شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)بھارت کی سپریم کورٹ نے پلواما واقعے کے بعد بھارت بھر میں کشمیریوں کی حفاظت یقینی بنانے کے احکامات جاری کر دیئے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ میں بھارت بھر میں کشمیریوں کے خلاف حملے روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی ۔دورانِ سماعت بھارت کی سپریم کورٹ نے کشمیریوں کی مکمل حفاظت کا حکم دے دیا۔عدالت نے جاری کیے گئے حکم میں 10 ریاستی حکومتوں، پولیس سربراہوں کو کشمیریوں کے خلاف حملوں، سوشل بائیکاٹ کا خاتمہ یقینی بنانے کو کہا ہے۔بھارت بھر میں پلواما واقعے کےبعد کشمیری انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے حملوں کا نشانہ بن رہے تھے جس پر سپریم کورٹ میں معاملے میں مداخلت کی درخواست کی گئی تھی۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  جنرل قاسم سلیمانی نے جمعرات کی شب ایران کے شمال میں واقع بابل شہر میں شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے منعقدہ پروگرام میں تاکید کی کہ عالم اسلام میں خونریزی اور اختلافات کی جڑ وہابیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام اور حکومت کو اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہئے کہ سعودی عرب کے پیسے تکفیری دہشت گردوں کے ہاتھ میں پڑیں اور پاکستان دنیا کے مد مقابل آجائے۔

ایران کی سپاہ پاسداران فورس کی قدس بریگیڈ کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سعودی حمایت یافتہ تکفیری اپنے تمام پڑوسیوں کے لئے مخاصمانہ اقدامات انجام دے کر مسائل پیدا کر رہے ہیں اور پاکستان کو اس بات کو صحیح طریقے سے درک کرنا چاہئے۔

جنرل قاسم سلیمانی نے کہا کہ ایران، پاکستان کے لئے ایک قابل اعتماد ہمسایہ ہے اور وہ کبھی بھی اسلام آباد کے لئے خطرہ نہیں بنے گا تاہم اسلامی جمہوریہ ایران ان تکفیری ایجنٹوں سے جن کے ہاتھ ایرانی جوانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں، سخت انتقام لے گا۔

 جنرل قاسم سلیمانی کا کہنا تھا کہ سعودی حکومت کا ہدف، پاکستان کو برباد کرنا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی فوج اور حکومت کو سعودی عرب کو اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہئے کہ کچھ ارب ڈالر کے عوض پاکستان کو پڑوسیوں سے الجھا دے، پاکستان، ایران کا دوست ملک ہے اور کسی کو بھی ایران کا امتحان نہیں لینا چاہئے۔

واضح رہے کہ چند دن قبل ایران کے صوبہ سیستان میں سعودی پشت پناہی میں چلنے والی دہشتگرد تنظیم جیش العدل نے ایرانی فوجی قافلے پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں27 فوجی شہید ہوئے تھے۔پاکستان نے اس حملے کے بعد ایران سے رابطہ کرکے حملے کی تحقیقات میںمکمل تعاون کی پیشکش کی تھی۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)  وزیراعظم پاکستان عمران خان نے مسلح افواج کو بھارت کی جانب سے کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کا اختیار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم آفس اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس ہوا جس میں وزیر خزانہ اسد عمر، وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر مملکت برائے داخلہ سمیت تینوں مسلح افواج کے سربراہان، حساس اداروں کے سربراہان اور دیگر سیکیورٹی حکام شریک ہوئے۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے جس کے مطابق وزیراعظم نے مسلح افواج کو بھارت کی جانب سے کسی بھی مہم جوئی یا جارحیت کا موقع کی مناسبت سے بھرپور جواب دینے کا اختیار دے دیا ہے۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان بطور ریاست پلوامہ میں کسی طرح بھی ملوث نہیں ہے اور اس  واقعے کی مقامی سطح پر منصوبہ بندی ہوئی اور عملی جامہ پہنایا گیا جب کہ پاکستان نے بھارت کو مذاکرات اور پلوامہ حملے کی تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی ہے امید ہے بھارت پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی پیشکش کا مثبت جواب دے گا۔

اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ عالمی برادری مسئلہ کشمیر پر کردار ادا کرے اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل کرائے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) بھارت کے سابق چیف جسٹس مرکنڈے کاٹجو نے مودی سرکار کے جنگی جنون کو حقیقت کا آئینہ دکھادیا، کاٹجو نے اپنے بیان میں کہا پاکستان سے بدلہ لینے کی باتیں ہورہی ہے، پاکستان جوہری طاقت ہے مذاق نہ سمجھا جائے، پاکستان کی فوج تیارہے لائن آف کنٹرول کراس کی تومنہ توڑجواب ملے گا۔سابق بھارتی چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بھارتی سیاستدانوں نے کشمیرپرعوام کوبیوقوف بنایا، یہ حقیقت ہے کشمیری عوام بھارت کے خلاف کھڑے ہیں۔مرکنڈے کاٹجو نے کہا نہتے کشمیریوں پر حملے کئے جارہے ہیں ، دکانیں جلائی جارہی ہے، میں بھی کشمیری ہو ، جرات اور ہمت ہیں تو مجھ پر حملہ کرو میں تمہاری بہادری نکال دوں گا۔یاد رہے چند روز قبل بھارتی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس مرکنڈے کاٹجو نے نے ہندو مذہب سے کھل کر اختلافات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ساری دنیا میں گائے کا گوشت کھایا جاتا ہے مگر بھارت میں صرف اسے ماتا بنا دیا گیا، گر آپ کے پاس دماغ ہے تو ذرا سوچیے کہ گائے کس طرح انسان کی ماتا کیسے ہوسکتی ہے؟‘، دنیا بیف کھاتی ہے، میری نظر میں گائے گھوڑے اور کتے کی طرح جانور جیسا ہے۔واضح رہے گذشتہ ہفتے مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں کار بم حملے میں42 بھارتی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے، حملے کے فوری بعد بھارت نے پاکستان پر الزام تراشی کا سلسلہ شروع کردیا تھا۔بھارت نے الزام لگایا تھا کہ پلوامہ میں حملہ کالعدم جیش محمد کی جانب سے کیا گیا ، جسے پاکستان کی پشت پناہی حاصل ہے۔بعد ازاں پاکستان نے مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے بھارت کے الزامات کو مسترد کردیا تھا اور کہا تھا ہمیشہ سے مقبوضہ وادی میں تشدد کی مذمت کرتے آئے ہیں، بغیر تحقیقات کے بھارتی میڈیا اور حکومت کے الزامات کومسترد کرتے ہیں۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) ارنا کی رپورٹ کے مطابق ایران کی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کے اعلی مشیر میجر جنرل سید یحیی رحیم صفوی نے کل اصفہان میں کہا کہ یورپ کے 16 تحقیقاتی اداروں نے دنیا 2030 کے نام سے موسوم دستاویزات میں کہا ہے کہ آل سعود کا 2030 تک نام و نشان نہیں رہے گا جبکہ ایران علاقے کے طاقبتور ترین ملک کی حیثیت سے ابھرے گا۔انہوں نے زاہدان،خاش سپر ہائی وے کے شہداء کے جلوس جنازہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ، اصفہان میں جلوس جنازہ میں عوام کی بھرپور شرکت کی وجہ سے دہشتگردی کی روک تھام کے حوالے سے بیان جاری کرنے پر مجبور ہوا۔سنیچر کے روززاہدان،خاش سپر ہائی وے کے 27 شہداء کے جلوس جنازہ میں جس میں اصفہان کے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی شرکت کی لوگوں نے دہشتگردی کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے شہداء کے خون کا انتقام لینے کے فلک شگاف نعرے لگائے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پلوامہ حملے کو انتہائی بھیانک قرار دے دیا ہے۔وائٹ ہائوس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران امریکی صدر کا کہنا تھاکہ پلوامہ حملےسے ہولناک صورتحال پیداہوئی جس سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔امریکی صدر نے کہا کہ’’ پلوامہ حملے سے متعلق کئی رپورٹس موصول ہو رہی ہیں جس پر مناسب وقت میں بات کی جائے گی‘‘۔امریکی صدر نے ساتھ ہی اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’’کتنی خوشگوار بات ہوگی جو پاک بھارت تعلقات بہتر ہوجائیں‘‘دوسری جانب امریکی ریاستی امور کے ترجمان’رابرٹ پلاڈینو‘ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ پلوامہ حملے پر نہ صرف بھارت سے اظہارِافسوس کیا ہے بلکہ مسلسل رابطے میں بھی ہیں۔روبرٹ پلاڈینو کا کہناہے کہ پاکستان کوپلوامہ حملے کی تحقیات میں بھرپور تعاون کرنا چاہیے اور جو بھی ذمہ دار ہے اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) تحریر :صابر ابو مریم

حالیہ دنوں پاپائے روم مسیحی دنیا کے ایسے واحد رہنما ہیں جو گزشتہ آٹھ سو برس میں پہلے پوپ ہیں کہ جو کسی عرب سرزمین پر آئے ہیں۔ یقیناً ان کا یہ دورہ مسلمانوں اور مسیحی برادری کے مابین محبت و الفت کا مظہر ثابت ہوا اور ہونا بھی چاہیے۔ پاپائے روم کے دورے کو جہاں ابوظہبی میں قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا وہاں دنیا بھر کی مہذب قوموں نے اس دورے کو مثبت انداز میں بیان کیا ہے لیکن پاکستان کی سرزمین پر موجود صہیونی گماشتے موقعے کی تلاش میں تھے کہ کسی طرح کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ پائے اور حالات و واقعا ت کا رخ موڑ کر اسرائیل کی نوکری کرتے ہوئے پاکستان میں اسرائیل کی حمایت کے حوالے سے ماحول سازی کرکے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ کے نظریات و افکار کو پامال کیا جائے اور پاکستان کی پیٹھ میں خنجر سے گہرا وار کیا جائے۔

5 فروری 2019 کے روز ’’دنیا نیوز‘‘ پر اینکر پرسن کامران خان نے پاپائے روم کے دورہ ابوظہبی پر تبصرہ انتہائی مہارت اور چالاکی سے مثبت انداز میں شروع کرتے ہی اسے اسرائیل کے ساتھ عرب ممالک کے تعلقات سے جوڑتے ہوئے پاکستان اسرائیل میں تعلقات قائم کرنے سے نتھی کردیا، جس سے ان کے پس پردہ ناپاک عزائم کھل کر سامنے آئے اور اس ناپاک کھیل میں ان کا ساتھ دینے کےلیے نام نہاد معروف مذہبی اسکالر جاوید احمد غامدی نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ یہ موصوف تو صہیونیوں کی نمک خواری میں اس قدر آگے چلے گئے کہ قرآن مجید کی آیات کے بارے میں یہاں تک کہہ ڈالا کہ یہ آیات تو اس وقت کےلیے آئی تھیں۔ گویا آج کے زمانے میں ہم ان آیات کو فراموش کر دیں یا یہ کہ اب یہ آیات کسی سنجیدہ توجہ کے قابل ہی نہیں (نعوذ باللہ)۔

معروف اینکر نے انتہائی مہارت اور چالاکی سے پہلے سوال میں بات کی کہ کیا مسیحی ممالک اور مسلم ممالک کے تعلقات اور خارجہ تعلقات پر کوئی قدغن ہے؟ اس بارے میں مہمان اسکالر نے کہا یقیناً کوئی قدغن نہیں۔ ہم بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ یقیناً کوئی قدغن نہیں۔ البتہ اینکر پرسن نے مسیحی اور مسلم تعلقات کے ساتھ ساتھ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو جان بوجھ کر زیر سوال رکھا اور یہاں پر ان عرب ممالک کو بھی درست ثابت کرنے کی کوشش کی کہ جنہوں نے غاصب صہیونیوں کی جعلی ریاست کے ساتھ تعلقات قائم کر رکھے ہیں اور یوں وہ ان ممالک کو پاکستان کےلیے بطور مثال پیش کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
حالانکہ انہیں چاہیے تھا کہ یہ عوام کو بتاتے کہ اسرائیل ایک جعلی ریاست ہے جو فلسطین پر غاصبانہ تسلط قائم کیے ہونے کے ساتھ ساتھ گزشتہ ستر برس سے مظلوم فلسطینیوں کے خون کی ندیاں بہانے میں مصروف ہے۔ اسرائیل کی اس جارحیت اور دہشت گردانہ اقدام کو امریکا کی مسلسل سرپرستی بھی حاصل ہے لیکن شاید اس کام کےلیے دونوں حضرات کو ڈالرز ادا نہیں کیے گئے تھے۔

درج بالا سوال کے تعلق سے اینکر نے سوال اٹھایا کہ قرآن مجید میں یہود و نصاریٰ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان کو دوست نہ بناؤ، تو اس کے جواب میں نام نہاد مذہبی اسکالر نے قرآن کی آیات کو ماضی کے زمانے تک محدود قرار دے دیا کہ گویا قرآن کے کچھ حصے ماضی سے منسوب ہیں اور اب آج کے دور میں ان سے سبق لینے کی ضرورت ختم ہوچکی ہے (ثم نعوذ باللہ)۔

دونوں حضرات نے انتہائی مہارت کے ساتھ ایسے سوالات پیدا کئے اور ایک منصوبہ بندی کے تحت پاپائے روم کے دورہ ابوظہبی کو اس طرح موڑ توڑ کر پیش کیا کہ عرب ممالک کے بعد اب پاکستان کو بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات بنا لینے چاہئیں۔ دراصل یہی وہ ناپاک سازش تھی جو صہیونی گماشتوں کے اس عمل سے آشکار ہوئی اور پاکستان کے عوام باخبر ہوئے کہ پاکستان کو کھوکھلا اور غیر مستحکم کرنے کےلیے کس کس بھیس میں کالی بھیڑیں موجود ہیں۔

واضح رہے کہ مسلمانوں کے مسیحیوں کے ساتھ یا پھر کسی بھی اور مذہب کے ساتھ، خواہ یہودی بھی کیوں نہ ہوں، تعلقات میں کوئی حرج یقیناً نہیں اور اس حوالے سے اسلامی تعلیمات میں باقاعدہ پیرامیٹرز موجود ہیں۔ جہاں بات اسرائیل کی ہوتی ہے تو معاملہ مسلمان اور عیسائی اور یہودی تعلقات کا نہیں ہوتا بلکہ یہاں معاملہ مظلوم اور ظالم، دونوں میں سے کسی ایک کے چناؤ کا ہے۔ فلسطینی عرب کہ جس میں مسلمان، عیسائی، یہودی (جو صہیونیوں کو مسترد کرتے ہیں) سب کے سب شامل ہیں اور سب کی ایک آواز ہے کہ اسرائیل ایک غاصب جعلی ریاست ہے اور فلسطین پر اس کے ناجائز تسلط کا خاتمہ کیا جائے۔ اسی طرح امریکا میں یہودیوں کی بہت بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو فلسطین کی حمایت کرتی ہے اور صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کو تسلیم ہی نہیں کرتی۔

دنیا نیوز کے مذکورہ پروگرام میں دونوں موصوف عالمگیر اخلاقیات اور انسانیت کا درس دیتے ہوئے غاصب صہیونی ریاست کی حمایت میں زمین سازی کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہے کیونکہ انہوں نے عالمگیر اخلاقیات اور انسانیت کی بات کی اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ ڈالا کہ عقیدہ ریاستوں کے تعلقات میں رکاوٹ نہیں ہوسکتا۔ یقیناً اس پر سب متفق ہیں کہ کسی کے عقیدے سے متعلق ریاستوں کے تعلقات انحصار نہیں کرتے بلکہ اصولوں کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ اس گفتگو میں ڈرامائی موڑ عین اس وقت آیا جب اینکر پرسن نے نام نہاد مذہبی اسکالر سے پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بات کر ڈالی اور جواب میں انہوں نے کہا کہ دیر آئے درست آئے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نام نہاد مذہبی اسکالر جو عالمگیر اخلاقیات اور انسانیت کا درس دیتے تھک نہیں رہے تھے، اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو کس طرح کی عالمگیر اخلاقیات اور انسانیت کے زمرے میں شمار کرتے ہیں؟ جعلی ریاست اسرائیل کا قیام کیا عالمگیر اخلاقیات کا نمونہ ہے؟ کیا اسرائیل کی جانب سے فلسطین کے مظلوم مسلمانوں، عیسائیوں اور صہیونی مخالف یہودیوں کو جبری جلا وطن کرنا جاوید احمد غامدی کی عالمگیر اخلاقیات اور انسانیت کے زمرے میں ہے؟ کیا اسرائیل کی جانب سے گزشتہ ستر برس میں مظلوم فلسطینیوں کا قتل عام غامدی صاحب کی تلخیص کی گئی عالمگیر اخلاقیات اور انسانیت شمار ہوگا؟ کیا اسرائیل کی جانب سے غزہ کا بارہ سالہ غیر انسانی محاصرہ بھی عالمگیر اخلاقیات اور انسانیت کا درس ہے؟ کیا اسرائیل کی جانب سے داعش جیسی خونخوار اور اسلام کا نام بدنام کرنے والی دہشت گرد تنظیموں کا قیام اور ان کی مدد کرنا بھی عالمگیر اخلاقیات ہے؟ کیا اسرائیل کی جانب سے لبنان میں فلسطینیوں کا صابرا اور شاتیلا کے کیمپوں میں قتل عام کرنا غامدی صاحب کے نزدیک انسانیت اور عالمگیر اخلاقیات ہے؟ کیا غزہ اور مقبوضہ بیت المقدس میں دم توڑتے فلسطینی معصوم بچے، مائیں، بزرگ اور جیلوں میں بند کیے گئے فلسطینی، جاوید غامدی صاحب کی اسرائیل کو پڑھائی گئی عالمگیر اخلاقیات اور انسانیت کا نتیجہ ہیں؟

خلاصہ یہ کہ ایک سازش کے تحت اسرائیلی پے رول پر پاکستان میں موجود صہیونیوں کے گماشتے سرگرم ہو چکے ہیں اور عوام الناس کا ذہن خراب کرنے کےلیے کمزور اور فضول قسم کی باتوں کو منظر عام پر لاکر ان حقائق کو چھپاتے ہیں جو گزشتہ ستر برس سے فلسطینی عوام پر ظلم و ستم ڈھائے جانے سے متعلق ہیں۔ عام لوگوں کو مختلف حیلے بہانوں سے اسرائیل کی ہمدردی کا درس پڑھانے والے یہ صہیونی گماشتے آخر کیوں بھول جاتے ہیں کہ صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کے ستر سالہ ظلم و ستم کی بدترین تاریخ بھی موجود ہے۔ ہمارا اسرائیل کے خلاف قیام اور جدوجہد بانی پاکستان کی اس نظریاتی بنیاد پر قائم ہے جس کے تحت انہوں نے قیامِ پاکستان سے پہلے ہی یہ اندیشہ ظاہر کردیا تھا کہ فلسطینیوں کی سرزمین پر بننے والی (ناجائز) ریاست اسرائیل نہ صرف فلسطین کےلیے بلکہ دنیا بھر کے انسانوں کےلیے سنگین خطرہ رہے گی۔ (قائداعظم محمد علی جناحؒ نے 1937 میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا تھا جو آج بھی تاریخ کے ریکارڈ پر موجود ہیں۔)

اسرائیل سے تعلقات نہ بنانے کی وجہ یہ نہیں کہ وہاں یہودی ہیں یا وہ یہودیوں کی ریاست ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں موجود یہودیوں کی بہت بڑی تعداد بھی صہیونی نظریئے اور صہیونیوں کی جعلی ریاست اسرائیل کو تسلیم ہی نہیں کرتی اور سب کے سب فلسطین کے نام سے باقی رہنے پر متفق ہیں، لیکن افسوس ہے ان پست ذہن افراد پر جو چند ڈالروں کے عوض اپنا ایمان اور ارض وطن کی محبت اور نظریئے تک کا سودا کرتے ہیں۔

نوجوان نسل کو ایسے حالات میں بہت ہوشیار رہتے ہوئے مملکت خداداد پاکستان کو مستحکم کرنا ہے اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی گھناؤنی سازش کرنے والے صہیونی گماشتوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہے، خواہ وہ مذہبی اسکالرز کے لبادے میں ہوں یا انہوں نے ذرائع ابلاغ کی چادر اوڑھ رکھی ہو یا پھر حکومتی صفوں میں ہوں یا کسی اور شکل میں، وہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔

 

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) بدنام زمانہ سعودی ولیعہد بن سلمان کے دورہ اسلام آباد کے موقع پر پاکستانی فوج اور سیکورٹی اداروں کے بارہ ہزار اہلکار اسلام آباد اور راولپنڈی میں تعینات ہوئے اور اطلاعات ہیں کہ موبائل سروس بھی بند کردی گئی۔ حکومت پاکستان نے بن سلمان کی سیکورٹی کی وجہ سے اسلام آباد اور راولپنڈی میں عام تعطیل کا اعلان کر دیا۔پاکستان سے موصولہ خبروں میں کہا گیا ہے کہ یمنی بچوں کے قاتل سعودی ولیعہد بن سلمان کے دورہ اسلام آباد کے موقع پر حکومت کی طرف سے اگرچہ سڑکوں کو سجایا گیا لیکن پاکستانی حکومت کو بن سلمان کے استقبال کے لئے عوام کا بالکل تعاون نہیں ملا۔اگرچہ حکومت پاکستان نے پورے ملک میں بن سلمان کے دورے کے خلاف عوامی مظاہروں اور جلسوں پر پابندی عائد کر دی لیکن اس کے باوجود وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے متعدد شہروں میں یمنی بچوں کے قاتل بن سلمان کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے ہوئے-پاکستانی عوام کے بن سلمان کے خلاف مظاہروں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اس کو اپنا دورہ ایک دن کے لئے ملتوی کرنا پڑا۔مظاہرین نے یمن پر جنگ مسلط کرنے، شام کے خلاف سازش اور اسرائیل کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھانے کے بن سلمان کے اقدامات کی سخت الفاظ میں مذمت کی- پاکستان کے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان کے ملک میں بن سلمان اور سعودی حکومت کی مداخلت سے پاکستان کے لئے شدید مشکلات پیدا ہوں گی۔

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ)اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل باقری نے آج پیر کے روز قم میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پر مشترکہ سرحدوں کی سلامتی اور ان کی حفاظت کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے لہذا ایرانی حدود سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں دہشتگرد عناصر کے ٹھکانوں کو تباہ کرنا پاکستان کی ذمہ داری ہے.انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سرحدی علاقے میں ایران مخالف دہشتگرد عناصر کے ٹھکانے موجود ہیں جن میں سے بعض خفیہ اور بعض خفیہ نہیں ہیں، انھیں سعودی عرب اور امارات مالی امداد فراہم کررہے ہیں، ان عناصر کو لاجسٹک سپورٹ بھی کی جارہی ہے تا کہ ایران کے اندر بدامنی پھیلائیں.ایرانی سپہ سالار نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ ایرانی قوم نے ہر قسم کی دھونس و دھمکی کے خلاف پائمردی کا مظاہرہ کیا کہا کہ ایرانی قوم نے 22ے بھمن کی ریلیوں میں بھر پور طریقے سے شرکت کر کے دشمنوں کو دندان شکن جواب دیا۔گزشتہ بدھ کو زاہدان،خاش سپر ہائی وے پر سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے اہلکاروں کی بس کو کار بم دھماکے کے ذریعے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 27 اہلکار شہید اور 13 زخمی ہوئے.بدنام زمانہ دہشتگرد گروہ جیش العدل نے اس سفاکانہ کارروائی کی ذمہ داری قبول کی .

شیعہ نیوز(پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) چاندنی چوک پر کئی عمارتوں کے بیچ و بیچ ایک ٹریول ایجنسی کا مٹی سے اٹا ہوا بورڈ پاکستان سے باہر جانے والوں، خصوصاً سعودی عرب جانے والوں کی توجہ اپنی طرف مرکوز کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔جہاں سرکاری سطح پر سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کے پاکستان آنے کا انتطار کیا جا رہا ہے، وہیں یہاں کے پروموٹرز بھی اس بات کے منتظر ہیں کہ کئی سالوں سے انھیں پیش آنے والی مشکلات کا حل نکالا جاسکے۔چاندنی چوک بیرونِ ملک کام کی تلاش میں جانے والے پاکستانیوں کے لیے ایک اہم مرکز ہے۔ یہاں ٹریول ایجنسیوں سے لے کر بیرونِ ملک پاکستانیوں کو تحفظ فراہم کرنے والے ادارے تھوک کے حساب سے موجود ہیں۔لیکن ٹریول ایجنسیوں کے باہر لائنوں میں لگے نوجوانوں میں سے زیادہ تر اب قطر اور لیبیا جانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔پچھلے تین سالوں میں سعودی عرب میں مقیم پاکستانی کئی مشکلات کا شکار رہے ہیں۔ ان میں نوکریوں سے برطرفی، اقامہ (یعنی رہائش کے لیے درکار اجازت نامہ) کی قیمت میں اضافہ اور انکم ٹیکس میں تقریبا پانچ فیصد اضافے کے باعث کافی لوگ وطن واپس آ چکے ہیں۔ لیکن بعض ایسے بھی ہیں جو معاشی مواقع نہ ہونے کی وجہ سے وہیں رہنے پر مجبور ہیں۔پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس وقت سعودی عرب میں 26 لاکھ پاکستانی ریاض، دمام، طائف اور جدہ میں مقیم ہیں۔لیکن سنہ 2016 میں یکے بعد دیگرے سعودی آجر، سعد ٹریڈنگ اینڈ کنٹریکٹنگ کمپنی اور بن لادن گروپ جیسی کئی کمپنیوں نے خود کو دیوالیہ قرار دے دیا جس کے بعد متعدد پاکستانیوں کو وطن واپس آنا پڑا۔چاندنی چوک پر موجود پروموٹرز کے مطابق اب یہ عالم ہے کہ ’پیسے دینے پر بھی لوگ سعودی عرب نہیں جانا چاہتے۔‘محمد عنایت نے 24 سال قبل جب ٹریول ایجنٹ کے طور پر کام شروع کیا تھا تو سعودی عرب ایک اہم ملک تصور کیا جاتا تھا۔ ’ایک ایسا وقت بھی تھا جب ہمارا دفتر صبح 9 بجے سے رات گئے تک کُھلا رہتا تھا۔ اب یہ وقت ہے کہ دوپہر کے 12 بجے ہیں اور کوئی بھی نہیں ہے۔‘سنہ 1994 سے اب تک عنایت سعودی عرب جانے والے مزدوروں اور حکومت کی طرف سے تعینات اتاچی کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ سعودی عرب میں موجود حکومتی اتاچی کا وہاں پر موجود کمپنیوں کے ساتھ معاہدہ طے پاتا ہے جس کے بعد پاکستانی مزدوروں کو وہاں بھیجا جاتا ہے۔عنایت کہتے ہیں ’پچھلے چند سالوں سے وہاں پر کنٹریکٹ کوئی جواز دیے بغیر ختم کیے جارہے ہیں، جس کی وجہ سے حکومتی اتاچی کی کارکردگی اوپر سوال اٹھائے جارہے ہیں، لیکن ہمارے لیے بھی مسئلہ پیدا ہو رہا ہے۔ ہم جوابدہ ہیں اس غریب کو جسے ہم نے بھیجا ہے اور اس کے والدین کو۔ لیکن اب سعودی قوانین کے تحت غیر ملکیوں کے لیے اپنا بزنس یا دکان تک کھولنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی حکام عربی زبان نہیں جانتے، جس کی وجہ سے وہاں پر موجود مزدوروں کے لیے اپنی بات آگے پہنچانے دشواری ہوتی ہے۔عنایت کے مطابق ’بنگلہ دیش، فلیپائن اور بھارت کے سفارتخانے اپنے لوگوں کی فریاد ان کے منہ سے نکلنے سے پہلے ہی سعودی اعلی حکام تک پہنچا دیتے ہیں۔ ہمارے مزدوروں کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے بہت سے لوگ وہاں جانے کو ترجیح نہیں دیتے۔‘پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے سرحدی علاقے ہجیرہ سے تعلق رکھنے والے ابرار احمد کو راولپنڈی آئے ہوئے ایک دن ہی ہوا ہے۔ اب تک ان کے 21000 روپے صرف مختلف کاغذات بنوانے میں ہی لگ گئے ہیں۔ ’بارڈر کے پاس حالات اکثر خراب رہتے ہیں اور زندگی کافی مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے۔ اسی وجہ سے میں مِستری کے کام کے لیے سعودی عرب جانا چاہتا ہوں۔ میں پہلی دفعہ وہاں جا رہا ہوں۔‘ابرار کو کاغذات مکمل کرنے کے بعد پروٹیکٹوریٹ آف ایمیگرانٹس کے دفتر بھیجا گیا جہاں ان کے بیرونِ ملک تحفظ کے معاملات، جیسے کے کمپنی کے بارے میں پوچھ تاج اور نوکری کے بارے میں جانچ پڑتال کی گئی۔ لیکن ابرار کو یہ پتا نہیں تھا کہ جہاں ان کو سرکاری افسر کے دستخط لینے کے لیے بلایا گیا ہے اس کا مقصد کیا ہے اور وہ ان کے لیے کیا کر سکتے ہیں۔’اس وقت میرا مقصد گھر والوں کے لیے پیسے لانا ہے کیونکہ گھر کا نظام بھی چلانا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ میں زیادہ پیسے نہیں لاسکوں گا کیونکہ میری تنخواہ وہاں 750 ریال ہے، لیکن مجھے لے جانے والے ایجنٹ نے کسی اور جگہ کے بارے میں نہیں بتایا۔ وہ پہلے پیسے لے کر آپ کو تابع کر لیتے ہیں تاکہ آپ ان سے زیادہ سوال نہ کرسکیں۔‘سعودی ولی عہد کے آنے سے پہلے ہی پاکستان میں سعودی عرب کی طرف سے ہونے والی سرمایہ کاری کی تفصیلات مقامی ذرائع ابلاغ کے ذریعے روزانہ دی جارہی ہیں۔ لیکن اس سے پاکستان سے جانے والے مزدور یا سعودی عرب میں مقیم پاکستانیوں کے لیے کیا کیا جائے گا، اس بارے میں کوئی تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں۔عنایت نے کہا کہ مزدوروں کو نہیں پتا کہ دونوں ممالک کے درمیان کتنے اربوں کی سرمایہ کاری ہونے جارہی ہے۔ ’ان کو اس بات سے مطلب ہے کہ وہ بروقت پیسے کما کر اپنے گھر بھیج سکیں۔‘حکومتِ پاکستان کے ہیومن ریسورس ڈیویلپمنٹ کے سیکریٹری پرویز احمد جونیجو نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مزدوروں کے مسائل اور شکایات اپنی جگہ درست ہیں، لیکن اب ان کی آسانی کے لیے سعودی عرب میں کئی شکایتی سینٹرز بنائے گئے ہیں جہاں ان کو در پیش مسائل کا حل مل سکے گا۔‘جب ان کو یاد دلایا گیا کہ 2016 میں نوکریوں سے نکالے جانے والے پاکستانیوں کی بات تب سنی گئی جب انھوں نے سوشل میڈیا پر تصویریں اور ویڈیوز شیئر کیں، تو اس پر پرویز جونیجو نے کہا کہ ’اپنی طرف سے اور اپنے عہدے کو دیکھتے ہوئے ہم وہ تمام کوششیں کررہے ہیں جس سے لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا ہوں۔‘انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’سعودی ولی عہد کی پاکستان آمد ہمارے لیے اپنے مزدوروں کے حوالے سے بات کرنے کا ایک اچھا موقع ہے۔‘پروموٹرز کے مطابق سعودی عرب میں انکم ٹیکس میں پانچ فیصد اضافے کے بعد اس وقت پیشے کے لیے موضوں مقامات کی فہرست میں اب لیبیا بھی شامل ہے۔عنایت بتاتے ہیں کہ اس وقت پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد لیبیا جانے کی خواہشمند ہے۔ ’ہماری خواتین ویسے ہی کام کرنے کے لیے ٹیچر، سٹاف نرس اور ڈاکٹر کی پوسٹ پر لیبیا جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ مردوں کے لیے بزنس، کنسٹرکشن اور میسنری کے کام کی بہت ڈیمانڈ ہے۔‘ شکریہ بی بی سی نیوز