شیعہ نیوز )پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ( ہنگو میں 6جنوری 2014ءکو ہنگو ابراہیم زئی گورنمنٹ ہائی اسکول کے 400 بچوں کی زندگی بچانے کے لیے اعتزاز حسن نے اپنی جان قربان کردی۔ شہید اعتزاز حسن کی آج چوتھی برسی منائی جارہی ہے، شہید اعتزاز کی جرأت و بہادری پر انہیں سول اعزاز تمغہ شجاعت سے بھی نوازا جاچکا ہے۔

ہنگو کے علاقے ابراہیم زئی سے تعلق رکھنے والے پندرہ سالہ نویں جماعت کے طالبعلم اعتزاز حسن نے اپنی جان کی قربانی دے کر نہ صرف ہائی سکول کے سینکڑوں طلباء کی جان بچائی بلکہ دشمن کے ناپاک ارادے کو بھی خاک میں ملا کر ایک پیغام دیا کہ جب تک ایک بھی محب وطن اس ملک میں موجود ہے دشمن کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کھڑا رہے گا۔

شہید اعتزاز حسن کی چوتھی برسی کے موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں انہیں خراج تحسین پیش کیا جبکہ پاکستان ٹیلی ویژن چینل پر شہید اعتزاز حسن پر بنائی گئی فلم بھی دکھائی گئی۔

شیعہ نیوز نیٹ ورک شہید اعتزاز حسن اور ملک عزیز کی خاطر جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے تمام شہیدوں کو سلام پیش کرتا ہے۔

شیعہ نیوز )پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ( وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کی عوام آرڈروں سے تنگ ہے، اس لئے اب آرڈر کی بجائے کچھ اور سیٹ اپ ملے گا۔ تاہم میں یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ جو سیٹ اپ ملے گا، اس سے گلگت بلتستان کے تمام سٹیک ہولڈرز مطمئن ہونگے اور قانون ساز اسمبلی بھی اس سیٹ اپ کی توثیق کرے گی۔ اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ مختلف کمیٹیوں کی میٹنگز اور کافی غور و حوض کے بعد اہم فیصلے کئے جا رہے ہیں، تحریک انصاف کی حکومت جی بی کو اختیارات اور بنیادی حقوق ان کے مطالبے کے مطابق دیگی، یقین ہے کہ اس سیٹ اپ کے حوالے سے کسی بھی سٹیک ہولڈر کے تحفظات نہیں ہونگے، کیونکہ اس میں تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت شامل ہوگی، جس سے مسئلہ کشمیر پر بھی کوئی فرق نہیں پڑیگا۔

ایک سوال کے جواب میں علی امین نے کہا کہ گلگت بلتستان کے پہاڑوں، میدانوں اور دریائوں کے ساتھ عوام بھی پاکستانی ہیں، سابق حکومت نے جی بی کو سی پیک سے محروم رکھا، پی ٹی آئی کی حکومت خطے کو سی پیک میں بھرپور حصہ دیگی۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں سیاحت کے جتنے مواقع ہیں، اتنے دنیا میں کہیں نہیں، خطے میں سیاحت کے فروغ کیلئے تین بین الاقوامی کمپنیوں سے بات چیت چل رہی ہے، ان کے آنے سے جی بی کی سیاحت میں ایک سال کے اندر تبدیلی نظر آئے گی۔

شیعہ نیوز )پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ(پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اسلام آباد میں روس کی جانب سے خصوصی ایوارڈ سے نوازے جانے کی ایک تقریب کے موقع پر کہا کہ پاکستان اور روس، دہشت گردی کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کر کے علاقے میں انتہا پسندانہ سرگرمیوں کو روکنے میں مثبت اقدامات عمل میں لا سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان مشترکہ فوجی مشقوں کا انعقاد فوجی تعلقات کے فروغ کے لئے مناسب ذریعہ قرار پا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں سات ہزار میٹر کی بلندی پر واقع پہاڑوں پر روسی کوہ پیماؤں کو نجات دلانے کے لئے پاکستانی فوجیوں کے خصوصی آپریشن کے بعد جمعے کو اسلام آباد میں روس کے سفارت کی جانب سے پاکستانی فوج کے سربراہ کو روس کے خصوصی ایوارڈ سے نوازا گیا۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے دورہ پاکستان کے دوران وزیرِاعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان ایران کے ساتھ سیاسی و اقتصادی تعلقات کا فروغ چاہتا ہے، تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا خارجہ پالیسی کا اہم جزو ہے۔ ملاقات میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ سیاسی و اقتصادی تعلقات کا فروغ چاہتا ہے، پاکستان کو مسلم امہ کے درمیان تنازعات پر تشویش ہے۔ یمن کے عوام کے مسائل ختم ہونے چاہیں، فریقین رضامند ہوں تو پاکستان یمن کے معاملے پر ثالثی کے لیے تیار ہے۔ وزیراعظم نے ایرانی قیادت کے لئے نیک خواہشات کا پیغام بھی بھیجا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے وزیراعظم عمران خان کو ایرانی صدر کی جانب سے نیک خواہشات کا پیغام بھی پہنچایا۔ اپنے پیغام میں ایرانی صدر نے وزیراعظم عمران خان کے ساتھ مل کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
 
اس سے پہلے ایرانی وزیر خارجہ نے ہم منصب شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اور ایران مشکل کی ہر گھڑی میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط برادرانہ تعلقات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک ایران سرحد امن کی سرحد تصور کی جاتی ہے، اسے مزید پُرامن بنائیں گے۔ مسئلہ کشمیر پر حمایت کرنے پر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے مشکور ہیں۔ اس موقع پر ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات باہمی اعتماد اور یکجہتی پر مبنی ہیں، دوستی خراب کرنے کی کوشش کرنے والوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

دیگر ذرائع کے مطابق وزیراعظم پاکستان عمران خان سے ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے ملاقات کی، بعد ازاں انہوں نے اپنے ہم منصب شاہ محمود قریشی سے بھی ملاقات کی۔ تفصیلات کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اسلام آباد میں وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے ملاقات میں دونوں شخصیات نے پاکستان ایران تعلقات اور خطے کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی، ایرانی وزیر خارجہ نے وزیراعظم کو ایرانی صدر کا تہنیتی پیغام پہنچایا۔ اس موقع پر ایرانی کوسٹ گارڈز کی بازیابی سے متعلق بھی بات چیت کی گئی، ملاقات میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور سیکرٹری خارجہ بھی موجود تھے۔ وزیراعظم عمران خان نے ایرانی قیادت اور عوام کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا، اپنی گفتگو میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان ایران کے ساتھ سیاسی و اقتصادی تعلقات مزید مستحکم کرنا چاہتا ہے، ہمسایہ ملکوں کے ساتھ تعلقات میں بہتری ہماری خارجہ پالیسی کی اولین ترجیح ہے۔

وزیراعظم نے مسلمان ملکوں میں اتحاد کے فقدان پر تشویش کا اظہار کیا، یمن میں انسانی بحران قابل افسوس ہے، وزیراعظم کی یمن بحران کے حل کے لئے ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ فریقین چاہیں تو مسئلے کے حل کیلئے ثالثی کیلئے تیار ہوں۔ اس موقع پر ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا تھا کہ ایرانی صدر حسن روحانی دونوں ممالک کے بہتر تعلقات اور پاکستان سے دوطرفہ تعاون میں فروغ کیلئے پرعزم ہیں۔ بعد ازاں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اپنے پاکستانی ہم منصب سے بھی علیحدہ ملاقات کی، ملاقات میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان چین کے چار روزہ اہم دورے کیلئے کل شام روانہ ہوں گے، وزیراعظم اپنے دورے میں چینی صدر سمیت اہم رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے کہا ہے کہ حکومت کے پہلے پچاس دن میں اقدامات نہیں صرف اعلانات ہوئے ہیں، ضمنی الیکشن گیم چینجر ثابت ہوسکتا ہے، نیب کو غیر جانبداری ثابت کرنا ہوگی، حکومتی حلقوں میں پاکستانی طالبان سے مذاکرات کے اشارے تشویشناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قوم دہشتگردوں کیساتھ مذاکرات برداشت نہیں کرے گی، حکومت نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کرے، کالعدم جماعتوں کا پھر سے متحرک ہونا خطرناک ہے، عمران خان کی ٹیم ناقص اور ناتجربہ کار ہے، نئی حکومت پہلے پچاس دنوں میں ڈلیور نہیں کرسکی، عمران خان سے وابستہ قوم کی توقعات ٹوٹنا شروع ہوگئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت غریبوں کو نہیں غربت کو ختم کرے، گیس کی قیمتوں میں اضافہ غریب عوام پر ظلم ہے، نئی حکومت پچھلی حکومت کی ڈگر پر نہ چلے، قوم کو ابھی تک نئی اور پرانی حکومت میں فرق نظر نہیں آیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سنی اتحاد کونسل کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صاحبزادہ حامد رضا نے مزید کہا کہ حکومت ایران اور سعودی عرب کیساتھ تعلقات میں توازن قائم کرے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ کو اقوام متحدہ میں اپنے خطاب میں یمن کا مسئلہ بھی اٹھانا چاہیئے تھا، یمن میں سعودی مظالم کی انتہا ہوچکی ہے، ملک انتقامی سیاست کا متحمل نہیں ہوسکتا، حکومت سیاست بازی چھوڑ کر عوام کے مسائل پر توجہ دے۔ پاکستانی طالبان سے مذاکرات کے فیصلے کی ڈٹ کر مخالفت کریں گے، 70 ہزار پاکستانیوں کے قاتل کسی رحم اور رعایت کے مستحق نہیں، حکومت خارجہ پالیسی پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے، حکومت نے سو روزہ پلان پر عمل نہ کیا تو زیرو ہو جائے گی۔ قوم عمران خان کے ایک کروڑ نوکریوں اور پچاس ہزار گھروں کے وعدے کی تکمیل کی منتظر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مہنگائی کنٹرول کرنے میں ناکام ہوچکی ہے، منی بجٹ نے ہر غریب گھر کا بجٹ خراب کر دیا ہے، وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف سے قرض لینے کا عندیہ دے کر قوم کو مایوس کیا ہے، ہم حزب احتساب کا کردار ادا کریں گے، ضمنی الیکشن کے بعد سیاست نیا رخ اختیار کرسکتی ہے۔

پاکستان کے صف اول کے اداکار حمزہ علی عباسی کی فلم ’پرواز ہے جنوں‘ سعودی عرب میں ریلیز ہونے والی پہلی پاکستانی فلم ہوگی۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پرواز ہے جنوں‘ پہلی پاکستانی کمرشل فلم ہے جو سعودی عرب میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔چوہدری فواد حسین نے کہا کہ فلم رواں ماہ11 اکتوبر کو سعودی عرب کی اسکرینز پر ریلیز ہوگی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ آنے والے مہینوں میں مزید پاکستانی فلمیں پوری دنیا میں نمائش کے لیے پیش کی جائیں گی انشا اللہ۔‘‘واضح رہے کہ فلم’پرواز ہے جنوں ‘عیدالاضحیٰ پرریلیز کی گئی تھی ۔حمزہ علی عباسی کے علاوہ فلم کی دیگر کاسٹ میں اداکار شمعون عباسی، ہانیہ عامر، احد رضامیر، شاز خان اور کبریٰ خان شامل ہیں ۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) قطری وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمٰن نے نیو یارک میں پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی سے ملاقات کے دوران پاکستانی ورکرز کو ایک لاکھ ملازمتیں دینے کی پیشک کردی۔وزیر کارجہ شاہ محمود قریشی جنرل اسمبلے کے اجلاس میں شرکت کیلئے امریکا میں موجود ہیں۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قطری ہم منصب سے ملاقات کے دوران باہمی تعلقات اور تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق ہوا۔

ایک روز قبل شاہ محمود قریشی نے کویتی نائب وزیر اعظم سے ملاقات میں کہا تھا کہ پاکستان کویت سے برادرانہ تعلقات کو نہایت اہمیت دیتا ہے، دونوں ممالک خطے کی ترقی و استحکام پرمشترکہ نقطہ نظررکھتے ہیں۔کویتی نائب وزیر اعظم سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تیل کی تلاش، زراعت میں تجارت اور سرمایہ کاری بڑھائی جائے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ بھارت کالے قوانین کی آڑ میں مقبوضہ کشمیر میں ناقابل بیان مظالم ڈھا رہا ہے۔

او آئی سی رابطہ گروپ برائے کشمیر کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی مقبوضہ کشمیر سے متعلق رپورٹ حقائق پر مبنی ہے، بھارت کالے قوانین کی آڑ میں مقبوضہ کشمیرمیں ناقابل بیان مظالم ڈھا رہا ہے۔

شاہ محمود قریشی نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تحقیقاتی کمیشن بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اگر مقبوضہ کشمیر کی کشیدہ صورتحال سے متعلق کچھ نہیں چھپا رہا تو تحقیقاتی کمیشن کی حمایت کرے، اور او آئی سی کے انسانی حقوق کمیشن کو مقبوضہ کشمیر میں رسائی دے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) پاکستان و ہندوستان میں شوال المکرم کا چاند نظرنہیں آیا دونوں ممالک میں عیدالفطر 16 جون بروز ہفتہ ہوگی۔

شوال کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس کراچی میں چیرمین مفتی منیب الرحمان کی زیر صدارت ہوا اور زونل کمیٹیوں کے اجلاس صوبائی دارالحکومتوں میں ہوئے، اس کے علاوہ دیگر ذرائع سے بھی چاند کی شہادتوں کا انتظار کیا جاتا رہا لیکن ملک بھر میں کہیں سے بھی چاند کی شہادت موصول نہیں ہوئی جس کے بعد عیدالفطر 16 جون بروز ہفتہ ہوگی۔

ادھر ہندوستان سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق جمعرات کے روزماہ شوال المکرم کا چاند دہلی کے علاوہ بنگال، بہار، آسام، آندھراپردیش، مدھیہ پردیش، راجستھان، ہریانہ اوراترانچل سے عدم رویت کی شہادتیں موصول ہوئیں۔ لہذا مرکزی رویت ہلال کمیٹی جامع مسجد دہلی کی طرف سے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یکم شوال المکرم (عیدالفطر) 16؍جون 2018 ء ہفتہ کے روز ہے۔

کالم نگار: مظہر برلاس

پاکستان اس وقت زرعی، آبی اور معاشی مشکلات سمیت اندرونی اوربیرونی خطرات سے دوچارہے۔ پچھلے 35 ، 40 سالوں میں ملک کو اس قدر لوٹا گیا کہ آج ملکی معیشت برباد ہے۔ اگلا م نظر کس طرح خوفناک اور خطرناک ہوگا، اس کاجائزہ بعد میں لیتے ہیں، پہلے ایک ایسا واقعہ سن لیں جسے سن کر پاکستان سے پیار کرنے والوں کو سکون ملے گا۔

یہ 2004 کا واقعہ ہے، بوسنیا ہرزگوینا کے شہر سرائیوو میں یوتھ ڈویلپمنٹ پیس کانفرنس ہو رہی تھی۔ اس کانفرنس میں دنیا بھر سے نوجوان شریک تھے۔ کانفرنس میں معذوروں کی نمائندگی امریکہ کے وکٹر اور پاکستان سے شفیق الرحمٰن نے کی۔ شفیق الرحمٰن بتاتے ہیں کہ ’’میرے لئے فخر تھاکہ میں پاکستان کی نمائندگی کر رہا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب نائن الیون کے بعد دنیا افغانستان کی خبروں سے پاکستان کو منسلک کر رہی تھی۔ پاکستان کا تاثر مسخ کیاجارہاتھا۔

چونکہ میرا پہلا عشق پاکستان ہے، اس لئے میرے لئے یہ خبریں بہت تکلیف دہ تھیں مگر پھر قدرت میرے لئے ایک ایسا لمحہ لے آئی جب میںسینہ تان کر کانفرنس میں شریک ہو گیا۔ اس کی وجہ کانفرنس میں میری مترجم ایک 30سالہ خوبصورت لڑکی تھی۔

نیلی آنکھوںاور سنہرے بالوں نے اس کے حسن کو چارچاند لگا رکھے تھے۔ تعارف ہوا تو میں نے بتایا کہ میں پاکستان سے ہوں۔ یہ سننے کی دیر تھی کہ میری مترجم آگے بڑھی۔

اس نے میرا ہاتھ تھاما، اسے چوما، چوم کر آنکھوں سے لگایا۔ اس غیرمتوقع حرکت پر میں حیران ہوا۔ وہ میری حیرت کو دیکھ کر بولی ’’کاش ہماری نسلوں میں پاکستانی پیدا ہونا شروع ہوجائیں۔‘‘ یہ جملہ سننے کے بعد میں مزید حیرت میں ڈوب گیا۔ میں نے خود کو سنبھالتے ہوئے پوچھا تو وہ کہنے لگی ’’کیا آپ مجھ سے شادی کرسکتے ہیں؟‘‘ پہلی ہی ملاقات میں ایسے جملے سن کر مجھے مزید حیرت ہوئی۔

خیر میں نے اسے بتایا کہ میں شادی کرچکا ہوں مگر آپ بتایئے کہ آپ ایسا کیوں چاہتی ہیں؟ اس نے بتانا شروع کیا کہ’’ جب سربیا کے غنڈے ہم مسلمان لڑکیوں کی عزتوں سے کھیلنا چاہتے تھے تو اس وقت ہمیں بچانے والے پاکستانی فوج کے جوان تھے۔ بین الاقوامی امن فوج میں شامل پاکستانی جوانوں نے نہ صرف ہمیں بچایا بلکہ وہ ہمیں اپنے کیمپوں میں لے گئے

۔انہوں نے ہمیں اپنی بہنوں اوربیٹیوں کی طرح رکھا۔ جب وہ ہمیں کھانا دیتے تھے تو خود نہیں کھاتے تھے۔ ہمارے پوچھنے پربتاتے تھے کہ ہمارا روزہ ہے۔ کچھ ہفتوں بعد ہمیں پتا چلا کہ وہ ہمیں اپنے راشن سے کھانا دے کرخود بھوکے رہتے ہیں۔ وہ پاکستانی فوجی جوان ہمارے بچوں سے بہت پیارکرتے تھے، ہمارے بزرگوں کا بہت احترام کرتے تھے، ہماری حفاظت کرتے ہوئے کچھ پاکستانی جوان شہید بھی ہوگئے تھے۔ تم پاکستانی عظیم لوگ ہو۔‘

‘ اس کے اس جملے نے میرا سرفخر سے بلند کردیا۔ میں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔ اپنی بہن سمجھتے ہوئے دعا دی اور پھر اس سے کہا کہ ’’پاکستان کی فوج ہم پاکستانیوں کےلئے فخر کا باعث ہے۔ دنیا میں اگر کسی نے غریب اور متوسط طبقے کے افراد پرمشتمل شاندار ادارہ دیکھناہو تو وہ پاکستانی فوج کو دیکھ لے۔‘‘ یہ واقعہ 2004میں ہوچکاہے مگراب جب میں سیاستدانوں کی طرف سے فوج پر تنقید کے مناظر دیکھتا ہوں تو پھرسوچتا ہوں کہ فوج کو برا کہنے والے سیاستدان کبھی اپنے بچوںکو سرحدوں پر بھیجیں تو انہیں پتا چلے کہ دھرتی سے عشق نبھانا کیا ہوتا ہے.....‘‘

میں نے پچھلے کالم میں علامہ راجہ ناصر عباس کی کچھ گفتگو شامل کی تھی، آج کچھ مزید باتیں شامل کردیتا ہوں۔ حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ، پاکستانی سیاستدان علامہ راجہ ناصر عباس کے کلاس فیلو ہیں

۔حسن نصراللہ پچھلے چار سال سے اپنے پاکستانی دوست راجہ ناصر عباس کو نصیحت کر رہے تھے مگر اس بار انہوں نے وصیت کی کہ کبھی بھی اپنی فوج کو نہ چھوڑنا۔ ہمیشہ اپنی فوج کے ساتھ رہنا کیونکہ ہمیں بہت سی اطلاعات ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل مسلمانوں ملکوں کی افواج کو توڑنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اسی منصوبے کے تحت لیبیا اور عراق کی فوج کو توڑا، یمن کی فوج توڑی،

اسرائیل کے مقابلے میں لبنان کی فوج نہیں بننے دی۔ دراصل یہ مسلمان ملکوں کی افواج کو توڑ کر خطے کی ازسرنو ترتیب چاہتے ہیں۔ اب ان کی ترتیب میں اور توسیع شامل ہوگئی ہے اوراب ان کا مشن پاکستانی فوج کو توڑنا ہے۔ اسے کمزور کرنا ہے کیونکہ جغرافیائی طور پر اہم ہونے کےعلاوہ پاکستان ایٹمی قوت ہے۔ آبادی بھی بھرپور ہے۔ طاقتور ملک ہے۔

اگر خدانخواستہ یہ سازش کامیاب ہوگئی تو پھر ایران اور افغانستان بھی ٹوٹ جائیں گے اسی لئے میں آپ کو وصیت کرتا ہوں کہ ہر حال میں اپنی فوج کا ساتھ دینا۔ آپ کا ملک اور عوام اسی صورت میں بچیں گے جب آپ کے پاس طاقتور فوج ہوگی۔

علامہ راجہ ناصر عباس کہتے ہیںکہ ’’میں اکثر سوچتا تھا کہ میرادوست کیوں یہ منظر مجھے بتاتا ہے۔ اب جب حالات میرے سامنے آئے تو مجھے یقین ہو گیا کہ وہ سچ کہہ رہا تھا کیونکہ میرے لئے وہ دن حیران کن تھا جب تین مرتبہ وزیر اعظم رہنے والے نے اپنی فوج کے خلاف بولنا شروع کیا۔ تب مجھے بیرونی طاقتوں کے اشاروں پر کام کرنے والوں کی سمجھ آئی۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایک ایسا شخص جو تین بار ملک کا وزیر اعظم رہا ہو، وہ بھی ایسا کرسکتا ہے؟ اس کے خاندان نے تو پاکستان کے لئے کوئی قربانی بھی نہیں دی۔

ان کے پورے خاندان میںکوئی شہید نہیں ہے بلکہ انہوں نے تو پاکستان کو صرف لوٹا ہے۔ پاکستان نے انہیں ارب پتی بنایا اور یہ پاکستان پر الزام تراشی کر رہے ہیں۔ جب فاٹا میں امن ہو چکا تھا تو پھر یہ منظور پشتین کہاں سے آگیا؟ کہاں سے آگئے اچکزئی اور ’’اچکزئی نظریے‘‘ والے؟ کیوں منظورپشتین کو لاہور بلوا کر جلسے کرواتے ہیں؟ کسی بات پر اختلاف کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ آپ اپنی فوج کے خلاف باتیں کریں۔ منظورپشتین نے کیوںاسرائیلی فوج کے حق میں نعرے بازی کی؟ ہم لوگوں نے تو کبھی ایسا سوچا بھی نہیں۔

ہم نے 20ہزار جنازے اٹھائے ہیں، حق کے لئے دھرنے دیئے ہیں مگر کبھی اپنے وطن کے خلاف بات نہیںکی۔ ہمیں یاد رکھناچاہئے کہ ہماری پہلی اور مضبوط دیوار صرف اور صرف فوج ہے۔ ہمارے معاشرے کے اندر تو اختلافات کے نام پر بہت تقسیم ہے۔ہمیں اندرونی اختلافات ختم کرکے اپنی فوج کے ساتھ کھڑے ہو جانا چاہئے۔‘‘

خواتین و حضرات! اگلا منظر زیادہ خوفناک ہے۔ اس میں کئی خطرناک کھیل شروع کردیئے جائیں گے۔ یہ کھیل عید کے بعد شروع ہونے والا ہے۔ عید کے بعد منظور پشتین جیسے کئی گھٹیا کردار سامنے آئیں گے

۔ یہ چھوٹی چھوٹی تحریکوں کے نام پر سامنے آئیں گے۔ ان تحریکوں کو ’’اچکزئی نظریے‘‘ کے پاسبان سپورٹ کریں گے۔ اس سلسلے میں گلگت میں بھی کام شروع ہوچکا ہے۔ کوئٹہ کے اندر لوگوں کو بہلانے پھسلانے والے بھی سرگرم ہیں۔ لندن میں بیٹھا ہوا ایک کالا کردارکراچی اور حیدر آباد کے کئی کرداروں سے رابطے میں ہے

۔ عید کے بعد جب شریف خاندان کے لوگوں کوسزا ہوگی تو ’’اچکزئی نظریہ‘‘ پنجاب میں نظر آئے گا۔ سڑکوں پرہنگامے ہوں گے۔ اس دوران لوڈشیڈنگ بھی ہوگی، لوگوں کوکئی اور مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایک سیاسی جماعت پیسے کے زور پر پاک فوج کے خلاف سوشل میڈیا مہم چلائے گی

۔ ان کے سارے سوشل میڈیا کنونشن سرگرم ہوجائیں گے۔ اس دوران بیرونی میڈیا سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔ چند بیرونی طاقتیں پاکستان کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کے چکر میں ہیں۔ اسی لئے تو پاکستان کو پانی سے محروم کیاجارہا ہے۔ افراتفری، ہنگاموں اور احتجاجوں کاعروج جولائی میں ہونے والے الیکشن کو کھا جائے گا۔ جن لوگوں کو ابھی بھی یقین نہیں آرہا وہ کچھ دن انتظار کرلیں کیونکہ شہبازشریف اور نواز شریف ایک نظریے پرمتفق ہوچکے ہیں۔


شریف فیملی کے جس آخری فرد کا جہاں کہیں بھی خاص رابطہ تھا، اب وہ بھی ٹوٹ چکا ہے۔ بس ٹوٹ پھوٹ کا یہ عمل منظرنامے کی اگلی بدصورتی بیان کر رہا ہے اور اگلی بدصورتی یہی ہوگی کہ 25جولائی کو الیکشن نہیں ہوں گے۔ الیکشن جب بھی ہوئے اس سے پہلے صفائی ستھرائی ضرور ہوگی۔ حالات کا تقاضا ہے کہ پاکستان سے پیار کرنے والے ایک ہو جائیں کیونکہ پاکستان کے دشمن ہمارے وطن کے خلاف ایک ہوچکے ہیں اور انہیں ملک کے اندر سے ’’اچکزئی نظریے‘‘ کے حامل کئی افراد میسر ہیں۔ مجھے تو بس رخشندہ نوید کا شعر یاد آ رہا ہے کہ؎
چہرہ چہرہ کھلے گلاب کو رہنے دے
مالک کچھ دن اور شباب کو رہنے دے