شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) چاندنی چوک پر کئی عمارتوں کے بیچ و بیچ ایک ٹریول ایجنسی کا مٹی سے اٹا ہوا بورڈ پاکستان سے باہر جانے والوں، خصوصاً سعودی عرب جانے والوں کی توجہ اپنی طرف مرکوز کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔جہاں سرکاری سطح پر سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے پاکستان آنے کا انتطار کیا جا رہا ہے، وہیں یہاں کے پروموٹرز بھی اس بات کے منتظر ہیں کہ کئی سالوں سے انھیں پیش آنے والی مشکلات کا حل نکالا جاسکے۔چاندنی چوک بیرونِ ملک کام کی تلاش میں جانے والے پاکستانیوں کے لیے ایک اہم مرکز ہے۔ یہاں ٹریول ایجنسیوں سے لے کر بیرونِ ملک پاکستانیوں کو تحفظ فراہم کرنے والے ادارے تھوک کے حساب سے موجود ہیں۔لیکن ٹریول ایجنسیوں کے باہر لائنوں میں لگے نوجوانوں میں سے زیادہ تر اب قطر اور لیبیا جانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔پچھلے تین سالوں میں سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کئی مشکلات کا شکار رہے ہیں۔ ان میں نوکریوں سے برطرفی، اقامہ (یعنی رہائش کے لیے درکار اجازت نامہ) کی قیمت میں اضافہ اور انکم ٹیکس میں تقریبا پانچ فیصد اضافے کے باعث کافی لوگ وطن واپس آ چکے ہیں۔ لیکن بعض ایسے بھی ہیں جو معاشی مواقع نہ ہونے کی وجہ سے وہیں رہنے پر مجبور ہیں۔پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس وقت سعودی عرب میں 26 لاکھ پاکستانی ریاض، دمام، طائف اور جدہ میں مقیم ہیں۔لیکن سنہ 2016 میں یکے بعد دیگرے سعودی آجر، سعد ٹریڈنگ اینڈ کنٹریکٹنگ کمپنی اور بن لادن گروپ جیسی کئی کمپنیوں نے خود کو دیوالیہ قرار دے دیا جس کے بعد متعدد پاکستانیوں کو وطن واپس آنا پڑا۔چاندنی چوک پر موجود پروموٹرز کے مطابق اب یہ عالم ہے کہ ’پیسے دینے پر بھی لوگ سعودی عرب نہیں جانا چاہتے۔‘محمد عنایت نے 24 سال قبل جب ٹریول ایجنٹ کے طور پر کام شروع کیا تھا تو سعودی عرب ایک اہم ملک تصور کیا جاتا تھا۔ ’ایک ایسا وقت بھی تھا جب ہمارا دفتر صبح 9 بجے سے رات گئے تک کُھلا رہتا تھا۔ اب یہ وقت ہے کہ دوپہر کے 12 بجے ہیں اور کوئی بھی نہیں ہے۔‘سنہ 1994 سے اب تک عنایت سعودی عرب جانے والے مزدوروں اور حکومت کی طرف سے تعینات اتاچی کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ سعودی عرب میں موجود حکومتی اتاچی کا وہاں پر موجود کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ طے پاتا ہے جس کے بعد پاکستانی مزدوروں کو وہاں بھیجا جاتا ہے۔عنایت کہتے ہیں ’پچھلے چند سالوں سے وہاں پر کنٹریکٹ کوئی جواز دیے بغیر ختم کیے جارہے ہیں، جس کی وجہ سے حکومتی اتاچی کی کارکردگی اوپر سوال اٹھائے جارہے ہیں، لیکن ہمارے لیے بھی مسئلہ پیدا ہو رہا ہے۔ ہم جوابدہ ہیں اس غریب کو جسے ہم نے بھیجا ہے اور اس کے والدین کو۔ لیکن اب سعودی قوانین کے تحت غیر ملکیوں کے لیے اپنا بزنس یا دکان تک کھولنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی حکام عربی زبان نہیں جانتے، جس کی وجہ سے وہاں پر موجود مزدوروں کے لیے اپنی بات آگے پہنچانے دشواری ہوتی ہے۔عنایت کے مطابق ’بنگلہ دیش، فلیپائن اور بھارت کے سفارتخانے اپنے لوگوں کی فریاد ان کے منہ سے نکلنے سے پہلے ہی سعودی اعلی حکام تک پہنچا دیتے ہیں۔ ہمارے مزدوروں کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے بہت سے لوگ وہاں جانے کو ترجیح نہیں دیتے۔‘پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے سرحدی علاقے ہجیرہ سے تعلق رکھنے والے ابرار احمد کو راولپنڈی آئے ہوئے ایک دن ہی ہوا ہے۔ اب تک ان کے 21000 روپے صرف مختلف کاغذات بنوانے میں ہی لگ گئے ہیں۔ ’بارڈر کے پاس حالات اکثر خراب رہتے ہیں اور زندگی کافی مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔ اسی وجہ سے میں مِستری کے کام کے لیے سعودی عرب جانا چاہتا ہوں۔ میں پہلی دفعہ وہاں جا رہا ہوں۔‘ابرار کو کاغذات مکمل کرنے کے بعد پروٹیکٹوریٹ آف ایمیگرانٹس کے دفتر بھیجا گیا جہاں ان کے بیرونِ ملک تحفظ کے معاملات، جیسے کے کمپنی کے بارے میں پوچھ تاج اور نوکری کے بارے میں جانچ پڑتال کی گئی۔ لیکن ابرار کو یہ پتا نہیں تھا کہ جہاں ان کو سرکاری افسر کے دستخط لینے کے لیے بلایا گیا ہے اس کا مقصد کیا ہے اور وہ ان کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔’اس وقت میرا مقصد گھر والوں کے لیے پیسے لانا ہے کیونکہ گھر کا نظام بھی چلانا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ میں زیادہ پیسے نہیں لاسکوں گا کیونکہ میری تنخواہ وہاں 750 ریال ہے، لیکن مجھے لے جانے والے ایجنٹ نے کسی اور جگہ کے بارے میں نہیں بتایا۔ وہ پہلے پیسے لے کر آپ کو تابع کر لیتے ہیں تاکہ آپ ان سے زیادہ سوال نہ کرسکیں۔‘سعودی ولی عہد کے آنے سے پہلے ہی پاکستان میں سعودی عرب کی طرف سے ہونے والی سرمایہ کاری کی تفصیلات مقامی ذرائع ابلاغ کے ذریعے روزانہ دی جارہی ہیں۔ لیکن اس سے پاکستان سے جانے والے مزدور یا سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کے لیے کیا کیا جائے گا، اس بارے میں کوئی تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں۔عنایت نے کہا کہ مزدوروں کو نہیں پتا کہ دونوں ممالک کے درمیان کتنے اربوں کی سرمایہ کاری ہونے جارہی ہے۔ ’ان کو اس بات سے مطلب ہے کہ وہ بروقت پیسے کما کر اپنے گھر بھیج سکیں۔‘حکومتِ پاکستان کے ہیومن ریسورس ڈیویلپمنٹ کے سیکریٹری پرویز احمد جونیجو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مزدوروں کے مسائل اور شکایات اپنی جگہ درست ہیں، لیکن اب ان کی آسانی کے لیے سعودی عرب میں کئی شکایتی سینٹرز بنائے گئے ہیں جہاں ان کو در پیش مسائل کا حل مل سکے گا۔‘جب ان کو یاد دلایا گیا کہ 2016 میں نوکریوں سے نکالے جانے والے پاکستانیوں کی بات تب سنی گئی جب انھوں نے سوشل میڈیا پر تصویریں اور ویڈیوز شیئر کیں، تو اس پر پرویز جونیجو نے کہا کہ ’اپنی طرف سے اور اپنے عہدے کو دیکھتے ہوئے ہم وہ تمام کوششیں کررہے ہیں جس سے لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا ہوں۔‘انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’سعودی ولی عہد کی پاکستان آمد ہمارے لیے اپنے مزدوروں کے حوالے سے بات کرنے کا ایک اچھا موقع ہے۔‘پروموٹرز کے مطابق سعودی عرب میں انکم ٹیکس میں پانچ فیصد اضافے کے بعد اس وقت پیشے کے لیے موضوں مقامات کی فہرست میں اب لیبیا بھی شامل ہے۔عنایت بتاتے ہیں کہ اس وقت پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد لیبیا جانے کی خواہشمند ہے۔ ’ہماری خواتین ویسے ہی کام کرنے کے لیے ٹیچر، سٹاف نرس اور ڈاکٹر کی پوسٹ پر لیبیا جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ مردوں کے لیے بزنس، کنسٹرکشن اور میسنری کے کام کی بہت ڈیمانڈ ہے۔‘ شکریہ بی بی سی نیوز

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کی سفارتی، اخلاقی اور سیاسی مدد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے.تفصیلات کے مطابق آج وزیر خارجہ کی زیر صدارت وزارت خارجہ میں مشاورتی کونسل خارجہ امورکا اجلاس ہوا.اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کی ہر محاذ پر مدد جاری رکھے گا.انھوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں طاقت کے بجائے سیاسی مذاکرات سے امن کی حمایت کی ہے، آج ساری دنیا ہمارے نقطہ نظر کی تائید کرتی ہوئی نظر آتی ہے.اس موقع پر افغان امن عمل کی کوششوں، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے روابط پر تفصیلی بات چیت ہوئی اور روابط کے فروغ سمیت خارجہ پالیسی کے کثیر الجہت پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا.اجلاس میں وزیر خارجہ نے مشاورتی کونسل کو اپنے حالیہ دورہ برطانیہ کی تفصیل سے آگاہ کیا، سابق سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر کی والدہ مرحومہ کے لیےدعائے مغفرت کی گئی۔یاد رہے کہ پاکستان کی طویل المدتی کوششوں کے بعد افغان طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا، جس میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے.

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) تین جمادی الثانی شہزادی کونین ام الحسنین حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کی مظلومانہ شہادت کی تاریخ ہے۔ اسی مناسبت سے ایام فاطمیہ کی عزاداری اور سوگواری کی مجالس کا سلسلہ جاری ہے۔ ایران میں ایام فاطمیہ کی مرکزی مجالس مشہد مقدس میں حضرت امام رضا علیہ السلام کے حرم اور قم میں جناب فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا کے روضوں میں ہورہی ہیں جن میں ہزاروں عزادار اور زائرین شریک ہوتے ہیں۔
تہران میں حسینیہ حضرت امام خمینی میں بھی رہبرانقلاب اسلامی کی موجودگی میں گذشتہ دو شبوں سے مجالس کاسلسلہ جاری ہے جن میں علمائے کرام شہزادی کونین کے فضائل و مصائب بیان کر رہے ہیں جبکہ مداحان اہلبیت بھی مرثیہ و نوحہ خوانی کر رہے ہیں۔
قم میں پاکستان اور ہندوستان کے طلبا اور ان ملکوں کے زائرین کی شرکت سے مجالس کا اہتمام کیا گیا ہے جبکہ قم میں دیگر مقامات پر بھی اردو زبان میں مجالس ہو رہی ہیں۔
ایام فاطمیہ کے موقع پرعراق کے مقدس شہروں نجف اشرف، کربلائے معلی ، کاظمین اور سامرا کی فضا بھی سوگوار و عزادار ہے۔ پاکستان اور ہندوستان سے بھی خبریں ہیں کہ سبھی شہروں قصبوں اور دیہاتوں میں صدیقہ طاہرہ کی مظلومانہ شہادت کی آمد کی مناسبت سے ایام فاطمیہ کی مجالس شروع ہوچکی ہیں جن کے دوران دختر رسول کے فضائل و مناقب اور ان پر پڑنے والے مصائب بیان کئے جارہے ہیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) تحریر: صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان
پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر ، شعبہ سیاسیات جامعہ کراچی
امریکی صدر ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے جب سے انہوں نے مسئلہ فلسطین کے حوالے سے غیر منصفانہ حل تجویز کرتے ہوئے صدی کی ڈیل نامی معاہدہ متعارف کروایا اور اس کے نتیجہ میں یکطرفہ اعلانات جن میں القدس کو اسرائیل کی جعلی ریاست کا دارلحکومت تسلیم کرنا، پھر اس کام کے لئے دنیا کے دیگر ممالک کو دباؤ میں لا کر ان سے اس بات کو تسلیم کروانا، اسی طرح امریکی سفارت خانہ کو القدس شہر میں منتقل کرنے کے ساتھ دوسرے ممالک کے سفارتخانوں کو بھی القدس شہر منتقل کرنے پر راضی کرنے جیسے معاملات سرفہرست ہیں۔امریکی صدر کے مسئلہ فلسطین کے حوالے سے پیش کردہ صدی کی ڈیل نامی معاہدے میں عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کو آئندہ پچاس برس کی بادشاہت کی کلین چٹ دینا بھی شامل ہے، اس کے ساتھ ساتھ عرب ممالک میں اسرائیل کے عہدیداروں کے دوروں میں تیزی اور اسرائیل عرب اور اسی طرح اسرائیل افریقا تعلقات کو قائم کرنا بھی اس معاہدے کی چیدہ چیدہ سرخیاں ہیں،۔ اس عنوان سے ماضی کے کالمز میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے کہ امریکہ صدی کی ڈیل نامی معاہدے کے تحت کس طرح سے اسرائیل اور عرب مسلمان اور افریقی مسلمان ممالک کو قربت میں لانے کے لئے سرگرم عمل ہے۔ایک طرف عرب دنیا اور افریقا کے ممالک اسرائیل کی لپیٹ میں آ رہے ہیں تو دوسری طرف صہیونیوں کی ناپاک نظر مملکت خداداد پاکستان پر بھی گڑھی ہوئی ہے کہ جب سے نیا پاکستان وجود میں آیا ہے اس کے بعد سے پیدر پے ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں کہ جو واضح طور پر اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں مملکت خداداد کے خلاف صہیونی گماشتے کہ جو کالی بھیڑوں کے روپ میں موجو دہیں سرگرم ہو چکے ہیں۔ جیسا کہ دیکھا گیا ہے کہ ایک طیارہ عین ایسے وقت میں کہ جب اسرائیلی جعلی ریاست کے وزیر اعظم نیتن یاہو مسقط کے دورے پر تھے ، یہ طیارہ تل ابیب سے پرواز کرتا ہوا براستہ عمان اسلام آباد میں پہنچا اور دس گھنٹوں کے قیام کے بعد اسی راستے واپس چلا گیا ۔ حکومت پاکستان کی طرف سے کمزور سی تردید آئی لیکن کوئی ٹھوس قسم کی بات نہیں کی گئی ۔اسی طرح اس واقعہ کے چند روز بعد ہی ایک سابق فوجی جرنیل نے ایک محفل میں اسرائیل کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے کے لئے بھونڈے قسم کی دلیلیں پیش کر کے ناکام کوشش کی جبکہ ان کی ہی پیروی کرتے ہوئے حکومتی بینچوں پر موجود ایک خاتون رکن قومی اسمبلی نے قرآن کی آیات کو توڑ موڑ کر پیش کرتے ہوئے صہیونیوں کے حق میں بیان اور قرار داد پیش کرنے کی ناکام ترین کوشش کی جس کے بعد پاکستانی عوام کا شدید رد عمل سامنے آیا اور پھت وضاحت دینے کی نوبت پیش آئی۔پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے صہیونی گماشتے ہمیشہ کسی نہ کسی صورت میں سازشوں کا جال بناتے رہتے ہیں۔درج بالا دو واقعات کے بعد ایک پاکستانی یہودی کو منظر عام پر لا کر مذہبی جذباتیت کو ڈھال بنا کر یہ کہا جانے لگا کہ یہودی کو اسرائیلی جعلی ریاست میں جانے دیا جائے تا کہ وہ اپنی سالانہ مذہبی رسومات کی ادائیگی کرے۔حالانکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے وضع کردہ پالیسی کے اصولوں کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیل کے لئے پاسپورٹ کے کارآمد نہ ہونے کی تحریر ثبت ہے۔ البتہ اب حکومت نے اس پاکستانی یہودی کو کس پاسپورٹ پر اسرائیل جانے کی اجازت دی ہے یہ ایک سوال ہے؟ موصولہ اطلاعات یہی کہہ رہی ہیں کہ پاکستان میں مقیم پاکستانی شہریت رکھنے والے یہودی کا پاسپورٹ مملکت خداداد پاکستان کا ہی ہے۔ان تما م واقعات کے دوران پاکستانی وزیر اعظم نے عرب ممالک بشمول سعودی عرب، ابو ظہبی اور قطر وغیرہ کے دورے بھی کئے جبکہ ابو ظہبی کے حکمران بھی پاکستان آئے اور ماہرین سیاسیات کی نظر میں ان دوروں میں بھی جہاں پاکستان کی معاشی مدد کے عنوان سے چند ایک ارب ڈالرز کی مدد کی گئی ہے وہاں ساتھ ساتھ کچھ ایسی شرائط بھی ان عرب ممالک کی طرف سے رکھی گئی ہیں جن کا مقصد براہ راست امریکی منصوبہ صدی کی ڈیل کی حمایت کرنا اور غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کے لئے نرم گوشہ پیدا کرنا ہے۔گزشتہ دنوں ہی پاکستان کے ایک ٹی وی چینل دنیا نیوز پر ایک معروف اور نامور اینکر پرسن نے پاپائے روم کے دورہ امارات پر تبصرہ کیا لیکن اس تبصرہ کے پس پردہ ان کا مقصد صہیونی جعلی ریاست کے لئے پاکستان میں نرم گوشہ ہموار کرنا تھا۔جس وقت یہ معروف اینکر صاحب پروگرام کر رہے تھے اس وقت پاپائے روم سے متعلق کم جبکہ اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کے عرب ممالک کے دوروں کے بارے میں اسکرین بھری پڑی تھی جو اس ٹی وی چینل اور اس کے اینکر پرسن کی صہیونی دوستی اور پاکستان دشمنی کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ موصوف نے پاپائے روم کے عرب ممالک کے دورہ پر تعریف کرتے ہوئے ساتھ ساتھ ایسا ماحول بنانے کی ناکام کوشش کی کہ جس میں پاکستان کو اسرائیل کے ساتھ کھڑا کیا جائے اور اس کام کے لئے انہوں نے ایک نام نہاد مذہبی اسکالر کو مدعو کیا اور پھر گفتگو کو اس سمت میں لے کر جاتے رہے کہ پاکستان کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات بنا لینے چاہئیے اور ایسے من گھڑت سوالات پیش کئے جاتے رہے کہ جو دلائل سے عاری تھے ان تمام سوالات کا جواب آئندہ مقالہ میں تفصیل سے پیش کیا جائے گا۔پاکستان تحریک انصا ف کو اگر چہ ابھی بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے تاہم ان تمام مسائل میں سے بڑھ کر ایک مسئلہ خود حکومتی صفوں اور اداروں سمیت ذرائع ابلاغ جیسے اہم اداروں میں صہیونی گماشتوں کا موجود ہونا انتہائی خطر ناک ہے کیونکہ یہ کالی بھیڑیں چند سو یا شاید چند ہزار ڈالرز کے عوض مملکت خداداد پاکستان کی اساس پر سودے بازی کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ بانیان پاکستان کے افکار اور نظریات کو روندنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔حکومت وقت کی اور حکومتی اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ پاکستان میں موجود ان صہیونی گماشتوں کو کہ جو بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح ؒ کے نظریات اور پاکستان کی بنیادوں کو کھوکھلا کر کے اسرائیل جیسی جعلی ریاست کی چوکیداری پر مامور کرنا چاہتے ہیں ان سب سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔یہاں پر مجھے ایک سابق فوجی جرنیل جناب غلام مصطفی صاحب کی بات دہرانے میں فخر محسوس ہو رہا ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ اگر پاکستان اسرائیل کے لئے تل ابیب میں بیٹھ کر بھی چوکیداری کرے تب بھی صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل پاکستان سے دشمنی کرتے ہوئے پاکستان کو نقصان پہنچانے سے باز نہیں رہے گی۔خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان کے خلاف صہیونی گماشتے کہیں بین المذاہب کی آڑ میں تو کہیں مذہبی اسکالرز کا لبادہ اوڑھ کر اور کہیں میڈیا جیسے اہم اداروں میں گھس پیٹھ کر کے پاکستان کے خلاف سازشوں کے جال بننے میں مصروف عمل ہیں لیکن پاکستان کے غیور عوام کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے ہمیشہ فلسطین کاز پر سودے بازی کرنے والوں کو مسترد کیا ہے اور ذلیل و رسوا کیا ہے اور اس مرتبہ بھی پاکستان میں موجود صہیونی گماشتوں کو ہر قدم پر ذلت و رسوائی کا ہی سامنا ہو گا۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) ملکوں کے درمیان بہتر تعلقات قائم کرنے کا ایک بہترین ذریعہ اعلیٰ حکام اور عوام کا باہمی رابطہ ہے اور یہ باہمی رابطہ اس وقت مزید وسیع اور مضبوط ہو جاتا ہے، جب سربراہان مملکت ایک دوسرے کے ممالک کا دورہ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اسی قسم کے دوروں میں باہمی دلچسپی کے امور خاص طور پر مختلف معاشی معاہدے طے پاتے ہیں۔ باہمی تجارت کے نئے باب کھلتے ہیں اور دونوں ملکوں کے عوام کے لیے خوشحالی کے نئے دروازے کھلتے ہیں۔ جب سے تحریک انصاف کی حکومت آئی ہے، تب سے وزیراعظم مختلف ممالک کے دورے کر رہے ہیں اور ان دوروں کی وجہ سے دوسرے ممالک کی معیشت اور اقتصاد کو فائدہ پہنچے یا نہ پہنچے، ہمارے ملک کو فائدہ پہنچانے کے دعوے زور و شور سے جاری ہیں۔ گذشتہ دو ہفتوں سے میڈیا پر اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے سعودی کراون پرنس محمد بن سلمان کی پاکستان آمد کا شور بپا ہے، حکومت اور اپوزیشن تو اپنی جگہ ایک عام شہری بھی یہ سوچ رہا ہے کہ سعودی ولی عہد کے پاکستان آنے کے نتیجہ میں ملک کو کونسا "پیکج”، "خوشخبری” یا دوسرے الفاظ میں قرضہ ملے گا۔؟

پیکج اور خوشخبری کی نئی معاشی پالیسی جو تحریک انصاف حکومت کے آنے کے بعد شروع ہوئی ہے، اس کا انجام تو خدا ہی جانے، لیکن ایک بات ایسے محسوس ہو رہی ہے کہ اس کے نتیجہ میں ہماری آزاد اور خود مختار خارجہ پالیسی کا جنازہ نکالنے کی تیاری ہو رہی ہے، کیونکہ ہم خطے اور خطے سے باہر کے ممالک کی طبقہ بندیوں کو دیکھے بغیر صرف پیکج لینے میں مصروف ہیں اور عالمی دنیا کو گویا یہ پیغام دے رہے ہیں کہ آئیں اور ہمیں پیکج دیں اور بدلے میں ہماری خدمات لیں۔ ابھی قطر اور سعودی عرب ہی کو دیکھ لیں کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے جانی دشمن اور سخت مخالف ہیں، لیکن ہم دونوں ملکوں سے پیکج لیکر خوشی کے ڈونگرے برسا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کہیں پیکج لینے اور بدلے میں مطلوبہ سہولیات دینے کے نتیجہ میں ہم اپنی عالمی ساکھ اور قومی خارجہ پالیسی چھوڑ کر کرائے کے بندے نہ بن جائیں، جن کے بارے میں عالمی سطح پر یہ تصور ابھرے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی پیسہ پھینک تماشہ دیکھ کے اصول پر مبنی ہے، جو قطر کو مزدور، سعودیہ کو فوج اور کسی تیسرے ملک کو پیکج کے مطابق کچھ بھی دینے کو تیار ہے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پاکستان آرہے ہیں، ان کی آمد کے حوالے سے جیسے تیاریاں کی جا رہی ہیں اور انہیں پارلیمنٹ میں خطاب سے لیکر معلوم نہیں کس کس قسم کا پروٹول دینے کی تیاریاں ہو رہی ہیں، اس سے تو یہی لگتا ہے کہ پاکستان عنقریب پیکج کے جواب میں یمن مسئلہ کے "پرامن حل” کی بھرپور کوشش کرے گا اور یہ کوشش ممکن ہے اتنی خاموشی سے کی جائے کہ کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے پیکج کے نتیجے میں آپ لاکھ کوشش کریں خاموشی اور مخفی کاری کی، لیکن یہ چیزیں چھپائے نہیں چھپتی اور کل کلاں یہ چیزیں پاکستان میں اندرونی مسائل اور مشکلات کا روپ نہ دھار لیں۔ ہاں یاد آیا اگر پیکج کے بدلے اپنی خدمات پیش کرنے کا سلسلہ ایسے ہی جاری رہا اور ایران نے بھی کوئی پیکج پیش کر دیا تو پھر کیا ہوگا؟ ابھی تو ہم سعودیہ اور قطر کی صورت میں دو باہمی دشمنوں کے اکلوتے دوست کی شکل میں موجود ہیں، لیکن ایران کے پیکج کی صورت میں تشکیل پانے والی ٹرائنگل میں ہماری حیثیت کیا ہوگی اور ہماری خارجہ پالیسی کیا رہے گی؟ لہذا ہمیں پیکج اور خوشخبریوں کے بجائے پاکستان کے عالمی امیج کو بہتر بنانے اور عالمی سطح پر ایک خود مختار ریاست کے طور پر سامنے آنا ہوگا۔ مختلف ممالک کے سربراہ پاکستان آئیں یا پاکستانی سربراہ مملکت دیگر ممالک کا دورہ کریں، ہمیں صرف پاکستانی رہنا ہوگا اور پاکستانی بن کر سوچنا ہوگا۔

 

 

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)   تہران میں پاکستان کی نئی سفیر محترمہ رفعت مسعود  نے ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانیسے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں مختلف میدانوں سمیت ایران اور پاکستان کے تعلقات کو اعلیٰ سطح پرمزید مستحکم کرنے پر زور دیا گیا۔  ملاقات میں دونوں افراد کا کہنا تھا کہ اسلام آباد اور تہران کو مشترکہ تعاون اور تعلقات کی توسیع کے راستے میں پائے جانے والے مواقع اور صلاحیتوں سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے-

ایرانی صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے  پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں ملکوں کا ایک اہم پروجیکٹ ہے ،انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ملکوں کے حکام کی کوششوں سے یہ پروجیکٹ جلد ہی کام کرنا شروع کر دے گا۔

ایران میں پاکستانی سفیر رفعت مسعود نے دونوں ممالک کی سرحدوںپر سیکیورٹی بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علاقائی سیکورٹی کے میدان میں دونوں ملکوں کا تعاون دہشت گردی کے خاتمے میں مؤثر ثابت ہوگا۔

 

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  پاکستان نے کم فاصلے پر زمین سے زمین پر مار کرنے والے ایک اور نصر بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کر لیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق نصر بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ آرمی اسٹریٹجک فورسز کمانڈ ٹریننگ مشق کا حصہ ہے جو 24 جنوری، 28 اور 31 جنوری کا سنگل شوٹ پر محیط ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اس مشق کے دوسرے مرحلے کا مقصد بامقصد پروازوں کی صلاحیتوں، دشمن کے علاقے تک رسائی کی صلاحیت اور انفراسٹرکچر منیجمنٹ کی پڑتال کرنا ہے۔

نصر بیلسٹک میزائل کے تجربے کی تقریب میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات، ڈائریکٹر جنرل اسٹریٹجک فورسز کے کمانڈر، چیئرمین نیسکام، آرمی اسٹریٹجک فورسز کے افسران، سائنسدانوں اور انجینئرز موجود تھے۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے اور شاندار کامیابی حاصل کرنے پر انجینئرز، جوانوں اور سائنسدانوں کی تعریف کی۔ انہوں نے تمام متعلقہ افراد کی پیشہ وارانہ کامیابیوں اور کوششوں کی تعریف کی جس سے ہتھیاروں کے کامیاب نظام کا آغاز ممکن ہو سکا۔

واضح رہے کہ 24 جنوری کو بھی پاکستان نے دفاعی صلاحیت میں مزید اضافہ کرتے ہوئے زمین سے زمین پر مار کرنے والے بیلسٹک میزائل نصر کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔

 

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  جماعت اہل حرم کے سربراہ مفتی گلزار  احمد نعیمی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں براہ راست سعودی سرمایہ کاری کسی نئے فتنے کو جنم دے سکتی ہے۔

ایک نیوز ویب سائٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے مفتی گلزار نعیمی کا کہنا تھا کہ سعودی امداد سے اگر معاشی حالات پر کوئی فرق پڑے بھی تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمیں اس طرح براہ راست کسی ملک کو انویسٹمنٹ نہیں کرنے دینی چاہیئےکیونکہ یہ چیز پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاری چاہیئے اسلامی ملک کی جانب سے ہو یا غیر اسلامی ملک کی طرف سے، ہر ریاست اپنے دفاع کو ترجیح دیتی ہے، سابقہ تجربات اور حالات کی روشنی میں بعض اسلامی ممالک کی براہ راست مداخلت نے فرقہ واریت کو ہوا دی ۔  پاکستان میں ایک خاص مسلک کو سپورٹ کیا گیا اور انہیں مالی طورپر مضبوط کیا گیاجبکہ دیگر مکاتب فکر کو دیوار سے لگایا گیا۔ یہ امدادشروع میں اچھی لگتی ہے لیکن بعد میں اس کے خطرناک نتائج بھگتنے پڑتے ہیں۔

تحریر: نذر حافی
This e-mail address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

گمشدگی اور لاپتہ ہو جانا، بہت بڑا المیہ ہے، خصوصاً جب کسی المیے کے پیچھے سرکاری اداروں کا ہاتھ ہو، یہ گمشدگیاں انواع و اقسام کی ہوتی ہیں اور ان کے مقاصد بھی مختلف ہوتے ہیں، اگرچہ آئین پاکستان ایسی گمشدگیوں اور ماورائے عدالت عوام کے لاپتہ ہونے کی اجازت نہیں دیتا، تاہم ایسا ہونا ایک زمینی حقیقت ہے اور سانحہ ساہیوال کے بعد ماورائے عدالت قتل و غارت ہونے پر بھی مہر تصدیق ثبت ہوچکی ہے۔ اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ ہمارے ہاں اپنے حقوق کے لئے بات کرنے والوں کو غدار اور ملک و ملت کا دشمن قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر مناطق میں بات حقوق کے مطالبے سے شروع ہوتی ہے اور افراد کے لاپتہ ہونے اور ماورائے قتل ہونے پر جا کر ختم ہوتی ہے۔ اکثر افراد ریاست کو ماں سمجھ کر اپنی فریاد بلند کرتے ہیں، جبکہ ریاستی ادارے ان سے سوتیلے بچوں جیسا سلوک کرتے ہیں، افراد اور ریاستی اداروں کے درمیان، اعتماد، محبت، باہمی تعاون اور حقوق و فرائض کا رشتہ ہونا چاہیئے۔ جب کسی بھی وجہ سے یہ رشتہ ٹوٹ جاتا ہے یا کمزور ہو جاتا ہے تو پھر اس رشتے کو بحال ہونے میں کئی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اکثر عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان فاصلہ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔

اگرچہ یہ بڑھتا ہوا فاصلہ عوام اور ریاستی اداروں دونوں کے نقصان میں ہوتا ہے، تاہم  بعض اوقات اس کو ختم کرنا دونوں کے ہی بس میں نہیں رہتا۔ جب سرکاری ادارے اس فاصلے کو اہمیت نہیں دیتے اور عوامی ناراضگی و بے چینی کی پرواہ نہیں کرتے تو یہ فاصلے عوام میں اضطراب اور بے چینی کو جنم دیتے ہیں۔ اس عوامی اضطراب اور بے چینی سے ایسی تحریکیں، تنظیمیں اور گروہ وجود میں آتے ہیں، جو قوم کو تقسیم در تقسیم کرتے چلے جاتے ہیں۔ اس تقسیم در تقسیم کے بعد سرکاری ادارے اور عوام ایک ملت ہونے کے بجائے دو سخت دشمنوں کی صورت اختیار کر لیتے ہیں، زندہ باد اور مردہ باد کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور صورتحال ہائے ہائے اور پتلے جلانے سے لے کر جلسے جلوسوں اور ٹائر جلانے کی طرف چلی جاتی ہے۔ یہ ایک آئینی حقیقت ہے کہ سرکاری ادارے، عوام کی خدمت کے لئے بنائے جاتے ہیں اور سرکاری اہلکاروں کا فریضہ فقط عوام کی خدمت ہے، لیکن ہمارے ہاں عوام کے ساتھ سرکاری اداروں اور اہلکاروں کا رویہ ایسا ہوتا ہے کہ مکتی باہنی جیسی تحریکیں اور منظور پشتین جیسے لیڈر منظر عام پر آنے لگتے ہیں۔ ایسی تحریکیں اور ایسے لیڈر سرکاری اداروں کے پیدا کردہ حالات کی پیداوار ہی ہوتے ہیں۔ سرکاری اداروں پر چیک ایند بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے محبتوں کے بجائے نفرتیں  پھیلتی ہیں اور ان نفرتوں سے دشمن ممالک اور ان کی ایجنسیاں بھی بھرپور فائدہ اٹھاتی ہیں۔

لاپتہ افراد، گمشدہ لوگوں اور ماورائے عدالت قتل ہونے والے واقعات کے تناظر میں پاکستان کے اعلیٰ حکام سے ہماری درمندانہ اپیل ہے کہ خدارا عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان  فاصلوں کو کم کیجئے، محبتوں کو عام کیجئے، سرکاری ملازمین پر چیک اینڈ بیلنس رکھیئے، عوامی مسائل اور شکایات کا فوری اور از خود نوٹس لیجئے۔ ہم اس ساری تمہید کے بعد ایران میں لاپتہ ہونے اور گمشدہ ہونے والے پاکستانیوں کے بارے میں کچھ کہنا چاہتے ہیں، جیسا کہ پہلی سطر میں ہم عرض کرچکے ہیں کہ سرکاری اداروں کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے افراد کی گمشدگیوں کی انواع و اقسام ہوتی ہیں۔ ایران میں جو پاکستانی لاپتہ اور گمشدہ ہیں، یہ اس طرح کے لاپتہ افراد نہیں ہیں کہ جس طرح کے پاکستان میں لاپتہ افراد پائے جاتے ہیں بلکہ ان کی ایک الگ قسم ہے۔ یہ اس طرح کے لوگ ہیں، جنہیں گذشتہ چھ ماہ سے تہران میں قائم پاکستان ایمبیسی پاسپورٹ بنا کر نہیں دے رہی۔ یہ لوگ ایک دوسرے ملک میں رہتے ہوئے اپنی اور اپنے بیوی بچوں کی قومی و ملی شناخت کھو چکے ہیں۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ پاسپورٹ، مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کی گئی ایک دستاویز ہے، جو بین الاقوامی سفر کے لئے اپنے حامل کی شناخت اور قومیت کی تصدیق کرتی ہے اور اس دستاویز پر اس شخص کے سفر کے دوران میں ہر بین الاقوامی سرحد کو عبور کرنے کی تاریخ درج کی جاتی ہے۔

پاسپورٹ کے بغیر کوئی بھی شخص کسی دوسرے ملک میں کیسے زندگی گزارتا ہے، اس کا اندازہ صرف اور صرف انہی لوگوں کو ہے، جو دوسرے ممالک میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اس وقت ایران میں مقیم پاکستانی اپنی قومی شناخت کے لئے جگہ جگہ ذلیل و خوار ہو رہے ہیں، انہیں قدم قدم پر پاسپورٹ کی ضرورت پڑتی ہے، وہ بچوں کے سکول میں داخلے کا مسئلہ ہو یا کسی لائبریری میں ممبر شپ کے لئے اپلائی کرنا ہو، کوئی چھوٹا موٹا سفر کرنا ہو یا مزید اقامت کی ضرورت ہو، ہر جگہ پر پاسپورٹ چاہیئے، لیکن ایمبیسی کی طرف سے چھ ماہ سے پاسپورٹ کا کام تعطل کا شکار ہے۔ اس وقت ایران میں مقیم پاکستانی کس اضطراب اور پریشانی میں دن رات گزار رہے ہیں، اس کو درک کرنے اور اس مسئلے کو ترجیح بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ یاد رہے کہ ایران میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کو تہران میں قائم پاکستانی ایمبیسی کے اہلکاروں سے کوئی گلہ نہیں بلکہ اعلیٰ حکام سے شکایت ہے کہ جو مسلسل شکایات کے باوجود چھ ماہ سے اس مسئلے کا کوئی حل نہیں نکال رہے۔ چھ ماہ سے ایران میں پاکستانی لاپتہ ہوچکے ہیں، اپنی قومی شناخت کھو چکے ہیں، انہیں اپنی قومی شناخت کے لئے پاسپورٹ کی ضرورت ہے! کیا پاکستان میں کوئی ایسا ادارہ، کوئی ایسا ٹی وی چینل، کوئی ایسی وزارت یا ایسی عدالت ہے، جو اس قسم کی گمشدگیوں کا بھی نوٹس لے اور ایران میں مقیم پاکستانیوں کو ان کی کھوئی ہوئی شناخت واپس دلائے۔

شیعہ نیوز )پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ( ہنگو میں 6جنوری 2014ءکو ہنگو ابراہیم زئی گورنمنٹ ہائی اسکول کے 400 بچوں کی زندگی بچانے کے لیے اعتزاز حسن نے اپنی جان قربان کردی۔ شہید اعتزاز حسن کی آج چوتھی برسی منائی جارہی ہے، شہید اعتزاز کی جرأت و بہادری پر انہیں سول اعزاز تمغہ شجاعت سے بھی نوازا جاچکا ہے۔

ہنگو کے علاقے ابراہیم زئی سے تعلق رکھنے والے پندرہ سالہ نویں جماعت کے طالبعلم اعتزاز حسن نے اپنی جان کی قربانی دے کر نہ صرف ہائی سکول کے سینکڑوں طلباء کی جان بچائی بلکہ دشمن کے ناپاک ارادے کو بھی خاک میں ملا کر ایک پیغام دیا کہ جب تک ایک بھی محب وطن اس ملک میں موجود ہے دشمن کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑا رہے گا۔

شہید اعتزاز حسن کی چوتھی برسی کے موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں انہیں خراج تحسین پیش کیا جبکہ پاکستان ٹیلی ویژن چینل پر شہید اعتزاز حسن پر بنائی گئی فلم بھی دکھائی گئی۔

شیعہ نیوز نیٹ ورک شہید اعتزاز حسن اور ملک عزیز کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے تمام شہیدوں کو سلام پیش کرتا ہے۔