شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)عام انسان کی طرح زندگی گزارنا چاہتی ہیں جہاں تشدد اور دباؤ سے پاک ماحول ہو‘۔ہانگ کانگ میں سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی 2 بہنوں کی آسٹریلیا فرار ہونے کی کوشش کو ’سعودی حکام‘ نے ناکام بنادیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق سعودی حکام نے 18 سے 20 سال عمر کی دونوں بہنوں کو ہانگ کانگ کے ائیرپورٹ پر اس وقت روکا، جب وہ آسٹریلیا جانے کی کوشش کر رہی تھیں۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ ’ریم اور راون نامی دونوں بہنوں نے اپنے وکیل کو بیان دیا کہ انہوں نے اسلام مخالف بات کی اور اگر سعودی عرب میں جبراً واپسی ہوئی تو موت کی سزا کا خوف ہے‘۔دونوں بہنیں ستمبر میں اپنے اہلخانہ کے ہمراہ سیاحت کے لیے سری لنکا پہنچی تھیں جہاں سے انہوں نے ہانگ کانگ کا فضائی سفر کیا، تاہم ان کا ارادہ آسٹریلیا جانے کا تھا۔انہوں نے بتایا کہ ’سعودی حکام نے دونوں کو ہانگ کانگ ائیرپورٹ پر روکا اور اب انہیں گزشتہ 6 ماہ سے چین کے کسی شہر میں پوشیدہ رکھا ہوا ہے‘۔ہانگ کانگ کے ایک وکیل مائیکل ویلڈر نے دونوں بہنوں کے بیان کا حوالہ دیا کہ ’ہم اپنے تحفظ کے لیے گھر سے فرار ہوئیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ ممالک جو حقوق نسواں اور مساوی حقوق کے علمبردار ہیں، انہیں سیاسی پناہ دیں گے‘۔

وکیل کے بیان کے مطابق ’دونوں بہنوں کو نامعلوم لوگوں نے روکا اور ان کا پاسپورٹ اپنی تحویل میں لے کر سعودی عرب کی فلائٹ میں بیٹھانے کی کوشش کی‘۔انہوں نے بتایا کہ ’دونوں لڑکیوں سے پاسپورٹ لینے والا شخص ہانگ کانگ میں سعودی قونصل جنرل تھا، تاہم لڑکیوں کی فلائٹ منسوخ ہوگئی تھی‘۔دوسری جانب ہانک کانگ میں سعودی قونصلیٹ نے معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔وکیل نے بتایا کہ ’جب دوسری فلائٹ بھی منسوخ ہوئی اور انہیں خدشہ ہوا کہ انہیں ’زبردستی اغوا‘ کرلیا جائے گا تو دونوں ہانگ کانگ کے ائیر پورٹ سے روانہ ہو کر شہر میں عام شہریوں کی طرح زندگی گزارنے لگیں‘۔

دونوں لڑکیوں کے بیان کے مطابق ’سیکیورٹی کے خوف کے باعث انہیں 13 مرتبہ اپنا مقام تبدیل کرنا پڑا کیونکہ پولیس کئی مرتبہ انہیں سعودی حکام اور رشتے داروں سے ملانے کی کوشش کرتی رہی‘۔دونوں لڑکیوں کا کہنا تھا کہ ’وہ ایک محفوظ مقام کا خواب دیکھتی ہیں اور عام انسان کی طرح زندگی گزارنا چاہتی ہیں جہاں تشدد اور دباؤ سے پاک ماحول ہو‘۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بھی سعودی عرب سے تعلق رکھنے والی 18 سالہ رھف محمد القنون نے خود کو بنکاک ائیر پورٹ کے ہوٹل میں بند کرلیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ انہیں سعودی عرب میں اہلخانہ کی جانب سے شدید تشدد کا سامنا اور جان کو خطرہ ہے۔رھف محمد القنون نے بذریعہ موبائل فون اپنے پیغام اور ویڈیو کے ذریعے عالمی توجہ حاصل کی، جس کے بعد کینیڈا نے ان کو پناہ دی۔بعد ازاں انہوں نے کہا تھا کہ ’میری کہانی دیکھ کر دیگر خواتین بھی سعودی عرب سے فرار ہوجائیں گی‘۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)صنعا سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق صوبہ حجہ کے رہائشی علاقوں پر سعودی حکومت کے جنگی طیاروں کی بمباری میں ایک شخص شہید اور دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ زخمی ہونے والے سب ہی افراد خواتین اور بچے ہیں۔ سعودی حکومت اس سے پہلے بھی کئی بار عام شہریوں کو خاک و خوں میں نہلا چکی ہے۔دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ سعودی اتحاد، جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صوبہ الحدیدہ میں اپنے فوجیوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔الحدیدہ کے ڈپٹی گورنر علی قشر نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ صوبے کے خلاف پابندیاں بدستور جاری ہیں اور الحدیدہ سٹی میں انسانی صورتحال انتہائی ابتر ہو گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوان الحدیدہ میں فوجیں پیچھے ہٹانے کے معاہدے پر عملدرآمد کے لیے تیار ہیں لیکن فریق مقابل مسلسل ہٹ دھرمی سے کام لے رہا ہے۔علی قشر نے کہا کہ مستعفی حکومت کے پاس سعودی حکام کی اجازت کے بغیر جنگ بندی کے سمجھوتے پر علمدرآمد کے حوالے سے فیصلے کا اختیار نہیں۔واضح رہے کہ اسٹاک ہوم میں یمنی دھڑوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں طے پانے والے امن سمجھوتے پر گزشتہ برس اٹھارہ دسمبر سے عملدرآمد شروع کیا گیا تھا لیکن سعودی اتحاد الحدیدہ میں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے۔یمن میں قیام امن کے لیے چوتھے دور کے مذاکرات دسمبر دو ہزار اٹھارہ کے اوائل میں شروع ہوئے تھے اور تیرہ دسمبر تک جاری رہے۔اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے مارٹن گریفتھس کی نگرانی میں ہونے والے اسٹاک ہوم امن مذاکرات میں یمن کے ساحلی شہر الحدیدہ میں جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی پر اتفاق ہوا تھا۔یمن میں جنگ کے خاتمے کے متعدد کوششیں کی جا چکی ہیں جو سعودی حکومت کی رخنہ اندازیوں کی وجہ سے ناکام ہو چکی ہیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) یمنی فوج کے جوابی حملے میں سعودی اتحاد کے دسیوں فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے۔یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے اسی طرح جیزان کے مختلف علاقوں میں کارروائی کر کے سعودی جارحین کی پیش قدمی کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔یمن کے محاصرے کے باوجود یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کی دفاعی توانائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔واضح رہے کہ یمن میں جنگ کو ختم کرانے کے لئے اب تک کئی بار کوششیں ہو چکی ہیں لیکن سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے امن کی کوشش ہر بار ناکام ثابت ہوئی ہے-سعود ی عرب اور اس کے اتحادیوں نے مارچ دو ہزار پندرہ سے یمن پر اپنے وحشیانہ حملوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جن میں اب تک دسیوں ہزار یمنی شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ دسیوں لاکھ یمنی باشندے بے گھر ہو چکے ہیں-ان حملوں کی وجہ سے یمن کی بنیادی شہری تنصیبات پوری طرح تباہ ہو چکی ہیں-

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) ارنا کی رپورٹ کے مطابق ایران کی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کے اعلی مشیر میجر جنرل سید یحیی رحیم صفوی نے کل اصفہان میں کہا کہ یورپ کے 16 تحقیقاتی اداروں نے دنیا 2030 کے نام سے موسوم دستاویزات میں کہا ہے کہ آل سعود کا 2030 تک نام و نشان نہیں رہے گا جبکہ ایران علاقے کے طاقبتور ترین ملک کی حیثیت سے ابھرے گا۔انہوں نے زاہدان،خاش سپر ہائی وے کے شہداء کے جلوس جنازہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ، اصفہان میں جلوس جنازہ میں عوام کی بھرپور شرکت کی وجہ سے دہشتگردی کی روک تھام کے حوالے سے بیان جاری کرنے پر مجبور ہوا۔سنیچر کے روززاہدان،خاش سپر ہائی وے کے 27 شہداء کے جلوس جنازہ میں جس میں اصفہان کے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی شرکت کی لوگوں نے دہشتگردی کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے شہداء کے خون کا انتقام لینے کے فلک شگاف نعرے لگائے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)المسیرہ ٹیلی ویژن چینل نے خبر دی ہے کہ یمنی فوج کے میزائل یونٹ نے سعودی عرب کے جنوبی علاقے نجران میں سعودی فوجی ٹھکانوں پر میزائلوں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں متعدد سعودی فوجی ہلاک اور زخمی ہو گئے جبکہ ان کے فوجی ساز و سامان کو بھی بہت زیادہ نقصان پہنچا۔اس درمیان یمنی فوج نے شمالی یمن کے سرحدی علاقے میں واقع سعودی عرب کے اندر عسیر میں سعودی فوجیوں کی پیشقدمی روک دی- یمنی فوج کے توپخانوں نے بھی عسیر میں سعودی فوجی اڈوں پر گولہ باری کی-یہ ایسی حالت میں ہے کہ جارح سعودی اتحاد نے یمن کے مغربی شہر الحدیدہ میں فائربندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس شہر کے مختلف علاقوں پر میزائلوں اور مارٹر گولوں سے حملے کئے-

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) چاندنی چوک پر کئی عمارتوں کے بیچ و بیچ ایک ٹریول ایجنسی کا مٹی سے اٹا ہوا بورڈ پاکستان سے باہر جانے والوں، خصوصاً سعودی عرب جانے والوں کی توجہ اپنی طرف مرکوز کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔جہاں سرکاری سطح پر سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے پاکستان آنے کا انتطار کیا جا رہا ہے، وہیں یہاں کے پروموٹرز بھی اس بات کے منتظر ہیں کہ کئی سالوں سے انھیں پیش آنے والی مشکلات کا حل نکالا جاسکے۔چاندنی چوک بیرونِ ملک کام کی تلاش میں جانے والے پاکستانیوں کے لیے ایک اہم مرکز ہے۔ یہاں ٹریول ایجنسیوں سے لے کر بیرونِ ملک پاکستانیوں کو تحفظ فراہم کرنے والے ادارے تھوک کے حساب سے موجود ہیں۔لیکن ٹریول ایجنسیوں کے باہر لائنوں میں لگے نوجوانوں میں سے زیادہ تر اب قطر اور لیبیا جانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔پچھلے تین سالوں میں سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کئی مشکلات کا شکار رہے ہیں۔ ان میں نوکریوں سے برطرفی، اقامہ (یعنی رہائش کے لیے درکار اجازت نامہ) کی قیمت میں اضافہ اور انکم ٹیکس میں تقریبا پانچ فیصد اضافے کے باعث کافی لوگ وطن واپس آ چکے ہیں۔ لیکن بعض ایسے بھی ہیں جو معاشی مواقع نہ ہونے کی وجہ سے وہیں رہنے پر مجبور ہیں۔پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس وقت سعودی عرب میں 26 لاکھ پاکستانی ریاض، دمام، طائف اور جدہ میں مقیم ہیں۔لیکن سنہ 2016 میں یکے بعد دیگرے سعودی آجر، سعد ٹریڈنگ اینڈ کنٹریکٹنگ کمپنی اور بن لادن گروپ جیسی کئی کمپنیوں نے خود کو دیوالیہ قرار دے دیا جس کے بعد متعدد پاکستانیوں کو وطن واپس آنا پڑا۔چاندنی چوک پر موجود پروموٹرز کے مطابق اب یہ عالم ہے کہ ’پیسے دینے پر بھی لوگ سعودی عرب نہیں جانا چاہتے۔‘محمد عنایت نے 24 سال قبل جب ٹریول ایجنٹ کے طور پر کام شروع کیا تھا تو سعودی عرب ایک اہم ملک تصور کیا جاتا تھا۔ ’ایک ایسا وقت بھی تھا جب ہمارا دفتر صبح 9 بجے سے رات گئے تک کُھلا رہتا تھا۔ اب یہ وقت ہے کہ دوپہر کے 12 بجے ہیں اور کوئی بھی نہیں ہے۔‘سنہ 1994 سے اب تک عنایت سعودی عرب جانے والے مزدوروں اور حکومت کی طرف سے تعینات اتاچی کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ سعودی عرب میں موجود حکومتی اتاچی کا وہاں پر موجود کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ طے پاتا ہے جس کے بعد پاکستانی مزدوروں کو وہاں بھیجا جاتا ہے۔عنایت کہتے ہیں ’پچھلے چند سالوں سے وہاں پر کنٹریکٹ کوئی جواز دیے بغیر ختم کیے جارہے ہیں، جس کی وجہ سے حکومتی اتاچی کی کارکردگی اوپر سوال اٹھائے جارہے ہیں، لیکن ہمارے لیے بھی مسئلہ پیدا ہو رہا ہے۔ ہم جوابدہ ہیں اس غریب کو جسے ہم نے بھیجا ہے اور اس کے والدین کو۔ لیکن اب سعودی قوانین کے تحت غیر ملکیوں کے لیے اپنا بزنس یا دکان تک کھولنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی حکام عربی زبان نہیں جانتے، جس کی وجہ سے وہاں پر موجود مزدوروں کے لیے اپنی بات آگے پہنچانے دشواری ہوتی ہے۔عنایت کے مطابق ’بنگلہ دیش، فلیپائن اور بھارت کے سفارتخانے اپنے لوگوں کی فریاد ان کے منہ سے نکلنے سے پہلے ہی سعودی اعلی حکام تک پہنچا دیتے ہیں۔ ہمارے مزدوروں کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے بہت سے لوگ وہاں جانے کو ترجیح نہیں دیتے۔‘پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے سرحدی علاقے ہجیرہ سے تعلق رکھنے والے ابرار احمد کو راولپنڈی آئے ہوئے ایک دن ہی ہوا ہے۔ اب تک ان کے 21000 روپے صرف مختلف کاغذات بنوانے میں ہی لگ گئے ہیں۔ ’بارڈر کے پاس حالات اکثر خراب رہتے ہیں اور زندگی کافی مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔ اسی وجہ سے میں مِستری کے کام کے لیے سعودی عرب جانا چاہتا ہوں۔ میں پہلی دفعہ وہاں جا رہا ہوں۔‘ابرار کو کاغذات مکمل کرنے کے بعد پروٹیکٹوریٹ آف ایمیگرانٹس کے دفتر بھیجا گیا جہاں ان کے بیرونِ ملک تحفظ کے معاملات، جیسے کے کمپنی کے بارے میں پوچھ تاج اور نوکری کے بارے میں جانچ پڑتال کی گئی۔ لیکن ابرار کو یہ پتا نہیں تھا کہ جہاں ان کو سرکاری افسر کے دستخط لینے کے لیے بلایا گیا ہے اس کا مقصد کیا ہے اور وہ ان کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔’اس وقت میرا مقصد گھر والوں کے لیے پیسے لانا ہے کیونکہ گھر کا نظام بھی چلانا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ میں زیادہ پیسے نہیں لاسکوں گا کیونکہ میری تنخواہ وہاں 750 ریال ہے، لیکن مجھے لے جانے والے ایجنٹ نے کسی اور جگہ کے بارے میں نہیں بتایا۔ وہ پہلے پیسے لے کر آپ کو تابع کر لیتے ہیں تاکہ آپ ان سے زیادہ سوال نہ کرسکیں۔‘سعودی ولی عہد کے آنے سے پہلے ہی پاکستان میں سعودی عرب کی طرف سے ہونے والی سرمایہ کاری کی تفصیلات مقامی ذرائع ابلاغ کے ذریعے روزانہ دی جارہی ہیں۔ لیکن اس سے پاکستان سے جانے والے مزدور یا سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کے لیے کیا کیا جائے گا، اس بارے میں کوئی تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں۔عنایت نے کہا کہ مزدوروں کو نہیں پتا کہ دونوں ممالک کے درمیان کتنے اربوں کی سرمایہ کاری ہونے جارہی ہے۔ ’ان کو اس بات سے مطلب ہے کہ وہ بروقت پیسے کما کر اپنے گھر بھیج سکیں۔‘حکومتِ پاکستان کے ہیومن ریسورس ڈیویلپمنٹ کے سیکریٹری پرویز احمد جونیجو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مزدوروں کے مسائل اور شکایات اپنی جگہ درست ہیں، لیکن اب ان کی آسانی کے لیے سعودی عرب میں کئی شکایتی سینٹرز بنائے گئے ہیں جہاں ان کو در پیش مسائل کا حل مل سکے گا۔‘جب ان کو یاد دلایا گیا کہ 2016 میں نوکریوں سے نکالے جانے والے پاکستانیوں کی بات تب سنی گئی جب انھوں نے سوشل میڈیا پر تصویریں اور ویڈیوز شیئر کیں، تو اس پر پرویز جونیجو نے کہا کہ ’اپنی طرف سے اور اپنے عہدے کو دیکھتے ہوئے ہم وہ تمام کوششیں کررہے ہیں جس سے لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا ہوں۔‘انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’سعودی ولی عہد کی پاکستان آمد ہمارے لیے اپنے مزدوروں کے حوالے سے بات کرنے کا ایک اچھا موقع ہے۔‘پروموٹرز کے مطابق سعودی عرب میں انکم ٹیکس میں پانچ فیصد اضافے کے بعد اس وقت پیشے کے لیے موضوں مقامات کی فہرست میں اب لیبیا بھی شامل ہے۔عنایت بتاتے ہیں کہ اس وقت پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد لیبیا جانے کی خواہشمند ہے۔ ’ہماری خواتین ویسے ہی کام کرنے کے لیے ٹیچر، سٹاف نرس اور ڈاکٹر کی پوسٹ پر لیبیا جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ مردوں کے لیے بزنس، کنسٹرکشن اور میسنری کے کام کی بہت ڈیمانڈ ہے۔‘ شکریہ بی بی سی نیوز

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق یمن کی مسلح افواج کے ترجمان یحیی سریع نے کہا ہے کہ سعودی اتحاد کے فوجیوں نے گذشتہ اڑتالیس گھنٹوں کے دوران الحدیدہ میں فائر بندی کی دو سو ستانوے بار خلاف ورزی کی۔انھوں نے کہا کہ سعودی اتحاد، کبھی فائر بندی پر قائم نہیں رہا اور اس کی جانب سے جاری یہ خلاف ورزی، یمن میں قیام امن کے لئے عالمی برادری کی کوششوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی دھجیاں اڑائے جانے کے مترادف ہے۔واضح رہے کہ الحدیدہ میں اٹھارہ دسمبر سے فائر بندی کے آغاز کا اعلان کیا گیا ہے جس پر یمنی فوج اورعوامی رضاکار فورس تو قائم ہے تاہم سعودی اتحاد کی جانب سے اب تک اس پرعمل نہیں کیا گیا ہے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) خبروں میں کہا گیا ہے کہ اس علاقے کے عوام کے پے در پے مظاہروں اور احتجاج کے بعد آخر کار سعودی فوجی الحوف میں اپنا فوجی اڈہ خالی کرنے پر مجبور ہوگئے۔ یمن کے عوام اپریل دوہزار اٹھارہ سے مسلسل اس علاقے میں سعودی فوجیوں کی موجود گی کے خلاف مظاہرے کرتے رہے ہیں۔دوسری جانب یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوانوں نے جیزان کے علاقے مدافن میں آٹھ سعودی فوجیوں کو گھات لگا کر ہلاک کردیا ہے۔ادھر مغربی یمن کے صوبے حجہ کے علاقے میدی میں بارودی سرنگ کے دھماکے میں دو سعودی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  سعودی عرب کے شہر مدینہ منورہ میں حرملہ و یزید صفت وہابی دہشتگرد کے ہاتھوں ننھے زائر رسول زکریا کو ذبح کیے جانے کے معاملے پر دنیا بھر میں قاتل کو سزا دینے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر دنیا بھر میں اس بہیمانہ قتل کی مذمت کے ساتھ ساتھ قاتل کے لیے مختلف سزائیں تجویز کی جانے لگی ہیں جبکہ سوشل میڈیا صارفین نے  #زکریا_شھید کے عنوان سے ٹویٹر پر متعدد پوسٹس بھی شروع کردی ہیں۔

یاد رہے کہ 7 سالہ زکریا اپنی والدہ کے ہمراہ روضہ رسولﷺ کی زیارت کیلیے جارہا تھا کہ گاڑی میں رسول ﷺو آل رسول ؑ پر درود پڑھنے کے جرم میں وہابی ڈرائیور نے ماں کے سامنے اس کے لخت جگر کو ذبح کردیا تھا۔ بچے کی ماں کی بےحال ہے اور ایک مقامی ہسپتال میں زیر علاج ہے جبکہ سعودی حکام کی جانب سے اس معاملے کو حل کرنے اور قاتل کو سزا دینے کیلیے اب تک کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔

محمد بن سلمان المعاروف قاتلِ عرب کی آمد کے خلافچلنے والی مہم پاکستان میں کیا رنگ لائے گی جب کہ موجودہ حکومت اور افواج ایسے وقت میں ایک پیچ پر نظر آرہے ہین اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کیوں کہ پاکستان میں معاشی حالات بد سے بدتر ہیں حکومت کے پاس سسٹم چلانے کو ایک روپیہ نہیں ایسے وقت میں سعودی حکومت کی امداد ایک طرف اور قاتل سلمان کی آمد پر چلائی جانے والی مہم ایک طرف کیا ہم کامیاب ہوپائے گے ۔ تحریک حمایت مظلومین جہان کے زیراہتمام نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، جس میں سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کی پاکستان کے دورے کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیاگیا۔مظاہرین نے یمنی عوام پر مسلط کی گئی چار سالہ جنگ کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور ہزاروں انسانوں کی شہادت کا ذمہ دار محمد بن سلمان کو ٹھہرایا، مظاہرین سے خطاب میں سید علی رضوی نے کہا کہ محمد بن سلمان کا دورہ پاکستان اسرائیلی مفادات کے تناظر میں ہے، پاک افواج کو کسی صورت پرائی جنگ میں شرکت نہیں کرنے دیں گے، محمد بن سلمان کی مخالفت کا مطلب فلسطین، یمن اور بحرین کے مظلومین کی حمایت کرنا ہے۔مظاہرین سے خطاب میں ملک اقرار نے کہا کہ خاندان سعود کی عرب عوام سے کی گئی خیانتیں روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ یمن کے عوام پر جنگ مسلط کی گئی اور مسلمانوں کا خون بہایا گیا۔ محمد اکبر شیرازی اور سید حسین شیرازی کا کہنا تھا کہ مشہور صحافی خاشجقی کا بہمانہ قتل محمد بن سلمان کے سر ہے اور ہم قاتل کو اپنے ملک میں ویلکم نہیں کرتے۔واضح رہے کہ سعودی ولیعہد بن سلمان فروری کے وسط میں پاکستان کا ممکنہ دورہ کرنے والے ہیں۔