’افغان جہاد ‘ کے نام پر پشاور میں دہشتگردوں کی کھلے عام بھتہ خوری اور ریاست خاموش

  • جمعرات, 06 دسمبر 2018 15:33

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)خیبر پختونخوا اور سابق قبائلی علاقوں میں آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد کے بعد تقریباً تمام علاقوں میں حکومتی عمل داری بحال کردی گئی ہے جبکہ دہشت گردی کے واقعات میں بھی خاطر خواہ حد تک کمی د یکھی گئی ہے۔تاہم دوسری طرف مبینہ طور پر مسلح تنظیموں کی طرف سے بھتہ خوری کے واقعات میں نہ صرف مسلسل اضافہ ہورہا ہے بلکہ اس نے ایک نئی شکل اختیار کرلی ہے اور اب تو بڑے شہروں میں بھی دن دھاڑے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ناک کے نیچے کھلے عام بھتہ خوری کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ان وارداتوں میں نہ صرف پاکستانی کالعدم تنظمیں ملوث بتائی جاتی ہیں بلکہ اب تو مبینہ طورپر افغان طالبان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بھی پاکستانی علاقوں میں کھلے عام ’افغان جہاد‘ کے نام پر ٹرک ڈرائیوروں سے بھتہ وصول کرتے ہیں۔پشاور کے مضافاتی علاقے پندو میں تقریباً دس کے قریب ٹرکوں کے چھوٹے بڑے اڈے واقع ہیں جہاں سے روزانہ تقریباً سو سے لے کر دو سو کے قریب مال بردار ٹرک افغانستان جاتے ہیں۔ ان میں زیادہ تر ٹرکوں میں پاکستان سے سرحد پار پھل اور سبزیاں جاتی ہیں جن میں کیلے کا پھل نمایاں برآمد بتایا جاتا ہے۔پندو میں ایک ٹرک اڈے کے مالک نے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ افغان طالبان کے کارندے صبح سویرے بھتہ وصول کرنے کےلیے اڈے پر پہنچ جاتے ہیں اور افغانستان جانے والے ہر ٹرک سے پانچ ہزار روپے وصول کیا جاتا ہے اور جو ٹرک ڈرائیور انکار کرتا ہے ان کو قتل کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔انھوں نے کہا کہ یہ سلسلہ تقریباً گذشتہ تین ماہ سے مسلسل جاری ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ بھتہ لینے افراد کا موقف ہے کہ وہ یہ رقم ’افغان جہاد‘ میں استعمال کرتے ہیں اور اسے ان افراد میں تقسیم کیا جاتا ہے جن کے عزیز رشتہ دار ’افغان جہاد‘ میں ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔اڈہ مالک کے بقول ’شروع میں جب ہم نے بھتہ دینے سے انکار کیا تو ہمیں قتل کی دھمکیاں دی گئیں اور ہمارے بعض ڈرائیوروں کو افغان علاقوں میں روک کر ان کو اغوا کیا گیا اور ان کا سامان قبضے میں لے لیا گیا جس کے بعد اب ہمیں مجبوراً ان کی بات ماننی پڑ رہی ہے۔‘انھوں نے کہا کہ پندو اور رنگ روڈ پر افغانستان کے تمام اڈوں میں صبح سے لے کر شام تک بھتہ لینے والے کارندے موجود ہوتے ہیں اور ہر ٹرک اور کنٹینر سے بلا خوف و خطر رقم وصول کرتے ہیں۔اطلاعات ہیں کہ افغانستان جانے والے سیمنٹ کی گاڑیوں سے بھی باقاعدہ ’ٹیکس‘ کے نام پر بھتہ لیا جاتا ہے جو ایک اندازے کے مطابق لاکھوں ہے۔ پاکستان سے روزانہ سینکڑوں سیمنٹ اور دیگر تعمیراتی سامان کی گاڑیاں سرحد پار جاتی ہیں۔ٹرک مالکان کا کہنا ہے کہ ابتدا میں سیمنٹ کا کاروبار کرنے والے تاجر بھتہ دینے سے انکاری تھے جس پر کئی مرتبہ افغان علاقوں میں ان کا سامان چھینا گیا اور ان کے ڈرئیوروں کو اغوا کیا گیا جس کے بعد وہ بھی اب مجبوراً بھتہ دینے پر آمادہ ہوئے۔بتایا جاتا ہے کہ بھتہ دینے والے ڈرائیوروں کو افغان طالبان کی طرف سے ایک رسید بھی جاری کی جاتی ہے جس کے بعد انھیں افغانستان میں طالبان کے زیر اثر علاقوں میں مزید ٹیکس نہیں دینا پڑتا اور نہ ڈرائیوروں کو بلاوجہ تنگ کیا جاتا ہے۔ایک اڈہ مالک سے جب پوچھا گیا کہ وہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس غیر قانونی ٹیکس سے آگاہ کیوں نہیں کرتے تو اس پر انھوں نے کہا کہ اس کا بظاہر کوئی فائدہ نظر نہیں آتا کیونکہ ان کے ٹرک افغانستان جاتے ہیں اور جہاں بیشتر مضافاتی علاقوں میں افغان طالبان کا کنٹرول ہے لہٰذا پاکستانی اداروں کے نوٹس میں لانے سے فائدے کی بجائے نقصان ہو سکتا ہے۔دریں اثنا افغان طالبان نے پاکستان میں افغان ٹرکوں سے ’ٹیکس یا بھتہ‘ لینے کی اطلاعات سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بی بی سی پشتو کے نامہ نگار خدائے نور ناصر سے مختصر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا اس ٹیکس سے کوئی لینا دینا نہیں اور نہ ان کا اس سے کوئی تعلق ہے۔ادھر گذشتہ روز پشاور میں ضلع کونسل کے اجلاس میں حزب اختلاف کے ایک کونسلر کی طرف سے اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا کہ پشاور شہر میں دن دہاڑے افغانستان جانے والے ٹرکوں سے کھلے عام بھتہ وصول کیا جاتا ہے اور پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔انھوں نے اجلاس میں افغان طالبان کی طرف سے ڈرائیوروں کو جاری کردہ ایک رسید بھی دکھائی جس میں تمام تفصیلات درج ہوتی ہیں۔اس موقعے پر اجلاس میں موجود پشاور کے ڈپٹی کمشنر عمران حامد شیخ نے ارکان کو یقین دہانی کرائی کہ یہ ایک اہم معاملہ ہے جس پر وہ پولیس کے ساتھ بات کرکے متعلقہ افراد کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔تاہم اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنر سے بار بار رابطے کی کوشش کی گئی تاہم اس معاملے پر تاحال ان کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.