تازہ ترین

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) شامی فوج نے جنوبی صوبے سویدا کے مشرقی علاقوں سے داعش دہشت گردوں کا صفایا کرنے کی کارروائی جاری رکھتے ہوئے الصفا کے پہاڑی علاقوں میں پیش قدمی کی ہے اور درجنوں داعشی دہشت گردوں کو ہلاک و زخمی کردیا ہے۔

شامی فوج نے جنوبی علاقے میں دہشت گردوں کے آخری ٹھکانوں کو ختم کرنے کے مقصد سے سویدا کے مشرقی علاقے میں نو اگست کو اپنی کارروائی شروع کی ہے۔

شام سے ہی ایک اور خبر یہ ہے کہ شام مخالفین سے وابستہ عہدیداروں نے اعلان کیا ہے کہ ترکی کے حمایت یافتہ گروہوں نے شمالی شام میں واقع ادلب میں ایک حائل علاقے سے اپنا بھاری جنگی سازوسامان ہٹانا شروع کر دیا ہے۔

شمالی شام کے صوبے ادلب کے بارے میں ایران، روس اور ترکی، اپنے متعدد اجلاس کی تشکیل کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ دہشت گردوں کو اس علاقے سے جانا ہو گا اس لئے ان دہشت گردوں کو انخلا کے لئے ایک ماہ کی مہلت بھی دی گئی ہے۔

گذشتہ دو برسوں کے دوران شام کے مختلف علاقوں میں شامی فوج اور عوامی رضاکار فورس سے شکست کھانے اور شام میں کشیدگی سے عاری علاقوں کے قیام کے بارے میں ہونے والے سمجھوتے کے بعد دہشت گرد گروہ صوبے ادلب منتقل ہوئے تھے اور اب شامی فوج اس صوبے سے دہشت گردوں کا صفایا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

واضح رہے کہ شام کا بحران دو ہزار گیارہ میں امریکہ، سعودی عرب اور ان کے اتحادیوں کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کی جارحیت سے شروع ہوا ہے جس کا مقصد علاقے میں صیہونی حکومت کی حمایت و مفاد میں توازن تبدیل کرنا رہا ہے تاہم شامی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے دشمنوں کی تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا ہے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) العہد ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی وزارت خارجہ اور بین الاقوامی ترقی کی وزارت نے ایک مشترکہ بیان میں اعلان کیا ہے کہ برطانیہ کی حکومت، شام میں امداد رسانی کی آڑ میں سرگرم عمل وائٹ ہیلمٹ دہشت گردوں کو ان کے گھرانوں کے ساتھ برطانیہ منتقل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ شام کی حکومت نے ان عناصر کو دہشت گرد قرار دیا ہے اور یہ دہشت گرد عناصر شام میں مختلف قسم کی دہشت گردی منجملہ شامی عوام خاص طور سے بچوں کے قتل عام میں ملوث رہے ہیں۔

یاد رہے کہ یہ وہی بدنام زمانہ وائٹ ہیلمٹ ہے جو داعشی دہشتگردوں کے خلاف کاروائی شروع ہونے پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملوں کی جعلی ویڈیوز بنا کر دنیا بھر میں پھیلاتی تھی تاکہ داعشی درندوں کےلیے ہمدردی حاصل کی جاسکے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) افغانستان سے داعش کے خاتمے کے لیےپاکستان ، ایران، روس اور چین نے مل کر کوششیں کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس سلسلے میں چاروں ممالک کے انٹیلی جنس اداروں کے سربراہوں کا مشترکہ اجلاس پاکستان میں ہوا جس میں انسدادِ دہشت گردی میں تعاون کے حوالے سے بات چیت کی گئی اور افغانستان کی صورتحال کا بھی خصوصی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں ایران نے دہشت گرد گروہ داعش کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر تحفظات کا اظہار کیا۔

اجلاس میں تمام شرکاء نے مل کر دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف اقدامات کرنے کے لیے تعاون پر اتفاق کیا اور واضح کیا کہ چاروں ممالک میں تعاون کسی دوسرے ملک کے خلاف نہیں ہے ۔

اجلاس میں شام اور عراق سے داعش کے دہشت گردوں کی افغانستان آمد روکنے کے لیے تجاویز پر بھی غور کیا گیا۔

روسی خفیہ ایجنسی کی معلومات کے مطابق داعش کے 10 ہزار دہشت گرد افغانستان کے 9 صوبوں میں سرگرم ہیں۔ جن علاقوں میں افغان حکومت کا کنٹرول نہیں ہے وہاں دہشت گردوں کی مضبوط اور محفوظ پناہ گاہیں ہیں تاہم افغان حکام کا کہنا ہے کہ داعش کے دہشت گردوں کی کل تعداد 2 ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) انسداد دہشت گردی کی عدالت نے استغاثہ کی جانب سے ٹھوس شواہد پیش نہ کرنے پر داعش کے مبینہ پانچ کارندوں کو بری کر دیا ۔ انسداد ہشت گردی کی خصوصی عدالت میں داعش کے مبینہ کارندوں کو محمد نواز ، فرحان صدیقی ، بلال احمد ، طاہر زمان ، زار مشہدی کے خلاف دھماکہ خیز مواد ، خود کش جیکٹس برآمدگی اور غیر قانونی اسلحہ برآمدگی کے مقدمات کی سماعت ہوئی ۔

عدالت نے استغاثہ کی جانب سے ٹھوس شواہد پیش نہ کرنے پر داعش کے مبینہ پانچ کارندوں کو مقدمات میں بری کر دیا ۔ واضح رہے کہ ملزمان کو رینجرز نے موچکو میں کارروائی کے دوران حراست میں لیا تھا ۔ کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے بھاری تعداد میں خود کش جیکٹس ، دھماکہ خیز مواد اور غیر قانونی اسلحہ برآمد کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا ۔ ملزمان کے خلاف 2017 ء میں موچکو تھانے میں رینجرز کی مدعیت میں مقدمات قائم کیے گئے تھے ۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) امریکی صدر نے داعش کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کردیا،کہتے ہیں کہ افغانستان میں ڈیڈ لائنز دیکر دشمن کو چوکنا نہیں کرینگے۔ایران میں آزادی کی کوششوں کی حمایت کریں گے۔تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے اسٹیٹ آف دی یونین سے خطاب میں کہا ہے کہ شمالی کوریاخطرات کو کم کرنے کی کوشش جاری رہیں گی۔۔چین اورروس ہمارے مفادات کو چیلنج کررہے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا،امریکی امداد صرف دوستوں کوجانی چاہیئے دشمنوں کو نہیں،دوسروں کے لئے معاشی قربانیاں دینے کا صفحہ الٹ دیا۔۔ڈریمرز کو 12 سال میں شہریت دینے کا اعلان کردیا، داعش کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گے،،گوانتاناموبے جیل کو قائم رکھیں گے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) سویڈن کے ایک معروف سیاسی تجزیہ کار وسرگرم انسانی حقوق کارکن نے یمنی عوام کے خلاف وحشیانہ جرائم کےا رتکاب پر حکومت آل سعود کی پر زورالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ریاض تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے عناصر کو شام وعراق سے یمن منتقل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ایرانی ذرائع ابلاغ کےساتھ انٹرویو میں ’’اولف سینڈ مارک‘‘نےیمنی عوام کے خلاف وحشیانہ جرائم کےا رتکاب پر حکومت آل سعود کی پر زورالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ریاض تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے عناصر کو شام وعراق سے یمن منتقل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔انہوں نے کہاکہ شام وعراق سے داعش کے عناصر کو یمن منتقل کرنے کی سعودیہ کی نئی پالیسی اب علاقے کیلئے ایک نیا خطرہ ہے۔انہوں نے کہاکہ بین الاقوامی برادری کو تکفیری دہشتگرد گروہ داعشی عناصر کہ جنہیں انسانیت کے خلاف جرائم کاارتکاب کرنے پر پابند سلاسل اورمقدمہ چلایا جانا چاہئے کی یمن منتقلی پر احتجاج کرنا چاہئے۔سویڈن کے ماہر اقتصادیات و سیاسیات نے یمن میں سعودی جارحیت کے نتیجے میں ہزاروں بچوں وخواتین کی ہلاکت پر مشتمل یونیسیف کی رپورٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ اس ادارے کی طرح دیگر ادارے بھی یمنی عوام پر ہورہے سعودی جرائم پر تشویش ظاہر کرتے آرہے ہیں لیکن اس کے خلاف کسی بھی طرح کا اقدام کرنے کا پورا دارومدار مغربی حکومتوں پر ہے۔انہوں نے کہاکہ سعودی عرب اوراسکے علاقائی و مغربی اتحادی یمن میں جاری جنگ میں کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔واضح رہے کہ پچّیس مارچ دو ہزار پندرہ کو امریکہ کی حمایت اور سعودی عرب کی سرکردگی میں علاقے کے ملکوں کے اتحاد کے حملوں سے یمن میں فوجی مداخلت شروع ہوئی ہے جو بدستور جاری ہے یمن پر حملوں کے نتیجے میں اب تک دسیوں ہزار یمنی شہری منجملہ عورتیں اور بچے خاک و خون میں غلطاں ہو چکے ہیں۔یہ ایسی حالت میں ہے کہ وہ ممالک جو انسانی حقوق کا دم بھرتے ہیں یمن میں غیر انسانی جرائم کے بارے میں انہوں نے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور ان ممالک کی جانب سے وحشیانہ جرائم پر کسی بھی قسم کے ردعمل کا اظہار نہیں کیا جا رہا ہے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)جرمن حکام کا کہنا ہے کہ داعش سے وابستہ 5 خطرناک دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔جرمن فوکس نیوز کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے صوبہ زاکسن میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرکے 5 خطرناک غیر ملکی داعشی دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا ہے۔رپورٹ کے مطابق گرفتار شدہ دہشت گردوں میں سے 4 کا تعلق شام سے بتایا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ جرمن حکومت نے دہشت گردی کے ممکنہ خطروں کے پیش نظر سکیورٹی کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے کئی منصوبے بنائے ہیں۔برلن میں وفاقی اٹارنی جنرل کے دفتر کے ترجمان کے مطابق، دہشت گردوں کے خلاف خصوصی آپریشن جرمن شہرمیگڈبرگ میں ایک ڈیکتی کے بعد کیا گیا۔جرمن حکام کے مطابق دہشت گرد داعش کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لئے ڈاکے مار رہے تھے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ عدالت عالیہ گرفتار شدہ افراد کی داعش سے وابستگی کی نوعیت کے بارے میں تحقیقات کرے گی۔خیال رہے کہ جرمنی میں اس پہلے بھی متعدد داعشی دہشت گرد گرفتار کئے جاچکے ہیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی نے کہا ہے کہ دہشت گرد گروہ داعش کو شکست دینے میں عراقی افواج کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کا اسٹریٹجیک تعاون اور رول بہت ہی اہم رہا ہے۔عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی نے ڈیووس میں امریکی ٹیلی ویژن چینل سی این این سے اپنے انٹرویو میں اس سوال کے جواب میں کہ سعودی عرب کا دعویٰ ہے کہ ایران اور سپاہ پاسداران کا رول علاقے میں منفی ہے آپ کا کیا خیال ہے کہا کہ اس طرح کا دعوی قابل قبول نہیں ہے۔عراقی وزیراعظم نے شام کے حالات کے بارے میں بھی کہا کہ اس وقت داعش کے کچھ عناصر شام میں موجود ہیں اور یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ انہیں کیوں نابود نہیں کیا جا رہا ہے۔انہوں نے داعش مخالف نام نہاد امریکی اتحاد کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ داعش کے کچھ عناصر شام میں موجود ہیں اور شام میں ان کے خفیہ ٹھکانے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عراقی خفیہ ایجنسیاں کہتی ہیں کہ شام میں باقی بچے داعش کے عناصر خود کش بمبار تیار کررہے ہیں اور یہ ٹریننگ بہت ہی پیچیدہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ داعش کے عناصر خود کش بمبار تیار کرکے انہیں مختلف شہروں میں بھیج کر دہشت گردانہ حملے کرانا چاہتے ہیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) دہشت گرد تنظیم داعش کے معرض وجود میں آنے کے بعد تکفیری جماعتیں اور دہشت گردی کی سیاہ اور خونخوار تاریخ سیاہ تر اور مزید خونخوار ہوگئی،اس دہشت گرد تنظیم نے عراق اور شام جیسے مشرق وسطیٰ کے اہم ممالک کو تباہ کردیا،ان دونوں ممالک کے علاوہ داعش نے مصر کے علاقہ سینا کو اپنی لپیٹ میں لئے رکھا اور لیبیا کے کچھ علاقوں میں ابھی سرگرم ہے۔
تنظیم کے گڑھ عراق اور شام میں تو اسے تقریباً مکمل شکست حاصل ہوچکی ہے اور صرف چند ہی علاقوں میں اس کے جنگجو آخری سانسیں لے رہے ہیں۔عراق اور شام میں شکست کے بعد یہ تصور کرنا کہ داعش کا خاتمہ ہوچکا ہے درست نہیں،کیونکہ جس وقت یہاں داعش شکست کے نزدیک ہوتی جارہی تھی تو دنیا کے اس پار داعش پھر سے جنم لے رہی تھی۔فلپائن کے جنوبی شہر مراوی میں داعش اچانک سے ابھر آئی اور چند ہی دنوں میں عراق،شام،مصر اور لیبیا میں دکھائی دینے والے نقاب پوش دہشت گرد مراوی کی گلیوں میں نظر آنا شروع ہوگئے۔تسلی دینے والی بات تو یہ ہے کہ فلپائنی افواج نے مراوی پر کنٹرول پھر سے حاصل کر لیا ہے،البتہ پریشان کن بات یہ ہے کہ داعش کے بہت سے جنگجو مراوی سے فرار ہوگئے ہیں۔مراوی کا جغرافیائی محل وقوع داعش کے معاملے میں انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے اور ہورہا ہے۔مراوی کے محل وقوع کی وجہ سے داعش کے جنگجو با آسانی فلپائن سے ملائیشیا اور انڈونیشیا میں بحری راستوں کے ذریعے داخل ہوسکتے ہیں ،اسی بات کی تصدیق انڈونیشیا کے آرمی چیف جاٹوٹ نور مانتیشو نے بھی حال ہی میں کر دی ہے ،ان کے بقول انڈونیشیا کے طول و عرض میں داعش کے روپوش جنگجو یا پھر تنظیم سے ہمدردی رکھنے والے افراد موجود ہیں۔انڈونیشیا کے علاوہ ملائیشیا میں بھی یہی صورت حال ہے اور جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کے خیال میں علاقے میں اس وقت داعش سے ہمدردی رکھنے والے لوگوں کی تعداد ہزاروں میں ہے جو کہ انتہائی تشویش ناک ہے۔اس حوالے سے خبروں کا جائزہ لیا جائے تو گزشتہ سالوں میں انڈونیشیا اور ملائیشیا میں بیسیوں ایسے افراد گرفتار کیے گئے جن کا تعلق داعش سے تھا۔اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے یوں لگ رہا ہے کہ آنے والے وقت میں جنوب مشرقی ایشیا کا علاقہ داعش کا نیا گڑھ بن سکتا ہے جہاں ایک اور سیاہ اور خونی دور کے آغاز کا امکان ہے۔خاص طور پر کہ داعش کی پشست پناہی اور اس کی مدد کرنے والے امریکہ،سعودی عرب اور برطانیہ جیسے ممالک کی یہی کوشش ہے کہ داعش کو ختم ہونے سے بچایا جائے اور اس کا بہترین طریقہ یہی ہوسکتا ہے کہ جنگ زدہ علاقوں سے داعش کو کچھ وقت کیلئے دور رکھا جائے اور اسے پھر سے مضبوط کر کے واپس لایا جائے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) عراق میں عدالت نے ایک مراکشی نژاد جرمن عورت کو پھانسی کی سزا سنا دی۔خاتون پر شام اور عراق میں داعش تنظیم سے تعلق رکھنے اور اس کو مدد پیش کرنے کا الزام ہے۔ سپریم جوڈیشنل کونسل کے ترجمان بیرسٹر عبدالستار بیرقدار نے بتایا کہ سزائے موت کا فیصلہ سنائے جانے کی وجہ یہ ہے کہ ملزمہ نے دہشت گرد تنظیم کو مجرمانہ کارروائیوں کے ارتکاب کے واسطے لوجسٹک سپورٹ اور مدد پیش کی۔علاوہ ازیں اس کو عراقی سکیورٹی فورسز اور فوج پر حملوں میں شرکت کے حوالے سے بھی قصوروار ٹھہرایا گیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ عراقی عدلیہ نے کسی یورپی عورت کو سزائے موت سنائی ہے۔ملزمہ کی عمر اور گرفتاری کے مقام کا تعین نہیں کیا گیا۔ بیرقدار کے مطابق تحقیقات کے دوران ملزمہ نے جرمنی سے شام اور پھر عراق کا سفر کرنے کا اعتراف کیا۔ اس کے ساتھ دو بیٹیاں بھی تھیں جن کی شادی دہشت گرد تنظیم کے ارکان سے ہوئی۔