• عمار بن یاسر کی شہادت اور جنگ نہروان

  • زندہ سعودی نامہ نگار خاشقجی کے ٹکڑے کرنے میں 7 منٹ لگے ...

  • ایران کے دشمن بھی ایران کی طاقت اور قدرت کے معترف ہیں

  • وزیر خارجہ سے عراق کے سفیر کی ملاقات

  • فیصل رضا عابدی کا جرم شہداء کے خاندانوں کیلئے آواز بلند کرنا تھا، ریلیز فیصل رضا عابدی موومنٹ

  • 1
  • 2
  • 3
  • 4
  • 5

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) تحریر: عرفان علی

جیسا کہ معلوم ہے کہ بادشاہت سعودیہ العربیہ عمران خان کی انصافین حکومت کے قیام کے ساتھ ہی یکایک الجمہوریہ الاسلامیہ الباکستان میں نئی سرمایہ کاری پر آمادہ ہوچکی ہے۔ وزیراعظم کے سعودی دورے کے بعد سعودی عرب کے سفارتکار اور پاکستانی وزارت خارجہ کے حکام نے چین و پاکستان اقتصادی راہداری سی پیک میں شامل تین منصوبوں کے لئے تین نامہ ہائے اتفاق پر دستخط کر دیئے ہیں، جس کے تحت گرانٹ فراہم کی جائے گی۔ آج بروز اتوار سعودی عرب کا اعلیٰ سطحی وفد برائے سرمایہ کاری پاکستان پہنچ رہا ہے۔ سرکاری ذرایع کا دعویٰ ہے کہ اس وفد میں سعودی وزراء برائے خزانہ، پٹرولیم و توانائی بھی شامل ہوں گے۔ عمران حکومت نے سی پیک منصوبے میں بادشاہت سعودی عربیہ کو پاکستان اور چین کے بعد تیسرے بڑے شراکت دار کی حیثیت دینے کا اعلان کیا ہے۔ سعودی اعلیٰ سطحی وفد چھ روزہ دورے میں صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی میں ریکوڈک اور ضلع گوادرمیں بندرگاہ بھی جائے گا۔ پاکستان کے مایع شدہ قدری گیس پر چلنے والے دو بجلی گھروں کی نجکاری اور فاسفیٹ پر مشتمل فرٹیلائزر کی پاکستان کو فروخت بھی اس وفد کے ایجنڈا میں شامل ہے۔ سعودی وفد گوادر میں تیل ریفائنری کی تعمیر کا جائزہ بھی لے گا۔ امکان یہ ہے کہ سعودی عرب پانچ اہم منصوبوں کے رسمی معاہدوں کے لئے ابتدائی نوعیت کی کاغذی کارروائی یعنی مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کرے گا۔ ان میں سب سے اہم سعودی شمولیت ریکو ڈک منصوبے میں ہوگی۔

ایک جانب سعودی عرب کینیڈا تعلقات کی حالیہ کشیدگی ہے تو دوسری طرف سعودی بادشاہت اور اسکے اتحادیوں کے ایران کے خلاف اقدامات ہیں، جس کے برے اثرات پورے خطہ خلیج فارس و مشرق وسطیٰ میں آشکار ہیں۔ سعودیہ کی ایران کے ساتھ کشیدگی پر پاکستان حکومت بیانات کی حد تک ایران کے خلاف نہیں ہے، لیکن اقدامات دیکھیں تو ایران کے ساتھ تعلقات کی سطح یہ سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ حکمران اس صف بندی میں کس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ایران سے آنے والی گیس کے لئے پاکستان میں پائپ لائن بچھانے کا کام جو زرداری دور حکومت کے آخری ایام میں حتمی طور طے پایا گیا تھا، نواز کی پانچ سالہ حکومت کے دوران بھی اس پر ایک انچ کا کام بھی نہیں ہوسکا۔ یمن کے ایشو پر بھی پاکستان حکومت کا موقف اس حقیقت کا اظہار ہے کہ پاکستان یمن پر جارحیت کا ارتکاب کرنے والے، جنگ مسلط کرنے والے سعودی عرب کے ساتھ ہے، کیونکہ یمن کی جانب سے سعودی عرب کے حملوں کا جب جب جواب دیا جاتا ہے تو دفتر خارجہ کے بیانات میں یمن کے حوثیوں کی مذمت کی جاتی ہے اور بھارت سے زیادہ سنگدل سعودی افوج کے حملوں میں مظلوم یمنی عوام کے قتل عام، بچوں اور خواتین پر ڈھائے گئے ظلم و ستم، انکی مساجد، اسپتال، تعلیمی اداروں اور بازاروں پر برسائے گئے سعودی و اتحادی بمباری پر سعودی عرب کی مذمت نہیں کی جاتی۔

اگر نواز شریف ہی سعودی پٹھو تھا تو یہ ساری عنایات جس پر سعودی بادشاہت عمران خان کے دورے میں راضی ہوئی، اس پر پہلے کیوں آمادہ نہیں ہوئی؟ عمران کی انصافین حکومت کے دور میں پاکستان میں سرمایہ کاری میں بہت زیادہ دلچسپی اور پھر اس میں بھی صوبہ بلوچستان پر اس سخاوت کا سبب کیا ہے؟ ایران و افغانستان کی سرحدوں سے نزدیک ریکو ڈک منصوبے اور گوادر کی بندرگاہ میں سرمایہ کاری، یہ سب کچھ کیا صرف دو ملکی معاملہ ہے؟ یا پھر اسے عالمی سیاسی اور خاص طور خطے کے موجودہ حالات و صف بندیوں کے وسیع تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔؟ اس تحریر میں فوکس ریکوڈک منصوبے پر رکھتے ہوئے جائزہ لیں گے کہ سعودی عرب سرمایہ کاری کی آڑ میں ایران کے خلاف کسی نئی گریٹ گیم کے لئے تو وارد نہیں ہوا ہے۔ ریکوڈک منصوبہ گذشتہ ربع صدی سے جاری ہے۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع چاغی میں ایران و افغانستان کی سرحدی پٹی پر سونے اور تانبے سمیت قیمتی دھاتوں کے ذخائر ہیں اور ریکوڈک منصوبے کے تحت غیر ملکی کمپنیوں کو ٹھیکے دیئے جاتے رہے ہیں کہ وہ کان کنی کے ذریعے ان کی حتمی موجودگی و دیگر تفصیلات کی تصدیق کریں اور اسے نکالنے میں مدد و معاونت فراہم کریں۔ غالباً پہلا ٹھیکہ ایک امریکی کمپنی ہی کو دیا گیا تھا، شاید کمپنی کا امریکی ہونا ہی ٹھیکہ دینے کی وجہ ہو!

چاغی کی پہاڑیوں میں دھاتوں کی کھوج لگانے کے لئے بی ایچ پی منرلز نام کی امریکی کمپنی اور بلوچستان حکومت کے مابین اس ضمن میں مشترکہ منصوبہ طے پایا تھا۔ قطع نظر اس کے کہ وہ معاہدہ سراسر غیر عادلانہ اور مالی نقصانات پر مشتمل تھا، پاکستان کے مرکزی یا صوبائی قوانین کے بھی خلاف تھا، کیونکہ امریکی کمپنی پاکستان میں رجسٹرڈ نہیں تھی۔ حتیٰ کہ بلوچستان ترقیاتی ادارے جس نے یہ معاہدہ کیا تھا، اسے بھی قانونی اختیارات حاصل نہیں تھے۔ اس وقت بلوچستان میں نگران حکومت تھی اور نگران وزیراعلیٰ میر نصیر مینگل تھے۔، بلوچستان اسمبلی کا وجود نہیں تھا۔ ابتدائی معاہدے میں امریکی کمپنی کو صرف کلومیٹر کے رقبے میں کھوج لگانے کی اجازت دی گئی تھی، لیکن بتدریج امریکی کمپنی نے چالاکی سے ایک ہزار کلومیٹر حدود تک متوقع تلاش کے نام پر آئندہ کے لئے دس لائسنس بھی مانگ لئے تھے۔ سال 2000ء میں امریکی بی ایچ پی نے آسٹریلیا کی مائننگ کمپنی منکور ریسورسز کو اس منصوبے میں ساتھ ملا کر ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) بنا لی۔ اس دوران چلی کی اینٹوفیگسٹا جو برطانیہ میں رجسٹرڈ کی گئی تھی اور کینیڈا کی بیرک گولڈ کمپنی نے مل کر برابر کی حصے داری کی بنیاد پر نئی کمپنی ایٹاکیما بنا لی اور اسے بھی برطانیہ ہی میں رجسٹرڈ کروایا گیا۔

سال 2006ء میں آسٹریلوی اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے اس نئی کمپنی نے ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی) کے سارے حصص خرید لئے اور اس کمپنی ٹی سی سی نے شروع میں پاکستان میں ایک مقامی سطح کا دفتر قائم کیا جبکہ مرکزی دفتر آسٹریلیا میں تھا۔ اسی سال حکومت بلوچستان اور اس بی ایچ پی کے مابین معاہدے میں ترمیم کرکے بی ایچ پی کی جگہ ٹی سی سی کا نام دوسرے فریق کی حیثیت سے لکھا گیا، جس نے ٹی سی سی پاکستان کے نام سے ذیلی کمپنی پاکستان میں رجسٹرڈ کروالی تھی اور بعد ازاں ٹی سی سی اس اصل معاہدے میں ترامیم کرواتی رہی، جو معاہدے کی اصل روح کے خلاف تھیں۔ اس کمپنی نے لابنگ کرکے اور ایک قانونی فرم کے ذریعے تیار کردہ ضوابط کو پرویز مشرف کے زیر سایہ کام کرنے والے سیٹ اپ میں بی ایم آر 2000ء ضوابط کو نافذ کروا دیا، یعنی بلوچستان معدنی رعایتی ضوابط 1970ء (بی ایم آر) کو ہی تبدیل کروا دیا۔ اس کے تحت ٹی سی سی کو وہ وہ رعایتیں دی گئیں کہ پاکستان میں کسی کمپنی کو ایسی رعایتیں حاصل نہیں تھیں۔ پرویز مشرف کے مرکزی سطح کے جرنیلی سیٹ اپ میں میر نصیر مینگل وزیر مملکت برائے پٹرولیم و قدرتی ذخائر تھے۔ کالعدم دہشت گرد گروہ لشکر جھنگوی کا بدنام زمانہ شفیق مینگل انہی میر نصیر خان مینگل کا بیٹا ہے۔

قانون کے تحت اس کمپنی (ٹی سی سی) پر لازم تھا کہ ان علاقوں میں اپنی کان کنی کی سرگرمیوں کی عمل پذیری کی رپورٹس باقاعدگی کے ساتھ حکومت کو فراہم کرے، لیکن اس کمپنی نے اس اصول کی بھی خلاف ورزیاں کیں، اس کے باوجود اس کمپنی کو دیئے گئے لائسنس کی سال 2009ء تک تجدید کی جاتی رہی۔ سال 2002ء میں ٹی سی سی نے اپنے سارے لائسنسز میں سے صرف ایک ای ایل پانچ کو برقرار رکھا، جو 13ہزار مربع کلومیٹر علاقے میں کھوج لگانے کی اجازت پر مبنی تھا۔ دیگر تمام لائسنسز سے دستبردار ہوگئی، کیونکہ تقریباً یک و نیم عشرے میں یہ معلوم کیا جاچکا تھا کہ سونے اور تانبے کے ذخائر کس علاقے میں ہیں۔ 2007ء میں ٹی سی سی نے کان کنی کرنے کے ایک معاہدے کا مسودہ تیار کیا، جس کے تحت حکومت کو معدنی آپریشنز کی مد میں محض دو فیصد رائلٹی دینے کا نکتہ درج تھا، جبکہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ شرح چھ فیصد تھی۔ اس میں بی ایم آر ضوابط 2000ء کے تحت طے شدہ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ٹی سی سی نے دوسرے اور تیسرے درجے کی پروسیسنگ سہولیات (تنصیبات) سے بھی انکار کر دیا۔ بعد ازاں پی پی پی کی مخلوط صوبائی حکومت کے وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی نے 2009ء میں ٹی سی سی سے معاہدہ ختم کر دیا۔ ٹی سی سی نے 2018ء میں بین الاقوامی ثالثی اداروں میں پاکستان کے خلاف مقدمہ درج کر دیا تھا۔ پی پی پی حکومت نے اس منصوبے میں شامل ایک علاقے تنجیل میں چھ کلومیٹر کے رقبے میں ذخائر کی دریافت، جس کی الگ سے درخواست ٹی سی سی نے دی تھی، اس کام کو اپنے طور انجام دینے کا فیصلہ کیا اور نیوکلیئر سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند کو اسکا مسؤل قرار دیا، لیکن نواز لیگی حکومت میں اس کو وقت اور پیسے کا زیاں سمجھ کر ختم کر دیا گیا۔

ریکوڈک منصوبے میں جو معدنی ذخائر ہیں، ایک اندازے کے مطابق اس میں تقریباً ساڑھے 24 ارب کلو گرام تانبا اور 11 لاکھ 62 ہزار 330 کلو گرام سے کچھ زیادہ سونا شامل ہیں۔ 2013ء میں ہی بین الاقوامی ثالث ادارے اور بین الاقوامی چیمبر کی یہ رائے آچکی تھی کہ ٹی سی سی جس نے پاکستان حکومت پر مقدمہ کر رکھا ہے، اس کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ بلوچستان حکومت کو اس منصوبے پر کام سے روک سکے۔ 2015ء میں اس وقت وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے ٹی سی سی کے معاملے میں آؤٹ آف کورٹ سیٹلمنٹ کی کوششوں کے ساتھ ریکو ڈک پر نئے سرے سے ٹھیکہ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ لیکن تاحال یہ معاملہ اٹکا ہوا ہے۔ ٹی سی سی نے پاکستان پر 11.43 بلین ڈالر کا ہرجانہ دائر کر رکھا ہے، جبکہ ماضی میں پاکستانی حکام یہ کہہ چکے ہیں کہ ٹی سی سی کا دعویٰ مبالغہ آرائی پر مبنی ہے اور اس میں اکسٹھ فیصد کمی کی جا سکتی ہے۔ اگر اس رائے کو درست مان لیں، تب بھی ہرجانے کی کم ترین رقم 4.45 بلین ڈالر سے بھی کچھ زائد رقم بنتی ہے۔ سال 2009ء میں اس وقت جب زرداری حکمران تھے، تب ٹی سی سی اور چینی کمپنی ایم ایم سی کے ساتھ ایک مشترکہ اجلاس منعقد کیا گیا تھا، جس میں دونوں کمپنیوں نے اپنی تجاویز پیش کی تھیں۔ ٹی سی سی نے اعتراض کر دیا کہ ٹھیکہ اس کے پاس ہے تو چینی کمپنی کو قانونی حق نہیں کہ وہ ریکوڈک پر کوئی رائے دے۔ ٹی سی سی کے بعض پاکستانی ملازمین کا خیال ہے کہ اس کے لائسنس کے تحت ایک علاقے میں وسیع ذخائر کو یہ کمپنی حکومت سے چھپا رہی تھی۔

چینی میٹالرجیکل گروپ کارپوریشن یعنی ایم سی سی کے بارے میں افغانستان میں اسکے ناکام معاہدے کی مثال دی جاتی ہے کہ وہاں اس نے تین بلین ڈالر مالیت کے ایک معاہدے میں طے کئے گئے اپنے حصے کے کام کی تکمیل نہ کرکے اسکی خلاف ورزی کی اور معاہدے پر نظرثانی کی خواستگار ہے۔ یہی کمپنی پاکستان میں ایران کے ساتھ ملحق تفتان سرحدی علاقے سے نزدیک سینڈک منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ ریکوڈک اس جگہ سے تقریباً 143 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ٹی سی سی کے ساتھ کئے گئے 23 جولائی 1993ء کے اس معاہدے کو سپریم کورٹ نے 7 جنوری 2013ء کو کالعدم قرار دے کر منسوخ کر دیا تھا۔ کینیڈا کی کمپنی کی آدھی ملکیت کینیڈا کی کمپنی کے پاس ہے اور اس کمپنی نے 11.43 بلین ڈالر کا ہرجانہ جو بقول پاکستانی حکام کم ہوسکتا ہے (اسکے باجود تقریباً پونے پانچ ارب ڈالر کی ادائیگی کرنا ہوگی)۔ دوسری طرف چین یہاں سرمایہ کاری کا خواہشمند تھا، لیکن اچانک سعودی عرب کو درمیان میں لایا گیا ہے، جو نہ صرف کینیڈا بلکہ ایران پر بھی سخت ناراض ہے۔

سعودی عرب امریکی بلاک کا جزو لاینفک ہے، جس نے رسمی طور چین کو حریف قرار دیا ہے۔ سعودی عرب اور امریکہ نے ماضی میں افغان جہاد کے غلط عنوان کو استعمال کرکے جو اقدامات کئے، اس کے نتیجے میں پوری دنیا میں اسلام و مسلمین کو بدنام کرنے والے انسانیت دشمن، اسلام دشمن انتہاء پسند و دہشت گرد گروہوں کا ظہور ہوا اور آج تک پاکستان اسکی لپیٹ میں ہے۔ افغانستان میں سعودی و امریکی نام نہاد جہاد بھی’’امریکی گریٹ گیم‘‘ ہی تھا، جس کے تحت پاکستان میں ایک مخصوس مسلک کے مدارس و مساجد بنائے گئے اور پرانے مدارس کی بھی سرپرستی کی گئی۔ یعنی جنگ بظاہر سوویت یونین کے خلاف تھی، لیکن انہی امریکی و سعودی فنڈڈ مدارس نے جو نظریہ پیش کیا، اسکے تحت پاکستان میں مخالف مسلمان مسالک کو کافر و مشرک قرار دے کر ان پر مسلح حملوں کے لئے فضاء سازگار کی گئی۔ مساجد و امام بارگاہوں، مزارات و اجتماعات میں فائرنگ اور بم دھماکے و خودکش دھماکے کروائے جاتے رہے۔ پیٹروڈالرز (ریال و درھم) کے ذریعے ’’امریکی گریٹ گیم‘‘ میں پاکستان کو جہنم بنا دیا گیا۔ حکومتی سطح پر کہا جاتا ہے کہ پچاس ہزار پاکستانی شہید ہوچکے ہیں اور پاکستان کو 120 بلین ڈالر کا مالی نقصان بھی ہوا ہے۔

یہ سارے نقصانات امریکی و سعودی ’’سرمایہ کاری‘‘ کے سبب ہی ہوئے ہیں۔ پچھلے دنوں سعودی سفارتخانے نے سعودی عرب کے قومی دن کی مناسبت سے جو دعوت اسلام آباد میں کی تھی، اس میں ایک کالعدم دہشت گرد گروہ کا سرغنہ بھی مدعو تھا۔ اس دعوت میں عمران خان کی انصافین حکومت کے وفاقی وزیر مذہبی امور نے اس سرغنہ کو جسے تحریک انصاف ہی کی خاتون سیاستدان نے ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا تھا، اسی شکست خوردہ شخص کو گلے لگایا اور خوب قہقہے لگا کر بات چیت بھی کی۔ اسی کالعدم گروہ کے واحد رکن پنجاب اسمبلی بھی تحریک انصاف کی پنجاب حکومت کے اتحادی ہیں اور پی ٹی آئی نے وزیراعلیٰ منتخب کرانے کے لئے ایک ووٹ اسی کالعدم گروہ کے رکن سے بھی لیا ہے۔ سعودی حکومت جانب سے کالعدم تکفیری دہشت گرد گروہ سے اس دوستانے کو اس لئے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ یہ پاکستان میں مسلمانوں کے لئے کافر کافر کے نعرے لگا کر اپنے بانی حق نواز جھنگوی کے لشکر سے تعلق کو ثابت کرتا ہے اور پاکستان کے آئین و قانون کے تحت یہ نظریہ بھی جرم ہے، جبکہ خود سعودی عرب کے اپنے قوانین کے تحت بھی یہ گروہ مجرم ہیں، لیکن مخصوص اسلام دشمن مفادات کی وجہ سے اس گروہ کو ساتھ ملا کر رکھا ہوا ہے۔

ماضی کے نام نہاد افغان جہاد کے نام پر امریکی و سعودی سرمایہ کاری کے تاحال جاری نقصانات اور دہشت گردوں سے مذکورہ تعلق، صرف یہ دو مثالیں سمجھداروں کے سمجھنے کے لئے کافی ہیں کہ پاکستان کو ان سے مالی و جانی نقصانات کے سوا کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے اور نقصانات بھی ایسے جو آئندہ عشروں تک جاری رہتے ہیں۔ امریکی سعودی گریٹ گیم سے دور رہنا پاکستان کے مفاد میں ہے۔ اس میں شرکت سے نہ تو کشمیر نے آزاد ہونا ہے اور نہ ہی بھارت کے مقابلے میں آپکو کسی بھی محاذ پر کوئی ٹھوس کامیابی ملنی ہے۔ امیج تو ویسے ہی اتنا خراب ہے کہ تاحال بسیار کوششوں کے باوجود دہشت گردی سے پاکستان کو نتھی کرنے کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ جب امریکہ نے بھارت کو شراکت دار اور اتحادی بنا لیا ہے تو امریکہ کے وزیر خارجہ برائے مسلم بلاک یعنی سعودی عرب کی سرمایہ کاری بھی اسی سمت میں ایک قدم سمجھا جانا چاہیئے۔ بات تو تب تھی کہ ایران سے آنے والی گیس کے لئے پاکستان میں پائپ لائن کی تعمیر میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پاکستان کی مدد کرتے۔ گریٹ گیم یہ ہے کہ وہ مدد کرنے کے بہانے مدد لینے آرہے ہیں۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ صدام نے ایران سے جنگ لڑی اور بالآخر امریکہ کو عراق میں گھس کر زبردستی ایران کا پڑوسی بننے کی راہ ہموار کی۔ طالبان نے افغانستان کی سرزمین سے ایران کے خلاف غیر اعلانیہ جنگ لڑی اور نتیجہ یہ نکلا کہ امریکہ یہاں بھی ایران کا زبردستی کا پڑوسی بن گیا۔ ریکوڈک منصوبے سے پہلے امریکی کمپنی کی صورت میں امریکہ آیا، لیکن قسمت کہ امریکی کمپنی کینیڈا و چلی کی کمپنیوں نے خرید لی۔ اب سعودی عرب ایران کا زبردستی کا پڑوسی بننے آرہا ہے، لیکن یہاں چین بھی ساتھ ہی ہے۔ کیا تاریخ خود کو دہرانے جا رہی ہے؟!

تحریر: ثاقب اکبر

16 جنوری 2018ء کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت سے یاد رکھا جائے گا، جب ایوان صدر میں 1829 علماء اور اہل دانش کے دستخطوں اور تائید سے ایک فتویٰ جاری کیا گیا، جس میں دہشت گردی، انتہا پسندی، تکفیریت اور خارجیت کی تمام جدید و قدیم شکلوں کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ اس فتویٰ کی تائید و توثیق پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے جید علمائے کرام، اسلامی علوم کے ماہرین اور ماضی میں شدت پسندی میں شہرت رکھنے والے بعض راہنماﺅں نے بھی کی ہے۔ پاکستان میں دینی مدارس کی پانچ باقاعدہ تنظیمیں ہیں، جن میں وفاق المدارس العربیہ(دیوبندی)، تنظیم المدارس پاکستان(بریلوی)، رابطة المدارس العربیہ(جماعت اسلامی)، وفاق المدارس سلفیہ(اہل حدیث) اور وفاق المدارس شیعہ شامل ہیں۔ ان کے علاوہ بھی بعض اہم مدارس ہیں کہ جو بظاہر اپنے آپ کو کسی وفاق کا حصہ نہیں کہتے، اس مذکورہ فتویٰ جسے ”پیغام پاکستان“ کا نام دیا گیا ہے، کی تائید ان سب کی قیادت نے کی ہے۔ یقیناً یہ ایک بہت بڑا اور تاریخی اجماع ہے، جس نے پاکستان کے روشن مستقبل کی ایک نوید سنائی ہے۔

”پیغام پاکستان“ کو یقینی طور پر قرارداد مقاصد کی عظیم الشان دستاویز کے بعد ایک بڑی دستاویز قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس میں قرارداد مقاصد کی ہی ایک مرتبہ پھر تائید و توثیق نہیں کی گئی بلکہ اس کی ضروری وضاحت بھی کر دی گئی ہے۔ خاص طور پر ان حالات میں جبکہ عالم اسلام میں موجود بڑے دہشت گرد گروہ جو اپنے آپ کو اسلامی خلافت کے احیاء کا علمبردار قرار دیتے ہیں، نے پاکستانی ریاست اور اس کے آئین کو غیر اسلامی قرار دے رکھا ہے اور جو پاکستان کی ریاست اور افواج کے خلاف مسلح جدوجہد کر رہے ہیں۔ اس پیغام میں جہاد کو اسلامی ریاست کی ذمہ داری قرار دیا گیا ہے اور خودکش حملوں کو اسلامی تعلیمات کے منافی گردانا گیا ہے۔ ”پیغام پاکستان“ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ: "مختلف مسلکوں کا نظریاتی اختلاف ایک حقیقت ہے، جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا، لیکن اس اختلاف کو علمی اور نظریاتی حدود میں رکھنا واجب ہے۔ اس سلسلے میں انبیاء، صحابہ کرامؓ، ازواج مطہراتؓ اور اہل بیتؑ کے تقدس کو ملحوظ رکھنا ایک فریضہ ہے اور آپس میں ایک دوسرے کے خلاف سب و شتم، اشتعال انگیزی اور نفرت پھیلانے کا کوئی جواز نہیں اور اس اختلاف کی بنا پر قتل و غارت گری، اپنے نظریات کو دوسروں پر جبر کے ذریعے مسلط کرنا، ایک دوسرے کی جان کے درپے ہونا بالکل حرام ہے۔"

متفقہ فتویٰ کے اہم نکات میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کو آئینی اور دستوری لحاظ سے ایک اسلامی ریاست قرار دیا گیا ہے۔ فتویٰ میں کہا گیا ہے کہ: "ہم متفقہ طور پر اسلام اور برداشت کے نام پر انتہا پسندانہ سوچ اور شدت پسندی کو مسترد کرتے ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ فرقہ وارنہ منافرت، مسلح فرقہ وارانہ تصادم اور طاقت کے بل پر اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کرنے کی روش شریعت کے احکام کے منافی اور فساد فی الارض ہے۔ پاکستان میں نفاذ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی، تخریب و فساد اور دہشت گردی کی تمام صورتیں، جن کا ہمارے ملک کو سامنا ہے، اسلامی شریعت کی رو سے ممنوع اور قطعی حرام اور بغاوت کے زمرے میں آتی ہیں۔" جہاد کی تشریح کرتے ہوئے اس میں کہا گیا ہے کہ: "فقہاء کے خیال میں کوئی بھی جنگ حکمران کی اجازت کے بغیر شروع نہیں کی جاسکتی، اسلام میں قتال اور جنگ کی اجازت دینے کی مجاز صرف اور صرف حکومتِ وقت ہے۔" فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے متفقہ اعلامیہ کے زیر عنوان یہ بھی کہا گیا ہے کہ: "ہر مکتب فکر اور مسلک کو مثبت اور معقول انداز میں اپنے عقائد اور فقہی نظریات کی دعوت و تبلیغ کی شریعت اور قانون کی رو سے جازت ہے، لیکن اسلامی تعلیمات اور ملکی قانون کے مطابق کسی بھی شخص، مسلک یا ادارے کے خلاف اہانت، نفرت انگیزی اور اتہام بازی پر مبنی تحریر و تقریر کی اجازت نہیں۔"

”پیغام پاکستان“ میں پاکستان میں بسنے والے غیر مسلم شہریوں کے حقوق کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا، چنانچہ متفقہ اعلامیے کی ایک شق میں کہا گیا ہے: "پاکستان میں رہنے والے پابند آئین و قانون تمام غیر مسلم شہریوں کو جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ اور ملکی سہولتوں سے فائدہ اٹھانے کے وہی شہری حقوق حاصل ہیں، جو پابند آئین و قانون مسلمانوں کو حاصل ہیں، نیز یہ کہ پاکستان کے غیر مسلم شہریوں کو اپنی عبادت گاہوں میں اور اپنے تہواروں کے موقع پر اپنے اپنے مذاہب کے مطابق عبادت کرنے اور اپنے مذہب پر عمل کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔" اس موقع پر بڑی تعداد میں علمائے کرام موجود تھے اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ مختلف مسالک کی مذہبی تنظیموں کے اہم راہنما بھی محفل کا حصہ تھے۔ بعض ایسے افراد اور راہنما بھی مجلس میں دکھائی دیئے، جو ماضی میں تکفیریت کے علمبردار رہے ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ صبح کا بھولا شام کو گھر واپس آجائے تو اسے بھولا ہوا نہیں کہتے، لیکن ضروری ہے کہ اسے دل سے ماضی میں اپنے بھٹک جانے کا احساس ہو اور وہ آئندہ ایسی کسی حرکت کا ارتکاب نہ کرے، جو امت میں افتراق اور پاکستان میں انتشار کا باعث بنے۔

مختلف مسالک کے راہنماﺅں کے ذمہ ہے کہ اب وہ ”پیغام پاکستان“ کی روح کے مطابق اپنے اپنے دائرہ اثر میں موجود افراد کو اس پر عمل کرنے کی دعوت دیں۔ ہمارے علم میں ہے کہ تمام مسالک کے اندر ایسے پیشہ ور خطیب اور منبر پر آنے والے افراد موجود ہیں، جو نفرتوں کا کاروبار کرتے ہیں، آگ لگاتے ہیں اور اپنی جیب گرم کرکے چلتے بنتے ہیں۔ ایسے افراد کا راستہ روکنا ہوگا۔ وہ علماء قابل قدر ہیں، جو اس سلسلے میں پہلے ہی جدوجہد کر رہے ہیں اور ہم ان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنی عظیم ذمہ داری کو آئندہ بھی بڑھ چڑھ کر ادا کرتے رہیں گے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر جانبدار رہتے ہوئے اس پیغام کو عام بھی کریں اور اس کی خلاف ورزی کا ارتکاب کرنے والوں کو دائرہ قانون میں بھی لائیں۔ اس امر پر افسوس کا اظہار کئے بغیر چارہ نہیں کہ ماضی میں کسی ایک مسلک سے وابستہ افراد کی شدت پسندی پر اقدام کرتے ہوئے خواہ مخواہ دوسرے مسلک کے افراد کو بھی اذیتوں سے گزارا گیا ہے اور ان کی تنظیموں پر پابندیاں عائد کی گئیں ہیں، تاکہ ”توازن“ کا تاثر ابھر سکے، حقیقت یہ ہے کہ اس طرح سے ”توازن“ وجود میں نہیں آتا بلکہ عدم توازن پیدا ہوتا ہے، گناہ گار اور بے گناہ کو برابر قرار دے کر معاشرہ میں توازن کیسے پیدا کیا جاسکتا ہے! ایوان صدر میں صدر مملکت ممنون حسین کے علاوہ بعض وفاقی وزراء اور نمائندہ علماء نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مفتی منیب الرحمن نے بڑی فکر انگیز بات کی۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں دو سال سے علمائے کرام نے دہشت گردوں کو تکفیری اور خارجی کہنا شروع کیا ہے۔ یہی کام عشرہ، ڈیڑھ عشرہ پہلے کیا ہوتا تو آج حالات ایسے نہ ہوتے۔ خیر دیر آید درست آید۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم امریکا سے ہمیشہ مخلص رہے ہم نے امریکا سے کوئی دھوکا نہیں کیا بلکہ امریکا نے ہمیشہ ہمارے ساتھ دھوکا کیا۔

نجی نیوز چینل کے پروگرام میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم امریکا کو سہولیات مہیا کر رہے ہیں تو یہ سروسز ہیں اور ان کے پیسے ہیں، امریکا نے آدھے سے زیادہ پیسے سروسز مہیا کرنے پر دیے، دہشت گردی کی جنگ میں بتائے گئے ٹارگٹ ٹھیک ہیں لیکن ترجیح ہماری ہوگی، اسٹریٹجی میں ہم امریکا کے ساتھ ہیں لیکن کون سے ٹارگٹ کو کب مارنا ہے اس میں فرق ہے۔

سابق صدر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم 100 فیصد امریکا کے ساتھ تھے اور مخلص تھے، ہمیں دہشت گردی سے لڑنا تھا میرے 5 برس کے دوران امریکا سے کوئی دھوکا نہیں ہوا بلکہ امریکا نے ہمیشہ ہم سے دھوکا کیا اس لیے امریکا کو یہ بتانا چاہیے کہ ہم نے کوئی دھوکا نہیں دیا۔

افغان جنگ میں پاکستان کی شمولیت کے سوال پر جنرل(ر) مشرف نے کہا کہ نائن الیون کے بعد سال 2002ء میں جو کچھ ہوا آپ اس وقت کے ماحول میں جائیں اس وقت چین سمیت پوری دنیا امریکا کے حق میں تھی کہ وہ طالبان کے خلاف کارروائی کرے اس لیے میں نے 2002ء میں جو فیصلہ کیا وہ بالکل درست فیصلہ تھا۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)شیعہ علماء کونسل سندھ کے صدر علامہ سید ناظر عباس تقوی نے کہا ہے کہ مملکت پاکستان کی ترقی کیلئے تمام مذہبی، سیاسی، ثقافتی ہم آہنگ جماعتیں ملکر قومیت کے بت توڑ دیں، ہمیں یک جان ہو کر دہشتگردی کے کینسر کے خلاف اعلان جنگ کرنا ہوگا، ہمارا عہد ہے کہ خون کے آخری قطرے تک ہم پاک فوج کے شانہ بشانہ اس وطن کا دفاع کریں گے۔ اپنے ایک بیان میں علامہ ناظر تقوی نے کہا کہ پاکستان لاکھوں بہادر لوگوں کی جانی و مالی قربانیوں کا حاصل ہے، بدقسمتی سے پاکستان اور اسلام دشمن عناصر نظریہ پاکستان پر ضرب لگانے کیلئے عالمی طاقتوں کے ایماء پر پاکستان کو گروہی و لسانی گروہ بندیوں میں اس حد تک تقسیم کر رہا ہے کہ نظریہ پاکستان کی روح دھندلا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد سے اب تک پاکستان نے بہت سی مصیبتں برداشت کیں، یہ سفر اتنا ہی مشکل اور کٹھن تھا کہ جتنا پاکستان بننے میں تھا، اس سرزمین کے باوفا بیٹے اس پاک سرزمین کے دفاع کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ دیتے آئے ہیں اور دیتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شیعہ سنی عوام اس ملک کا حقیقی نظریاتی و جغرافیائی دفاع ہیں، یہی وجہ ہے کہ بدترین دہشتگردی اور ظلم و ستم کے باوجود دشمن کامیاب نہیں ہو سکا، کیونکہ اس پاک وطن کی مٹی میں شہیدوں کا لہو شامل ہے، اگر کوئی اس ملک سے غداری کرنا بھی چاہے، تو شہدوں کا لہو اسکی حفاطت کرتا ہے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) ضلعی انتظامیہ گلگت کے سربراہ سمیع اللہ فاروق نے اپنے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے کہا کہدہشتگرد گلگت میں شیعہ کمیونٹی پر حملہ کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ دہشتگردوں کا مطلوبہ ہدف شیعہ علماء، رہنماء اور سرکردہ افراد ہوسکتے ہیں۔ لہٰذا شیعہ رہنماوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی حفاظت کے پیش نظر غیر ضروری نقل و حرکت اور سرگرمیوں سے گریز کریں۔ ضلعی انتظامیہ کے سربراہ نے سکیورٹی تھریڈ پر مبنی نوٹیفکیشن گلگت کے نامور عالم دین علامہ آغا راحت حسین الحسینی، اسلامی تحریک کے صوبائی رہنماء شیخ مرزا علی، سابق صوبائی وزیر دیدار علی، مجلس وحدت مسلمین کے ترجمان الیاس صدیقی، انجمن امامیہ گلگت کے صدر شیر علی اور فقیر شاہ کے نام جاری کر دیا ہے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق آغا راحت حسین الحسینی نے اسے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دھمکی قرار دیا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ آغا راحت حسینی نے اس مراسلے کو ٹیکس کے خلاف جاری عوامی پرامن کوشش کو سبوتاژ کرنے کی حکومتی کوشش قرار دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ گلگت میں امن و امان قائم ہے اور کسی قسم کا خطرہ نہیں۔ اگر کسی بھی شخصیت کے ساتھ ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو تمام تر ذمہ داری حفیظ الرحمان پر عائد ہوگی۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) شیعہ علماء کونسل سندھ کے صدرعلامہ سید ناظرعباس تقوی کا کہنا ہے کہ کئی عرصے ملک بھر میں امن و امان کی بہت اچھی صورتحال رہی لیکن 12 ربیع الاول کو خیرپور اور پشاور میں ایک بار پھر دہشتگردوں نے اپنی موجودگی کا احساس دلایا اور کئی قیمتی جانیں ان حملوں میں ضائع ہوئیں جس کی ہم بھرپور مزمت کرتے ہیں۔

اپنے مذمتی بیان میں علامہ ناظر تقوی نے کہا کہ ملک بھر میں دہشتگردی کے واقعات کا ایک بار پھر سے تسلسل کے ساتھ ہونا حکومت اور سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے، دہشتگرد جب چاہتے ہیں اپنے مزموم عزائم میں کامیاب ہو جاتے ہیں، وطن عزیز اس وقت بہت سے بحران کا شکار ہے اور اس طرح کے واقعات سے ہمارا ملک اور بھی بہت سے بحران کا شکار ہو جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جب تک ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ نہیں کیا جاتا، اس وقت تک ملک میں جمہوری استحکام آسکتا ہے نہ ہی معاشی طور پر ملک مستحکم ہو سکتا ہے، اگر حکومت اور سیکیورٹی فورسز کے ادارے ملک بھر سے دہشتگردی کا خاتمہ چاہتے ہیں تو ملک بھر میں دہشتگردوں کی آخری کمین گاہوں تک آپریشن کرنا ہوگا۔ علامہ ناظر تقوی نے کہا کہ ہم حکومت اورقانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فی الفور دہشتگردی کے ان واقعات میں ملوث دہشتگردوں اور اُن کے سہولت کاروں کو گرفتار کرکے تختہ دار پر لٹکائیں، تاکہ ملک میں امن و امان کی فضاء بہتر ہو سکے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) بنگلہ دیش کی پولیس نے دہشت گردانہ سرگرمیوں کو فروغ دینے کے الزام میں جماعت اسلامی کے متعدد رہنماؤں کو حراست میں لے لیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کے امیرمقبول احمد اور جنرل سیکریٹری شفیق الرحمن سمیت 8 رہنماؤں کو گزشتہ رات گرفتار کیا گیا ۔ ان رہنماؤں کو دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور اس کی منصوبہ بندی کے لئے میٹنگ کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔

تحریر: سرفراز حسین حسینی

کل شام ایک نجی ٹی وی چینل پہ کراچی کے علاقے لیاری کے بارے میں ایک تفصیلی پروگرام دیکھنے کا اتفاق ہوا، اینکر پرسن لیاری میں موجود رینجرز ہیڈ کوارٹر سے اپنا پروگرام پیش کر رہا تھا، جہاں اس کے توسط سے رینجرز کے اعلٰی افسران سامعین کو لیاری کی سابقہ خطرناک صورتحال سے آگاہ کر رہے تھے کہ کیسے چند ماہ قبل تک یہ پورا علاقہ ہی تقریباً نو گو ایریا تھا۔ خطرناک ترین گینگ وار کے سرغنہ اور کارندے یہاں آزادانہ دندناتے تھے، قاتلوں اور دہشت گردوں کی سب سے بڑی پناہ گاہ یہی علاقہ تھا، پولیس اور سکیورٹی کے لوگوں کے سر سے فٹ بال کھیلا جاتا تھا، منشیات، قتل و غارت، اغوا براے تاوان، غیر قانونی اسلحہ، پراپرٹیز پہ قبضہ، گینگ وار، بھتہ خوری، غرض ہر قسم کے گھناؤنے کاموں کا مرکز کراچی شہر کا یہ علاقہ تھا، پھر حکومت اور سکیورٹی کے اداروں نے ٹھانا کہ اب بہت ہوگیا لہذا اس علاقے میں آپریشن شروع کیا گیا، خطرناک مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا، بڑے بڑے گینگ وار کے ٹھکانے تباہ کئے گئے، سرغنے ہلاک ہوئے، پکڑے گئے یا بیرون ملک فرار ہوگئے، اب کوئی علاقہ نو گو ایریا نہی رہا اور امن ہے کہ لوٹ آیا ہے۔ اس کے ثبوت کے طور پہ رینجرز کے ساتھ اینکر نے پورے لیاری کا دورہ کیا، لوگوں کے تاثرات لئے جنہوں نے سکھ اور چین کا اظہار کیا اور کہا کہ اس آپریشن کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم جہنم سے نکل کر جنت میں آگئے ہیں۔

ایک لمحہ کو تو خوشی اور اطمینان کا احساس ہوا کہ لیاری کے لوگوں کو امن میسر آیا، ان کی جانیں محفوظ ہوئیں اور کاروبار زندگی دوبارہ رواں دواں ہوا، لیکن دوسرے لمحے ہی ذہن میں وہ ساری فلم گھوم گئی کہ لیاری کی ان گینگز کے اعلانیہ سرپرست کون تھے، رحمان ڈکیت، بابا لاڈلہ اور عزیر بلوچ کن کو اپنا سیاسی گرو مانتے تھے، اس گینگسٹرز کی اجازت کے بغیر کانسٹیبل سے لے کر ایس ایچ او اور ایس پی تک کی تعیناتی نہی ہوتی تھی تو کون سے سیاسی اور انتظامی سربراہان ان کے احکامات کی تعمیل کرواتے تھے، پیپلز امن کمیٹی میں کون کون تھا اور کون انہیں اپنا بچہ کہتا تھا، بے امنی کے اس دور میں کون لیاری کے ایم این اے اور ایم پی ایز تھے اور ان کا تعلق کس سیاسی پارٹی سے تھا، کون سی پارٹی ان گینگسٹرز کے بل بوتے پہ لیاری کو اپنا گڑھ کہتی تھی۔ آصف زرداری سے لیکر ذوالفقار مرزا، قائم علی شاہ اور سندھ پیپلز پارٹی کے تمام سرکردہ لیڈرز لیاری دورہ کے دوران کس کے ہاں قیام کرتے تھے اور کن کن کے ساتھ ان کی تصاویر تھیں، کون ان کے جلسے منطم کرتے تھے۔۔۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ

لیاری کے گینگسٹرز پکڑے گیے، مارے گئے یا فرار یوگیے۔ لیکن آیا کسی نے ان کے سرپرستوں کو چھوا یا ہاتھ بھی لگایا، وہ آج بھی حاکم ہیں، طاقتور ہیں اور وقت آنے پہ اسی طرح کے گروہوں کو پیدا کرنے، منظم کرنے اور اپنے سیاسی و ذاتی مفادات کے لئے غریب عوام پہ مسلط کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ سرکش کارندوں کو مارنے، غائب کرنے اور ان کے سرپرستوں کی آبیاری کرنا بدقسمتی سے ہمارے مقتدر حلقوں کا پسندیدہ شوق رہا ہے، یہ صرف لیاری تک محدود نہیں۔ ایم کیو ایم کی ملک دشمن سرگرمیوں سے پوری قوم گاہ ہے، یہ پوری تنظیم، اس کا بانی قائد اور دیگر رہنما ان جرائم میں شریک تھے، الطاف حسین تو سالوں سے ملک سے باہر ہیں، کون تھا جو اس کے احکامات پہ یہاں عملدرآمد کرواتا تھا؟ یقیناً اس تنظیم کے ذمہ داران اور عہدیدار، سیکٹر کمانڈرز، لیکن جب اس تنظیم کے خلاف آپریشن کا سوچا گیا تو صرف الطاف اور اس کے چند ساتھیوں کو ایم کیو ایم لندن کے نام سے علیحدہ کرکے زیر عتاب کیا گیا اور اس کے تمام ساتھیوں، سہولت کاروں اور جرم میں معاون عہدیداروں کو ہانک کے پی ایس پی اور ایم کیو ایم پاکستان کی لانڈری میں ڈرائی کلین کرکے دوبارہ سے اسی غریب اور مظلوم عوام پہ حکمرانی کے لئے کھلا چھوڑ دیا گیا۔

90 کے عشرے کے درمیان میں اچانک طالبان کا نام سامنے آیا، یہ دور روشن خیال اور پروگریسو نظریات کی حامل محترمہ بے نظیر بھٹو کا تھا، جن کے وزیر دفاع سابق جنرل اور اسٹیبلشمنٹ کے طاقتور ترین شخص نصیر اللہ بابر تھے، افغانستان کو اپنا پانچواں صوبہ بنانے کے چکر میں اعلٰی اذہان نے طالبان کو تخلیق کیا، محترمہ نے چاہتے نا چایتے اس پلان کی منظوری دی اور امریکہ نے اس پلان پر مہر تصدیق ثبت کی اور پھر اسلام کے نام پر امیرالمومنین ملا عمر کی قیادت میں لشکر اسلام نے مسلم ریاست افغانستان پہ چڑھائی کر دی۔ طالبان وہاں معصوم لوگوں کی گردنیں اتار رہے تھے، ظلم و ستم کا بازار گرم کیا ہوا تھا، مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا تھا اور یہاں ہمارے علماء، سرکاری میڈیا، دین کے ٹھیکیدار ریٹائرڈ جرنیل، صحافی اسے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا نام دے رہے تھے، ہزاروں کی تعداد میں یہاں سے مدرسوں کے طالبعلموں، فرقہ پرست تنظیموں اور مذہبی جنونیوں کو افغانستان منتقل کیا جا رہا تھا۔ افغان طالبان کو یہاں فرشتے بنا کر پیش کرنے کا فوری اثر یہ ہوا کہ خود وطن عزیز میں سوات اور قبائلی علاقوں میں تحریک طالبان پاکستان TTP اور جنوبی پنجاب اور اس سے ملحقہ علاقوں میں پنجابی طالبان تحریک نے ناصرف سر اٹھانا شروع کیا بلکہ سوات سمیت چند علاقوں میں اپنی ڈی فیکٹو حکومتیں بھی قائم کر لیں۔

9/ 11 کے بعد جب ہمارے آقا امریکہ کی ترجیحات بدلیں تو طالبان کے موضوع پہ ہم نے بھی U Turn لیا اور پھر ہمارے بچے ہی ہمارے دشمن و باغی قرار پائے، نتیجتاً اب ان درندوں کے ظلم کا شکار ہماری اپنی قوم بننا شروع ہوئی، سکیورٹی افسران و جوانان سمیت 80 ہزار سے زائد معصوم لوگ لقمہ اجل بنے، طالبان کی تخلیق کو قبول کرنے والی محترمہ بینظیر انہی طالبان کے ہاتھوں (موجود شواہد کے مطابق، وگرنہ پی پی کی حکومت بھی اس معمہ کو حل نہ کر سکی) شہید ہوئیں۔ ہم نے یہاں آپریشن پہ آپریشن شروع کئے اور ملک ایک اندرونی جنگ اور اس کے تلخ ثمرات کا شکار ہوا اور تا حال شکار ہے۔ سوال پھر وہی کہ اب جبکہ سرکاری طور پہ طالبان، داعش اور اس فکر کے افراد کو ہم اپنا دشمن قرار دے چکے ہیں تو جن اذہان نے ان کو تخلیق کیا، ان کی تربیت کی، سرپرستی کی، تکفیری نظریات کا علمبردار بنایا، ان کے خلاف ریاست نے کیا اقدامات کئے، وہ علماء، مدارس، تنظیمیں، ادارے، سول و فوجی افسران، صحافی، لکھاری سب ویسے ہی موجود ہیں، کچھ مصلحتاً خاموش تو کچھ آج بھی ان کے حمائتی۔ دہشت گردوں کے ان سرپرستوں کو آج بھی اتنی چھوٹ ہے کہ کوئٹہ میں ایک واقعہ میں سینکروں افراد شہید ہوتے ہیں، قاتل گروہ سینچری بنانے والا ترانہ تیار کرتا ہے اور ببانگ دہل شہر کے مرکزی چوک میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی میں اپنے جلسہ کے دوران اسے بجاتا ہے اور ریاست نا صرف خاموش بلکہ اس گروہ کے رہنما آج بھی حکومت کی مہیا کی ہوئی سکیورٹی میں آزادانہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

مستونگ اور اس کے اردگرد آئے روز ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں کی سہولت کاری میں ملوث سیاسی شخصیات اور سرداروں کو کون نہی جانتا، لیکن کوئی ان کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا۔ پنجاب میں بھی دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں ہوئیں، لیکن ان دیشتگردوں کے سرپرستوں، ان کے ساتھ سیاسی الائینس کرنے والی نون لیگ کے سرکردہ راہنماوں، سرکاری افسران، قانونی سہولیات فراہم کرنے والے سرکاری اداروں، جلسوں میں شریک سیاسی راہنماؤں کو کون پوچھے۔ خیبر پختونخوا کی حکومت کے دہشتگردوں بارے بدلتے موقف کی تان اس وقت ٹوٹی جب اس صوبائی حکومت نے سرکاری طور پر اس مدرسہ کو اعلانیہ 200 ملین روپے کی امداد دی، جس کے پڑھے ہوئے جہادی افغانستان اور پاکستان میں سب سے زیادہ متحرک ہیں اور آج وطن کی سلامتی کے لئے سب سے بڑا خطرہ حقانی نیٹ ورک بھی اسی مدرسہ سے مربوط ہے۔ ٹرمپ کے حالیہ پاکستان دشمنی پہ مبنی بیان سے ایک محب وطن پاکستانی ہونے کے ناطے جوش ایمانی نے غیرت بھی کھائی اور خون بھی کھولا، لیکن جب تھوڑا سا اپنے گریبان میں جھانکا تو محسوس ہوا کہ جتنا بڑا وہ شیطان ہے، اتنے معصوم ہم بھی نہیں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) شیعہ علماء کونسل سندھ کے صدر علامہ سید ناظر عباس تقوی نے لاہور میں فیروزپور روڈ پر ہونے والے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اس واقعے میں شہید اور زخمی ہونیوالے افراد کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں، آج ایک بار پھر دہشتگردوں نے پولیس کے جوانوں کو نشانہ بنایا، جو ایک افسوناک عمل ہے، دہشتگردوں کی ان بذدلانہ کارروائیوں سے ہماری فورسز اور قوم کے حوصلے ہرگز پست نہیں ہونگے، اب حکومت کو ملک بھر سے ان دہشتگردوں کی کمین گاہیں اور نرسریاں ختم کرنے کیلئے بڑا قدم اُٹھانا ہوگا۔ اپنے مذمتی بیان میں علامہ ناظر تقوی نے کہا کہ حکومت مسلسل پاکستان بھر میں قیام امن کے دعوے کرتی نظر آرہی ہے، لیکن آج کی اس کارروائی نے حکومت کے تمام دعوؤں کی قلعی کھول دی۔

علامہ ناظر تقوی نے کہا کہ لاہور جو پاکستان کا دل تصور کیا جاتا ہے، دہشتگردوں نے پھر پاکستان کے دل کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا ہے، ہمارے وزراء صرف بیان پر بیان اور عوام کو جھوٹی تسلیاں دے رہے ہیں، جو افسوسناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی ماہ سے ملک بھر میں امن و امان کی اچھی صورتحال تھی، لیکن اچانک ایک بار پھر دہشتگرد ملک بھر میں سرگرم نظر آتے ہیں، جس سے عوام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، اگر دہشتگردی کا سلسلہ یونہی جاری رہا تو فورسز کی جانب سے قیام امن کے حوالے سے ملک بھر میں جاری کوششیں کہیں ضائع نہ ہو جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم آرمی چیف جنرل قمر باجوہ سے اپیل کرتے ہیں کہ خدارا اس ملک کو دہشتگردوں سے نجات دلوائیں اور ملک بھر میں دہشتگردوں کے خلاف فیصلہ کُن کارروائی کریں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)پاکستان علماء کونسل نے اعلان کیا ہے کہ انتہاپسندی کے خاتمہ کیلئے بھر پور جدوجہد کی جائے گی اور آپریشن ردالفساد کی کامیابی کیلئے پاک فوج اور قومی سلامتی کے اداروں کیساتھ ہر سطح پر تعاون کیا جائے گا، قوم کو تقسیم کرنیوالی قوتیں پاکستان کو کمزور کرنا چاہتی ہیں، دہشتگردی، انتہا پسندی کے خاتمے تک اسلامی ممالک میں استحکام ممکن نہیں، بیت المقدس میں نماز ادائیگی پر پابندی عالمی امن کو تباہ کرنے کی سازش ہے، الاقصیٰ کی آزادی کیلئے مسلم امہ سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہے، مسلم ممالک کو الاقصیٰ کی آزادی، حرمین شریفین کی سلامتی و استحکام کیلئے اپنے اختلافات کو ختم کرنا ہوگا۔ پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین زاہد محمود قاسمی نے کہا کہ پاکستان علماء کونسل اگست میں دہشتگردی، انتہاپسندی کیخلاف اور نظریہ پاکستان کو اجاگر کرنے کیلئے ملک گیر مہم چلائے گی اور مختلف اضلاع میں ’’تحفظ نظریہ پاکستان‘‘ کے عنوان سے کانفرنسیں، سیمینارز، تقریبات منعقد کرے گی۔ اجلاس سے مرکزی سرپرست مولانا رفیق جامی، وائس چیئرمین پیر جی خالد محمود قاسمی، مولانا عبیدالرحمن ضیاء، حافظ محمد شعبان صدیقی، سیکرٹری جنرل مولانا شاہنواز فاروقی، علامہ شبیر احمد عثمانی، شیخ الحدیث مولانا حق نواز خالد، صدر پنجاب حافظ محمد امجد، اسلام آباد کے صدر مولانا ذوالفقار احمد، مولانا عبدالمنان عثمانی، مولانا عمر قاسمی، علامہ حفیظ الرحمن کشمیری، مولانا محمد مشتاق لاہوری، مولانا گلزار احمد آزاد، مولانا عبید اللہ حیدری، مولانا عاطف محمود عباسی و دیگر علماء نے بھی خطاب کیا۔

چیئرمین پاکستان علماء کونسل صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو شام، عراق، لیبیاء بنانے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔ علماء اور منبر و محراب پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اسلام کے حقیقی پیغام کو عوام تک پہنچانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں، اسلام کے نام پر فتنہ و گمراہی پھیلانے والوں کا اسلام اور پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی، انتہا پسندی کے ذریعے ملک کو کمزور کرنیوالی قوتوں کا متحد ہوکر مقابلہ کرنا ہوگا، مسجد اقصیٰ اور مظلوم فلسطینیوں پر اسرائیل کے مظالم ناقابل برداشت ہیں، بیت المقدس کے تحفظ اور آزادی کیلئے مسلمان اپنی جان قربان کرنا سعادت سمجھتا ہے۔ مرکزی سرپرست مولانا رفیق جامی نے کہا کہ دہشتگرد تنظیموں کا ہدف اسلامی ممالک ہیں، شام، عراق، لیبیاء کے ان قوتوں کا اگلا ہدف پاکستان اور سعودی عرب ہیں، بیت المقدس کی آزادی اور مسلم ممالک کی سلامتی و استحکام کیلئے عالم اسلام کو متحد ہونا ہوگا۔ وائس چیئرمین مولانا عبیدالرحمن، پیر جی خالد محمود قاسمی نے کہا کہ اسلام امن و سلامتی کا درس دیتا ہے۔ علماء اسلام نے بے گناہ انسانیت کا خون بہانے والوں کی ہمیشہ حوصلہ شکنی ہے۔ دہشتگردی، انتہاپسندی اور فرقہ وارانہ تشدد پھیلانے کی اسلام اور آئین پاکستان ہر گز اجازت نہیں دیتا۔

پاکستان علماء کونسل کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا شاہ نواز فاروقی نے کہا کہ علماء، خطباء، آئمہ اسلام کے پیغام اعتدال کو عام کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں، دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پاکستانی قوم اور افواج کی قربانیاں قابل فخر ہیں، پاکستان علماء کونسل ماہ اگست کو ماہ پاکستان کے طور پر منائے گی اور دہشتگردی، انتہا پسندی کیخلاف بھر پور مہم چلائے گی اور ملک بھر میں ’’تحفظ نظریہ پاکستان‘‘ کے عنوان سے کانفرنسیں منعقد کرے گی۔ اجلاس میں مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی فوج کی طرف سے فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ او آئی سی کا فوری طور پر اجلاس بلایا جائے اور مسجد اقصیٰ کو صہیونیوں کے قبضہ سے واگزار کروانے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔