآمد کرکے اس کے قدرتی گیس کے بازار میں اپنا قدم جمانا تھا لیکن اس کی پائپ لائن کا منصوبہ ادھورا رہ گیا۔ایران کا ایک منصوبہ یہ بھی تھا کہ خاص قسم کے بحری جہاز سے ایف ایل این جی (تیرتا ہوا سیال قدرتی گیس) حاصل کرکے ایل این جی کی پیداوار کرے مگر پابندی کے سبب دوسرے ممالک سے ضروری ٹیکنالوجی حاصل کرنے کا راستہ بھی مسدود ہو گیا۔صدر ٹرمپ کا ایران کے ساتھ چھ ممالک کے ایٹمی معاہدے سے باہر نکلنے اور ایران کی توانائی کی صنعت پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا سب سے بڑا مقصد اس کا توانائی کی برآمدات کے لیے سازگار ماحول بنانا اور امریکہ کی توانائی کی صنعت کو مضبوط کرنا اور اس کے لیے نئے بازار تلاش کرنا تھا۔چنانچہ سنہ 2018 میں امریکہ نے روزانہ 30 لاکھ بیرل سے بھی زیادہ تیل اور گیس برآمد کیا۔ دوسری طرف جنوبی کوریا نے 60 فیصد سے زیادہ ایرانی تیل درآمد کیا۔امریکہ اب جنوبی کوریا کو اپنے ایل این جی کی برآمدات میں اضافہ کرکے ایرانی تیل اور گیس کی برآمدات کی مقدار کو کم کرنا چاہتا ہے جس کے نتیجے میں ایران مشرقی ایشیا میں اپنا ایک بڑا خریدار کھو سکتا ہے۔ایک قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایران کے ہلکے خام تیل کی کیمیائی خاصیت امریکی خام تیل کی کیمیائی خصوصیات سے مختلف ہے۔اگر ایران کے خام تیل کی خصوصیت امریکہ کے خام تیل (شیل تیل) سے ملتی جلتی ہوتی تو غالب امکان تھا کہ امریکہ کا خام تیل عالمی بازار میں ایک حد تک ایران کے خام تیل کے مترادف ہو جاتا۔امریکہ ایران کے تیل کی برآمدات کو صفر تک پہنچانا چاہتا تھا لیکن امریکہ کی طرف سے ایران کے آٹھ بڑے تیل درآمد کرنے والے ممالک کو دی جانے والی چھوٹ سے اب ایران کی برآمدات جاری رہ سکے گی۔اور اس طرح ایران سنہ 2025 تک اپنی ترقی کے منصوبے کے حصول کے لیے روزانہ پانچ کروڑ سات لاکھ بیرل تیل کی پیداوار کر سکے گا جو کہ مجموعی عالمی پیداوار کا سات فیصد ہوگا۔ایران کے تیل کی صنعت پر پابندیاں ایران کے بڑے خریدار ممالک کی پالیسیوں پر اثر انداز ہو سکتی ہیں اس کے ساتھ ہی توانائی کے بازار میں روس ایران کے بڑے حریف کے طور پر سامنے آ سکتا ہے۔

توانائی کے متعلق چین کی پالیسی
ایرانی تیل کا ایک بڑا خریدار چین سنہ 2017 میں روزانہ ایران سے سات لاکھ 80 ہزار بیرل تیل درآمد کرتا رہا ہے۔چین کی ترقی پذیر معیشت کے لیے محفوظ ذرائع سے توانائی کی مسلسل فراہمی اور توانائی کے اہم اور متنوع ذرائع ہی چین کی قومی توانائی پالیسی کا مرکز رہے ہیں۔ایران پر پابندی سے پہلے کئی چینی کمپنیاں ایران کی توانائی کی صنعت میں بہت فعال تھیں۔چین اپنی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے توانائی کی محفوظ فراہمی اور اپنی خارجہ پالیسی کے پیش نظر ایران سے تیل کی خریداری جاری رکھنا چاہتا ہے۔ لیکن حالیہ صورت حال میں وہ ایسے ممالک سے تیل اور گیس کی درآمد کو ترجیح دینا چاہے گا جس کا امریکہ کے ساتھ بڑا تنازع اور کشیدگی نہ ہو۔

انڈیا کا بازار
چین کے بعد انڈیا ایران کا دوسرا سب سے بڑا تیل کا خریدار ہے۔رواں سال اپریل سے اگست کے درمیان انڈیا نے ایران سے چھ لاکھ 58 ہزار بیرل تیل روزانہ درآمد کیا ہے۔ اس کے علاوہ ایران کے گیس اور تیل کے منصوبے میں بھی وہ شرکت چاہتا ہے۔لیکن سعودی عرب کی انڈیا پر نظر ہے اور وہ توانائی کے بازار میں فعال سفارت کاری کے بھروسے انڈیا کی خارجہ پالیسی کو متاثر کرنے کے لیے سرمایہ کاری کررہا ہے تاکہ انڈیا کے بازار میں ایران کے کردار کو کم کیا جا سکے۔سنہ 2018 کے آغاز میں سعودی عرب کی ’ارامكو‘ کمپنی نے انڈیا کے ساحلی شہر رتناگیری میں تیل صاف کرنے والے کارخانے کے 50 فیصد حصص 44 ارب ڈالر میں خریدے۔ رتناگیری فیسیلیٹی میں روزانہ چھ کروڑ ٹن خام تیل کو صاف کرنے کی صلاحیت ہے۔اس کے ساتھ انڈیا امریکہ سے بھی تیل درآمد کر رہا ہے۔ اس نے جون میں امریکہ سے روزانہ تقریباً دو لاکھ 28 ہزار بیرل تیل درآمد کیا۔دریں اثنا امریکی وزیر تیل کا کہنا ہے کہ مستقبل میں امریکہ انڈیا کے لیے اپنی تیل کی برآمدات میں اضافہ کرنے کا خواہاں ہے۔اس کے ساتھ ہی دونوں ممالک نے ایل این جی کے لیے 20 سالہ معاہدے پر دستخط کیا ہے جس کے تحت امریکہ انڈیا کو ایل این جی برآمد کرے گا۔ایسی صورت میں ایران سے انڈیا میں تیل کی درآمد متاثر ہوتی نظر آتی ہے لیکن ایران نے انڈیا کو تیل کے لانے پر اخراجات میں کمی کے لالچ دیے ہیں۔

یورپی یونین
توانائی کی محفوظ فراہمی یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کا اہم جز رہا ہے۔ یورپی ممالک ایران سے روزانہ تقریباً پانچ لاکھ بیرل تیل درآمد کرتے ہیں۔اوباما انتظامیہ کی طرف سے لگائی جانے والی پابندیوں سے پہلے ایران نے منصوبہ بنایا تھا کہ ایک مخصوص وقت کے اندر وہ اپنے یہاں ضروری بنیادی ڈھانچہ تیار کر کے یورپی یونین کو گیس برآمد کرے لیکن توانائی کے گھریلو اخراجات میں اضافے اور تیل نکالے جانے کے شعبے میں ضروری سرمایہ کاری کی کمی کی وجہ سے ان کا منصوبہ پورا نہیں ہوسکا۔ایران کے تیل اور گیس کے منصوبوں میں جو غیر ملکی کمپنیاں سرگرم تھیں وہ بھی امریکی پابندیوں کے بعد وہاں سے نکل آئیں۔اس ساتھ یورپ میں اضافی گیس کی ضرورت بھی نہیں رہی اور گیس کی قیمتوں میں کمی جیسے عوامل کی وجہ سے ایران کا منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا۔

روس کی نظر
روس دنیا کا ایک بڑا تیل اور گیس پیدا کرنے والا ملک ہے جسے ایران پر پابندیوں سے سب سے زیادہ فائدہ ہوتا نظر آ رہا ہے۔سنہ 2017 میں ایران نے اپنے آبان اور مغربی پائیدار نام کی دو آئل فیلڈز کے فروغ کے لیے روسی کمپنی زروبیزنیفت کے ساتھ معاہدہ کیا تھا۔ایرانی رہنما علی اکبر ولایتی نے رواں سال جولائی میں اپنے روس کے سفر کے دوران ولادی میر پوتن کے حوالے سے کہا تھا کہ روس تیل اور گیس کے شعبے میں ایران کے ساتھ اپنے تعاون کو جاری رکھے گا اور اس کے ساتھ ہی ایران اس شعبے میں 50 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری بھی کرے گا۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ روسی کمپنیاں ایسے علاقوں میں سرمایہ کاری کر رہی ہیں جن علاقوں کی پیداوار روس کے ہدف بازاروں کے لیے خطرہ پیدا نہیں کرے گا۔لیکن یہاں یورپی ٹیکنالوجی کے مقابلے میں روسی ٹیکنالوجی کے معیار کا سوال بھی ہے۔

ایرانی تیل اور گیس کی برآمدات کا مستقبل
شیل گیس کے انقلاب نے امریکہ کو توانائی درآمد کرنے والے ممالک سے قدرتی گیس اور ایل این جی برآمد کرنے والے ممالک میں تبدیل کر دیا۔شیل گیس نہ صرف امریکہ کی معیشت میں تابناکی کا موجب ہوا بلکہ امریکی خارجہ پالیسی کے لیے ایک مؤثر ہتھیار ثابت ہوا۔شیل تیل کی پیداوار میں اضافہ کی وجہ سے مستقبل میں پیٹرول برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کو چیلنج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ایرانی معیشت کا تیل کی آمدن پر انحصار اور امریکہ کے سبب اس کے تیل کی برآمدات میں کمی کے سبب علاقائی سطح پر ایران کے اثر و رسوخ میں کمی آئی ہے اور اس کے سبب امریکی توانائی کی پالیسی کے لیے سازگار ماحول بنتا ہے۔دوسری جانب ایران بغیر غیر ملکی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کے اپنے تیل کی پیداوار اور برآمدات میں اضافہ نہیں کر سکتا ہے۔ایران کے زر مبادلہ، غیرملکی کرنسی کے ذخائر اور محصول میں کمی اس کی معیشت پر براہ راست اثرانداز ہوں گی۔اگر ایران قدرتی گیس کے شعبے میں وافر پیداوار نہیں کرسکتا اور اپنے گھریلو کھپت کو کم نہیں کر پاتا تو وہ اپنے سب سے بڑے بازار ترکی کو بھی کھو سکتا ہے کیونکہ ترکی توانائی کے ذرائع میں تنوع لاتے ہوئے امریکہ اور قطر سے ایل این جی کی خرید میں اضافہ کرنے لگا ہے۔اگر ایران پر عائد پابندیاں اور امریکی توانائی کی برآمدات اس کی غیر ملکی پالیسی کے ہتھیار کے طور پر کامیاب ہو جائیں گے، تو مستقبل میں امریکہ یہی ہتھیار دوسرے ممالک کے خلاف استعمال کرسکتا ہے۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.