شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) حکومت پاکستان کی جانب سے پہلی بار زائرین امام حسین علیہ السلام کے لیے کربلا معلیٰ میں خصوصی ڈیسک قائم کردیا گیا ہے، یہ خصوصی ڈسک دس روز تک زائرین کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات اٹھائے گا، عراق میں پاکستان کے سفیر ساجد بلال زائرین کے تمام امور کی خود نگرانی کریں گے۔

 سرکاری چینل پی ٹی وی کے مطابق پاکستانی سفیر ساجد بلال نے کہا ہے کہ سفارتخانے کی جانب سے قائم کیا جانے والا یہ ڈیسک 10روز تک زائرین امام حسین علیہ السلام کے مسائل کے حل کیلئے ہمہ وقت خدمات فراہم کریگا۔ یاد رہے کہ زائرین کے ویزہ مسائل پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خصوصی طور پر دلچسپی لیتے ہوئے دفتر خارجہ میں عراقی سفیر سے خصوصی ملاقات کی تھی اور انہیں وزیرے کے اجراء کے عمل کو آسان بنانے کا کہا تھا، اطلاعات کے مطابق اب تک عراق ایمبیسی نے 80 ہزار سے زائد پاکستانیوں کو ویزے جاری کر دئیے ہیں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ ناصر عباس جعفری نے کہا ہے کہ وزیراعظم کا امت مسلمہ کے تنازعات میں ثالثی کرنے کا بیان خوش آئند ہے، لیکن طول تاریخ میں سعودی روایات اس سے مختلف ہیں، یمن میں جاری مسلمانوں کی نسل کشی کے پیچھے امریکہ اسرائیل اور آل سعود ملوث ہیں، آل سعود اپنی بادشاہت بچانے کے لئے ان استعماری طاقتوں کے ہاتھوں یرغمال ہے، قرض دینے والا کبھی قرض دار کی شرائط پر قرض نہیں دیگا، تاہم ہم اس حوالے سے حکومت کی عملی کوششوں کے منتظر ہیں، ہمیں کسی بھی ملک کی جنگ میں فریق بن کر تنازعات میں اضافہ کرنے سے گریز کرنا چاہیئے۔ اپنے بیان میں علامہ ناصر عباس نے کہا کہ عالم اسلام کے مابین تنازعات کا حل صرف اور صرف ڈائیلاگ سے ہی ممکن ہے، استعماری قوتوں نے مسلم ممالک کو باہم دست و گریباں کرکے اپنے مفادات حاصل کئے ہیں۔

سعودی ولی عہد خود اس بات کا اعتراف کرچکا ہے کہ ہم نے افغان وار میں مغرب کے مفادات کے خاطر شدت پسندی کو پرموٹ کیا، بدقسمتی سے عرب ممالک کے بادشاہ مغربی طاقتوں کے غلام بن کر مسلم امہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے میں مصروف ہیں، لیبیا، تیونس، عراق اور افغانستان میں تباہی مچانے کے بعد دشمن کی نگاہیں اب وطن عزیز پر مرکوز ہیں، ایسے میں ہماری لیڈر شپ کو پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہوگا، ہم ابھی تک افغان جہاد کے قرض اتارنے میں مصروف ہیں، ایسے میں اگر مشرقی وسطیٰ کے گندی جنگ کا حصہ بنے تو اس کے نتائج انتہائی خوفناک نکلیں گے۔ سربراہ ایم ڈبلیو ایم نے کہا کہ یمن میں فوری جنگ بندی اور یمنی مظلوم عوام کو جلد از جلد ریلف پہنچانے کی عملی کوششیں کی جانی چاہیں، ہم اس حوالے سے حکومت کے تمام اقدامات کی تائید کریں گے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی اور وزیراعظم کے معاون خصوصی سید ذوالفقار عباس بخاری نے تفتان باڈر کا دورہ کیا ہے، بعد میں کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہریار خان آفریدی نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر ایران اور عراق جانے والے زائرین کے مسائل کے حل کیلئے تفتان اور کوئٹہ کا دورہ کرکے پاکستان ہاؤس تفتان میں زائرین کو درپیش مسائل کا جائزہ لیا ہے، متعلقہ حکام کو ہدایات جاری کی ہیں اور اس حوالے سے ایف آئی اے، کسٹم اور متعلقہ تمام اداروں کو ٹیم ورک کے طور پر کام کرنے کا حکم دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی کے حکمرانوں نے زائرین کو کوئی سہولیات فراہم نہیں کیں، ایران اور عراق جانے والے زائرین کو سکیورٹی کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے اور اس ضمن میں میرا مختصر عرصے کے دوران بطور وزیر مملکت برائے داخلہ تیسرا دورہ بلوچستان ہے جبکہ تفتان کا یہ دوسرا دورہ ہے۔ وزیر مملکت کا کہنا تھا کہ ایمگریشن کا معاملہ آسان کر دیا گیا ہے، اب زائرین کو بارڈر پر زیادہ دیر ٹھہرنا نہیں پڑے گا، پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے دو مہینے کے اندر زائرین کو جو سہولیات فراہم کی ہیں، ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی، بلوچستان اور گلگت بلتستان جیسے چھوٹے صوبوں کی ترقی سے پاکستان کو دنیا میں مزید عزت ملے گی جبکہ وفاقی حکومت تمام مذاہب اور مسالک کے پیروکاروں کو ان کی تعلیمات کے مطابق زندگی بسر کرنے کیلئے سازگار ماحول فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔

 زائرین کو بہتر سہولیات کی فراہمی میں معاونت کرنے پر وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان، کمانڈر سدرن کمانڈ، فرنیٹئر کور، مقامی انتظامیہ تمام سٹیک ہولڈز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے سید ذوالفقار عباس بخاری کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک بہتر ٹیم ورک کے نتیجے میں ہی ہم پاکستان ہاؤس میں زائرین کو تمام سہولیات فراہم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، مختصر عرصے میں 44 ہزار زائرین نے امیگریشن سسٹم سے گزر کر تفتان بارڈر کے ذریعے مقدس مقامات کی زیارت کی ہے۔ وزیر مملکت نے کہا کہ انہوں نے ایران کی سرحد میں جاکر بھی زائرین سے ملاقات کی ہے اور ان کے حالات جانے ہیں۔ وہ ایرانی حکومت اور پاکستان میں ایران کے سفیر مہدی ہنر دوست کے بھی بیحد شکر گزار ہیں۔ ایک دن آئے گا کہ زائرین کا یہ روٹ بزنس حب بن جائے گا۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) سعودی اتحادی افواج کے لڑاکا طیاروں نے یمن کے مختلف شہروں پر شدید بمباری کی ہے۔

سعودی اتحادی افواج کے لڑاکا طیاروں نے یمن کے الحدیدہ، صعنا، ریمہ، حجہ اور صعدہ نامی شہروں پر شدید بمباری کی ہے۔

یمنی حکام نے بمباری سےہونے والے نقصانات کے بارے میں کسی قسم کا کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز بھی سعودی اتحادی جنگی جہازوں نے یمن کے الحدیدہ شہر میں موجود پینے کے پانی کے پلانٹ پر حملہ کرکے تباہ کردیا تھا۔

واضح رہے کہ سعودی عرب نے چھبیس مارچ دوہزار پندرہ سے یمن کو وحشیانہ جارحیت کا نشانہ بنانے کے علاوہ مغربی ایشیا کے اس غریب عرب اسلامی ملک کا زمینی، فضائی اور سمندری محاصرہ بھی کر رکھا ہے۔

یمن کے محاصرے کے نتیجے میں یمن کو دواؤں اور خوراک کی شدید قلت کا سامنا ہے اور اس ملک کے عوام میں مختلف قسم کے امراض پھیل رہے ہیں۔

سعودی حکومت اور اس کے اتحادی، یمنی عوام کی استقامت و پائیداری کی وجہ سے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں بری طرح ناکام ہوگئے ہیں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) شام کے صدر بشار الاسد نے دمشق تہران تعلقات کو اسٹریٹیجک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شام کی سرزمین پر ایران کا کوئی فوجی اڈہ موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل دہشت گردوں کی براہ راست حمایت کر رہے ہیں۔

العالم ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے صدر بشار الاسد نے کہا کہ شام اور ایران کے اسٹریٹیجک تعلقات عالمی تبدیلیوں سے ہرگز متاثر نہیں ہوتے کیونکہ دونوں ملکوں کے تعلقات خطے کے حال اور مستبقل سے وابستہ ہیں۔ شام کے صدر نے کہا کہ شام اور ایران نے اپنے تعلقات کو عالمی سیاسی اکھاڑے کی گزند سے پاک رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سارے معاملات ایٹمی حوالے سے ایران مخالف عالمی پروپیگنڈے سے جڑے ہوئے ہیں اور اس حوالے سے جو کچھ بھی ہورہا ہے وہ ایران کے خلاف بین الاقوامی ماحول سازی کا حصہ ہے۔

صدر بشار الاسد نے شام میں ایرانی فوجی مشیروں کی موجودگی کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت شام نے شروع ہی میں ایران اور روس سے شام کے لیے مشاورت کی درخواست کی تھی کیونکہ ہمیں ان ممالک کے تعاون کی ضرورت تھی، اور ایران نے ہماری درخواست کو قبول کرلیا۔ شام کے صدر نے یہ بات زور دے کر کہی کہ ایران نے شامی عوام کے دفاع کی جنگ لڑی ہے اور اس راہ میں خون کا نذرانہ بھی پیش کیا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ شام میں ایران کا کوئی فوجی اڈہ موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کھل کر یہ بات کہی کہ اسرائیل شام میں دہشت گردوں کی براہ راست حمایت کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شام سے دہشت گردوں کا خاتمہ ہی اسرائیلی اقدامات کا بہترین جواب ہے۔

شام پر اسرائیلی حملوں کے بارے میں پوچھےگئے جواب کے جواب میں صدر بشارالاسد کا کہنا تھا کہ اسرائیلی حلموں پر خاموش نہیں رہیں گے بلکہ فوجی وسائل کے لحاظ سے اس کا جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا توپ خانہ اور اسرائیلی فضائیہ در اصل دہشت گردوں کا ہی توپ خانہ اور ان کی فضائیہ شمار ہوتی ہے۔ شام کے صدر نے کہا کہ دہشت گردوں کے لیے اسرائیل کی براہ راست حمایت کے باوجود شام اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ شامی فوج جنوبی محاذوں پر ڈٹی ہوئی ہے اور بہت سے علاقوں کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد بھی کرایا جاچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک بات پوری طرح واضح ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فیصلہ کن کردار شام کے پاس ہے اور اسرائیل کچھ بھی کرلے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔

صدر بشار الاسد نے واضح کیا کہ امریکہ اور اسرائیل براہ راست جنوبی شام میں مداخلت کر رہے ہیں اور ان کی جانب سے دہشت گردوں کی کھلی حمایت کے سبب علاقے کی صورتحال مزید ابتر ہوتی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت سے ممالک منجملہ سعودی عرب نے متعدد بار ہمیں یہ پیغام ارسال کیا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ تعلقات ختم کرلیں تو شام کی صورتحال بہتر ہوجائے گی لیکن ہم نے ان کی ان باتوں کو قبول نہیں کیا اس لئے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے طرفدار ہیں اور اسرائیل کی حمایت کرنے والے عرب حکمرانوں سے ہمیں نفرت ہے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) عید فطر کمیٹی کے سربراہ سید باقر پیشنمازی نے کہا ہے کہ عید سعید فطر کا اعلان رہبر معظم انقلاب اسلامی کے دفتر کی طرف سے کیا جائے گا جس کے بعد عید سعید فطر مصلای امام خمینی (رہ) میں رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کی امامت میں ادا کی جائےگی۔

انھوں نے کہا کہ عید فطر کے دن مصلای امام خمینی (رہ) کے تمام دروازے صبح پانچ بجے سے نمازیوں کے لئے کھول دیئے جائیں گے۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) یمنی فوج کے جوانوں نے صوبہ تعز کے علاقے مقنبہ میں سعودی اتحاد میں شامل فوجیوں کی ایک ٹولی کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔اس حملے میں سعودی اتحاد کے درجنوں فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے میزائیل یونٹ نے اتوار کی رات بھی سعودی عرب کے جنوبی صوبے جیزان کے صنعتی علاقے پر بیلسٹک میزائل داغا تھا۔ دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ یمنی فوج کے اسنائپروں نے بھی مقنبہ کے علاقے میں سعودی اتحاد کے سات فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوانوں نے جیزان کے علاقے جبل ایم بی سی کی جانب سعودی اتحادیوں کی پیش قدمی کو ناکام بنادیا ہے۔ یمنی کے فوج کے جوابی حملے میں سعودی اتحاد کا بھاری جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔

سعودی عرب نے مارچ دوہزار پندرہ سے یمن کو جارحیت کا نشانہ بنا رکھا ہے تاہم اسے اپنے مقاصد میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ سعودی جارحیت اور محاصرے کے باوجود یمنی فوج کی دفاعی توانائیوں میں اضافہ ہوا ہے اور ان کے میزائل سعودی عرب کے اندر بھی فوجی ٹھکانوں اور سرکاری تنصیبات تک پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) علما اور آئمہ مساجد پاکستان کی سب سے بڑی جماعت ھئیت آئمہ مساجد و علماء امامیہ نے فضائل امام علیؑ سے متعلق مولانا عباس مہدی ترابی کے بیان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

اپنے اعلامیہ میں ھئیت آئمہ مساجد و علماء امامیہ کا کہنا تھا کہ حضرت علی علیہ السلام سوائے خاتم النبیینؐ کے باقی انبیاء ما سبق سے افضل سے افضل ہیں۔

بول ٹی وی کے پروگرام میں مولانا عباس مہدی ترابی کے حق بیان کرنے اور مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام کو سوائے خاتم النبیین کے باقی انبیاء ما سبق سے افضل قرار دینے پر ھئیت آئمہ مساجد و علماء امامیہ ان کی تائید کرتی ہے. ھئیت آئمہ مساجد و علماء امامیہ کے تمام ارکان مولانا عباس مہدی ترابی کے ساتھ ہیں. اور جن علماء سے ان ٹی پروگرامز میں جو کوتاہیاں ہوئی ہیں ہم ان کی مذمت کرتے ہیں.

ہم بول چینل, عامر لیاقت اور پروگرام کے پروڈیوسر کی بھی مذمت کرتے ہیں جو عالم اسلام میں فرقہ واریت اور انتشار پھیلانے والے پروگرام نشر کر رہے ہیں. اس کے ساتھ ہی ہم ان موقع پرست شیعہ دشمن عناصر کی بھی بھرپور مذمت کرتے ہیں جو فردی کوتاہی کو جواز بنا کر دنیاوی مال و متاع حاصل کرنے کی غرض سے تمام قابل احترام علماء حق کو بلا جواز تنقید و توہین کا نشانہ بنا کر اپنی اپنی دکانیں چمکانے اور دشمنان تشیع کے سامنے اپنی قیمتیں بڑھانے میں مصروف ہیں. انشاء اللہ مذہب حق اور ملت تشیع کے خلاف ہر سازش ناکام ہوگی اور ہر سازشی ناکام و نامراد ہوگا.

اعلامیہ میں علما و خطبا سے اپیل کی گئی کہ باالخصوص نماز عید کے خطبہ میں مولائے کائنات کی یہ فضیلت کہ "مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی علیہ وآلہ وسلم کے سوا باقی انبیاء ما سبق سے افضل ہیں " کو لازمی بیان , واضح اور دلائل سے ثابت کریں.

شیعہ نیوز (پاکستانی شیعہ خبر رساں ادارہ) سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض سمیت بڑے بڑے شہروں میں بڑھتی بدامنی کے بعد نامعلوم افراد نے طائف میں پولیس کی ایک گشتی گاڑی پر حملہ کر کے ایک سیکورٹی اہلکار کو چھرا گھونپ کر ہلاک کر دیا۔

سعودی اخبار سبق کے مطابق دو نامعلوم افراد نے طائف میں پولیس کی ایک گشتی گاڑی پر حملہ کرنے کے علاوہ ایک پولیس اہلکار سے ہتھیار بھی چھین لیا اور فرار ہو گئے۔

رپورٹ کے مطابق سیکورٹی اہلکاروں نے ان افراد کا تعاقب کیا جہاں طائف کے نیشنل گارڈ کے مرکز پر جھڑپ بھی ہوئے اور ہونے والی فائرنگ میں ایک حملہ آور زخمی ہو گیا جس کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ دوسرا فرار ہو گیا۔ابھی ان افراد کی کوئی شناخت نہیں بتائی گئی ہے۔

واضح رہے کہ سعودی حکومت کے حالیہ اقدامات اس ملک کے مختلف علاقوں میں عوامی احتجاجات اور بدامنی بڑھنے کا باعث بنے ہیں۔

تحریر: صابر ابو مریم

سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان

جون کا مہینہ ہے اور ساتھ ساتھ ماہ رمضان المبارک بھی ہے، اس ماہ مقدس میں فلسطین کے مظلوم عوام اور قبلہ اول کی بازیابی سے متعلق عالمی یوم القدس بھی آنے والا ہے، جس کے احیاء و قرار میں اس صدی کی عظیم اسلامی شخصیت حضرت امام خمینی کا بے پناہ اور بنیادی کردار ہے اور اسی جون کی 4 تاریخ کو ہی صدی کے عظیم اسلامی رہنما حضرت امام خمینی کو ہم سے بچھڑے اب اٹھائیس برس ہوچکے ہیں، لہذا یہ کالم فلسطین اور امام خمینی سے متعلق اس لئے بھی لکھا جا رہا ہے، تاکہ امام خمینی کی شخصیت سے متعلق اور مسئلہ فلسطین امام خمینی کی نظر میں کس اہمیت کا حامل تھا، نقاط کو بیان کیا جائے۔ امام خمینی نے ایران میں اسلامی انقلاب کی بنیاد ڈالی اور یہ انقلاب 1979ء میں کامیاب ہوا، اس انقلاب کی کامیابی کا بنیادی سہرا امام خمینی کے سر جاتا ہے، جبکہ امام خمینی نے ایران میں اس وقت کے امریکی و صیہونی آلہ کار حکمرانوں کے مدمقابل نہ صرف قیام کیا بلکہ فلسطین کے حق میں اس دور میں بات کرنا ایک سنگین جرم سمجھا جاتا تھا، ایسے دور میں آپ نے اپنی پوری جدوجہد میں فلسطین کاز کی حمایت سے ایک انچ بھی خود کو پیچھے نہیں کیا، حالانکہ اس جرم کی پاداش میں آپ کو دربدر کیا گیا، جلا وطن کیا گیا اور نہ جانے آپ کے ساتھیوں کے ساتھ بھی کس کس طرح کے مظالم روا رکھے گئے۔ آپ نے دنیا کی ان تمام سختیوں اور مصائب کا خندہ پیشانی اور دلیرانہ انداز میں مقابلہ کیا اور اپنی جدوجہد کو جاری رکھا، اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد آپ نے عملی طور پر سب سے پہلے ایران میں موجود اسرائیلی سفارتخانہ کو ختم کرکے اس جگہ کو فلسطینی سفارتخانہ بنایا اور دنیا بھر کے مسلمانوں سے اپیل کی کہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو قبلہ اول بیت المقدس کی بازیابی کے لئے یوم القدس کے طور پر منائیں۔

یہ امام خمینی ہی کی شخصیت تھی، جس نے دنیا پر واضح طور عیاں کیا کہ اسرائیل ایک غاصب اور جعلی ریاست ہے، اس کام کے لئے امام خمینی نے اپنے خطابات اور فرامین میں بھرپور انداز سے پیغامات دیئے حتیٰ دنیا کے دیگر ممالک کے رہنماؤں کے لکھے جانے والے خطوط اور خط و کتابت میں بھی امام خمینی کی طرف سے مسئلہ فلسطین کے لئے ہمیشہ بے حد اسرار پایا جاتا تھا۔ آپ نے رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو یوم القدس قرار دیا اور پوری دنیا میں اس روز مظلوم فلسطینیوں کے حق میں آواز بلند کرنے اور گھروں سے باہر نکلنے کا حکم صادر فرمایا۔ یوم القدس کے بارے میں امام خمینی کا کہنا تھا کہ یہ ایسا دن نہیں کہ جو فقط قدس کے ساتھ مخصوص ہو، بلکہ مستکبرین کے ساتھ مستضعفین کے مقابلے کا دن ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ منافقین اور وہ لوگ جن کی پس پردہ بڑی طاقتوں کے ساتھ آشنائی اور اسرائیل کے ساتھ دوستی ہے، وہ یوم القدس سے لاتعلق رہتے ہیں یا قوموں کو مظاہرہ نہیں کرنے دیتے۔ امام خمینی نے مسئلہ فلسطین سے متعلق مسلمان اور عرب حکومتوں اور دنیا کی طرف سے سست روی کو درک کرتے ہوئے مسلمان اقوام کو جھنجھوڑنے کا کام کیا اور مسئلہ فلسطین کی حمایت اور پشتبانی کے لئے اپنی گفتگو میں اس طرح اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ،’’ہم جب تک رسول اللہ (ص) کے اسلام کو نہ اپنالیں، ہماری مشکلات اپنی جگہ پر باقی رہیں گی۔ نہ مسئلہ فلسطین کو حل کر پائیں گے اور نہ ہی مسئلہ افغانستان اور دوسرے مسائل کو لوگوں کو اوائل اسلام کی طرف پلٹ جانا چاہیے، اگر حکومتیں بھی ان کے ساتھ پلٹ گئیں تو کوئی مشکل نہیں رہے گی۔ لیکن اگر حکومتیں نہ پلٹیں تو عوام کو چاہیے کہ اپنا حساب حکومتوں سے الگ کرلیں اور حکومتوں کے ساتھ وہی سلوک کریں جو ملت ایران نے اپنی حکومت کے ساتھ کیا ہے، تاکہ مشکلات دور ہوجائیں۔"

امام خمینی نے ہمیشہ مسلمان اقوام کے اتحاد و یکجہتی کو فلسطین کی آزادی اور قبلہ اول کی بازیابی کا اہم ترین راز اور منبع قرار دیا اور یہی کہا کہ فلسطین کی نجات اور صیہونزم کے توسیع پسندانہ عزائم کے آگے بند باندھنے کا واحد راستہ مسلمانوں کی اسلام کی طرف بازگشت اور ان کا آپس میں اتحاد ہے۔ انہوں نے اس چیز پر زور دینے کے ساتھ ساتھ فرمایا ہے کہ ’’اسرائیل کا اصلی مقصد اسلام کو نابود کرنا ہے‘‘ ہمیشہ اس چیز کی بھی تاکید کی ہے کہ ہر طرح کے اختلافات منجملہ مذہبی اختلافات کو ختم کر دیا جائے۔ یہاں ایک نقطہ اہم ترین یہ بھی ہے کہ امام خمینی کا تعلق مسلک تشیع سے تھا، لیکن فلسطین سمیت دنیا کے کسی بھی مظلوم اقوام بشمول افغانستان اور کشمیر کے لئے آپ نے ہمیشہ نہ صرف تاکید فرمائی بلکہ عملی طور پر بھی فلسطین کے مظلوم اقوام کی حمایت کرکے ثابت کر دیا کہ مسئلہ فلسطین مسلمانوں کا مسئلہ ہے اور اس حوالے سے اگر کوئی بھی مسلکی اختلافات کو ابھارنا چاہے یا ہوا دے کر اس مسئلہ کی اہمیت کو کم کرنا چاہے گا تو یقیناً وہ ہم مسلمانوں میں سے نہیں بلکہ استعماری قوتوں کا آلہ کار ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ امام خمینی نے فلسطین کے مظلوم اقوام کی حمایت اور قبلہ اول کی بازیابی کے لئے کسی بھی حمایت سے دریغ نہیں کیا۔ امام خمینی مسئلہ فلسطین کو اسلام کی حیثیت سے مربوط سمجھتے تھے اور اسی وجہ سے وہ ہمیشہ تمام مسلمانوں کو فلسطینیوں کی مدد پر ابھارتے تھے اور اس بات پر زور دیتے تھے کہ فلسطین کی مشکل دنیائے اسلام کی مشکل ہے۔ امام خمینی مٹھی بھر صیہونیوں کی ایک ارب سے زیادہ مسلمانوں پر حکمفرمائی کو ننگ و عار سمجھتے تھے اور کہا کرتے تھے:’’وہ ممالک جن کے پاس سب کچھ ہے اور ہر طرح کی قدرت سے سرشار ہیں، ان پر چند اسرائیلی کیوں حکمرانی کریں؟ ایسا آخر کیوں ہے؟ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ قومیں ایک دوسرے سے علیحدہ ہیں۔ عوام اور حکومتوں میں جدائی ہے اور حکومتیں آپس میں متحد نہیں ہیں۔ ایک ارب مسلمان باوجود یہ کہ ہر طرح کے وسائل سے لیس ہیں، لیکن پھر بھی اسرائیل، لبنان اور فلسطین پر ظلم کر رہا ہے۔"

جیسا کہ امام خمینی نے مسئلہ فلسطین کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے واضح طور پر کہا تھا کہ ہمارے دشمن امریکہ، اسرائیل اور استعماری قوتوں کا مقصد صرف فلسطین پر قابض ہونے تک مخصوص نہیں بلکہ وہ اسلام کو نشانہ بنا رہے ہیں، آج کئی برس گزر جانے کے بعد پوری دنیا کے مسلمان اس بات کو سمجھ پائے ہیں کہ عالمی استعماری قوتوں کا اصل ہدف اسلام ہے اور اسلام کے سنہرے اصولوں کو کبھی دہشت گردی کا لیبل لگا کر مختلف ناموں کے ساتھ منسلک کرکے بدنام کرنے کی گھناؤنی سازشیں عالمی استعماری قوتوں کے ناپاک و گھناؤنے عزائم کی قلعی کھول چکی ہیں۔ ماہ رمضان المبارک میں امام خمینی کی جانب سے قرار دیئے جانے والے جمعۃ الوداع عالمی یوم القدس کی مناسبت سے ہمیں ملتا ہے کہ امام خمینی نے ایرانی قوم سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے فتویٰ جاری کیا اور کہا کہ جمعۃ الوداع یوم القدس، یوم اللہ، یوم رسول اللہ اور یوم اسلام ہے، جو اس دن کو نہیں مناتا وہ استعمار (امریکہ، برطانیہ، اسرائیل) کی خدمت کرتا ہے۔ اسی طرح دیگر مقامات پر امام خمینی کے فرامین و فتاویٰ میں اس دن کی اہمیت کو اس طرح اجاگر کیا گیا ہے کہ جمعۃ الوداع یوم القدس حق اور باطل کے درمیان علیحدگی کا دن ہے۔ مزید فرامین میں اس طرح ملتا ہے کہ یوم القدس دنیا بھر کے مظلوموں کی ظالموں کے مقابلے میں فتح کا دن ہے، یوم القدس اسلام کی بقاء وحیات کا دن ہے، یوم القدس استعماری قوتوں کے خاتمہ اور فنا کا دن ہے، اس طرح کے متعدد فرامین کے ساتھ ساتھ یوم القدس اور مسئلہ فلسطین کے لئے مسلمان حکمرانوں کے کردار پر امام خمینی نے بہت زیادہ اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ آج سے چالیس سال قبل فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی اور قبلہ اول کی بازیابی کے لئے مقرر کیا جانے والا یوم القدس آج بھی پوری دنیا میں نہ صرف مسلمانوں بلکہ دنیا کی تمام اقوام کی جانب سے بالخصوص ملت فلسطین کی جانب سے انتہائی جوش و جذبہ اور عقیدت کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ یہی استعماری قوتوں اور اسلام دشمن قوتوں کی شکست کا سب سے بڑا منہ بولتا ثبوت ہے۔