شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )مجلس وحدت مسلمین پاکستان کےسربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس میں بھارت اور افغانستان کی طرف سے پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات کو بے بنیاد اور مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگانے سے پہلے افغانستان صدر اشرف غنی کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیئے تھی کہ پاکستان کو دہشت گردی کی آگ میں جھونکنے والی طالبانی قوتیں افغانستان میں ہی پروان چڑھی ہیں۔

زرائع کے مرکزی سیکریٹریٹ سے جاری ہونے والے اپنے ایک بیان میں مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے جتنے بھی بڑے واقعات ہوئے ہیں، ان میں بھارت اور افغانستان براہ راست ملوث رہے ہیں، پاکستان میں کلاشنکوف اور منشیات کو متعارف کرنے والے عناصر بھی پناہ کی غرض سے افغانستان سے پاکستان میں داخل میں ہوئے تھے، پاکستان کی سالمیت و استحکام کے خلاف پڑوسی ممالک کی کارستانیاں کوئی ڈھکی چھپی نہیں، پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت اور پھر واویلا چور مچائے شور کے مترادف ہے۔

علماہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ "ہارٹ آف ایشیاء کانفرنس" میں پاکستانی مندوبین کے ساتھ بھارت کا تضحیک آمیز رویہ قابل مذمت ہے، بھارت نے میزبانی کا حق ادا کرنے کی بجائے کم ظرفی کا ثبوت دیا ہے، سفارتی آداب کے منافی اس نامناسب رویہ پر بھارت کو حکومتی سطح پر معذرت کرنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ وطن عزیز کا وقار ہمیں سب سے زیادہ عزیز ہے، کسی بھی ملک کا پاکستان کے ساتھ جارحانہ رویہ قابل قبول نہیں، کانفرنس میں شریک دیگر ممالک کو بھی بھارت کے اس ناروا رویہ پر تنقید کرنا چاہیئے تھی، ہمیں اپنی خارجہ پالیسی پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے دیگر ممالک سے ہم آہنگی اور دوستانہ روابط کو بڑھانے کے لئے مربوط لائحہ عمل طے کرنا ہوگا، افغانستان سمیت خطے کے دیگر مسلم ممالک سے بھارت کے مضبوط تعلقات ہماری کمزور خارجہ پالیسی کا نتیجہ ہیں، بھارت کی طرف سے افغانستان میں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی خواہش کا اظہار ہمیں خواب غفلت سے بیدار کرنے کے لئے کافی ہے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ ) پی پی 78 جھنگ کے ضمنی انتخابات میں کالعدم سپاہِ صحابہ کے دہشتگرد سرغنہ مسرور نواز جھنگوی کی کامیابی نے نواز حکومت باالخصوص وفاقی وزیرِ داخلہ اور نیشنل ایکشن پلان کی جانب سے ملک دشمن، اسلام دشمن تکفیری دہشتگرد عناصر کی سرپرستی کو آشکار کردیا ہے۔

زرائع کے مطابق ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان ضلع وسطی کے ترجمان اور سیکریٹری اطلاعات سید عرفان حیدر نے پی پی78 جھنگ کےانتخابی نتائج پر اپنے ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔انھوں نے کہا کہ ایک جانب تو نواز شریف کی کابینہ کے اہم رکن اور انتہائی اہم وزارت داخلہ کا قلمدان رکھنے والے چوہدری نثار ملک میں جاری دہشتگردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان،کراچی آپریشن،کامبنگ آپریشن کا ڈرامہ رچاتے نھیں تھکتے تو دوسری جانب یہی وزیر داخلہ فورتھ شیڈول میں شامل کالعدم سپاہِ صحاکے دہشتگرد سربراہان اور دیگر دہشتگردوں کے ساتھ خفیہ ملاقاتوں میں مصروف رہتے ہیں، اور ان خفیہ ملاقاتوں کے نتائج عوام دیکھتی ہے کہ فورتھ شیڈول میں شامل تکفیری دہشتگرد عناصر کو سرِ عام جلسے،جلوس ،ریلیاں منعقد کرنے اور الیکشن لڑنے کی اجازت دے دی جاتی ہی،باوجود اس کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار بذاتِ خود ان تکفیری دہشتگرد وں کہ جو فورتھ شیڈول میں شامل ہیں کی شہریت منسوخ کرنے انکے بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے اور انکا قوم شناختی کار ڈ منسوخ کرنے کے احکامات جاری کرچکے ہوتے ہیں۔

عرفان حیدر کا کہنا تھا کہ یہ بات روزِ روشن کیطرح سے عیاں ہے ملک میں جاری دہشتگردی باالخصوص وطنِ عزیز کے شیعہ و سنی فرذندوں سمیت پاک افواج،ایف سی،پولیس،رینجرز اور حساس اداروں کے افسران اور جوانوں سمیت جی ایچ کیو ،پی این ایس مہران،آرمی پبلک اسکول،باچا خان یونیورسٹی حملوں میں یہی کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہ اور مدارس ملوث ہیں کہ جن کے سربراہان کیساتھ چوہدری نثار خفیہ ملاقاتوں میں مصروف ہیں ۔وطنِ عزیز پاکستان میں دہشتگردی کے ہونے والے انتہائی المناک واقعات میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کی مجرمانہ خاموشی اور منظرِ عام سے اچانک غائب ہوجانے کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں محسوس کیا گیا مگر محسوس نھیں کیا تو ملک و ملت کے دفاع کے دعویٰ کرنے والوں باالخصوص انھوں نے کہ جو یہ دعویٰ کرتے رہے کہ آپریشن ضربِ عضب،کامبنگ آپریشن،نیشنل ایکشن پلان نے دہشتگردوں کی کمر توڑ دی ہے۔انھوں نےسوال کیا کہ کیا وجہ تھی کہ پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل (ر) راحیل شریف اور اہم حساس اداروں کے سربراہان نے حکومت وقت باالخصوص وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کی ملک دشمن سرگرمیوں پر خاموشی اختیار کئے رکھی ؟ عرفان حیدر نے کہا کہ آپریشن ضربِ عضب کے بعد شاید سب بڑا آپریشن کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف کیا گیا کہ جس میں کراچی پولیس اور سندھ رینجرز کی جانب سے بڑی بڑی کاروائیوں کے نتیجے میں دہشتگردوں کی گرفتاریوں اور پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے اسلحے کے زخیرے پکڑے جانے کی دعویٰ تو کئے گئے مگر اسی شہر کراچی کے سڑکوں پر سرِ عام جلسے،جلوس،ریلیوں کا انعقاد اور مجالس و جلوسِ عزاء اور عید میلادالنبی وﷺ کے جلسے جلوسوں پر حملے کرنے والے کالعدم دہشتگرد گرووہوں کے سفاک دہشتگردوںکے خلاف کاروائیاں نھیں کی گئیں ؟

عرفان حیدر کا مزید کہنا تھا کہ پی پی 78 کے ضمنی الیکشن میں فورتھ شیڈول میں شامل کالعدم سپاہِ صحابہ اور لشکرِ جھنگوی کے دہشتگرد سرغنہ مسرور نواز جھنگوی کی کامیابی نے یہ بات واضع کردی ہے کہ پاکستان میں نا ہی آپریشنِ ضربِ عضب بچا اور نا ہی نیشنل ایکشن پلان ذندہ رہا۔انھوں نے کہا کہ اب یہ وقت آگیا ہے کہ ملک کا قانون اور ملک کا نظام ان دہشتگردوں کو سونپا جا رہا ہے کہ جن کے اجداد نے اسی ملک کے خلاف ہتھیار اٹھائے اور اس ملک کے مظلوم عوام اور دفاع کرنے والے جوانوں کو سفاکانہ طریقے سے قتل کیا۔عرفان حیدر نے کہا کہ پاکستان میں بسنے والے عوام اب نا تو ان حکمرانوں کی عیاری کا شکار ہونگے اور نا ہی دہشتگردی کے خلاف آپریشن ضربِ عضب،نیشنل ایکشن پلان،کراچی آپریشن اور کامبنگ آپریشن کی کامیابیوں کے بلند و بانگ دعویٰ کرنے والوںکی چرم زبانی پاکستانی عوام کو بہلا سکے گی، بلکہ اب عوام اپنی تقدیر کا خود فیصلہ کریں گے اور انشاء اللہ ان حکمرانوں کو انکے آخری انجام تک بھی پہنچائیں گے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ حب الوطنی کا تقاضہ یہ ہے کہ پاکستان سے دہشت گردی، کرپشن اور لاقانونیت کا خاتمہ کیا جائے، ہر وہ آواز جس سے تفرقہ کی بو آئے، دشمن کی آلہ کار ہے، علماء کرام اتحاد و وحدت کے پیغام کا پرچار کرکے دشمن کی سازشوں کو ناکام بنائیں، نئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پاکستان کی سالمیت کی خاطر ملک کے اثاثوں پر حملے کرنے والے دہشت گردوں کیخلاف آپریشن کا آغاز کریں۔

زرائع کے مطابق ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ نا صڑ عباس جعفری نے کراچی میں بزرگ عالم دین علامہ مرزا یوسف حسین سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر علامہ باقر زیدی، علامہ ظہیر الحسن نقوی، میثم عابدی، علامہ علی انور جعفری، علامہ مبشر حسن، علامہ اظہر نقوی، انجینئر رضا نقوی سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ضروری ہے کہ پوری پاکستانی قوم اپنے وطن سے دہشت گردی، کرپشن اور لاقانونیت کے خاتمے کیلئے متحد ہو، جہاں کرپشن ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہی ہے تو وہیں دہشت گردی کا شکار محب وطن عوام کو ظالموں کی صف میں کھڑا کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں، انصاف کا تقاضہ تو یہ ہے کہ ظالم کو اس کے ظلم کی سزا دی جائے اور مظلوم کی داد رسی کی جائے، لیکن ہمارے ریاستی اداروں کا دستور ہی نرالہ ہے کہ بیلنس پالیسی کے نام پر محب وطن عوام اور علماء کرام کو دہشت گردوں کے برابر کھڑا کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ علامہ مرزا یوسف حسین کی شیعہ سنی اتحاد کیلئے خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں، ان کو اٹھارہ روز تک ایک ایسے مقدمہ میں بلاجواز گرفتار کئے رکھنا کہ جس میں وہ ملوث ہی نہیں، ریاستی اداروں کا قابل مذمت فعل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہمارے ریاستی ادارے پاکستان کی سلامتی چاہتے ہیں تو کالعدم جماعتوں کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرتے ہوئے پاکستان سے دہشت گردی، کرپشن اور لاقانونیت کا خاتمہ کریں۔ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے نئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کی سالمیت کی خاطر ملک کے اثاثوں پر حملے کرنے والے دہشت گردوں کیخلاف آپریشن کا آغاز کریں، تاکہ وطن کو دہشت گردی سے نجات دی جاسکے اور ملک کے باسی امن و سکون سے زندگی گزار سکیں۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )مجلس وحدت مسلمین کے ایک وفد نے مرکزی رہنماء علامہ اصغر عسکری کے ہمراہ ضلع بھکر کا دورہ کیا، جس نے شیعہ علماء کونسل کے مرکزی رہنما سید وزارت حسین نقوی کی رسم سوئم میں شرکت اور ضلع بھکر کے تنظیمی رہنماوں سے ملاقات کی۔ وفد میں ایم ڈبلیو ایم جنوبی پنجاب کے سیکرٹری فلاح و بہبود علی رضا طوری اور سیکرٹری تنظیم سازی سید عدیل عباس زیدی بھی شامل تھے۔

زرائع کے مطابق اپنے دورہ بھکر کے دور ان مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی معاون سیکرٹری تنظیم سازی علامہ اصغر عسکری کا اس موقع پر کہنا تھا کہ امریکہ اب ترکی کی شکل میں اپنے عزائم کی تکمیل چاہتا ہے، کیونکہ آل سعود کی منافقت اس وقت کھل کر امت مسلمہ کے سامنے آگئی ہے، اس لئے امریکہ اب لبرل نام نہاد مسلم ملک ترکی کے ذریعے امت مسلمہ کو تقسیم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجلس وحدت مسلمین کے تنظیمی ڈھانچہ کو ملک بھر میں مضبوط کیا جا رہا ہے اور جس طرح ہماری قیادت نے ہر مشکل وقت میں قوم کی آواز کو بلند کیا، اسی طرح اپنا فریضہ ادا کرتے رہیں گے۔ قبل ازیں انہوں نے سید وزارت حسین نقوی کی رسم سوئم سے خطاب کرتے ہوئے مرحوم کی ملت کیلئے خدمات کو سراہا اور ان کو بھرپور انداز میں خراج عقیدت پیش کیا۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے علامہ شفقت شیرازی کے ہمراہ عراق کے سب سے بڑے پارلیمانی اتحاد نیشنل عراق الائنس کے سربراہ سید عمار الحکیم سے ملاقات کی۔ دونوں شخصیات کے درمیان، پاک عراق تعلقات، امت مسلمہ کو درپیش حالیہ چیلنجز، مسئلہ کشمیر، مشرق وسطٰی بالخصوص پاکستان میں شیعہ سنی اتحاد، تکفیریت کے نفوذ اور بڑھتے ہوئے خارجی داعشی فتنے کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔

زرائع کے مطابق علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے سید عمار الحکیم کو مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے پاکستان میں شیعہ سنی اتحاد و بھائی چارے کے قیام کی کوششوں، اہل سنت جماعتوں کے ساتھ برادرانہ تعلقات سے آگاہ کیا اور داعش کے خلاف جنگ میں عراقی عوام کے جذبہ کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام داعش کی دہشت گردی کے خلاف عراقی عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مظلوم اقوام کی امداد کیلئے عراق اب ایک مضبوط آواز ہے، عراق کشمیر پر بھارتی مظالم کے خلاف بھی آواز اٹھائے اور پاکستان کا اس مسئلہ میں اقوام متحدہ میں ساتھ دے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجلس وحدت مسلمین نے اپنے قیام سے لے کر آج تک تکفیریت کے خلاف اپنی جدوجہد کو جاری رکھا ہے، یہ تکفیری پوری دنیا میں شکست سے دوچار ہیں، شکست ان تکفیری عناصر کے مقدر میں لکھی جا چکی ہے۔

سید عمار الحکیم نے پاک عراق تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام نے ہمیشہ مظلوموں کا ساتھ دیا ہے، ہم پاکستان اور عراق دوستی کے فروغ کیلئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل دیں گے۔ انہوں نے زائرین امام حسین (ع) کی مشکلات کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زائرین کیلئے جلد پاکستان سے ڈائریکٹ فلائٹس شروع کریں گے، داعش کے خلاف جاری جنگ میں ہم روز بروز کامیابی کی جانب گامزن ہیں، عراق میں حالات بہتر ہوتے ہی پاکستانی لیبرز کیلئے مواقع پیدا کریں گے۔ آخر میں سید عمار الحکیم نے داعش کے خلاف جاری جنگ میں پاکستانی عوام کی جانب سے ملنے والی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری جو کہ ان دنوں سرزمین مقدس عراق کے دورے پر ہیں نے وفد کے ہمراہ امام جمعہ بغداد اور متولی مزار حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ڈاکٹر محمود خلف العیساوی سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ اس موقع پر مرکزی سیکریٹری امور خارجہ علامہ شفقت شیرازی اور ڈپٹی سیکریٹری امور خارجہ علامہ ظہیر الحسن نقوی سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

زرائع کے مطابق ڈاکٹر محمود خلف العیساوی نے علامہ راجہ ناصرعباس جعفری کی آمد پر انہیں خوش آمدید کہا، جبکہ علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے انہیں وفدکے ہمراہ پاکستان دورے کی دعوت دی جو کہ انہوں نے قبول کرلی ہے اور آئندہ چند ماہ میں دورہ پاکستان پر رضامندی کا اظہار کیا۔ دونوں شخصیات کے درمیان امت مسلمہ کو درپیش حالیہ چیلنجز، مشرق وسطیٰ بالخصوص پاکستان میں شیعہ سنی اتحاد اور تکفیریت کے نفوذ اور بڑھتے ہوئے خارجی داعشی فتنے کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے ڈاکٹر محمود خلف العیساوی کو مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے پاکستان میں شیعہ سنی اتحاد و بھائی چارے کے قیام کی کوششوں اور اہل سنت جماعتوں کے ساتھ برادرانہ تعلقات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ تکفیری آئیڈیالوجی اپنے انجام کی جانب گامزن ہے، جس کا خاتمہ عنقریب ہے، یہ تکفیری پوری دنیا میں شکست سے دوچار ہیں، شکست ان تکفیری عناصر کے مقدر میں لکھی جا چکی ہے، داعش، القائدہ، طالبان، بوکوحرام جہاں سے یہ تکفیری آئیڈیالوجی چلی ہے اور جہاں تک بھی پہنچی ہے ان کی شکست کے آثار دنیا دیکھ رہی ہے، یہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہو سکتے، اسلام کے مقابلے میں جو رحمت اللعالمین ﷺ کا دین ہے، جو مظلوموں سے نہیں ظالموں سے جہاد کا حکم دیتا ہے، اسلام کے مقابلے میں یہ امریکہ، اسرائیل، آل سعود دیگر عالمی استعماری قوتوں کے ایجنٹ بھر پور شکست سے دوچار ہیں۔

ڈاکٹر محمود خلف العیساوی کا کہنا تھا کہ مجھے خوشی ہو رہی ہے کہ میری ان حضرات سے ملاقات ہوئی ہے جو پاکستان میں وحدت کے پیغام کو لے کام کر رہے ہیں اور شیعہ اور سنی کے درمیان الفت و محبت اور یگانگت کے لئے برسر پیکار ہیں، آپ کی باتیں سن کر میں بہت متاثر ہوا ہوں، خود میرا تعلق بھی ایسے سلسلے سے ہے جس نے ہمیشہ لوگوں کو محبت، اتحاد و یگانگت کا پیغام دیا ہے، ہم نے ہمیشہ انتہاء پسندی کی کھل کر مخالفت کی ہے، جو لوگ آج اہل سنت کا لبادہ اوڑھ کر امت مسلمہ میں فساد اور قتال کی ترویج کر رہے ہیں، دراصل ان کا اہل تسنن سے کوئی تعلق نہیں، یہ داعشی اس زمانے کے خوارج ہیں، متشدد لوگ چاہے اہل سنت میں سے ہو یا شیعہ میں سے اسلام دشمن ہیں، امت مسلمہ میں اہل تشیع اور اہل سنت کی مثال اس شہباز کی سی ہے جس کے دو پر ہیں ایک شیعہ اور ایک سنی، یہ دونوں پر ایک ساتھ حرکت کریں گے تو شہباز کو بلندی تک پہنچائیں گے اور اسلام تیزی سے ترقی و کامرانی کے منازل طے کرے گا، اگر صرف ایک پر سے ہی پرواز کی کوشش کرے گا تو وہ شہباز زمین کے بل گر پڑے گا، لہذٰا دونوں مکاتب کے درمیان خوشگوار تعلقات اس زمانے کی اہم ضرورت ہے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )پاکستان باالخصوص شہر کراچی میں تواتر کے ساتھ جاری شیعہ مسلمانوں کے قتلِ عام نے کراچی آپریشن ،کامبنگ آپریشن اور نیشنل ایکشن پلان کے بدنما چہرے کو آشکار کردیا ہے۔نیشنل ایکشن پلان کی کامیابی کے لئے وفاقی وزیر داخلہ اور بعض معتبر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ افسران کی کالعدم سپاہِ صحابہ اور طالبان کے باپ کیساتھ ملاقاتوں کے بعد وفاقی دارلحکومت سمیت ملک بھر میں کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہوں کے سرگرمیوں میں اچانک تیزی سے محسوس ہوتا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کی کامیابی کو شیعانِ علی ابنِ ابیطالبؑ کے مسلسل اور سفاکانہ قتلِ عام سے مشروط رکھا گیا ہے۔

زرائع کے مطابق ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین پاکستان ضلع وسطی کے سیکریٹری اطلاعات سید عرفان حیدر نے گزشتہ رات گلستان جوہر کے علاقے میں کالعدم سپاہِ صحابہ کے سفاک دہشتگردوں کی فائرنگ سے شھید ہونے والے ایئرپورٹ پولیس سیکشن کے ڈی ایس پی فائز علی شگری کے اہلِ خانہ سے ملاقات کرتے ہوئے کیا۔شھید فائز علی شگری کا جسدِ مبارک گزشتہ رات جناح اسپتال سے مسجدِ خیرالعمل انچولی بلاک 20 منتقل کئے جانے پر مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن ضلع وسطی کے سیکریٹری اطلاعات اور ترجمان سید عرفان حیدر کی سربراہی میں ایک اعلٰی سطح کے وفد نے کہ جس میں ضلعی رہنماء اور صوبائی سیکریٹری سیاسیات سید علی حسین نقوی کے کوآرڈینیٹر سید ثمر عباس،کاظم عباس،عامر جعفری اور کمیل عباس شامل تھے نے مسجدِ خیرالعمل انچولی کا دورہ کیا اور وہاں موجود شھید ڈی ایس پی فائز علی شگری کے بڑے بھائی اور فرذندوں سے ملاقات کی اور ان کی خدمت میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری اور مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژن کے سیکریٹری جنرل میثم عابدی کی جانب سے تعزیت پیش کی۔اس موقع پر شھید فائز علی شگری کے بڑے بھائی سے گفتگو کرتے ہوئے سید عرفان حیدر نے واضع کیا ملتِ تشیع شھید فائز علی شگری کے پاک لہو کو ضائع نھیں ہونے دے گی بلکہ دیگر شھدء کیطرح شھید فائز علی شگری کے کردار و افکار کو اپناتے ہوئے وطن عزیزپاکستان کی ترقی اور دفاع کے لئے عملی میدان میں موجود رہے گی۔

عرفان حیدر نے اس موقع پر کہا کہ اس سال محرم کے آغاز سے وطنِ عزیز پاکستان باالخصوص کوئٹہ،پنجاب کے مختلف شہروں اور شہر کراچی میں ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت حکومتی سرپرستی میں کالعدم سپاہِ صحابہ کے دہشتگردوں کے ہاتھوں عزادارئی سیدالشھداء پر حملے کروائے گئے کہ جسمیں کئی خواتین،معصوم بچے،جوان اور بزرگ شھید ہوئے،اس کے علاوہ شیعہ پولیس افسران،ڈاکٹروں،وکلاء اور دیگر قومی شخصیات کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ ان مظالم کے خلاف آوازِ حق بلند کرنے پر فرذندِ پاکستان سید فیصل رضا عابدی، اتحاد بین المسلمین کے داعی اور شیعہ ایکشن کمیٹی کے مرکزی محرک علامہ مرزا یوسف حسین،مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری جنرل علامہ سید احمد اقبال رضوی کو گرفتار کیا گیا اور مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی ڈویژں کے رہنماء علامہ مبشر حسن کے خلاف تھانہ سولجر بازار اور تھانہ ناظم آباد میں دو غیر قانونی ایف آئی آرز کاٹی گئیں، جو ہرگز قابلِ قبول نھیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک جانب تو وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کالعدم تکفیری دہشتگرد گروہوں کے خلاف آپریشن ضربِ عضب،کامبنگ آپریشن،کراچی آپریشن اور نیشنل ایکشن پلان کا ڈھونگ مچا رہے ہیں اور انکی کامیابی کے بلند و بانگ دعویٰ کر رہے ہیں اور دوسری جانب یہی چوہدری نثار ،فورتھ شیدول میں شامل کالعدم سپاہِ صحابہ کے دہشتگرد سرغنہ مولانا احمد لدھیانوی اور عالمی تکفیری دہشتگرد گرد گروہ طالبان کے جدِ امجد مولانا سمیع الحق سے خفیہ ملاقاتیں کر رہے ہیں ۔عرفان حیدر نے بعض معتبر دفاعی اور قانون ناگذ کرنے والے اداروں کے سینئر افسران کی جانب سے کالعدم سپاہِ صحابہ اور دیگر تکفیری دہشتگرد عناصر کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں پر اپنا ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ان ملاقاتوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر چلنے سے ملت تشیع پاکستان میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے اور ملتِ تشیع کو گمان ہوچلا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان ہو یا کراچی آپریشن،کامبنگ آپریشن ہو یا آپریشن ضربِ عضب ان کی کامیابی کو ملتِ تشیع کی خواتین،معصوم بچوں،جوانوں،بزرگوں اور مقتدر شیعہ شخصیات کے قتلِ عام سے مشروط رکھا گیا ہے۔

عرفان حیدر نے مزید کہا کہ ملتِ تشیع پاکستان کو نا تو حکمرانوں اور نا ہی سیاستدانوں سے کسی خیر کی توقع ہے بلکہ شیعانِ حیدرِ کرار کو اپنی پاک افواج، رینجرز،پولیس اور دیگر خفیہ اداروں سے ابھی بھی توقع ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف صف آراء کالعدم تکفیری دہشتگردوں کے خلاف بھرپور کاروائیاں کرتے ہوئے وطنِ عزیز پاکستان کو ان تکفیری عناصر سے چھٹکارا دلائیں گے۔انھوں نے کہا کہ جنرل راحیل شریف کی جانب سے ملک دشمن، اسلام دشمن کالعدم تکفیری دہشتگردوں کے خلاف شروع کئے جانے والے آپریشن ضربِ عضب،کراچی آپریشن اور کامبنگ آپریشن سے بہتر نتائج نکلے مگر نواز حکومت باالخصوص وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کی جانب سے کالعدم سپاہِ صحابہ کے دہشتگردوں سے ہونے والی خفیہ ملاقاتوں اور انکی سہولت کاری میں ملوث ہونے کے واضع ہوجانے کے بعد پاک فوج اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان تکفیری دہشتگرد عناصر کے سیاسی و مالی سہولت نواز حکومت باالخصوص وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کے خلاف سخت ایکشن لینا ہوگا۔ عرفان حیدر نے شھید ڈی ایس پی فائز علی شگری کی گرانقدر خدمات پر انکو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملتِ تشیع نے ہمیشہ اس ملک کی ترقی اور اس کے دفاع میں بے دریغ اور بے بہا اپنے خون کا نزرانہ دیا ہے اور انشاء اللہ دیتے رہیں گے،اور اپنی پاک افواج،رینجرز،پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے شانہ بشانہ اس ملک کی سالمیت کے خلاف اٹھنے والی ہر سازش کو بے نقاب کرتے ہوئے اس کا مردانہ وار مقابلہ کریں گے ۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )ملی یکجہتی کونسل خیبرپختونخوا کے آج پشاور میں ہونے والے اجلاس میں اجلاس میں ملی یکجہتی کونسل کے صوبائی کابینہ کے انتخابات ہوئے جس میں مجلس وحدت مسلمین کے تین رہنمائوں کو صوبائی کابینہ میں شامل کرلیا گیا ۔

زرائع کے مطابق ملی یکجہتی کونسل پاکستان صوبہ خیبرپختونخواہ کی صوبائی کابینہ کے اجلاس میں مجلس وحدت مسلمین کی طرف سے صوبائی سیکرٹری جنرل علامہ محمد اقبال بہشتی، ڈپٹی سیکریٹری جنرل مولانا عبدالحسین، سیکرٹری سیاسیات قاسم رضا، پشاور کے سیکرٹری جنرل سلامت علی جعفری، ضلع کوہاٹ کے سیکرٹری جنرل مولانا مرتضی عابدی اور علاقہ بنگش سے مولانا سرفراز علی مہدوی نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملی یکجہتی کونسل کے صوبائی کابینہ کے انتخابات ہوئے جس میں مجلس وحدت مسلمین کے تین رہنمائوں کو صوبائی کابینہ میں شامل کرلیا گیا ، جن میں علامہ محمد اقبال بہشتی صوبائی نائب صدر، مولانا سید مرتضی عابدی سیکرٹری مالیات، مولانا عبد الحسین رکن خطبات جمعہ کمیشن منتخب ہوئے،یاد رہے کہ ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے تقریبا 21جماعتوں پر مشتمل ایک مذہبی اتحاد ہے جو کہ وطن عزیز میں بین المسالک ہم آہنگی کے لئے کوشاں ہے۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )مجلس وحدت مسلمین کی مرکزی پولیٹیکل کونسل کے رکن آصف رضا ایڈووکیٹ نے فیصل آباد انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا کی عیادت کی جو کہ عارضہ قلب میں مبتلا ہونے کے باعث اسپتال میں داخل ہیں ۔

زرائع کے مطابق آصف رضا ایڈووکیٹ نے صاحبزادہ حامد رضا کو مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصرعباس جعفری کی جانب سے نیک خواہشات پر مبنی پیغام بھی پہنچایا اور کہا کہ زیارت مقامات مقدسہ کے لئے عراق دورے کے باعث علامہ راجہ ناصرعباس جعفری تشریف نہیں لا سکے لیکن وہ حرم امام علی ؑ اور امام حسین ؑ میں آپ کی جلد مکمل صحت یابی کے لئے دعا گو ہیں ، صاحبزادہ حامد رضا نے علامہ راجہ ناصرعباس جعفری اور مجلس وحدت مسلمین کے دیگر قائدین کی جانب سے ان کی صحت یابی کیلئے دعائوں پر اظہار تشکر کیا۔

شیعہ نیوز ( پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ )مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے قائدین نے سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا کے عارضہ قلب میں مبتلا ہونے کے باعث اسپتا ل میں داخلے پر تشویش اور نیک خواہشات کا اظہارکیا ہے۔

زرائع کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ علامہ راجہ ناصرعباس جعفری ، ڈپٹی سیکریٹری جنرل سید ناصرعباس شیرازی اورسیکریٹری امور سیاسیات سیداسد عباس نقوی نے مرکزی سیکریٹریٹ سے جاری اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہاکہ صاحبزادہ حامد رضا پاکستان میں سنی شیعہ اتحاد کے بڑے علمبردار ہیں ، ان کی شخصیت جتنی اہل سنت برادران میں محترم ہے اس سے زیادہ اہل تشیع مکتب فکر ان کی عزت اور احترام کا قائل ہے، انہوں نے ہمیشہ پاکستان میں فرقہ واریت کے خاتمے اور استحکام وطن کی بات کی اور عملی کوشش بھی جاری رکھی ہے ، پاکستان کو تکفیریت کے نجس وجود سے پاک کرنے کے لئےایم ڈبلیوایم سنی اتحاد کونسل کے ہم رکاب ہو کر ماضی کی طرح حال اور مستقبل میں بھی مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے کا عزم رکھتی ہے جس کے لئے ہم صاحبزادہ حامد رضا کی مکمل صحت وسلامتی او ر طو ل عمر کے لئے دعا گوہیں ،پروردگارعالم انہیں اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺکے صدقے جلد از جلد شفائے کاملہ وعاجلہ عنایت فرمائے۔