شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) امریکہ کی رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر لنزی گریم نے سعودی نژاد امریکی شہری اور صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس معاملے میں سعودی عرب کا ہاتھ ہوا تو اسے بھاری قیمت چکانا ہو گی۔ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے بھی سعودی عرب کو چیلنج کیا ہے کہ وہ لاپتہ صحافی کے قونصلیٹ چھوڑنے کے شواہد دے۔جمال خاشقجی گذشتہ ہفتے استنبول میں سعودی قونصلیٹ میں جانے کے بعد سے لاپتہ ہیں۔ امریکہ میں جلاوطنی اختیار کرنے کے بعد انھوں نے گذشتہ سال کئی ایسے مضامین لکھے تھے جن میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پر تنقید کی گئی تھی۔امریکی سینیٹر لنزی گریم نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ’اگر سعودی حکومت نے کوئی غلط کام کیا تو یہ امریکہ سعودی عرب تعلقات کے لیے تباہ کن ہو گا، اور اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی، معاشی بھی اور دوسری بھی۔'ترک حکام کا کہنا ہے کہ خاشقجی کو قونصل خانے کے اندر قتل کر دیا گیا ہے۔ سعودی حکومت نے اس کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ عمارت سے چلے گئے تھے، تاہم انھوں نے اس کی سی سی ٹی وی فوٹیج پیش نہیں کی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی پیر کو سعودی عرب کی حکومت کے مخالف سعودی صحافی کے اچانک غائب ہو جانے پر تشویش ظاہر کی ہے۔صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں کہا: 'مجھے تشویش ہے۔ میں اس بارے میں سننا نہیں چاہتا۔ امید ہے وہ اس سے نکل آئیں گے۔'

برطانیہ نے بھی کہنا ہے کہ وہ فوری طور پر ترکی میں سعودی صحافی کی لاپتہ ہونے کے واقعے کے حقائق جاننے ک کوشش کر رہا ہے۔جمال خاشقجی منگل کو ایک ترک خاتون خدیجہ چنگیز سے شادی سے پہلے چند دستاویزات حاصل کرنے سعودی قونصل خانے گئے تھے۔ اس کے بعد سے ان کا کچھ اتہ پتا نہیں ہے۔امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے سربراہ باب کورکر نے کہا: 'میں نے جمال کی گمشدگی کا معاملہ سعودی عرب کے سفیر کے ساتھ اٹھایا ہے اور ہم مزید معلومات کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہم کسی بھی ایسے ملک کو جواب دیں گے جو اپنے ملک سے باہر صحافیوں کو نشانہ بناتا ہے۔'ترک صدر کا سعودی عرب سے ثبوت کامطالبہ
ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے سعودی عرب سے کہا ہے کہ وہ ثابت کرے کہ جمال خاشقجی سعودی قونصلیٹ سے باہر گئے تھے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق خاشقجی کو سعودی قونصل خانے کی چار دایوری کے اندر مارے جانے کے دعوے کے بعد ترکی نے سعودی قونصلیٹ کی تلاشی لیے جانے کی درخواست بھی کی تھی۔ تاہم سعودی عرب ایسے کسی دعوے کی تردید کرتا ہے۔طیب اردوغان کا پیر کو ایک نیوز کانفرنس میں کہنا تھا ’قونصلیٹ کے حکام یہ کہہ کر خود کو نہیں بچا سکتے کہ خاشقجی اس عمارت سے چلے گئے تھے۔‘اتوار کو ترک حکام کا کہنا تھا کہ تفتیش کاروں کے پاس ’ٹھوس شواہد‘ موجود ہیں کہ خاشقجی کو قتل کیا گیا ہے اور یہ اس 15 رکنی سعودی ٹیم نے کیا ہے جو گذشتہ ہفتے ملک میں آئی تھی۔تاہم اس حوالے سے کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے۔ سعودی شہزادے محمد بن سلمان نے اس سے پہلے کہا تھا کہ ترک حکام چاہیں تو تلاشی لے سکتے ہیں وہاں چپھانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ترک حکام کا کہنا ہے کہ خاشقجی کو قونصل خانے کی عمارت کے اندر قتل کیا گیا جس کے بعد ان کی لاش کو وہاں سے منتقل کر دیا گیا۔ ترکش عرب میڈیا کے سربراہ نے نیو یارک ٹائمز کو بتایا کے قونصل خانے کی حفاظت پر معمور پولیس نے اپنے سکیورٹی کیمروں میں دیکھا ہے کہ سفارتی عملے کی گاڑیاں تو عمارت کے اندر اور باہر آتی جاتی ہیں لیکن انھوں نے کسی صحافی کو پیدل باہر آتے نہیں دیکھا۔

 

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) ترک صدر رجب طیب اردوغان کے مشیرنے سعودی عرب کے حکام کو جھوٹا قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کو ترکی میں سعودی عرب کے قونصلخانہ میں بہیمانہ طور پر قتل کیا گیا ہے۔

ترک صدر کے مشیر نے واشنگٹن پوسٹ کی جمال خاشقجی کے قتل کے بارے میں خبر کی تائید کرتے ہوئےکہا سعودی عرب کے صحافی خاشقجی کے قتل میں سعودی عرب کے 15 افراد ملوث ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ترکی میں لاپتہ ہونے والے معروف سعودی صحافی جمال خاشقجی کے حوالے سے ترک پولیس کو خدشہ ہے کہ انہیں منصوبے کے تحت سعوی عرب کے قونصل خانے کے اندر قتل کردیا گیا۔ ترکی کے سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کا اپنی ابتدائی تفتیش کے نتائج میں ماننا ہے کہ ایک خاص ٹیم کو استنبول بھیج کر صحافی کو قتل کیا گیا اور وہ اسی دن واپس بھی چلے گئے۔ پولیس کی جانب سے تصدیق کے بعد یہ خبر آئی کہ سعودی عہدیداروں سمیت 15 شہری دو الگ الگ پروازوں میں استنبول پہنچے اور اسی دوران معروف صحافی بھی قونصل خانے میں موجود تھے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) قطر کے بادشاہ نے کہا ہے کہ قطر سعودی عرب اور اس کے اتحادی عرب ممالک بحرین، امارات اور مصر کے ساتھ بحران کے بعد مزید طاقتور اور مضبوط ہو گیا ہے۔ مہر خبررساں ایجنسی نے روسیا الیوم کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ قطر کے بادشاہ شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے ارجنٹائن میں کہا ہے کہ بہت سے ممالک کو چیلنجوں کا سامنا ہے جن میں قطر بھی شامل ہے۔ قطر کو علاقائی چیلنجوں کا سامنا ہے لیکن قطر دشوار مرحلے سے عبور کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قطر نے سعودی عرب کے ناپاک اور معاندانہ عزائم کو بر وقت ناکام بنا دیا۔

واضح رہے کہ بحرین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مصر نے 5 جون 2017 کو قطر پر انتہا پسندوں کی حمایت اور دہشت گردی کی معاونت کا الزام عائد کر کے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے تھے جس کے بعد قطر اور سعودی عرب کے تعلقات کشیدہ ہو گئے اور قطر نے سعودی عرب کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے سعودی عرب کے سامنے نہ جھکنے کا اعلان کیا اور سعودی عرب سے اپنے تعلقات منقطع کئے ۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) یمن کی اسلامی مقاومتی تحریک انصار اللہ کے سریکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ آل سعود کو عبرتناک شکست دیں گے اور کسی قسم کے دباؤ میں نہیں آئیں گے۔ اسلامی مقاومتی تحریک انصار اللہ کے سربراہ ’’ سیدعبد المالک بد ر الدین الحوثی نے کہا کہ آل سعود کو عبرتناک شکست دیں گے اور کسی قسم کے دباؤ میں نہیں آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات یمنی قدرتی ذخائر اور دولت و ثروت پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور ہم ان کے ناپاک عزائم اور منصوبوں کو ناکام بنادیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کسی طاغوتی طاقت کو اپنے اوپر مسلط ہونے کی اجازت نہیں دیں گے اور ہم سعودی عرب اور امارات کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔

سیدعبدالمالک بد ر الدین حوثی نے مزید کہا کہ دشمن نے مغربی ساحل کے محاذ پر بڑی تعداد میں اپنی فوجیں جمع کی ہیں اور وہ الحدیدہ صوبہ پر قبضہ کرنے کا ناپاک منصوبہ بنا رہے ہیں لیکن یمنی عوام دشمن کے اس ناپاک منصوبے کو ناکام بنا دیں گے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے امریکہ اوراسرائیل کی حمایت سے اوراتحادی ملکوں کے ساتھ مل کر 26 مارچ 2015 ء سے یمن پر جارحیتوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے اس دوران سعودی حملوں میں دسیوں ہزار یمنی شہید اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ دسیوں لاکھ یمنی باشندے اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں یمن کا محاصرہ جاری رہنے کی وجہ سے یمنی عوام کو شدید غذائی قلعت اور طبی سہولیتوں اوردوائیوں کے فقدان کا سامنا ہے سعودی عرب نے غریب اسلامی ملک یمن کی بیشتر بنیادی تنصیبات اسپتالوں اور حتیٰ مساجد کو بھی منہدم کر دیا ہے۔

 

پاکستان کے صف اول کے اداکار حمزہ علی عباسی کی فلم ’پرواز ہے جنوں‘ سعودی عرب میں ریلیز ہونے والی پہلی پاکستانی فلم ہوگی۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پرواز ہے جنوں‘ پہلی پاکستانی کمرشل فلم ہے جو سعودی عرب میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔چوہدری فواد حسین نے کہا کہ فلم رواں ماہ11 اکتوبر کو سعودی عرب کی اسکرینز پر ریلیز ہوگی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ آنے والے مہینوں میں مزید پاکستانی فلمیں پوری دنیا میں نمائش کے لیے پیش کی جائیں گی انشا اللہ۔‘‘واضح رہے کہ فلم’پرواز ہے جنوں ‘عیدالاضحیٰ پرریلیز کی گئی تھی ۔حمزہ علی عباسی کے علاوہ فلم کی دیگر کاسٹ میں اداکار شمعون عباسی، ہانیہ عامر، احد رضامیر، شاز خان اور کبریٰ خان شامل ہیں ۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ سعودی عرب کی سیکیورٹی کے لئےکوئی ادائیگی نہیں کریں گے،امریکاسےفوجی سازوسامان مفت میں نہیں لیا،سب کی قیمت اداکی ہے۔امریکی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ولی عہد محمد بن سلمان نے مزید کہا کہ امریکااورسعودی عرب کےدرمیان بہترین اقتصادی تعلقات قائم ہیں، سعودی عرب امریکاسےحاصل فوجی سازوسامان کی ادائیگی کرتاہے۔صدر ٹرمپ کے بیان ردعمل میں سعودی ولی عہد کا کہنا ہے کہ امریکااورسعودی عرب کےتعلقات میں تبدیلی نہیں آئی،ٹرمپ کےساتھ کام کرناپسند ہے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) تحریر: علی احمدی

یمن نے حال ہی میں اپنے بغیر پائلٹ صماد 3 ڈرون طیاروں کے ذریعے دوبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ یمن آرمی نے یہ حملے سعودی اتحاد کی جانب سے عام شہریوں، شہری آبادی، اسپتالوں اور بازاروں پر بمباری کے بدلے میں انجام دیے ہیں۔ یمن کی جانب سے دوسری بار دوبئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کو ڈرون طیاروں کے ذریعے حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ دوبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ یمن سے 1200 کلومیٹر فاصلے پر واقع ہے۔ یمن آرمی نے خبردار کیا ہے کہ اگلے حملے زیادہ شدید ہوں گے اور اگر متحدہ عرب امارات نے سعودی عرب کی سربراہی میں یمن کے عام شہریوں کے خلاف جنگی جرائم جاری رکھے تو اسے اس کی سخت سزا دی جائے گی۔ یمن کے حملوں کے باعث دوبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی کئی پروازیں متاثر ہوئیں۔ اسی طرح یمن آرمی کی جانب سے مزید فضائی حملوں کی دھمکی کی وجہ سے کئی معروف ایئرلائنز نے دوبئی سے اپنے فلائٹ آپریشنز معطل کر دیئے ہیں۔

سعودی سربراہی میں عرب اتحاد نے گذشتہ چار سال سے یمن کے خلاف ظالمانہ اور احمقانہ جنگ شروع کر رکھی ہے۔ اس عرصے میں متحدہ عرب امارات نے کم از کم تین بار اس اتحاد کو ترک کرنے کی کوشش کی لیکن ہر بار امریکہ اور سعودی عرب کی جانب سے دباو کے باعث اپنے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے اتحاد میں باقی رہنے کا فیصلہ کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ متحدہ عرب امارات یمن کے خلاف جنگ جاری رہنے کے حق میں نہیں ہے لیکن مجبوری کے عالم میں سعودی عرب کا ساتھ دے رہا ہے۔ دوسری طرف اماراتی حکام کی جانب سے کئی بار پیچھے ہٹنے کے بعد سعودی اتحاد میں واپسی کا مطلب یہ ہے کہ وہ یمن کے خلاف انجام پانے والے جنگی جرائم میں برابر کے شریک ہیں۔ اس مدت میں یمن آرمی اور حوثی قبائل کی جانب سے صرف دو بار متحدہ عرب امارات کو میزائل حملوں کا نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ صبر کا مظاہرہ کر رہے ہیں لیکن اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہونے والا ہے۔ لہذا مستقبل قریب میں ہم دوبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت متحدہ عرب امارات کے دیگر شہروں پر مزید ہوائی حملوں کا مشاہدہ کریں گے۔

سعودی اتحاد نے کچھ عرصے سے، خاص طور پر جان بولٹن کی جانب سے سبز جھنڈی دکھائے جانے کے بعد زیادہ شدت سے یمن کے عام شہریوں اور آبادی والے حصوں، اسپتالوں اور دیگر انفرااسٹرکچر کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ وہ واشنگٹن کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ انہوں نے جان بولٹن کا پیغام پا لیا ہے اور وفادار نوکر ثابت ہوں گے۔ جان بولٹن نے حال میں واضح کیا تھا کہ یمن کے خلاف سعودی اتحاد کی حمایت امریکی مفادات کے عین مطابق ہے اور امریکہ اپنی حمایت جاری رکھے گا۔ اس سے پہلے امریکی حکام بعض تحفظات کے پیش نظر یمن کے خلاف جنگ میں سعودی اتحاد کی کھل کر حمایت کرنے سے گریز کرتے تھے اور حتی اس جنگ میں اپنے براہ راست یا بالواسطہ کردار کی بھی نفی کرتے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یمن کے خلاف جنگ کے کنٹرول روم میں امریکی، برطانوی، فرانسیسی اور اسرائیلی فوجی مشیر موجود ہیں اور یمن میں انجام پانے والا ہر جنگی جرم اور غیرانسانی اقدام ان کے مشورے اور فیصلے سے انجام پا رہا ہے۔

ابھی کچھ عرصہ پہلے یمن کی بندرگاہ حدیدہ پر سعودی اتحاد نے بڑا حملہ کیا جس میں امریکی، برطانوی اور فرانسیسی فوجیوں کی موجودگی نے ان ممالک کے حقیقی چہرے آشکار کر دیئے۔ البتہ یمن آرمی اور حوثی مجاہدین نے یہ حملہ پسپا کر دیا اور انہیں عبرتناک شکست سے دوچار کیا۔ سعودی اتحاد کی جانب سے یمن کے عام شہریوں، شہری آبادی، اسپتالوں، بازاروں اور اسکولوں پر ہوائی حملے درحقیقت حدیدہ کی شکست کا ہی بدلہ ہے۔ اس وقت اقوام متحدہ بھی اس بات کی تصدیق کر چکی ہے کہ یمن میں اکیسویں صدی کا سب سے بڑا انسانی المیہ رونما ہونے والا ہے کیونکہ سعودی اتحاد نے یمن کا مکمل محاصرہ کر رکھا ہے جس کی وجہ سے غذائی اشیاء اور ادویہ جات کی شدید قلت کے باعث 2 کروڑ 10 لاکھ یمنی شہریوں کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔ مزید برآں، یمن میں وبائی امراض بھی تیزی سے پھیل رہی ہیں جس کی بڑی وجہ پینے کے صاف پانی کی شدید قلت ہے۔ دوسری طرف شدید بمباری کے باعث درپیش خطرات کے پیش نظر انسانی امداد کی عالمی تنظیموں نے اپنے کارکنوں کو بھی اس ملک سے واپس بلا لیا ہے جس کے نتیجے میں یمنی عوام کی مظلومیت دوچنداں ہو گئی ہے۔

 

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) ایرانی سفیر مہدی ہنر دوست نے کہا ہے کہ سی پیک گیم چینجر ہے اور اس میں سعودی شراکت داری پر ایران کو کوئی اعتراض نہیں۔ کوئٹہ میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے تسلیم کیا کہ سعودی عرب سمیت تمام اسلامی ممالک کی پاکستان میں سرمایہ کاری خوش آئند ہے، دنیا جان چکی ہے کہ ترقی کا راستہ جنگ نہیں، باہمی روابط ہیں۔ ایرانی سفیر نے کہاکہ پاکستان اور ایران اسٹریجک پارٹنر ہیں، کچھ عناصر سرحد پار سے حملے کر کے دونوں ممالک کے تعلقات خراب کرنا چاہتے ہیں جبکہ عالمی طاقتیں مسلم ممالک کے اندرونی معاملات سے فائدہ اٹھا کر انہیں غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مہدی ہنر دوست کا کہنا تھاکہ ہمیں اپنے مشترکہ دشمن کو پہچاننا ہوگا، ایران اور پاکستان دونوں ممالک دہشت گردی کا شکار ہیں، خطے میں پائی جانے والی دہشت گردی سے دونوں ممالک نبردآزما ہیں۔ انھوں نے زور دیاکہ پاکستان اور ایران باہمی دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے مشترکہ کردار ادا کریں گے۔ ہماری کوشش ہے کہ دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے، ایران خود دہشت گردی کے واقعات سے متاثر ہے، ہمارا کسی دہشتگرد تنظیم سے کوئی تعلق نہیں، اسلام مخالف قوتیں خطے میں انتشار پیدا کرکے مسلم ممالک میں اختلافات کو ہوا دے رہے ہیں۔

ایرانی سفیر کا مزید کہنا تھا کہ ایران بین المذاہب ہم آہنگی پیدا کرنے کےلیے بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا، ہمیں داعش جیسی تنظیموں کا مقابلہ کرنے کے لیے اتحاد پیدا کرنا ہوگا، شام میں لڑنے والے عسکریت انہی حالات سے تنگ ہو کر لڑنے پر مجبور ہوئے، موجودہ حالات میں ایران کسی دباؤ کا شکار نہیں ہوگا۔ ایرانی سفیر نے کہاکہ ایران اور پاکستان روز اول سے بہترین دوستوں کی طرح رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے مابین باہمی اتفاق کے بہت سے منصوبے چل رہے ہیں۔ دونوں ہمسایہ ممالک کی خواہش ہے کہ اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کے لئے بہتر مستقبل کی کوشش کریں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) سعودی عرب اور کویت کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پر مبنی خبروں کے باوجود سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان اور امیر کویت شیخ صباح الاحمد الجابر الصباح باہمی تعلقات کو بہتر ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان نے کویت کے 2 گھنٹے کے دورے کے بعد کویت کے امیر کے نام پیغام میں شکریہ ادا کیا ہے ۔ ادھر کویت کے امیر نے بھی اپنے پیغام میں محمد بن سلمان کے دورہ کویت کا شکریہ ادا کیا ہے۔ ادھر غیر سرکاری اخبار کے مطابق کویت اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی ہے اور اسی وجہ سے سعودی عرب کے ولیعہد نے کویت کا صرف 2 گھنٹے کا دورہ کیا۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) گزشتہ ماہ ستمبرکے دوران یمنی سرکاری فوج اور قبائلی رضاکاروں کی جانب سے سعودی اتحادی افواج کے خلاف جوابی کارروائیاں جاری رہیں جس کے نتیجے میں کم ازکم 600 کرایے کے فوجی ہلاک یا زخمی ہوگئے۔

یمنی ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری فوج اور قبائلی رضاکار فورسز نے ملک کے مختلف علاقوں اور سعودی سرحدوں کے اندر کئی جوابی کارروائیاں کیں جس کے نتیجے میں سعودی عرب کے 600 سے زائد کرائے کے اہلکار ہلاک یا زخمی ہوگئے۔

یمنی فوج اور قبائلی رضاکاروں کا کہنا ہے کہ جب تک سعودی عرب یمن پر مسلط کردہ جنگ کو ختم نہیں کرتا تب تک جان لیوا جوابی حملے جاری رہیں گے۔

یمنیوں کا کہنا ہے کہ نام نہاد خادم الحرمین اسرائیل اور امریکا کی خشنودی کے لئے تین سال سے نہتے یمنی مسلمانوں پر بمباری کررہے ہیں۔

دوسری طرف آل سعود کے جنگی جہازوں نے یمن کے مختلف علاقوں پر وحشیانہ بمباری کرکے متعدد نہتے مسلمانوں کو خاک وخون میں غلطاں کردیا۔

سعودی لڑاکا طیاروں نے صوبہ صعدہ کے دیہی علاقوں پر متعدد بار فضائی حملے کرکے کئی رہائشی مکانات کو تباہ کردیا ہے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے افسران کے مطابق یمن میں سعودی جارحیت سے گزشتہ 3 برس میں تقریباً ہزاروں شہری شہید یا زخمی ہوچکے ہیں۔

تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی اتحادی افواج نے ایسے جھگوں کو نشانہ بنایا جہاں کسی قسم کا کوئی عسکری خطرہ بھی نہیں تھا۔

یاد رہے کہ سعودی عرب نے امریکا اور اسرائیل کی حمایت سے اور اتحادی ملکوں کے ساتھ مل کر چھبیس مارچ دوہزار پندرہ سے یمن پر وحشیانہ جارحیتوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔