شیعہ نیوز )پاکستای شیعہ خبر رساں ادارہ( کراچی میں ایک بار پھر بڑھتی ہوئی شیعہ نسل کشی کے خلاف مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن کے زیر اہتمام آل شیعہ پارٹیز پریس کانفرنس کا انعقاد آج بروز جمعرات 24 جنوری کو صوبائی سیکریٹریٹ کلیٹن گارڈن، سولجربازار میں کیا جائیگا۔

آل شیعہ پارٹیز پریس کانفرنس میں ایم ڈبلیوایم پاکستان کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکٹری علامہ سید احمد اقبال رضوی، سربراہ جعفریہ الائنس پاکستان علامہ عباس کمیلی، سربراہ مجلس علمائے شیعہ علامہ مرزا یوسف حسین، جنرل سیکٹری ہیت آئمہ مساجد و علمائے امامیہ پاکستان علامہ سید باقر عباس زیدی، سربراہ مجلس ذاکرین امامیہ علامہ نثار احمد قلندری، ذاکر اہلبیتؑ علامہ فرقان حیدر عابدی، ریجنل صدر امامیہ آرگنائزیشن کراچی ڈویژن ضیاء عباس، ڈویژنل صدر امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کراچی ڈویژن محمد عباس، صدر مرکزی تنظیم عزاداری پاکستان ایس ایم نقی و دیگر شیعہ رہنما شریک ہوں گے اور شہر قائد میں ہونے والی شیعہ کلنگ کی نئی لہر پر متفقہ لائحہ عمل بیان کریں گے۔

شیعہ نیوز )پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ( مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن نے ضمنی انتخابات حلقہ پی ایس 94 میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کردیا۔

پی ٹی آئی کے رہنما خرم شیر زمان نے اپنے وفد کے ہمراہ وحدت ہاوس میں ایم ڈبلیوایم رہنماوں سے ملاقات کی اور دونوں جماعتوں کی جانب سے مشترکہ پریس کانفرنس بھی کی گئی۔ کانفرنس سے خطاب میں ایم ڈبلیوایم صوبہ سندھ کے سیکٹری سیاسیات علی حسین نقوی کا کہنا تھا کہ ایم ڈبلیوایم مثبت اور تعمیری سیاست پر یقین رکھتی ہے، ملک کی ترقی و استحکام اور امن و امان کا قیام ہماری اولین ترجیحات میں سے ہیں جس کو حقیقی شکل دینے کے لئے تکفیری اور انتہاء پسند قوتوں سے نجات حاصل کرنا ضروری ہے۔

علی حسین نقوی کا کہنا تھا کہ ہمارا اور پاکستان تحریک انصاف کا منشور ایک ہی ہے، ہم بھی قائداعظم و علامہ اقبال کا پاکستان چاہتے ہیں اور پی ٹی آئی بھی کرپشن سے پاک پاکستان کی خواہاں ہے، ہم بھی تکفیریت کا خاتمہ چاہتے ہیں پاکستان تحریک انصاف بھی پاکستان سے شدت پسندی کا خاتمہ چاہتی ہے، پاکستان تحریک انصاف کی حمایت کرپشن اور دہشتگردی کے خلاف پورے عزم سے مشترکہ جدوجہد کا اعلان ہے، کرپشن و شدت پسندی کی مخالفت میں پاکستان تحریک انصاف ہماری ہم خیال جماعت ہے، انشاء اللہ 27 جنوری 2019ء کے ضمنی انتخابات میں حلقہ پی ایس 94 کا ساتھ محض بیانات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ہم الیکشن مہم سے نتائج آنے تک اپنے کارکنوں کے ہمراہ میدان میں موجود رہیں گے۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما خرم شیر زمان نے ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری و ایم ڈبلیو ایم کے رہنماؤں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حلقہ پی ایس 94 میں آپ کے تعاون کو کبھی بھی فراموش نہیں کیا جائے گا، ایم ڈبلیو ایم ملت تشیع کی نمائندہ اور عوامی جماعت ہے اور ہر قومی ایشو پر یہ جماعت میدان میں موجود رہی ہے، ان کی قومی خدمات لائق تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کراچی کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں، حلقہ پی ایس 94 میں مسائل کی بھرمار ہے، سندھ اسمبلی میں آواز اٹھائی جائیگی، اس حلقہ میں ایم ڈبلیو ایم کی طرف سے حمایت کے اعلان کے بعد ہماری فتح کو یقینی قرار دیا جا رہا ہے اور ہمیں پوری امید ہے کہ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے ہم ہی مذکورہ حلقہ سے کامیاب ہوں گے۔ پریس کانفرنس میں امیدوار حلقہ پی ایس 94 اشرف قریشی، نواز خان، عدنان اسماعیل، ایم پی اے عباس جعفری، ایم ڈبلیو ایم کے رہنما علامہ مبشر حسن، علامہ صادق جعفری، علامہ علی انور جعفری، میر تقی ظفر، ناصر الحسینی، احسن عباس، سجاد سمائری سمیت دیگر رہنما موجود تھے۔

شیعہ نیوز )پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ( پاکستان مسلم لیگ نون گلگت بلتستان کے رہنماء و چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی جی بی کونسل اشرف حسین صدا نے مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکرٹریٹ میں ایم ڈبلیو ایم جی بی کے سربراہ آغا علی رضوی، مرکزی سیکرٹری سیاسیات سید اسد عباس نقوی، محسن شہریار، شیخ احمد علی نوری اور ایڈووکیٹ آصف سے ملاقات کی۔

اس موقع پر رہنماؤں نے جی بی کی سیاسی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔ چیئرمین سٹینڈنگ کمیٹی اشرف صدا نے آغا علی رضوی اور مجلس وحدت کے رہنماوں کے قومی ایشوز پر مؤثر انداز میں آواز بلند کرنے کو سراہا اور انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ عوامی حقوق کے حصول کے لئے ہر طرح کی معاونت کی جائے گی۔

اس موقع آغا علی رضوی نے کہا کہ گلگت بلتستان اسوقت تاریخی موڑ سے گزر رہا ہے، اس میں سب سے زیادہ کردار وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت ادا کر سکتی ہے۔ دونوں حکومتیں یہاں کے عوام کی محرومیوں کو دور کرنے کے لئے جدوجہد کریں تو خطے کی عوام ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ اس موقع پر اشرف صدا نے کہا کہ خطے کی محروم عوام کے حقوق کے لئے ہر طرح کے اقدامات اٹھانے کے لئے تیار ہیں اور کسی بھی فورم پر جی بی کے عوام کے حقوق کے حوالے سے خاموشی اختیار کی ہے اور نہ کی جائے گی۔ اس موقع پر ایم ڈبلیو ایم کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت اور جی بی کونسل گلگت بلتستان کے عوام کو انکی خواہشات کے مطابق حقوق دلانے میں کردار ادا کرے۔

شیعہ نیوز )پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ( مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی وفد کے ہمراہ وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈاپور سے ان کے آفس میں ملاقات ہوئی۔ وفد میں مرکزی سیکرٹری سیاسیات سید اسد عباس نقوی، سید محسن شہریار، سیکرٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم جی بی آغا سید علی رضوی، محمد علی، شیخ احمد علی نوری اور مظاہر شگری شامل تھے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ گلگت بلتستان کے محب وطن عوام کی محرمیوں کا ازالہ کرنے میں حکومت اپنا کردار ادا کرے۔ گذشتہ حکمرانوں نے اس خطے کے عوام کو نظرانداز کیا، جس کے سبب وہاں کے عوام کی مایوسیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ گلگت بلتستان پاکستان کی فطری دفاعی لائن ہے، وقت آگیا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کو فاٹا کی ظرح قومی دھارے میں شامل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جی بی کے وسائل پر سب سے زیادہ حق وہاں کی عوام کا ہے۔ حکومت ٹورزم اور قدرتی وسائل اور ہائیڈور پروجیکٹس پر ترجیحی بنیادوں پر فوکس کرکے نہ صرف خطے عوام کی حالت بدل سکتی بلکہ پاکستان کو معاشی مشکلات سے بھی نکال سکتی ہے۔

راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ گلگت بلتستان میں نون لیگ کی حکومت کی جانب سے انتقامی کارروائیوں کو فی الفور روکا جائے۔ شیڈول فور کے تحت درجنوں محب وطن شخصیات کو ہراساں کیا جا رہا ہے، ایسے غیر قانونی اور غیر آئینی اقدامات کیخلاف وفاقی حکومت فوری نوٹس لے۔ جی بی کے مستقبل کے فیصلوں میں وہاں کے عوامی حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والی شخصیات سے بھی حکومت انکا موقف سنے اور دشمن کے ناپاک عزائم کو کامیاب نہ ہونے دے۔

اس موقع پر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور نے کہا کہ ان شاء اللہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کے لئے سنجیدہ ہے اور بہت جلد خطے کے عوام کے لئے خوشخبری دینگے۔ ملک کے لئے وہاں کے غیور عوام کی والہانہ محب اور قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہی جی بی میں حقیقی تبدیلی لائے گی۔ وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور سے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کی کوٹلہ امام حسین علیہ السلام کی زمین کی واگذاری کے معاملہ پر بھی تفصیلی بات ہوئی۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ وزیراعظم کا امت مسلمہ کے تنازعات میں ثالثی کرنے کا بیان خوش آئند ہے، لیکن طول تاریخ میں سعودی روایات اس سے مختلف ہیں، یمن میں جاری مسلمانوں کی نسل کشی کے پیچھے امریکہ اسرائیل اور آل سعود ملوث ہیں، آل سعود اپنی بادشاہت بچانے کے لئے ان استعماری طاقتوں کے ہاتھوں یرغمال ہے، قرض دینے والا کبھی قرض دار کی شرائط پر قرض نہیں دیگا، تاہم ہم اس حوالے سے حکومت کی عملی کوششوں کے منتظر ہیں، ہمیں کسی بھی ملک کی جنگ میں فریق بن کر تنازعات میں اضافہ کرنے سے گریز کرنا چاہیئے۔ اپنے بیان میں علامہ ناصر عباس نے کہا کہ عالم اسلام کے مابین تنازعات کا حل صرف اور صرف ڈائیلاگ سے ہی ممکن ہے، استعماری قوتوں نے مسلم ممالک کو باہم دست و گریباں کرکے اپنے مفادات حاصل کئے ہیں۔

سعودی ولی عہد خود اس بات کا اعتراف کرچکا ہے کہ ہم نے افغان وار میں مغرب کے مفادات کے خاطر شدت پسندی کو پرموٹ کیا، بدقسمتی سے عرب ممالک کے بادشاہ مغربی طاقتوں کے غلام بن کر مسلم امہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے میں مصروف ہیں، لیبیا، تیونس، عراق اور افغانستان میں تباہی مچانے کے بعد دشمن کی نگاہیں اب وطن عزیز پر مرکوز ہیں، ایسے میں ہماری لیڈر شپ کو پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوگا، ہم ابھی تک افغان جہاد کے قرض اتارنے میں مصروف ہیں، ایسے میں اگر مشرقی وسطیٰ کے گندی جنگ کا حصہ بنے تو اس کے نتائج انتہائی خوفناک نکلیں گے۔ سربراہ ایم ڈبلیو ایم نے کہا کہ یمن میں فوری جنگ بندی اور یمنی مظلوم عوام کو جلد از جلد ریلف پہنچانے کی عملی کوششیں کی جانی چاہیں، ہم اس حوالے سے حکومت کے تمام اقدامات کی تائید کریں گے۔

شیعہ نیوز )پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ( بہاولنگر کے نواحی چک میں مجلس عزاء پر پولیس گردی، لاہور میں مجالس کے انعقاد پر بانیاں کیخلاف مقدمات کے اندراج کیخلاف لاہور کی مال روڈ پر پنجاب اسمبلی کے سامنے شیعہ جماعتوں کی جانب سے احتجاجی دھرنا دیا گیا، جس میں اہل تشیع رہنماؤں کیساتھ ساتھ اہلسنت قائدین نے بھی شرکت کی۔ دھرنے میں مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل سید ناصر عباس شیرازی، مرکزی سیکرٹری سیاسیات سید اسد عباس نقوی، ایم ڈبلیو ایم لاہور کے سیکرٹری جنرل علامہ حسن رضا ہمدانی، شیعہ علمائے کونسل کے صوبائی صدر علامہ موسیٰ رضا جسکانی، جمعیت علمائے پاکستان (نیازی) ڈاکٹر امجد چشتی، چیئرمین سنی علماء فورم علامہ اصغر عارف چشتی، شیعہ شہریان لاہور کے سربراہ علامہ وقار الحسنین نقوی، دیگر رہنماؤں میں پیر ایس اے جعفری، ابوذر بخاری، رانا ماجد علی، رائے ناصر عباس، علامہ فاروق احمد سعیدی، علامہ سید امتیاز کاظمی، قاسم علی قاسمی سمیت دیگر علمائے کرام، زعمائے ملت اور خواتین کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس میں داعشی دہشتگردوں کے سہولت کار موجود ہیں، نیشنل ایکشن پلان کے نام پر عوام کو ہراساں کرنے کے بجائے پنجاب پولیس کے بدمعاشوں کیخلاف آپریشن کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عزاداری سیدالشہداء ہماری شہ رگ ہے، اس پر قدغن کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔

مقررین کا مزید کہنا تھا کہ ڈی پی او بہاولنگر عمارہ اطہر اور ایس ایچ او سمیت دیگر پولیس اہلکار توہین اہلبیت کے مرتکب ہوئے ہیں، اگر ان کیخلاف توہین اہلبیت کا مقدمہ درج نہ کیا گیا تو پھر پورے ملک میں احتجاج کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کے ذمہ دار ایس ایچ او کو معطل نہ کیا گیا تو چہلم کے جلوسوں کو بھی روک دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمارے آباؤ اجداد نے بنایا تھا، آج ہمارے ساتھ کشمیر و فلسطین کے باسیوں جیسا سلوک ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ پولیس میں چھپے ہوئے دہشتگردوں کے سہولت کاروں کو بے نقاب کیا جائے اور ایس ایچ او کو فی الفور معطل کرکے بانیان مجالس کیخلاف درج کئے گئے تمام مقدمات واپس لئے جائیں۔ علمائے کرام کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان ہمیں مکمل مذہبی آزادی دیتا ہے، اس لئے ہم کسی پرمٹ یا اجازت نامے کو نہیں مانتے اور آج ہم اعلان کرتے ہیں کہ پورے پاکستان میں بغیر پرمٹ کے ہی مجلس عزاء منعقد کریں گے، جب شادی بیاہ، جنازے، قل خوانی کے اجتماعات کیلئے کسی اجازت کی ضرورت نہیں لینا پڑتی تو پھر نواسہ رسولؑ کا غم منانے کیلئے اجازت کیوں لیں۔

دھرنے کے دوران مجلس وحدت مسلمین کے وفد نے مرکزی سیکرٹری سیاسیات اسد عباس نقوی کی قیادت میں وزیر قانون پنجاب بشارت راجہ سے ملاقات کی۔ شیعہ عمائدین کے وفد نے وزیر قانون کو اپنے مطالبات سے آگاہ کیا۔ جس پر وزیر قانون نے فوری طور پر پولیس کے اعلیٰ حکام کو طلب کر لیا اور وفد نے پولیس افسران کو اپنے مطالبات سے آگاہ کیا۔ وزیر قانون کی ہدایت پر پولیس کے اعلیٰ افسران نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او کو معطل کرنے کا حکم دیدیا جبکہ واقعہ کی انکوائری کیلئے کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے بانیان مجالس کیخلاف درج کئے گئے مقدمات بھی فی الفور ختم کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔ مطالبات منظور ہونے پر قائدین نے پنجاب اسمبلی کے سامنے جاری دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا، اس موقع پر شہادت حضرت بی بی سکینہ کی مناسبت سے مجلس عزاء بھی برپا کی گئی اور اعلان کیا گیا کہ آئندہ ہر سال بہاولنگر میں یہ مجلس باقاعدگی سے ہوا کرے گی، جس پر پولیس کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا۔ دھرنا ختم ہونے کے اعلان کے بعد شرکاء پر امن طور منتشر ہوگئے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے سربراہ آغا علی رضوی نے کہا ہے کہ فلسطین میں جاری اسرائیلی جارحیت کے خلاف عالم انسانیت اور عالم اسلام کی جانب سے مذمت کرنے کا وقت ختم ہوچکا ہے اور اب عملی اقدامات کا وقت آچکا ہے۔ ستر سالوں سے قبلہ اول غاصب صیہونیوں کے قبضے میں ہے اور بے گناہ فلسطینیوں کے خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے۔ اسرائیل جارحیت و مظالم کو روکنے کے لیے مسلمانوں کو متحد ہو ر فلسطین کی مزاحمتی تحریکوں کا ساتھ دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل عالم اسلام کے قلب پر خنجر کی مانند ہے۔ اسرائیل ایک ایسا ناسور ہے جس سے نہ صرف مشرق وسطیٰ کے لیے خطرہ لاحق ہے بلکہ عالم انسانیت کے لیے خطرہ ہے۔ آغا علی رضوی نے کہا کہ ستر سالوں سے مسئلہ فلسطین پر اقوام متحدہ خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہے۔ او آئی سی بھی مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ اسرائیلی مظالم پر خاموش رہنے اور اسرائیل کے ساتھ خفیہ طور پر سفارتی تعلقات قائم رکھنے والے نام نہاد اسلامی ممالک کا ہاتھ بھی مظلوم فلسطینیوں کے خون سے رنگین ہے۔ پاکستان کو بھی عالمی سطح پر سرائیل پر دباو بڑھانے اور مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ کوشش جاری رکھنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ یوم القدس یوم مستضعفین جہان ہے اور فلسطین مسلمان مزاحمت و مقاومت کا استعارہ ہے۔ انکی مزاحمت سے پوری دنیا کے مظلومین کو درس حریت و مقاومت ملتا ہے۔ آج کشمیر کے مظلومین ہو یا یمن و بحرین کے مظلومین ان سب کے لیے فلسطین مزاحمت کے لیے سر مشق ہے۔ انکی نہ تھکنے والی جدوجہد سے دوسرے مظلومین کے لیے توانائی ملتی ہے۔ آج فلسطین کے مسلمانوں کے ساتھ دنیا کے بھر مظلومین کے حق میں آواز بلند کرنا یوم القدس کا اصل فلسفہ ہے۔ آغا علی رضوی نے کہا کہ ہمیں فلسطین کے ساتھ کشمیری مسلمانوں کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے۔ انڈیا جہاں اسرائیل کا اتحادی ملک ہے وہیں ہندوستان جنوبی ایشیاء میں اسرائیل کا کردار ادا کررہا ہے۔ ہندوستان کی ظالمانہ تاریخ بھی ستر سالوں پر محیط ہے۔ امریکہ و اسرائیل جنوبی ایشیاء میں اپنے ایجنڈے ہندوستان کے ذریعے مکمل کرنا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کی آمد پر ہندوستانی عوام نے احتجاج کر ے اپنی ریاست کو پیغام دیا کہ عوام انسانیت پر جاری مظالم پر خاموش نہیں رہ سکتے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر کہا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، جس پر کسی بھی ملک کو ہاتھ ڈالنے کی قطعاََ اجازت نہیں دی جائے گی۔ مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔ مسئلہ کشمیر پر بھارتی ہٹ دھرمی اور مقبوضہ کشمیر میں بڑھتے ہوئے مظالم عالمی امن کے لئے خطرہ ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی پر اقوام عالم کی خاموشی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ ان نام نہاد انسانی حقوق کے عالمی ٹھکیداروں کو مسلمانوں کے مسائل سے کوئی غرض نہیں۔ علامہ ناصر عباس نے کہا کہ بھارت کی بڑھتی ہوئی جارحیت اور پاکستانی سرحدوں کی مسلسل خلاف ورزی بھارتی فوج کی بربریت سے دنیا کی نظریں ہٹانے کی کوشش ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کو بھارت کے غاصبانہ تسلط سے آزاد کرانے کے لئے عالمی قوتوں کو کردار ادا کرنا ہوگا، جب تک مسئلہ کشمیر کا پرامن اور کشمیر ی عوام کی امنگوں کے مطابق حل نہیں نکلتا، تب تک پورے خطے کی سلامتی کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا رہے گا۔ ہندوستانی حکومت مقبوضہ کشمیر میں ریاستی جبر کے ذریعے حق خود ارادیت کی آواز کو دبانا کی کوششوں میں مصروف ہے۔ بنیادی حقوق کے اس استحصال پر اقوام متحدہ کو اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی وزیراعظم نریندد مودی کی رگوں میں پاکستان دشمنی سرایت کرچکی ہے۔ پاکستان کے خلاف لغو اور بےبنیاد پروپیگنڈہ کے ذریعے اقوام عالم کو گمراہ کرنے کی خواہش وہ کبھی پوری نہیں کرسکیں گے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی فورمز پر بھرپور انداز سے اٹھایا جائے اور کشمیریوں کی آواز کو ان تک پہنچایا جائے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) مجلس وحدت مسلمین پاکستان گلگت بلتستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل شیخ احمد علی نوری نے اپنے ایک تعزیتی بیان میں کہا ہے کہ عالم مبارز و مجاہد حجت السلام آغا علی رضوی کو انکی والدہ محترمہ اور میر واعظ نیورنگاہ آغا محمد علی شاہ کو انکی اہلیہ محترمہ کی وفات پر تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ آغا علی رضوی کی والدہ محترمہ کی رحلت پر انکو اور تمام لواحقین کو تعزیت و تسلیت و پیش کرتے ہیں۔ والدہ محترمہ کی وفات سے آغا علی رضوی کی زندگی میں جو خلا پیدا ہوگیا ہے اسے پر کرنا ممکن نہیں۔ انہیں صبر و شکر کی تلقین کے ساتھ والدہ محترمہ کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے دعا گو ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے اور ہر کسی نے اس کا مزہ چکھنا ہے۔ خدا اپنے بندوں کو مختلف امتحانات کے ذریعے سے آزماتا ہے اور وہی بندے کامیاب ہوتے ہیں جن کے ہاتھ سے صبر و شکر کا دامن نہیں چھوٹتا۔ ماں جیسی عظیم ہستی کی موت انتہائی سخت امتحان ہے، کیونکہ اس ہستی کی کمی کو کوئی بھی پورا نہیں کرسکتا۔ اللہ سے دعا ہے کہ اپنے نہ ختم ہونے والے خزانہ غیب سے لواحقین بلخصوص آغا علی رضوی کو اس نعمت کا نعم البدل عطا فرما اور مرحومہ کے درجات میں اضافہ فرما۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور رہنما اسلامی تحریک پاکستان کیپٹن (ر) محمد شفیع خان کے اعزاز میں مجلس وحدت مسلمین کراچی ڈویژن کی جانب سے عشائیہ دیا گیا۔ تقریب عشائیہ میں ایم ڈبلیو ایم پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ احمد اقبال رضوی، مرکزی سیکریٹری تنظیم سازی مہدی عابدی، صوبائی سیکریٹری سیاسیات علی حسین نقوی، کراچی کے سیکریٹری جنرل علامہ صادق جعفری سمیت دیگر ارکین ڈویژنل کابینہ اور ضلعی سیکریٹری جنرلز نے شرکت کی، ایم ڈبلیوایم کی جانب سے اپوزیشن لیڈر گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کیپٹن (ر) محمد شفیع خان کو نہج البلاغہ اور پھولوں کا گلدستہ تحفے میں پیش کیا گیا، کیپٹن(ر) محمد شفیع نے عشائیہ کے انعقاد اور جذبہ خیر سگالی پر ایم ڈبلیو ایم کا خلوص دل سے شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر علامہ سید احمد اقبال رضوی نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو آئینی حقوق دینا ناگزیر ہوچکا ہے، گذشتہ ستر برس سے گلگت بلتستان کے محب وطن عوام پاکستان کے ساتھ الحاق کی جدوجہد کررہے ہیں، حکمرانوں کو سوچنا چاہیئے کہ دنیا بھر میں مختلف قومیں علیحدگی کا نعرہ لگاتی آئی ہیں جب کہ گلگت بلتستان کے محب وطن عوام پاکستان میں شمولیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج، این ایل آئی اور دیگر سیکورٹی اداروں میں اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والی قوم کو پاکستانی شناخت دینے میں پس و پیش سمجھ سے بالاتر ہے، گلگت بلتستان کے باوفا فرزندوں کو آئینی تشخص سمیت سی پیک میں جائز حق دینا حکمرانوں اور مقتدر اداروں کی اولین ذمہ داری ہے جس سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوا جاسکتا، ن لیگی وزیراعلیٰ حفیظ الرحمن خطے میں فرقہ واریت اور مذہبی تعصب کو ہوا دینے میں مصروف ہیں، انہیں عوامی مسائل کے حل اور حقوق کے حصول سے کوئی دلچسپی نہیں، حالیہ اینٹی ٹیکس موومنٹ میں بھی وہ صوبے سے فرار ہوکر اسلام آباد میں روپوش ہوگئے تھے، کیپٹن (ر) محمد شفیع کو اپوزیشن لیڈر منتخب ہونے پر دلی مبارک باد پیش کرتے ہیں، امید ہے وہ ایوان میں اپوزیشن جماعتوں اور ان کے کارکنان اور ووٹرز کے اعتماد پر پورا اتریں گے اور گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کی جدوجہد میں مجلس وحدت مسلمین کا بھرپور ساتھ دیں گے۔

کیپٹن (ر) محمد شفیع خان نے کہا کہ گلگت بلتستان اسمبلی میں بحیثیت قائد حزب اختلاف میرے انتخاب میں ایم ڈبلیو ایم کا کردار کسی صورت اسلامی تحریک پاکستان سے کم نہیں ہے، ایم ڈبلیو ایم کے اراکین اسمبلی نے علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے حکم پر مجھے اپنے قیمتی ووٹ دیکر اپوزیشن لیڈر منتخب کروانے میں اہم کردار ادا کیا، میں ایم ڈبلیو ایم اور اسلامی تحریک کو اپنے دو بازو سمجھتا ہوں، انشاء اللہ ایم ڈبلیو ایم اور اسلامی تحریک مل کر گلگت بلتستان اسمبلی کے اندر اور باہر خطے کے غصب شدہ حقوق کی جدوجہد جاری رکھیں گے، آئینی شناخت اور پاک چین اقتصادری راہداری منصوبے میں اپنے جائز حق کو کسی صورت فراموش نہیں کرسکتے، نشان حیدر کی حامل گلگت بلتستان کی قوم کی حب الوطنی پر شک کرنے والے کسی صورت پاکستان کے مخلص نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان کو آئینی حیثیت دے کر سی پیک منصوبے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرے تاکہ بھارت کی جانب سے جاری منفی پروپگینڈے کا بھی خاتمہ ممکن ہو۔ میری پوری خواہش ہوگی کہ آئندہ انتخابات میں دونوں قومی و ملی جماعتیں مشترکہ سیاسی حکمت عملی مرتب کرکے سیاسی میدان میں وارد ہوں اور مل کر حکومت سازی کریں۔

انہوں نے کہا کہ مجلس وحدت مسلمین کی محبتوں اور الفتوں کا میں دلی طور پر شکریہ ادا کرتا ہوں، مجھے گلگت، اسکردو، اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں ایم ڈبلیو ایم کے کارکنان کی جانب سے جو پزیرائی اور محبت ملی ہے اسے فراموش نہیں کرسکتا۔