شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) طالبان نے ریاض کی افغان حکومت کو طالبان سے امن مذاکرات میں شامل کرنے کی خواہش کو توڑتے ہوئے امریکا، سعودی عرب سے رواں ماہ طے مذاکرات کے مقام کو تبدیل کر کے قطر میں رکھنے کا مطالبہ کر دیا۔ مذاکرات کا مقصد افغانستان میں 17 سال سے جاری جنگ کا خاتمہ ہے جنہیں طالبان کے رہنماؤں اور امریکا کے خصوصی سفیر زلمے خلیل زاد کے درمیان غیر ملکی فوجیوں کے انخلا اور 2019ء میں ممکنہ جنگ بندی پر بحث کے لیے ہونا تھا۔ مغرب کی حمایت یافتہ افغان حکومت کو مذاکرات کی نشست پر جگہ ملنے کے عالمی دباؤ کے باوجود طالبان رہنماؤں نے کابل کی براہ راست بات چیت کی پیش کش کو ٹھکرا دیا تھا۔ افغانستان میں مقیم سینیئر طالبان رہنما نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’ہمیں آئندہ ہفتے ریاض میں امریکی حکام سے ملاقات کرنی تھی اور گزشتہ ماہ ابوظہبی میں نامکمل رہ جانے والے امن مرحلے کو آگے بڑھانا تھا‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حکام چاہتے ہیں کہ ہم افغان حکومت کے وفد سے ملاقات کریں جسے ہم برداشت نہیں کر سکتے اور اس ہی لیے ہم نے سعودی عرب میں اس ملاقات سے منع کر دیا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ طالبان مذاکرات کے مقام کو تبدیل کر کے اسے قطر میں کرنا چاہتے ہیں۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے تصدیق کی کہ طالبان گروہ نے سعودی عرب میں ملاقات سے منع کر دیا ہے تاہم انہوں نے ملاقات کے نئے مقام کے حوالے سے کوئی معلومات فراہم نہیں کی۔ واضح رہے کہ افغانستان میں امریکی سفارت خانے نے معاملے پر اپنی رائے دینے سے منع کردیا ہے۔ ایک اور سینیئر طالبان رہنما کا کہنا تھا کہ تنظیم نے سعودی عرب کو واضح کر دیا ہے کہ طالبان کا اس مقام پر افغان حکومت سے ملاقات ناممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’سب جانتے ہیں کہ افغان حکومت نہیں چاہتی کہ امریکا اور اس کی اتحادی فوج افغانستان چھوڑ کر جائے جبکہ ہم نے تمام غیر ملکی افواج کو اپنے ملک سے نکالنے کی بھاری قیمت ادا کی ہے تو ہم کیوں افغان حکومت سے بات کریں۔

شیعہ نیوز )پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ( یمنی فوج نے سعودی اتحاد کی جارحیت کے جواب میں صوبے تعز میں سعودی اتحاد کے فوجی ٹھکانوں کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا ہے۔

یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوانوں نے اتوار کے روز سعودی اتحاد کی جارحیت کے جواب میں صوبے تعز کے مغرب میں واقع سعودی اتحاد کے الخالد فوجی ٹھکانے کو بدر پی ون قسم کے میزائل حملے کا نشانہ بنایا جس میں جارح سعودی اتحاد کے فوجی ٹھکانے کو خاصا نقصان پہنچا۔

یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوانوں نے ہفتے کی رات بھی شمالی یمن کے صوبے الجوف میں سعودی اتحاد کے فوجی ٹھکانے کو زلزال ایک قسم کے میزائل حملے کا نشانہ بنایا تھا۔

یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کی جانب سے سعودی اتحاد کی جارحیت کا منھ توڑ جواب دیئے جانے کا سلسلہ بدستور جاری ہے اس لئے کہ سعودی اتحاد یمن کے مختلف علاقوں میں اب بھی عام شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

سعودی اتحاد کی جانب سے یمن کے تمام تر محاصرے کے باوجود یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کی دفاعی توانائی میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔

ادھر یمن کا محاصرہ توڑنے کے لیے قائمی قومی رابطہ کمیٹی کے سربراہ نے کہا کہ جارح سعودی اتحاد جنگ بندی کے باوجود دواؤں اور غذائی اشیا کی ترسیل میں خلل ڈال رہا ہے۔

المسیرہ ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے قومی رابطہ کمیٹی کے سربراہ عبداللہ شعبان نے کہا کہ جارح سعودی اتحاد نے بڑی مقدار میں دوائیں یمن لانے سے روک دی ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں یمنی مریضوں کی زندگیاں ایک بار پھر خطرے سے دوچار ہو گئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ دواؤں اور میڈیکل آلات کی قلت سے ہی نہیں بلکہ بیرون ملک کی سفر کی بندشوں کے باعث نو لاکھ یمنی مریضوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

محاصرہ کے خاتمے کے لیے قائم قومی رابطہ کمیٹی کے سربراہ نے عالمی اداروں اور تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ یمن کا محاصرہ ختم کرانے کے لیے سعودی حکومت پر دباؤ ڈالیں بصورت دیگر ہم عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنے پر مجبور ہوں گے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے متحدہ عرب امارات اور بعض عرب اور افریقی ملکوں کے کرائے کے فوجیوں کی مدد سے یمن کو زمینی، فضائی اور سمندری جارحیت کا نشانہ بنانے کے علاوہ مشرق وسطی کے اس غریب عرب اور اسلامی ملک کی ناکہ بندی بھی کر رکھی ہے۔

سعودی عرب اور اس کے اتحاد ملکوں کی جنگ پسندی کی وجہ سے چودہ ہزار سے زائد یمنی شہری شہید اور لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ سعودی عرب فوجی اتحاد قائم اور یمنی عوام کے خلاف جارحیت کا ارتکاب کر کے اب تک اپنے کسی بھی مقصد میں کامیابی حاصل نہیں کر سکا ہے۔

)شیعہ نیوز پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ( یمنی فورسز نے دفاعی کارروائی میں صوبہ الجوف میں کئی درجن سعودی اتحادی فوجیوں کو ہلاک اور زخمی کردیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یمنی فورسز نے اس کامیاب آپریشن میں کئی سعودی فوجی کمانڈروں اور متعدد سپاہیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ یمنی مسلح فوج کے ترجمان یحیی سریع نے کہا کہ یمنی فورسز نے سعودی عرب کی جارح فوج کے دو درجن سے زائد فوجیوں کو ہلاک اور زخمی کردیا ہے جن میں بعض فوجی کماںڈر بھی شامل ہیں۔

شیعہ نیوز )پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ(سعودی عرب میں اندرون خانہ شدید سیاسی ہلچل جاری ہے۔ سعودی بادشاہ سلمان نے وزیر خارجہ سمیت بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کردی ہیں۔

سعودی عرب کے بادشاہ نے عادل الجبیر کو ان کے عہدے سے برطرف کرکے ابراہیم العساف کو نیا وزیر خارجہ مقرر کردیا۔

الحدث ٹیلی ویژن کے مطابق سعودی بادشاہ نے کے جاری کردہ فرمان کے مطابق ابراہیم العساف ملک کے نئے وزیر خارجہ ہوں گے، جبکہ عادل الجبیر شاہ سلمان کے مشیر ہوں گے۔ شاہ سلمان نے ولی بن سلمان کی صدارت والی سیاسی اور سیکورٹی کونسل میں بھی لازمی تبدیلیوں کا حکم جاری کرتے ہوئے مساعدالعیبان کو قومی سلامتی کامشیر مقرر کیا ہے۔

شاہ سلمان کےجاری کردہ حکم نامے میں عبداللہ بن بندر بن عبدالعزیز کو شاہی گارڈ کا وزیر، ترکی الشبانہ کو وزیر اطلاعات اور حمد آل الشیخ کو وزیر تعلیم بنایا گیا ہے۔

سعودی عرب کے بادشاہ نے لندن میں متعین سعودی سفیر محمد بن نواف بن عبدالعزیز بن سعود کو ان کے عہدے سے برطرف کردیا ہے۔ ایک اور حکم کے ذریعے عسیر کے گورنر فیصل بن خالد کو برطرف اور ترکی بن طلال کو ان کی جگہ گورنر بنادیا گیا ہے۔وزیر سیاحت سلطان بن سلمان کو بھی ان کے عہدے سے برطرف کردیا گیا ہے۔

دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ سعودی ولی عہد نے ایک بار پھر اپنے چچازاد بھائی خالد بن طلال بن عبدالعزیز کو گرفتار کرودایا ہے۔ خبروں میں کہا گیا ہے کہ خالد بن طلال کی گرفتاری منگل کی رات عمل میں آئی تھی اور تاحال ان کی رہائی کے بار میں کوئی خبر منظر عام پر نہیں آئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سب تبدیلیاں خطے میں امریکی اور اسرائیلی ایجنڈے پر کام کرنے والے ولی عہد محمد بن سلمان کے خلاف ممکنہ بغاوت کو روکنے کیلیے کی گئی ہیں۔

واضح رہے کہ پچھلے ایک برس اور خاص طور سے بن سلمان کے ولی عہد بننے کے بعد سے، جو خطے میں امریکہ اور اسرائیل کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں، سعودی عرب میں درجنوں، علما، سیاسی کارکنوں اور شہزادوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں بند کردیا گیا ہے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)سعودی عرب کے درندہ صفت حکام نے ایک پاکستانی شہری کا سمگلنگ کے الزام میں سر قلم کردیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق پاکستانی شہری لعل خان پر سمگلنگ کا الزام تھا جواب تک ثابت نہ ہوسکا تھا۔ اس کے باوجود اس کا سر قلم کردیا گیا۔
عرب ذرائع کے مطابق اس سے قبل بھی سعودی عرب مختلف اور بے بنیاد الزامات میں درجنوں پاکستانیوں کے سر قلم کرچکا ہے جبکہ انہیں اپنا کیس لڑنے کی مکمل آزادی بھی نہیں دی جاتی۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) قطر میں سعودی عرب کے اعلیٰ حکام کو سعودی عرب کی جارحانہ پالیسی کی وجہ سے ذلت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
آل سعود خاندان کے اسرار فاش کرنے والے معروف سعودی تجزیہ کارنے کہا ہے کہ قطریوں نے سعودی بادشاہ شاہ سلمان کے مشیر اور سعودی وزیر خارجہ کی تحقیر اور تذلیل کرکے دوحہ ایئر پورٹ سے واپس بھیج دیا۔
مجتہد نے انکشاف کیا ہے کہ قطریوں نے سعودی بادشاہ شاہ سلمان کے مشیرخالد الفیصل اورسعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر کی تحقیر اور تذلیل کرکے دوحہ ایئر پورٹ سے واپس بھیج دیا۔ مجتہد کے مطابق سعودی عرب کے وزیر خارجہ خفیہ دورے پر دوحہ پہنچے اورقطر نے اس کے جہاز کو اترنے کی اجازت دی لیکن اس کا کوئی استقبال نہیں کیا اور اسے چائے پلا کر دوحہ سے روانہ کردیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی بادشاہ کے مشیر شہزادہ خالد الفیصل کو بھی دوحہ ایئر پورٹ پر اسی قسم کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا اور وہ اپنے جہاز سے اترے ہی نہیں۔ مجتہد کے مطابق سعودی عرب کے بادشاہ کے مشیر اور وزیر خارجہ دونوں قطر کے ساتھ مذاکرات کا سازباز کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے دورہ پاکستان کے دوران وزیرِاعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان ایران کے ساتھ سیاسی و اقتصادی تعلقات کا فروغ چاہتا ہے، تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا خارجہ پالیسی کا اہم جزو ہے۔ ملاقات میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ سیاسی و اقتصادی تعلقات کا فروغ چاہتا ہے، پاکستان کو مسلم امہ کے درمیان تنازعات پر تشویش ہے۔ یمن کے عوام کے مسائل ختم ہونے چاہیں، فریقین رضامند ہوں تو پاکستان یمن کے معاملے پر ثالثی کے لیے تیار ہے۔ وزیراعظم نے ایرانی قیادت کے لئے نیک خواہشات کا پیغام بھی بھیجا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے وزیراعظم عمران خان کو ایرانی صدر کی جانب سے نیک خواہشات کا پیغام بھی پہنچایا۔ اپنے پیغام میں ایرانی صدر نے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ مل کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
 
اس سے پہلے ایرانی وزیر خارجہ نے ہم منصب شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اور ایران مشکل کی ہر گھڑی میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک ایران سرحد امن کی سرحد تصور کی جاتی ہے، اسے مزید پُرامن بنائیں گے۔ مسئلہ کشمیر پر حمایت کرنے پر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے مشکور ہیں۔ اس موقع پر ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات باہمی اعتماد اور یکجہتی پر مبنی ہیں، دوستی خراب کرنے کی کوشش کرنے والوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

دیگر ذرائع کے مطابق وزیراعظم پاکستان عمران خان سے ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے ملاقات کی، بعد ازاں انہوں نے اپنے ہم منصب شاہ محمود قریشی سے بھی ملاقات کی۔ تفصیلات کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اسلام آباد میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے ملاقات میں دونوں شخصیات نے پاکستان ایران تعلقات اور خطے کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی، ایرانی وزیر خارجہ نے وزیراعظم کو ایرانی صدر کا تہنیتی پیغام پہنچایا۔ اس موقع پر ایرانی کوسٹ گارڈز کی بازیابی سے متعلق بھی بات چیت کی گئی، ملاقات میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور سیکرٹری خارجہ بھی موجود تھے۔ وزیراعظم عمران خان نے ایرانی قیادت اور عوام کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا، اپنی گفتگو میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان ایران کے ساتھ سیاسی و اقتصادی تعلقات مزید مستحکم کرنا چاہتا ہے، ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعلقات میں بہتری ہماری خارجہ پالیسی کی اولین ترجیح ہے۔

وزیراعظم نے مسلمان ملکوں میں اتحاد کے فقدان پر تشویش کا اظہار کیا، یمن میں انسانی بحران قابل افسوس ہے، وزیراعظم کی یمن بحران کے حل کے لئے ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ فریقین چاہیں تو مسئلے کے حل کیلئے ثالثی کیلئے تیار ہوں۔ اس موقع پر ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا تھا کہ ایرانی صدر حسن روحانی دونوں ممالک کے بہتر تعلقات اور پاکستان سے دوطرفہ تعاون میں فروغ کیلئے پرعزم ہیں۔ بعد ازاں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اپنے پاکستانی ہم منصب سے بھی علیحدہ ملاقات کی، ملاقات میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان چین کے چار روزہ اہم دورے کیلئے کل شام روانہ ہوں گے، وزیراعظم اپنے دورے میں چینی صدر سمیت اہم رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) امریکہ کی رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر لنزی گریم نے سعودی نژاد امریکی شہری اور صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس معاملے میں سعودی عرب کا ہاتھ ہوا تو اسے بھاری قیمت چکانا ہو گی۔ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے بھی سعودی عرب کو چیلنج کیا ہے کہ وہ لاپتہ صحافی کے قونصلیٹ چھوڑنے کے شواہد دے۔جمال خاشقجی گذشتہ ہفتے استنبول میں سعودی قونصلیٹ میں جانے کے بعد سے لاپتہ ہیں۔ امریکہ میں جلاوطنی اختیار کرنے کے بعد انھوں نے گذشتہ سال کئی ایسے مضامین لکھے تھے جن میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پر تنقید کی گئی تھی۔امریکی سینیٹر لنزی گریم نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’اگر سعودی حکومت نے کوئی غلط کام کیا تو یہ امریکہ سعودی عرب تعلقات کے لیے تباہ کن ہو گا، اور اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی، معاشی بھی اور دوسری بھی۔'ترک حکام کا کہنا ہے کہ خاشقجی کو قونصل خانے کے اندر قتل کر دیا گیا ہے۔ سعودی حکومت نے اس کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ عمارت سے چلے گئے تھے، تاہم انھوں نے اس کی سی سی ٹی وی فوٹیج پیش نہیں کی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی پیر کو سعودی عرب کی حکومت کے مخالف سعودی صحافی کے اچانک غائب ہو جانے پر تشویش ظاہر کی ہے۔صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں کہا: 'مجھے تشویش ہے۔ میں اس بارے میں سننا نہیں چاہتا۔ امید ہے وہ اس سے نکل آئیں گے۔'

برطانیہ نے بھی کہنا ہے کہ وہ فوری طور پر ترکی میں سعودی صحافی کی لاپتہ ہونے کے واقعے کے حقائق جاننے ک کوشش کر رہا ہے۔جمال خاشقجی منگل کو ایک ترک خاتون خدیجہ چنگیز سے شادی سے پہلے چند دستاویزات حاصل کرنے سعودی قونصل خانے گئے تھے۔ اس کے بعد سے ان کا کچھ اتہ پتا نہیں ہے۔امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے سربراہ باب کورکر نے کہا: 'میں نے جمال کی گمشدگی کا معاملہ سعودی عرب کے سفیر کے ساتھ اٹھایا ہے اور ہم مزید معلومات کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہم کسی بھی ایسے ملک کو جواب دیں گے جو اپنے ملک سے باہر صحافیوں کو نشانہ بناتا ہے۔'ترک صدر کا سعودی عرب سے ثبوت کامطالبہ
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے سعودی عرب سے کہا ہے کہ وہ ثابت کرے کہ جمال خاشقجی سعودی قونصلیٹ سے باہر گئے تھے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق خاشقجی کو سعودی قونصل خانے کی چار دایوری کے اندر مارے جانے کے دعوے کے بعد ترکی نے سعودی قونصلیٹ کی تلاشی لیے جانے کی درخواست بھی کی تھی۔ تاہم سعودی عرب ایسے کسی دعوے کی تردید کرتا ہے۔طیب اردوغان کا پیر کو ایک نیوز کانفرنس میں کہنا تھا ’قونصلیٹ کے حکام یہ کہہ کر خود کو نہیں بچا سکتے کہ خاشقجی اس عمارت سے چلے گئے تھے۔‘اتوار کو ترک حکام کا کہنا تھا کہ تفتیش کاروں کے پاس ’ٹھوس شواہد‘ موجود ہیں کہ خاشقجی کو قتل کیا گیا ہے اور یہ اس 15 رکنی سعودی ٹیم نے کیا ہے جو گذشتہ ہفتے ملک میں آئی تھی۔تاہم اس حوالے سے کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے۔ سعودی شہزادے محمد بن سلمان نے اس سے پہلے کہا تھا کہ ترک حکام چاہیں تو تلاشی لے سکتے ہیں وہاں چپھانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ترک حکام کا کہنا ہے کہ خاشقجی کو قونصل خانے کی عمارت کے اندر قتل کیا گیا جس کے بعد ان کی لاش کو وہاں سے منتقل کر دیا گیا۔ ترکش عرب میڈیا کے سربراہ نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کے قونصل خانے کی حفاظت پر معمور پولیس نے اپنے سکیورٹی کیمروں میں دیکھا ہے کہ سفارتی عملے کی گاڑیاں تو عمارت کے اندر اور باہر آتی جاتی ہیں لیکن انھوں نے کسی صحافی کو پیدل باہر آتے نہیں دیکھا۔

 

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) ترک صدر رجب طیب اردوغان کے مشیرنے سعودی عرب کے حکام کو جھوٹا قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کو ترکی میں سعودی عرب کے قونصلخانہ میں بہیمانہ طور پر قتل کیا گیا ہے۔

ترک صدر کے مشیر نے واشنگٹن پوسٹ کی جمال خاشقجی کے قتل کے بارے میں خبر کی تائید کرتے ہوئےکہا سعودی عرب کے صحافی خاشقجی کے قتل میں سعودی عرب کے 15 افراد ملوث ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ترکی میں لاپتہ ہونے والے معروف سعودی صحافی جمال خاشقجی کے حوالے سے ترک پولیس کو خدشہ ہے کہ انہیں منصوبے کے تحت سعوی عرب کے قونصل خانے کے اندر قتل کردیا گیا۔ ترکی کے سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کا اپنی ابتدائی تفتیش کے نتائج میں ماننا ہے کہ ایک خاص ٹیم کو استنبول بھیج کر صحافی کو قتل کیا گیا اور وہ اسی دن واپس بھی چلے گئے۔ پولیس کی جانب سے تصدیق کے بعد یہ خبر آئی کہ سعودی عہدیداروں سمیت 15 شہری دو الگ الگ پروازوں میں استنبول پہنچے اور اسی دوران معروف صحافی بھی قونصل خانے میں موجود تھے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) قطر کے بادشاہ نے کہا ہے کہ قطر سعودی عرب اور اس کے اتحادی عرب ممالک بحرین، امارات اور مصر کے ساتھ بحران کے بعد مزید طاقتور اور مضبوط ہو گیا ہے۔ مہر خبررساں ایجنسی نے روسیا الیوم کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ قطر کے بادشاہ شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے ارجنٹائن میں کہا ہے کہ بہت سے ممالک کو چیلنجوں کا سامنا ہے جن میں قطر بھی شامل ہے۔ قطر کو علاقائی چیلنجوں کا سامنا ہے لیکن قطر دشوار مرحلے سے عبور کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قطر نے سعودی عرب کے ناپاک اور معاندانہ عزائم کو بر وقت ناکام بنا دیا۔

واضح رہے کہ بحرین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مصر نے 5 جون 2017 کو قطر پر انتہا پسندوں کی حمایت اور دہشت گردی کی معاونت کا الزام عائد کر کے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے تھے جس کے بعد قطر اور سعودی عرب کے تعلقات کشیدہ ہو گئے اور قطر نے سعودی عرب کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے سعودی عرب کے سامنے نہ جھکنے کا اعلان کیا اور سعودی عرب سے اپنے تعلقات منقطع کئے ۔